کوئی ہارتا نہیں ہم سب کسی نہ کسی طرح جیت کے حصّے دار ہوتے ہیں
ہمسایہ ملک کی فلم کا ڈائیلاگ ہے، ”اگر کوئی اور جیتے تو اس کے لیے ایسے تالی بجاؤ جیسے تم اپنے لیے سننا پسند کرتے ہو۔
ایسے کوئی ہارتا نہیں ہم سب کسی نہ کسی طرح جیت کے حصے دار ہوتے ہیں ”میں نے جب سے یہ سنا تو بہت اچھا لگا۔ اس فقرے میں ایک کھلاڑی کے لیے مکمل سپورٹ مین سپرٹ کا عکس کھینچا گیا ہے۔ گزشتہ میچ میں یہی سپرٹ ہمسایہ ملک کے کپتان میں نظر آئی۔ مگر سوال یہ ہے کے سرحد کے دونوں طرف کی عوام ایسے موقعوں پر کھیل سے لطف اندوز ہونے کے بجائے خود کو میدان جنگ میں کیوں سمجھنے لگتے ہیں؟ ایسے معلوم ہوتا کے دونوں طرف کے باسیوں نے بٹوارے کے وقت غیروں کی لگائی ہوئی آگ سے اپنے دامن کو بچانے کی فکر تا حال نہیں کی۔
گوروں کی پھیلائی ہوئی نفرت آج بھی برصغیر کی عوام کو ہوش کے ناخن نہیں لینے دے رہی۔ بات بے بات پر جنگ کے یہ جنونی لوگ اس حقیقت کو کیوں نہیں سمجھتے کے ناصرف بر صغیر جیسے پیارے ٹکڑے بلکہ تیسری دنیا کے تمام غیر ترقی یافتہ ملکوں میں مذہب، رنگ، نسل اور فرقہ واریت جیسے کارڈز کھیل کر گورے صرف اپنا اسلحہ بیچنا چاہتے ہیں۔
زیادہ قابل افسوس بات یہ کے ملک کے مقتدر طبقے کی طرف سے ایک صاحب بڑے جوش و خروش سے اس میچ کو ہندوستان اور عالم اسلام کے درمیان کوئی بہت معرکہ آرا فتح سے تشبیہ دے رہے تھے شاید نہیں بلکہ یقیناً ایسے سیاستدانوں کے متعلق سعادت حسن منٹو صاحب نے فرمایا تھا کہ مذہب ایسی چیز ہی نہیں جس کو خطرہ ہو خطرہ ہے تو ان لیڈران کا جو اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
سماجی رابطے کے بیشتر ذرائع پر ہمسایہ ملک سے وابستہ فتح و شکست ہر مبنی تصاویر اور مواد دیکھا مگر دونوں ٹیمز کے سربراہان کی اکٹھی لی گئی سیلفی اور دو چھوٹے بچوں کی تصاویر جس میں دونوں ممالک کے جھنڈے ان کی گالوں پر چسپاں ہے نے دل موہ لیا۔ دل کو کچھ سکون ملا کے نہیں ابھی کچھ اہل دانش و اہل محبت ابھی باقی ہیں جو خود کو گورا راج کی پھیلائی ہوئی نفرت اور کچھ خود غرض حکمرانوں کی خود غرضی سے اپنے دامن کو بچا کے محبت کا پیغام عام کر رہے ہیں۔


