یہ اوکاڑہ کے ارسطو آفتاب اقبال کون ہیں؟


کیا آپ آفتاب اقبال کو جانتے ہیں؟ کیا انہوں نے کوئی نمایاں قسم کا کارنامہ سر انجام دیا ہے؟ کیا وہ مفکر ہیں؟ میں نے جب حلقہ یاراں میں یہ سوال پوچھے تو مجھے سننے کو یوں ملا

”بس زیادہ کچھ تو نہیں جانتے بس اتنا پتہ ہے کہ وہ ٹی وی پر بیٹھ کر ہنسنے ہنسانے کا کام کرتا ہے اور شو باز اتنا ہے کہ کیمرہ مین بار بار اس کا زرق برق لباس اور جوتے دکھا رہا ہوتا ہے“

لہجہ میں خاص قسم کا تکبر اور رعونت جھلکتی رہتی ہے ہم اسے (intellectual snob) کہہ سکتے ہیں اس اصطلاح کا مطلب یہ بنتا ہے کہ

”ایسا شخص جو اپنے علم اور کامیابیوں پر اتراتا پھرے اور انتہائی تکبرانہ انداز میں دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرے یا ججمینٹل بنے“

پھر میں نے پوچھا کہ کیا آپ پرویز ہود بھائی کو جانتے ہیں؟ ان کا نام سنتے ہی انہوں نے کہا ان کی بڑی بڑی کامیابیاں تو ایک طرف مگر جو سب سے بڑی حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ ہود بھائی (پیور سائنٹیفک برین) ہیں جو سائنس کو کسی بھی دوسرے مضامین کے ساتھ مکس اپ کرنا پسند نہیں کرتے یعنی انہوں نے اپنی ساری زندگی سائنس کے لئے وقف کر دی ہے اور فزکس کا تو انہیں جنون ہے بطور سائنسدان ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے لاکھوں طلبہ کو سوچنے کا ایک خاص قرینہ دیا ہے اور سائنس کو سائنس کے دائرے میں رکھ کر دیکھنے کا ایک خاص انداز سکھایا ہے لیکن اس بندے کا قصور یہ ہے کہ یہ غلط جگہ پر پیدا ہو گیا ہے اور اسی کی سزا بھگت رہا ہے۔ اس ساری گفتگو کا بیک گراؤنڈ آفتاب اقبال کی وہ مضحکہ خیز گفتگو ہے جس میں موصوف نے پرویز ہود بھائی کی خدمات کو صرف اس وجہ سے مسترد کر دیا ہے کہ وہ ایتھیسٹ ہیں، میں ان کے یہ انتہائی احمقانہ ریمارکس کو یہاں درج کرنا چاہوں گا تا کہ آپ بھی مستفید ہو سکیں موصوف کا کہنا تھا کہ

”چند دن پہلے میں نے فزکس کے حوالہ سے پرویز ہود بھائی کی کافی تعریف کر دی تھی میں انہیں بہت تگڑا عالم سمجھتا تھا انہوں نے پانی سے گاڑی چلانے والے آغا وقار کو ایکسپوز کیا تھا لیکن مجھے تو بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو ایتھیسٹ ہیں اور میں بلا وجہ ان کی تعریفیں کرتا رہا یہ تو وہی بات ہے جس کو چاہے خدا خراب کرے جو بندہ خدا ہی کو نہیں مانتا تو اس کا علم کس کام کا، فزکس کے میدان میں بھی انھوں نے کوئی خاص تیر نہیں مارا، یہ تاثر کہ وہ کوئی بہت بڑے عالم ہیں بالکل نہیں اور ایسے بندے کی سب سے بڑی سزا یہی ہے کہ وہ ( گاڈ لیس) رہے“

یہ تھی جھلک آفتاب اقبال کے متکبرانہ اور سطحی سوچ کی موضوع کی طرف واپس لوٹتے ہیں کہ پرویز ہود بھائی کی ستر سالہ زندگی میں ان کا کوئی بھی ایسا بیان سامنے نہیں آیا کہ جس میں انہوں نے اپنے بارے میں یہ کہا ہو کہ وہ ایتھیسٹ ہیں جب تک کوئی بندہ عوامی سطح پر اس بات کا کوئی واضح اعلان نہ کرے تو اس کے بارے میں اتنا بڑا تاثر قائم کر لینا بہت گری ہوئی اور نیچ حرکت ہے، اس کے علاوہ انہوں نے کبھی بھی مذاہب کی تعلیمات کا مذاق نہیں اڑایا البتہ (مائنڈ سیٹ) کو وہ ضرور ٹارگٹ کرتے رہتے ہیں کیونکہ اسی تسلسل کی وجہ سے ہم آج اکیسویں صدی میں بھی تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور سڑکوں پر اسی قسم کے مائنڈ سیٹ (تحریک لبیک) سے جھونج رہے ہیں جنہوں نے پورے ملک کو ایک عرصے سے جام کر رکھا ہے لوگ بھوک سے خودکشیاں کر رہے ہیں اور ان کی سوئی فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر اٹکی ہوئی ہے نئی صدی کے نئے تقاضے ہیں ہم کو اس کی بالکل خبر نہیں ہے لگے ہوئے ہیں اپنے مفاد کی بین بجانے میں، تا کہ غریب عوام کی جیب میں جو تھوڑا بہت بچا ہے اسے عقیدت کے نام پر نچوڑ لیں تاکہ گھروں کا راشن، گاڑیوں کا پیٹرول، موبائل کا بیلنس اور پرتعیش لائف سٹائل میں کوئی خلل نہ آئے۔

پرویز ہود بھائی اسی مائنڈ سیٹ کی ہی تو بات کرتا ہے جو ہمیں اپنی جہالت کی غار سے باہر نہیں نکلنے دیتے اور شعور پر اپنے اپنے مذہبی برانڈ (دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ اور قادیانی) کے پہرے بٹھا کر کسی کو ملحد، کافر یا قادیانی جیسے القابات سے نوازتے رہتے ہیں۔ ان باکس کا پرچار کر کے اپنے لائف سٹائل پر اترانا تو بہت آسان ہوتا ہے مگر آؤٹ آف باکس یا آؤٹ آف وے جا کر لوگوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑنا اتنا آسان نہیں ہوتا بلکہ قدم قدم پر ( پست ذہنیت) سے جھونجنا پڑتا ہے اور اسی پست ذہنی کا مظاہرہ آفتاب اقبال نے یہ کہہ کر کر دیا ہے کہ ہود بھائی تو ایتھیسٹ ہیں ان کے کارنامے کس کام کے؟

جیسے سستا نشہ انسان کو جسمانی طور پر متاثر کرتا ہے بالکل اسی طرح (سستا ادب) بھی انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیتا ہے اور سطحی سوچ رکھنے والا بندہ بھی مقبول عام قسم کی باتیں کر کے اور ٹی وی سکرین کو استعمال کر کے (گھوسٹ دانشور) بننے کا درجہ حاصل کر سکتا ہے اور ہمارے ملک کی فضا اس قسم کے دولے شاہ کے چوہے پیدا کرنے کے لیے بڑی سازگار ہے اسی وجہ سے تو زید حامد اور اوریا مقبول جیسے لوگ ہمارے دانشور بنے ہوئے ہیں، عالم اسلام پر جب کبھی کڑا وقت آتا ہے تو (جذباتی کتھارسس ) کے لئے ان کو آگے کر دیا جاتا ہے سوری جاوید چوہدری کو بھول گیا جس کا بہت سے لوگوں کو (بزرگ) بنا کر پیش کرنے میں بہت اہم کردار ہے، نسیم حجازی، اشفاق احمد اور بابا یحییٰ جیسے لوگوں کی سوچ کے زیر سایہ پلنے والے یہ لوگ ہمیں روحانیت کے نام پر مسلسل اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں۔

باقی رہا آفتاب اقبال کا یہ اعتراض کہ وہ ایتھیسٹ ہے اس لئے اس کا علم بیکار ہے تو جناب آپ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں کی پروفائل اٹھا کر دیکھ لیں ان میں اکثریت ایتھیسٹ ہے اور جو سائنس دان کسی نہ کسی مذہب کو ماننے بھی ہیں تو وہ ان کا پرچار نہیں کرتے بلکہ مذاہب سے اوپر اٹھ کر لیبارٹری میں انسانوں کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اگر وہ بھی آپ کی طرح سطحی سوچ کے مالک ہوتے تو آج آپ کو فری میں کرونا ویکسین نہ لگ رہی ہوتی اور آپ جو آج کیئر فری لائف گزار رہے ہیں وہ انہی لوگوں کی بدولت ہے، انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں ہوتا، علم و شعور کا تعلق خدا کے ماننے یا نہ ماننے سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک انسان کی ذاتی سوچ ہوتی ہے اگر آپ کی ذاتی سوچ سے انسانیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو ذاتی سوچ کے ساتھ جینے میں کیا مضائقہ ہے۔

آفتاب اقبال صاحب آپ ایک کام کیجئے اور جتنے بھی ایتھیسٹ سائنسدان اس وقت انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں ان کو بے علم، جاہل گنوار اور سر پھرے ڈکلیئر کر ڈالیے مگر ایک بات کا جواب ضرور عنایت فرما دیجئے کہ آپ کی ان باتوں سے اکیسویں صدی میں ہمیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ پرویز ہود بھائی کے سائنس کی دنیا میں جو کارنامے ہیں وہ ان کی پروفائل کا حصہ بن چکے ہیں جو جاننا چاہے وہ انٹرنیٹ پر سرچ کر سکتا ہے مگر آپ کی پروفائل میں (خبر ناک اور خبردار) کے علاوہ کچھ نہیں ہے پرویز ہود بھائی شعور کے علمبردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے وہ اپنی کامیابیوں اور کارناموں کے عوض بہت نام کما چکے ہیں اور اپنی علمیت کے لیے انہیں آپ سے سرٹیفکیٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے البتہ آپ کا ایک نقصان ضرور ہوا ہے جو ایک خاموش تعداد آپ کو بڑے انہماک سے سنتی تھی ان پر آپ کی سطحی سوچ عیاں ہو چکی ہے اور جانے انجانے میں آپ نے خود کو ایکسپوز کر دیا ہے۔

Facebook Comments HS