دہشت گردی کا شکار پہلا وزیراعظم ۔ شہید ملّت لیاقت علی خان


میر جعفر اور میر صادق بلا مبالغہ برصغیر کی سیاسی تاریخ کے سب سے ناپسندیدہ کردار کہے جا سکتے ہیں، ان کی وجہ تضحیک و تذلیل قوم سے غداری و بیوفائی ہے، لہذا آج بھی لوگ انہیں نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، گو کہ کمپنی سرکار نے انہیں نواب بھی بنایا، خطاب بھی دیے مگر عزت نہ دلا سکے اس ہی لئے وہ آج بھی ذلالت و حقارت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جن لوگوں کی سازشوں کی وجہ سے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان شہید کئے گئے۔

یہ بات کئی سال سے مشاہدے میں آ رہی تھی کہ شہید ملت کا یوم شہادت یعنی 16 اکتوبر نہایت خاموشی سے گزر جاتا ہے اور کوئی اپنے محسن و شہید ملّت کو یاد کرنے والا نہیں ہوتا، نہ اخبار، نہ میڈیا، نہ سوشل میڈیا اس کی بنیادی وجہ معاشرے میں میں غداروں کی باقیات کا موجود ہونا ہے جن کی سازشوں کی وجہ سے لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا تھا۔

نوابزادہ لیاقت علی خان نے ایک بہت بااثر نواب گھرانے میں آنکھ کھولی آپ خان رکن الدولہ شمشیر جنگ رستم علی خان کے بیٹے تھے۔ آپ نے علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور اعلی تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے جہاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے آپ نے قانون کی ڈگری حاصل کی ، واپس آ کر عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور اسمبلی کے ممبر منتخب ہو گئے، اس کے بعد قائد اعظم کے ساتھ مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی اور 1945 میں جب وائسرائے نے شملہ کانفرنس بلائی اور مسلم لیگ نے ہندوستان کی عارضی حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو لیاقت علی خان کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا، اور انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے انگریز حکومت کے دور میں ہندوستان اسمبلی کا بجٹ پیش کیا۔

تقسیم ہند کے بعد آپ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ لیاقت علی خان نے اپنی زندگی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کردی تھی اور قائداعظم کے ساتھ مل کر مملکت پاکستان کے حصول اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے عملی طور پر بھرپور جد و جہد کی یہاں تک کہ مملکت پاک کی خاطر اپنی جان جان آفریں کے حوالے کردی۔ لیاقت علی خان قائد اعظم کے معتمد ترین رفقاء میں سے تھے اور برطانوی سامراج سے مزاکروں کے دوران قائد اعظم ہمیشہ لیاقت علی خان کو اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کتنے زیرک سیاست دان اور اعلی پائے کے قانون دان تھے۔

قائد اعظم کے انتقال کے بعد لیاقت علی خان نے پاکستان کو مشکل حالات میں سنبھالا اور اپنی فہم و فراست اور مہارت و تدبر سے ملک کا نظم و نسق احسن طریقے سے چلانے لگے۔ 16 اکتوبر 1951 کو ابھی لیاقت علی خان ایک جلسے سے خطاب کے لیے کھڑے ہی ہوئے تھے اور بس اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ برادران ملّت، کہ پہلی صف میں بیٹھے بد بخت اکبر خان ببرک ، افغانی نے اپنے جرمن ساختہ پستول سے دو گولیاں آپ کو ماریں جن میں سے ایک آپ کے سینے اور ایک پیٹ میں لگی، آپ اسی مقام پر خالق حقیقی سے جا ملے آپ کے آخری الفاظ "خدا پاکستان کی حفاظت کرے” تھے۔

یہ شخص سید اکبر افغانی بھی پاکستان میں پناہ گزین تھا، یہ امان اللہ کی فوج میں برگیڈیئر تھا، جب امان اللہ یورپ بھاگا تو یہ بھاگ کر پاکستان آ گیا، یہاں اس کو حیرت انگیز طور پر نہ صرف پناہ دی گئی، بلکہ بہت خاص پزیرائی بھی ملی جس کا بیّن ثبوت وہ 450 روپے ماہانہ وظیفہ تھا جو اسے دیا جانے لگا، جو اس وقت کے شاہانہ مشاہروں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ اس بدبخت کو ایبٹ آباد میں خاندان سمیت عمدہ رہائش بھی فراہم گئی۔

لیاقت علی خان امریکہ اور افغانستان دونوں کے ہی کو سخت نا پسند تھے کیوں کہ انہوں نے ان دونوں کے ناجائز مطالبات یا مفادات کو ماننے سے انکار کردیا تھا، جیسے ایران کے تیل کے ذخائر پر امریکہ اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا تھا اور پاکستان سے معاونت چاہتا تھا، لیاقت علی خان کے آلہ ء کار بننے سے سے انکار پر امریکہ بہادر ناراض تھا جبکہ افغانی سرخوں کے بلوچستان پر حملے کو نہ صرف ناکام کیا بلکہ ان کو عمدہ سبق بھی سکھایا تھا۔

یہ سید اکبر پہلا نمک حرام افغانی تھا اور اب تو بیس سال سے بے شمار ایسے افغانی پاکستان میں موجود ہیں جو اپنے قائد سید اکبر کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ ہم اپنے محسن و پرخلوص قائد کو بھول چکے ہیں۔ چند مہینے پہلے ایک خبر نے چونکا دیا کہ جس میں بتایا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں علاقے کی ایک معروف عورت کا انتقال ہوگیا تھا، آپ یہ جان کر حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ وہ عورت کوئی اور نہیں سید اکبر کی بیوہ تھی۔ جس کا 106 سال کی عمر میں انتقال ہوا تھا۔

سید اکبر کو تو اسی وقت جانے کیوں گرفتار کرنے کی بجائے گولی مار دی تھی مگر اس کی بیوہ اور چار بیٹوں کو ایبٹ آباد کے کنج قدیم میں ایک گھر الاٹ کیا گیا اور انہیں وہاں اس وقت کی جدید سہولیات و آسائشیں فراہم کی گئیں۔ اس کا بڑا بیٹا دلاور جو اب 85 برس کا ہے اپنے بڑے سے گھر میں آج بھی شملہ ہل بانڈہ املوک میں بڑے مزے کی زندگی گزار رہا ہے۔ سید اکبر کی بیوہ نے دوسری شادی گھر کے چوکیدار سے کرلی تھی اور دوسرے شوہر سے بھی اس کے پانچ بچے ہوئے جو امریکہ میں رہتے ہیں، اور بہت اچھے حالات میں ہیں، پاکستان سے الاٹ شدہ مکان خاتون نے بیچ دیا اور دوسرے شوہر کے ساتھ نئے بنگلے میں منتقل ہو گئی تھی۔

ان قاتلوں کے خاندان نے ملک کے وزیر اعظم کو قتل کرنے کے باوجود حیرت انگیز طور پر انتہائی پرتعیش اور باعزت زندگی گزاری ہے ہیں، اور شہید ملّت لیاقت علی خان کے بچے دربدر اور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارتے رہے، ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ لیاقت علی خان کے بیٹے نے وزیر اعلی سندھ سے علاج کے لیے مدد کی اپیل کی تھی، ایک ایسا شخص جس کی جاگیر 300 گاؤں تھے اور جس نے ملک کی خاطر جان تک دینے سے دریغ نہ کیا اس کی اولاد بے یار و مدد گار اور ذلیل و خوار ہو رہی ہے ، جبکہ ان کے قاتلوں کی نسلیں اسی ملک میں عیاشیاں کر رہی ہیں اور عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں

یہ کتنا بڑا المیہ ہے، کہ پاکستان بنانے والے جس سے محبت کی جانی تھی نفرت کا شکار ہوا، اور جس نے انہیں قتل کیا نفرت کے قابل تھا وہ باعزت ٹھہرا، جس نے اس ملک کی خاطر تن من دھن کی بازی لگا دی یہاں تک کے اس ملک کی خاطر اپنی جان تک لٹا دی، اس کی اولادیں نہایت ہی بری حالت میں زندگی گزارنے اور امداد مانگنے پر مجبور ہیں اور جن بدبختوں نے اس ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا وہ ہر فکر سے آزاد عیش و عزت کی زندگی گزار رہے ہیں، یہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لئے کیونکہ ستر سال گزرنے کے باوجود آج بھی قاتل آزاد و بااختیار جبکہ مقتول اور اس کے ورثاء بے یارومددگار ہیں۔ اس کا مطلب دال میں ضرور کچھ کالا ہے بلکہ ہمیں تو پوری دال ہی کالی لگ رہی ہے۔

Facebook Comments HS