اکتوبر 1958ء اور اکتوبر 2021ء میں کیا فرق ہے؟


فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اپنی مشہور زمانہ کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں لکھتے ہیں کہ ”1958 ء کے وسط میں ملک ایک سخت اقتصادی بحران کی لپیٹ میں آ گیا۔ اندھا دھند خرچ اس زمانے کا عام دستور نظر آتا تھا۔ ہم جتنا غیرملکی زرمبادلہ کما رہے تھے، اس سے زیادہ تین سے لے کر چار کروڑ ماہانہ کے حساب سے گنوا رہے تھے۔ زرمبادلہ کی محفوظ رقوم گھٹتے گھٹتے بیالیس کروڑ روپے رہ گئی تھیں۔ ان میں سے تقریباً چودہ کروڑ کیش یا منتقل بھی نہیں کیے جا سکتے تھے۔

دس مہینے اور یہی حالت رہتی تو ہمارے سکے کی کوئی قیمت ہی نہ رہتی اور ممکن تھا کہ ہمارا روپے پیسے اور بینکاری کا نظام بالکل چوپٹ ہوجاتا۔ ادھر تو ملک میں یہ ابتری پھیلی ہوئی تھی اور ادھر 1956 ء کے آئین کے تحت عام انتخابات کے چرچے ہو رہے تھے۔ صدر نے آئین کی کمزوریوں سے پورا پورا فائدہ اٹھایا تھا اور جس شخص کا ملکی سیاست سے ذرا بھی تعلق تھا اسے بے نقاب کر کے اس کی ساکھ مٹی میں ملا دی تھی۔ ادھر سیاست دان، خاص طور پر وہ لوگ جن پر سیاسی زندگی کے دروازے بند کر دیے گئے تھے، عام انتخابات سے طرح طرح کی امیدیں وابستہ کرنے لگے تھے۔

انہیں یہ ترغیب ہوئی کہ وہ بظاہر سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے مگر درپردہ اپنے مخالفوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ملک گیر مہم شروع کریں۔ اس کام میں سب سے آگے آگے خان عبدالقیوم خان تھے جو ملک کے دورے کر کے اپنی شعلہ بیانی سے لوگوں کو خانہ جنگی کی تلقین کر رہے تھے۔ ان کو دو بڑے فصیح البیان رفیق مل گئے تھے۔ ان میں سے ایک تو میرے بھائی سردار بہادر خان تھے اور دوسرے راجہ غضنفر علی خان۔ خان عبدالقیوم خان نے مسلم لیگ نیشنل گارڈ تیار کرنا شروع کی اور کوئی 60 ہزار جوان بھرتی کر لیے۔

28 ستمبر کو مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی کہ اگر ضرورت پڑی تو غیرآئینی طریقوں سے حکومت کو برطرف کیا جائے گا۔ ملک کی صورتحال اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو گئی جب خان قلات نے عام ابتری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قلات کو پاکستان سے الگ کرنے کے لیے سازشیں شروع کر دیں۔ اس زمانے میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ خان قلات کو اس امر میں صدر پاکستان سکندر مرزا کی طرف سے شہ مل رہی ہے جو اپنا آخری حربہ استعمال کرنے کے لیے زمین ہموار کر رہے تھے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ قیوم خان اور ان جیسے کچھ اور سیاست دانوں نے مسلح افواج کے بعض اراکین سے رابطہ قائم کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ طرح طرح کی افواہیں پھیلا رہے تھے تاکہ سینئر افسروں کو گمراہ کیا جائے اور اپنے اقتدار کی ہوس میں فوجی افسروں کے گروہوں کی حمایت حاصل کی جائے۔ ایک فوجی کی حیثیت سے مجھ پر یہ بات بخوبی عیاں ہو گئی تھی کہ سول حکام جو سیاست دانوں کے آگے پہلے ہی بے دست و پا ہوچکے تھے، صورتحال پر قابو نہ پا سکیں گے۔

فوج خواہ پسند کرے یا ناپسند، اسے دخل دینا ہی پڑے گا کیونکہ آخر ملک میں نظم و ضبط تو قائم رکھنا ہی ہو گا۔ گردوپیش جو حالات پیدا ہو گئے تھے، فوج ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔ نہ یہ خیال کیا جاسکتا تھا کہ فوجی افسر اور جوان زندگی کے ہر شعبے میں جو سیاسی جوڑ توڑ، چالبازی، بے ایمانی اور بدنظمی دیکھتے تھے، اس سے کوئی اثر قبول نہ کریں گے۔ ان کے عزیزو اقارب بھی تھے، وہ اخبار بھی پڑھتے تھے اور بعض اپنے اپنے تعلقات کا سلسلہ بھی رکھتے تھے۔

چونکہ فوج محب وطن تھی اور ایک قومی فوج تھی، اس لیے لازمی بات تھی کہ وہ عوام کے خیالات کا ساتھ دے۔ بڑے بڑے معزز لوگ مجھ سے ملنے آتے اور کہتے تم چاہو تو ملک کی حالت سنبھال سکتے ہو مگر تم جوکھوں میں پڑنا نہیں چاہتے۔ میرے بعض دوستوں نے اور بھی منہ پھٹ ہو کر یہی بات مجھ سے کہی۔ میں نے کہا بھلا میں کیا کر سکتا ہوں۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی ذمہ داری مجھ پر تو نہیں آتی۔ تم تو میری انہی باتوں پر نکتہ چینی کر سکتے ہو جن کا میں ذمہ دار ہوں۔

جوں جوں حالات خراب ہوتے گئے، زیادہ سے زیادہ لوگ میرے پاس آئے اور اسی لہجے میں گفتگو کرنے لگے۔ مجھے ان کی آنکھوں میں بڑی مایوسی جھلکتی نظر آتی تھی۔ میں جہاں کہیں جاتا اور میں اکثر دورے پر رہا کرتا، کبھی ایک چھاؤنی کا معائنہ کرنے کے لیے کبھی دوسری کا اور جب کبھی لوگ جمع ہوتے مجھے ان میں وہی بے چینی دکھائی دیتی۔ پست ہمتی کا احساس عوام میں تیزی سے سرایت کرتا جاتا تھا اور انہوں نے کھلم کھلا کہنا شروع کر دیا تھا کہ کاش کوئی اللہ کا بندہ آئے اور ملک کو بچائے۔

ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ فوج کی طرف تھا کیونکہ فوج ہی اس خلا کو بھر سکتی تھی۔ فوج ہی وہ واحد منظم ادارہ تھی جو مشکل کے وقت ان کی سپر بن سکتی تھی، ان کو سہارا دے سکتی تھی تاکہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں اور ان مصیبتوں سے نجات حاصل کرسکیں جن میں وہ گھرے ہوئے تھے۔ حالات میں کوئی بہتری کی صورت نظر نہ آتی تھی مگر میں تمنا کیا کرتا کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ پیدا ہوہی جائے۔ ایسی صورت میں میں پہلا آدمی ہوتا جو اس کا خیرمقدم کرتا اور پوری طرح اس کی مدد کرتا۔ میں آس لگائے رہا اور دعائیں مانگا کیا“ ۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اپنی کتاب میں 63 برس پہلے کے مندرجہ بالا سیاسی حالات تحریر کیے تھے لیکن یوں لگتا ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ 2021 ء کے بارے میں لکھا تھا۔

Facebook Comments HS