دنیا کے سب سے زیادہ معدومیت کا شکار چڑیا کی واپسی
براعظم امریکہ کے سب سے زیادہ معدومیت کا شکار پرندوں میں سے ایک ”فلوریڈا کی چڑیا“ کہ جس کے بارے میں دو سال قبل خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ اب اسے معدوم ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، کچھ ماحولیاتی ماہرین کی محنت کے باعث اب امید کی جا رہی ہے کہ یہ معصوم سی پیاری چڑیا اب معدومیت کے خطرے سے بچ گئی ہے۔
فلوریڈا کی یہ خوبصورت چڑیا جس کا عام نام ”فلوریڈا گراس ہاپر سپیرو“ اور لاطینی میں ”اموڈرامس سوانارم فلوریڈانس“ کے مشکل نام سے پکارا جاتا ہے، پانچ انچ سے زیادہ لمبی نہیں ہوتی۔ سیدھا سر، چھوٹی سی دم اور کالے اور ہلکے گہرے رنگ کے پر ہوتے ہیں لیکن آنکھ کے اوپر اور کندھے میں اس کے کچھ پر پیلے رنگ کے ہوتے ہیں، جو کہ اس کے گھونسلے کو دور سے چھپا دیتے ہیں۔ یہ عام طور پر ریاست فلوریڈا کے جنگی گھاس کے میدانوں میں چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں اور گھنی گھاس میں اپنے گھونسلے بناتی ہیں۔ یہ چڑیا کمزور سی ایک دو آوازوں میں چہچہانے کے بعد شہد کی مکھیوں جیسی بھنبھناہٹ کی آواز نکالتی ہے۔
اس چڑیا کو پہلی دفعہ سنہ 1902 ء میں امریکی فوج کے ایک جراح میجر ایڈگر میرنز نے پہلی دفعہ بیان کیا تھا۔ اس دور میں یہ چڑیا مرکزی اور جنوبی فلوریڈا کے مقامات پر بڑی تعداد میں پائی جاتی تھی۔ لیکن سنء 1970 ء کی دہائی تک میدانی جنگلات کے وہ بیشتر علاقے جو اس کی آماجگاہ تھے، کو یا تو رہائشی علاقوں میں بدل دیا گیا اور یا کھیت بنا کر ان میں سویابین بو دی گئی یا جانوروں کی چراگاہوں میں بدل دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سنہ 1986 ء تک ان کی تعداد محض چند ہزار رہ گئی اور سنہ 2013 تک ان کی تعداد گھٹ کردو سو سے بھی کم رہ گئی۔
”یہ صورتحال انتہائی نازک ہے اور ہمیں انتہائی تشویش لاحق ہے کہ اس چڑیا کی نسل نہیں بچ پائے گی“ ۔ یہ کہنا تھا لیری ویلیمز کا جو جنوبی فلوریڈا کے ماہی گیری اور جنگلی حیات کی نشوونماء کے ”ویرو بیچ“ میں واقع دفتر کے اس وقت سربراہ تھے۔ ”ہم گویا وقت کے ساتھ ٹکر مول لے رہے ہیں۔“
لیکن ان چڑیوں کو بچانے کے حوالے سے مہم چلانے میں ایک مشکل یہ بھی تھی کہ زیادہ تر لوگ انہیں دوسری عام گھریلو چڑیا جیسا ہی سمجھتے تھے۔ یہ ایک سادہ سی چڑیا کی قسم ہے جو نہ تو کوئی بہت زیادہ خوبصورت چڑیا ہے جو لوگوں کو اپنے حسن و جمال کے سحر میں مبتلاء کر دے۔ یہ تو صرف انہیں ہی خوبصورت اور اہم لگ سکتی ہے جو چڑیوں کو ویسے ہی پسند کرتے ہوں اور اس لیے انہیں اسے بچانے کے بارے میں زیادہ لوگوں کو دلچسپی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
”شیر، چیتے یا گوریلا کی نسل کو بچانے کے لیے مہم چلانا آسان ہے۔“ یہ کہنا جوئل سارتور کا جنھوں نے نیشنل جیوگرافک کے عکسی خزانے کے لیے اس چڑیا کی تصاویر لینے اور اسے لاحق خطرات کو اجاگر کرنے کا کام کیا۔ ”لیکن فلوریڈا میں رہنے والی ایک سادہ سی ننھی منی چڑیا کی نسل بچانے کے لیے اس طرح کی مہم چلانا اور اس میں کامیابی حاصل کرنا جانوروں اور پرندوں کو بچانے کی مہم میں ایورسٹ پہاڑ کی چوٹی سر کرنے جیسا ہے۔“
اس چڑیا کی نسل بچانے کے آخری حربے کے طور پر وفاقی حکومت کے حکام نے ماہرین کی نگرانی میں پنجرے میں مصنوعی نسل خیزی کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس قسم کے منصوبے افرادی قوت اور دیگر ضروریات کی وجہ سے مہنگے بھی ہوتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ کامیاب ہو سکیں۔ سنہ 1980 کی دہائی میں اسی چڑیا کی ایک رشتہ دار چڑیا جسے ”ڈسکی سی سائیڈ سپیرو“ کے نام سے پکارا جاتا تھا کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ فلوریڈا میں رہنے والی یہ کالی چڑیاں اپنی جائے پیدائش سے زندگی بھر بمشکل ایک میل دور رہ کر رہا کرتی تھیں۔ یوں جب ان کی آماجگاہیں تباہ ہوئیں تو بقول شاعر
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
کے مصداق جب وفاقی حکومت کے اہلکاروں نے اس چڑیا کی پنجرے میں رکھ کر نسل خیزی کے منصوبے کی منظوری دی، اس وقت تک صرف پانچ ڈسکی چڑیاں باقی بچی تھیں جو سب کی سب نر چڑے تھے۔ ان میں سے آخری چڑیا والٹ ڈزنی ورلڈ میں سنہ 1987 میں انتقال کر گئی جس کے بعد اب ڈسکی چڑیاں معدوم قرار دی چکی ہیں۔
اگر گراس ہاپر چڑیاں بھی معدوم ہو جاتیں تو یہ ڈسکی چڑیوں کے معدوم ہونے کے چونتیس سالوں بعد امریکہ میں کسی پرندے کے معدوم ہونے کا پہلا معلوم شدہ واقعہ ہوتا۔
کسی نے پہلے کبھی ان چڑیوں کو پنجرے میں بند کر کے ان کی نسل خیزی نہیں کی تھی۔ جنگل میں موجود چڑیوں کو قید کرنے کی بجائے ماہرین نے ان کے انڈے گھونسلوں سے لینے کا منصوبہ بنایا تاکہ جو چڑیاں جنگل میں رہ رہی ہیں، ان کی تعداد میں کمی نہ آئے۔ ”ہم جانتے ہیں کہ یہ کام آسان نہیں ہو گا“ ۔ ویلیمز نے سنہ 2013 میں اس منصوبے کی شروعات کے موقع پر کہا تھا۔ ”یہ چڑیاں جنگل میں خود کو چھپانے کی حتٰی الامکان کوشش کرتی ہیں، اس لیے گھنی جھاڑیوں میں رہتی ہیں۔“
پہلے تین برس ماہرین نے تجربہ کرنے کی غرض سے ”ایسٹرن گراس ہاپر“ نامی چڑیا جو معدومیت کا شکار نہیں ہے، کو پنجرے میں بند کر کے ان کی مصنوعی نسل خیزی کرنے میں کامیابی اور ناکامی کے بارے میں تجربات کیے اور جب وہ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں اچھی طرح مطمئن ہو گئے تو انہوں نے فلوریڈا گراس ہاپر پر کام شروع کیا۔
سنہ 2015 میں نسل خیزی کے موسم میں سائنس دانوں نے ان چڑیوں کا تعاقب کیا اور جنگل میں مختلف گھونسلوں سے انڈے اور پانچ ایسے چھوٹے بچے اٹھائے کہ اگر انہیں گھونسلوں میں چھوڑ دیا جاتا تو ماں باپ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے مرنے کا امکان یقینی تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دو نسبتاً جوان بچے اور دو بالغ چڑیاں بھی پکڑی جو کہ ان چڑیوں کے والدین کا کام کرتے تاکہ وہ انہیں جنگل میں زندگی گزارنے سے متعلق تربیت فراہم کرسکیں۔
ان انڈوں کو دو مختلف جگہوں تک پہنچایا گیا۔ کچھ انڈے فلوریڈا کے اٹلانٹک ساحل پر واقع ”رئیر سپیشیز کنزرویٹری“ یعنی کمیاب نسلوں کے بچاؤ نامی ادارہ جو کہ فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہے، کو دیے گئے جبکہ کچھ انڈے شمالی فلوریڈا میں واقع ”وھائٹ اوک کنزرویشن سنٹر“ میں منتقل کیے گئے۔
لیکن دیگر چڑیوں کی نسل خیری کے تجربات کی مہارت کے باوجود انہیں ابتداء میں کامیابی نہ مل سکی۔ ان کے انڈوں کے لیے صحیح درجۂ حرارت، نمی اور دیگر بنیادی معلومات کا تعین کرنے میں مزید ایک سال کا عرصہ لگ گیا۔ اور مزید انڈوں کی ضرورت بھی پڑی۔ لیکن پھر چار مئی سنہ 2016 ء کو پہلی بڑی کامیابی ملی جب رئیر سپیشیز کنزرویٹری کی تجربہ گاہ میں چار انڈوں سے چوزے نکل آئے۔
ویلیمز کے مطابق ”سب سے مشکل بات اب بھی بے یقینی تھی کہ کیا وہ ان کی صحیح طریقے سے نگہداشت کر پائیں گے۔ ؟ انہیں کتنی دیر کے لیے روشنی اور کتنی دیر کے لیے اندھیرے میں رکھنا ہو گا؟ انہیں کتنی دفعہ کھانا پلانا پڑے گا اور کیا وہ قید میں کوئی چیز کھائیں گے یا نہیں؟“
انہیں یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ جب وہ ان چڑیوں کو جنگل میں آزاد کریں گے تو کیا وہ جنگل کے ماحول میں اپنے شکاریوں مثلاً سانپوں اور سکنک سے خود کو بچا پائیں گی۔ اور یہ کہ انہیں اپنے قدرتی ماحول میں تربیت دینے کے لیے انہوں نے جو بالغ چڑیاں پکڑی تھیں، وہ یہ کام کر پائیں گی؟
اس کے ساتھ ہی انہیں ایک اور مسئلے نے آ گھیرا۔ ایک آنتوں کے طفیلیے نے ان کے پاس موجود چڑیوں کو بیمار کر کے ختم کرنا شروع کر دیا۔ منصوبے کے سربراہ سائنسدان پال رائیلو کے مطابق ”اب یہ بھی فکر لاحق ہو گئی کہ اگر وہ ان چڑیوں کو آزاد کرتے ہیں تو یہ بیماری ان کے ذریعے جنگل میں رہنے والی چڑیوں میں بھی نہ پھیل جائے“ ۔ لیکن وائٹ اوک اور سرکاری حیاتیات دانوں کا موقف تھا کہ انہیں یہ خطرہ مول لینا پڑے گا۔ یہ اختلاف اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ فروری سنہ 2019 میں ماہی گیری اور جنگلات کی ترقی کے محکمے نے رئیر سپیشیز کنزرویٹری کے ساتھ اپنا معاہدہ منسوخ کر کے وہاں رکھی گئی چڑیوں کو وائٹ اوک منتقل کر دیا۔
اس دوران جنگلات میں موجود چڑیوں کی تعداد مزید گھٹتی چلی گئی اور سنہ 2018 تک جنگل میں موجود چڑیوں کی تعداد صرف اسی ( 80 ) رہ گئی جن میں سے صرف بیس جوڑے ہی نسل خیزی کر رہے تھے۔ فلوریڈا کے ماہی گیری اور جنگلی حیات کے تحفظ کے کمیشن کے معاون کریگ فاؤل ہیبر کے مطابق اگر یہ تعداد یوں ہی گھٹتی رہتی تو ایک آدھ سال کے اندر ہی یہ چڑیا معدومیت کا شکار ہو جاتی۔
ریاستی اور وفاقی حکومت کے اہل کاروں نے نیشنل آڈبون سوسائٹی اور آرچ بولڈ بائیولاجیکل سٹیشن کے حیاتیات دانوں سے مشورے کے لیے رابطہ کیا جنہوں نے یہ رائے دی کہ ان چڑیوں کو جنگل میں مکمل طور پر معدوم ہونے سے بچانے کے لیے اس طفیلیے کے پھیلنے کا خطرہ اتنا زیادہ نہیں تھا۔
چنانچہ انہوں نے مئی سنہ 2019 ء میں مصنوعی نسل خیزی کے ذریعے پالی گئی چڑیوں کو آزاد کرنا شروع کر دیا۔ اس وقت سے ہر چند ہفتوں کے وقفے کے بعد ڈھائی سو چڑیاں جنگل میں آزاد کی جا رہی ہیں۔ اور یہ سلسلہ وبا کے دوران بھی نہیں رکا ہے۔ کرونا کی وبا ان کے کام کو متاثر نہیں کر پائی۔ ماہرین نے ان کو جنگل منتقل کرنے کے دوران ماسک پہننا شروع کر دیے اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر یہ کام انجام دیتے رہے۔
ان چڑیوں کو آزاد کرنے کا عمل کچھ اس طرح سے ہوتا ہے۔ ریاستی اور وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے ماہر حیاتیات وائٹ اوک تجربہ گاہ سے بالغ چڑیوں کو آزاد کرنے کے لیے منتخب کرتے ہیں اور ایک آخری دفعہ ہر ایک چڑیا کے صحت مند ہونے کی جانچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں خصوصی طور پر تیار کیے گئے پنجروں میں منتقل کر کے کوئی چار گھنٹے کی مسافت پر واقع جنگلات میں آزاد کر دیا جاتا ہے۔ سفر کے دوران ان پرندوں کے پنجروں میں انہیں وہ کیڑے مکوڑے اور دیگر کھانے کی اشیاء فراہم کی جاتی ہیں کہ جو انہیں جنگل میں ملیں گے تاکہ ان کو اپنی خوراک کے حوالے سے آگاہی فراہم ہو سکے۔
اس کے بعد مقررہ مقامات پر پہنچ کر ان کے پنجروں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو فوراً ہی پر پھیلا اڑ جاتے ہیں اور کچھ اڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جنھیں سائنسدان اڑنے کے لیے تحریک دیتے ہیں۔ ”ہم ایک گھنٹے تک ان کے خود ہی اڑ جانے کا انتظار کرتے ہیں اور اگر پھر بھی وہ نہ اڑیں تو عملے کے افراد ان کو اڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔“ بلیک فورڈ نامی وفاقی ماہر حیاتیات نے بتایا۔ ان جگہوں کی شناخت خفیہ رکھی گئی ہے جہاں انہیں آزاد کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں سے بعض نجی ملکیت میں ہیں اور خدشہ ہے کہ نام بتانے کی صورت میں ان کے مالکان منع نہ کر دیں۔
اس کے بعد ماہرین حیاتیات آزاد کی گئی ہر چڑیا کہ نقل و حرکت کو دیکھتے رہتے ہیں۔ فی الحال آزاد کی گئی تقریباً تیس فیصد چڑیاں بچ پاتی ہیں بقیہ کو یا تو شکاری کھا جاتے ہیں یا وہ اس خطرناک طفیلیے کا شکار ہو جاتی ہیں۔ لیکن اس وقت تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ان کے ذریعے یہ بیماری جنگل میں رہنے والی چڑیوں میں پھیل رہی ہو۔ یہ کہنا ہے ویلیمز کا۔ ”اور کچھ نہیں تو اس منصوبے کے ذریعے ہمیں اتنا وقت مل رہا ہے کہ ہم ان چڑیوں کی آبادی کی گھٹتی ہوئی تعداد کی وجوہات کو جاننے اور ان کا توڑ کرنے کے لیے کوشش کر سکیں۔“ یہ کہنا ہے جنگلی حیات کے تحفظ کے کمیشن کے ماہر حیاتیات ہوان اوٹیزاء کا۔
ماہرین حیاتیات کو یہ بھی جان کر خوشی ہوئی کہ آزاد کی گئی چڑیوں نے جنگل میں جا کر ویسا ہی برتاؤ کیا جیسے جنگل میں پیدا اور پلنے بڑھنے والی چڑیاں کرتی ہیں۔ ماہرین نے دیکھا کہ جب ان کے اوپر عقاب اڑتے ہوئے آئے تو انہوں نے خود کو فوراً ہی جھاڑیوں میں چھپا لیا۔ آزاد کی گئی بعض چڑیوں نے اپنے ساتھ رہنے والی چڑیوں کے ساتھ مل کر نسل بڑھائی تو بعض چڑیوں نے جنگل میں پرورش پانے والی چڑیوں کے ساتھ جوڑا بنا لیا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قید میں پرورش پانے کے باوجود بھی انہیں جنگل میں رہنے کے ”آداب“ یاد تھے۔ اب ان کی نسلیں بڑھ رہی ہیں جو ماہرین کے لیے اطمینان کی سانس لینے کا ایک اور ذریعہ ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی نسل خیزی کے ذریعے پرورش پانے والے پرندے بھی جنگل میں جا کر اپنی نسل بڑھا سکتے ہیں۔
نیشنل جیوگرافک کے عکس نگار ساتور کے لیے یہ ایک بڑی خوشی کا موقع ہے۔ ان کے مطابق ”میں نے تو سوچ لیا تھا کہ اب ان چڑیوں کو معدومیت سے کوئی نہیں روک سکے گا۔“
اب جنگل میں ان چڑیوں کی تعداد ایک سو سے تجاوز کر چکی ہے اور تیس جوڑے اپنی نسل بڑھا رہے ہیں۔ لیکن یہ تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ اب بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ چڑیاں معدومیت کے خطرے سے باہر آ گئی ہیں۔ اس لیے مصنوعی نسل خیزی کا منصوبہ اب بھی جاری ہے۔
اس دوران پچھلے سال نومبر میں پکے ہوئے کھانوں کے مشہور نام ”سب وے“ کے شریک بانی مرحوم فریڈ ڈیلوکا کے خاندان نے ستائیس ہزار ایکڑ جنگلی اراضی ان چڑیوں اور دیگر ایسے پرندوں اور جانوروں کی نسلیں بچانے کے لیے عطیہ کر دی ہے۔ اور اسی زمین پر کل آزاد کی جانے والی چڑیوں میں سے نصف چھوڑی جا رہی ہیں۔ یہ زمین ”فلوریڈا کی جنگلی حیات کی راہ داری“ نامی منصوبے کا انتہائی اہم حصہ ہے جو ایک دفعہ مکمل ہو گیا تو اس کے ذریعے فلوریڈا کی معدومیت کے خطرے سے دوچار تمام جنگلی حیات کو انسانوں سے ٹکرائے بغیر ایک سے دوسرے علاقے میں منتقل ہونے کا محفوظ راستہ فراہم کرے گا۔ ان میں فلوریڈا کے معدومیت کے خطرے سے دوچار پینتھر بھی شامل ہوں گے۔
ان چڑیوں کی نسل کو بچانے کے اس منصوبے کی اب تک کی لاگت بارہ لاکھ امریکی ڈالرز رہی ہے۔ تو اب وہ لوگ کہ جو جنگلی حیات کو صرف پیسے بچانے کے نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں کا سوال کہ آخر اتنی چھوٹی سی ننھی منی چڑیا کو بچانے کے لیے اتنی رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے۔
یہ چڑیاں جنگل میں مختلف اقسام کے بیجوں کو دور دور تک پھیلانے کا باعث بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کئی اقسام کے جانداروں کی خوراک ہیں۔ انہیں بچانے کا مطلب ان پر انحصار کرنے والے جنگلی حیات کے ایک پیچیدہ نظام کو بچانا ہے۔ جو کہ آخر کار انسانوں کے لیے بھی فوائد کا موجب بنتا ہے۔
”جب ہم جنگلی حیات کی ایک چھوٹی سی قسم کو بچانے کے اقدامات کرتے ہیں تو اس سے معاشرے میں ماحولیاتی نظام کو بچانے کی ایک بڑی تحریک کا آغاز ہوتا ہے جس میں مضر صحت مادوں کا اخراج کم کرنے سے لے کر بارانی جنگلات کا بچاؤ بھی شامل ہے۔“ نیشنل جیوگرافک کے عکس نگار ساتور کہتے ہیں۔ ”میرا خیال ہے کہ فلوریڈا کی چڑیا کی نسل کا تحفظ اس حوالے سے ایک بڑی راہ ہموار کرتا ہے۔“ ساتور کہتے ہیں۔
شاید اسی راہ پر چل کر ”کیپ سیبل سی سائیڈ سپیرو“ کا تحفظ بھی ممکن ہو سکے جو فلوریڈا کے دلدلی علاقوں میں رہنے والی چڑیا ہے جس کی تعداد اس وقت تین ہزار کے لگ بھگ ہے۔ گراس ہاپر چڑیا کو بچانے کی جدوجہد سے حاصل ہونے والے اسباق کی مدد سے اس چڑیا کا تحفظ بھی ممکن ہو سکے گا۔
پاکستان میں تو جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے صورتحال اور بھی خراب ہے۔ آج ہی ایک خبر کے مطابق پاکستان میں پائے جانے والے مینڈکوں کی اکیس اقسام میں سے سبھی کو معدومیت کا خطرہ لاحق ہے۔ ہم نے خود دیکھا ہے کہ پہلے برسات کا موسم آتے ہی بھانت بھانت کے مینڈک سامنے آتے تھے لیکن اب کم از کم ہمارے شہر میں مینڈکوں کی تعداد گھٹ کر ختم ہو گئی ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہمارے گھر میں ایک۔ مینڈک رہتا تھا لیکن وہ اس قدر ڈرا ہوا تھا کہ بالکل ہی خاموش رہتا تھا اور کبھی کبھی اس نے ٹرٹرانے کی کوئی آواز نہ نکالی تھی۔
اس کے علاوہ ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے گھر میں پانچ دس چڑیاں ہی آتی ہیں اور کبھی بھی ان کو اس طرح بڑی تعداد میں نہیں دیکھا ہے جس طرح آج سے پندرہ بیس سالوں پہلے یہ نظر آیا کرتی تھیں جو کہ درختوں کے گھٹ جانے سے ان کی تعداد میں نمایاں کمی آنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حالانکہ ہمارے گھر کے قریب کافی درخت ہیں۔ یہی نہیں بلکہ پہلے ان چڑیوں کے چہچہانے کی بہت زیادہ آوازیں آتی تھیں لیکن اب یہ چہچہاہٹ کی آوازیں دینا تقریباً چھوڑ چکی ہیں۔ اسی طرح مینا کی تعداد بھی ڈرامائی طور پر گھٹتی نظر آتی ہے۔
مصنف: دانش علی انجم ماخذ: نیشنل جیوگرافک









