ڈاکٹر ابرار احمد: جو آہا، سو آہا
ڈاکٹر ابرار احمد صاحب سے آخری مرتبہ لمبی گپ شپ علی افتخار جعفری کی بیماری کے دنوں میں ہوئی تھی۔ تنویر جہاں اور انوار ناصر سے پوچھتا رہتا تھا، کبھی کسی سے، کبھی کسی سے، کیا مسئلہ ہے، اٹھ کیوں نہیں رہا، یہ کیسا کومہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ظاہر ہے کہ ان سب میں ڈاکٹر صاحب سے مسلسل بات ہونا ہی تھی۔ جعفری کی مسلسل نیند کا پلڑا وہ اپنی مسلسل بیداری سے برابر کیے ہوئے تھے۔ پھر جعفری چلا گیا۔ میں نے دو نظمیں کہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی ایک نظم کہی، لیکن ہم نے ایک دوسرے سے افسوس نہیں کیا، افسوس تھا ہی نہیں۔ وہ کیفیت نجانے کیا تھی، امجد طفیل، ضیا الحسن، اظہر غوری، اور بے شمار دوسرے، کسی کو بھی افسوس نہیں تھا، سب سناٹے میں تھے، ہتھیار ڈال دینے کے بعد کا سکوت۔
مذکورہ بالا لمبی گپ شپ کے سلسلے کا ایک موضوع حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری کے عہدہ کے لیے میرا الیکشن بھی تھا۔ یہ ہماری بڑی پرلطف یاد تھی۔ وہ الیکشن حلقہ ارباب ذوق لاہور کے چند بڑے ادبی معرکوں میں سے ایک تھا۔ میرا ہارنا محال تھا کہ میرے ایک طرف علی افتخار جعفری تھا اور دوسری طرف امیر حسین جعفری۔ ادھر شاہد عثمان تھا تو ادھر آفتاب جاوید، نسرین انجم بھٹی اور کنول فیروز۔ لاہور نے حلقہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک غیرمسلم کو تاریخ کی (شاید) سب سے بڑی لیڈ سے جتوایا تھا۔ سازش بہرحال حسین مجروح اور نواز کھرل کی تھی۔ ڈاکٹر ابرار اس جیت کے مرکزی منصوبہ سازوں میں سے ایک تھا اور ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ ضیا الحسن، امجد طفیل، محمد خالد کا نہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان دنوں ہماری ثقافتی تنظیم الاپ کا دفتر ماڈل ٹاون حسین مجروح صاحب کی پچھلی گلی اور ڈاکٹر صاحب کے پچھلے بلاک میں تھا۔ ان دنوں ڈاکٹر صاحب سے ساتھ بہت ملاقاتیں رہیں، بہت باتیں، بہت زیادہ۔
اس سے پہلے بس ایم اے او کالج کا ایک دفتر یاد آتا ہے، عالم فاضل، باغی اور صوفی۔۔۔ محمد خالد کا دفتر جہاں پہلی مرتبہ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہی دنوں علی افتخار جعفری سے بھی پہلی ملاقات اسی دفتر میں ہوئی۔ اظہر غوری کو بھی پہلی مرتبہ یہیں دیکھا، اور حیرت ہوئی کہ کوئی انسان اپنے ناپ سے اتنی چھوٹی جیکٹ کیسے اور کیوں کر پہن سکتا ہے۔ علی افتخار جس طرح اظہر غوری کی نقل اتارتا تھا، وہ خود اظہر غوری بھی نہیں کر سکتا۔
یہ سب کچھ کیوں کہہ رہا ہوں، پتہ نہیں۔ ایک طرح کا دفاعی نظام ہے۔ مجھے یاد ہے جب جاوید انور کی خبر آئی تو اسی رات نظم ہو گئی تھی اور معلوم تھا کہ اگر نظم نہ کہی تو مر جاؤں گا میں بھی۔ نظم جب فیس بک پر پوسٹ کی تو حسین عابد کی نظم پوسٹ ہو چکی تھی۔ بعد ازاں اس نے بھی یہی کہا کہ نظم کہے بنا چارہ نہ تھا۔ آج گلناز کوثر نے نظم کہی ہے ڈاکٹر ابرار پر، اس لیے نہیں کہ اسے شہرت کی کوئی طلب ہے یا وہ نظموں کے سلسلے میں پہل کرنا چاہتی ہے اور داد مانگتی ہے۔ یہ خود حفاظتی نظام ہے بھائی۔ وہ نظم نہیں کہے گی تو ٹوٹ جائے گی، دھاگے کی طرح، تنکے کی طرح۔۔۔۔
سو افسوس جعفری کا بھی نہیں ہوا تھا، محمد خالد کا بھی نہیں اور افسوس ڈاکٹر ابرار کا بھی نہیں ہے۔ اس مرتبہ بھی ایک سناٹا ہے اور حیرت بھرا احساس کہ لاہور کے ادبی منظرنامے سے محمد خالد، ڈاکٹر ابرار احمد، علی افتخار جعفری کی مثلث ختم ہو گئی۔ پورے ہو گئے تینوں؟ باکمال شاعر، نقاد، زندہ دل، جری اور یاروں کے یار، فطری لیڈر، فطری باغی، فطری استاد۔۔۔ اور ہاں تینوں کے مخالف اور حاسد ان کی عزت کرتے تھے، اور بڑے دل سے۔
علی افتخار جعفری کی رحلت پر ڈاکٹر صاحب نے کچھ نظمیں سنائی تھیں۔ کچھ پرانی شاعری۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ نے جن نظموں کا انتخاب کیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ آپ مر رہے ہو۔ ڈاکٹر صاحب کی مسکراہٹ کون بھول سکتا ہے، اسی لازوال مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے جو جواب دیا تھا،وہ اس خود حفاظتی تحریر کا عنوان ہے، جو آہا، سو آہا۔۔۔
اور کیا رہ گیا ہے ہونے کو
چار آنسو نہیں ہیں رونے کو
خواب اچھے رہیں گے ان دیکھے
خاک اچھی رہے گی سونے کو
بہت خوب ڈاکٹر صاحب، کیا کہنے، واہ واہ…



