انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ


گزشتہ کئی ہفتوں سے ایک ایسی فضا بنی ہوئی ہے جس کے مضر نتائج کی جسے کسی کو پرواہ ہی نہ ہو، منفی و مثبت نتائج سے لاتعلق ایک ایسی وحشت و انتشار کا عالم طاری ہونا جس کی مثال ماضی میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے، ان حالات کی ذمے داری کس پر عائد کی جائے تو اس کا حتمی نتیجہ عقل و ضمیر کی عدالت میں ہی کیا جاسکتا ہے کہ، کیا یہ سب کچھ کسی منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے یا پھر جذبات سے مغلوب کر کے انسان کو ایک ایسے راستے پر چلنے پر مجبور کیا گیا جس کا نتیجہ بند گلی میں مقید ہوجانا ہے۔

یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب جذبات کے تابع ہو جانے کا نتیجہ سامنے آتا ہے کہ انسان علم و عقل اور فکر و شعور ہونے کے باوجود ان سے کام لینے کے قابل نہیں رہتا، اس کے جذبات اس کی فکری صلاحیتوں کو سلب کرلیتے ہیں، وہ اس کی عقل و خرد پر پردے ڈال دیتے ہیں، اس کی فکر ہمیشہ خام رہتی ہے۔ اللہ تعالی اپنے بندے کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ اس کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق اپنی عقل کو استعمال میں لائے اور اپنی فکر کو بامقصد بنائے۔

غور و فکر وہ عمل ہے جس میں زمین کو بڑی محنت اور مشقت کرنا پڑتی ہے، پھر غور و فکر سے نئی زندگی کی نئی نئی راہیں سامنے آتی ہیں جنہیں حرکت و عمل سے ہی طے کیا جاسکتا ہے، بے عمل قوم اس سے بھی گھبرا جاتی ہے، چنانچہ خام فکری کے جمود میں گرفتار رہ کر افراد قوم انسانیت کی ارفع و اعلیٰ سطح پر نہیں پہنچ پاتے۔

اس صداقت پر ایمان لانے کی ضرورت ہے کہ پختگی افکار ناممکن ہے جب تک انسانی فکر کی ہر افتاد اس علم و یقین سے ہم آہنگ نہ ہو جائے جس میں شکوک و اضطراب کا کوئی دخل نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ قوموں کا مستقبل ان کی ابھرنے والی نسلوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اگر قوم کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت صحیح خطوط پر ہو جائے تو قوم خود بخود صحیح قالب میں ڈھل جائے گی، ہمیں اس دور میں اپنے نوجوان طبقہ سے ان کے شتر بے مہار ہو جانے کی شکایت ہے، ہمیں ان کے بے لگام خیالات سے گلہ ہے، ان کی فکر و نظر سے اختلاف ہے، ہمیں ان کی کج روی اور سرکشی کا ملال ہے، یہ سب بجا اور درست!

، مگر ہمیں ایک لمحے کے لئے یہ سوچنا گوارا نہیں کہ اس میں قصور کس کا ہے، اس ساری تخریب کا ذمہ دار کون ہے؟ بات تو صاف ہے کہ ہم نے انہیں فلاحی معاشرہ ہی نہیں دیا جو نئی نسل کی آبیاری کے لئے ناگزیر تھا۔ اگر آج بھی ہم اپنے نوجوانوں کے دل و دماغ میں اس حقیقت کو راسخ کر دیں کہ انسان کا انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ، فلاح انسانیت کے لئے مختص کرنا اور مستقل اقدار کے تابع رکھنا ہے تو پھر ہی شرف انسانیت اور پختگی فکر کا ضامن ہو سکتا ہے، جس کے بعد یقین کیا جاسکتا ہے کہ اگر ہمارے معاشرے کی راہ درست سمت پر ہوگی تو کل ہم اپنی نوجوان نسل کو ایسا معاشرہ فراہم کر سکتے ہیں جس کے افراد سیرت و کردار اور افکار و اطوار میں پختگی و پاکیزگی کے جیتے جاگتے پیکر ہوں، ہمیں رب کائنات نے جو زندگی بخشی ہے، تو اس کی مقصدیت کو سمجھ کر ہی ہم حیوانیت سے محفوظ رہتے ہوئے انسانیت کی سطح پر زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

فکر کے ؒلغوی معنی ہیں، عام سوچ بچار، دھیان، تدبر، غور وغیرہ اور خام سے مراد کچا، کمزور۔ خام فکر سے مراد جھوٹی سوچ، دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ خام فکر وہ فکر ہے جو انسان کو تخریب کا راستہ دکھائے، یہ فکر تعمیری اصولوں کے مطابق نہیں ہوتی، خام فکر کے مقابل پختہ فکر کا نام لیا جاتا ہے، جسے ہم فکر رسا بھی کہتے ہیں، اس قسم کی فکر اعلیٰ عقل کے معنوں میں بھی مستعمل ہے اور ہمیشہ عقل کے تابع رہتی ہے۔ تاریخ عالم شاہد ہے کہ سادی عقل نے مختلف قوموں کو انتہائی عروج تک پہنچایا لیکن وہ قومیں انسانیت کے اصل مقام سے واقف نہ ہو سکیں، پرانے ماضی میں بابل، مصر، یونان اور مصر کی سلطنتیں مادی بلندیوں تک پہنچیں لیکن عقل کے مکر و فن نے ہر جگہ انہیں دوسری اقوام پر مسلط ہونے کی شبہ دکھائی جس کی وجہ سے ان کی تہذیب اس مقام تک نہ پہنچ سکی جو انسانیت کے لئے وجہ امتیاز ہے۔

عقل کی ہدایت کے لئے جب تک خاص اصول مقرر نہ ہوں، وہ راستہ کے کسی مقام کو ہی منزل قرار دے سکتی ہے، یہ وہ مقام بن جاتا ہے کہ انسان، انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جاتا ہے، جس قوم کے افراد کی عقل و فکر ناپختہ ہو اس قوم کی فکری آزادی اس کے لئے سوہان روح بن جاتی ہے، اس قوم کی آزادی، بے راہ روی میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے اور اس قوم کے افراد بے سلیقہ ہو جاتے ہیں۔

جب ہم ملک گیر سطح پر مخصوص فکر و نظریے کے حامل گروہ پر نظر دوڑاتے ہیں تو سارا معاملہ بالکل برعکس نظر آتا ہے، ہم اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور جا رہے ہیں، اسلام ہمیں عقل و فکر کی دعوت دیتا ہے لیکن ہمارے یہاں معاملہ کچھ اور ہی رنگ میں ڈھلتے نظر آتے ہیں، ہم اسلامی تعلیمات کا پرچار تو کرتے ہیں لیکن اس پر عمل بہت کم لوگ ہی کر پاتے ہیں، اس کے نتیجے میں جب مصائب کا انبار ہمارے سر سے اونچا ہوتا چلا جاتا ہے تو ہم ان اصولوں پر عمل سے گھبراتے ہیں۔

قرآن کریم پر اکثریت غور فکر کیے بڑھ جاتی ہے، نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے اسوہ حسنہ و سنت کے مطابق اکثریت نے خود کو ڈھالنے کی کوشش بھی نہیں کی، لیکن اس کے بڑے بڑے دعوے ظاہر کرتے ہیں کہ قول و فعل کے اس تضاد نے آج کے مسلمان کو اپنی اصل منزل سے کتنا دور بھٹک جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہی انسان جسے قدرت نے تمام مخلوقات میں اشرف پیدا کیا وہ آج خود ہی اپنی عظمت کی دھجیاں اڑا کر حیوانی سطح کی زندگی سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

Facebook Comments HS