اقتدار تو اختلاف ختم کرنے کے لیے تھا لیکن؟
کبھی کبھی انسان اتنا عروج پر ہوتا ہے کہ اس کو یہ تک خبر نہیں ہوتی کہ ہر عروج کو ایک زوال ہے۔ بالخصوص سیاست میں جہاں عروج کا آنا جانا آج کل گڈا گڈی کا کھیل بن گیا ہے وہاں کم از کم انسان کو اپنے رویے کو لے کر محتاط رہنا چاہیے۔ ایک وہ عروج جس میں انسان با اختیار ہوتا ہے جس کا تعلق انسان کی اپنی جدوجہد کے ثمر سے ہوتا ہے اور ایک ایسا عروج جو مصنوعی نوعیت کا ہوتا ہے۔ جس میں انسان کی جد و جہد کا ہونا لازمی نہیں ہوتا بس وہ منصوبے کا حصہ ہوتا ہے جس کو سیاسی اتفاق یا وقت کی ضرورت کہا جائے تو برا نہیں ہو گا۔
تو سیاست میں اس دوسرے قسم کے عروج پر اعتزاز انسان کو نہ صرف جلد تنزلی کی طرف لے جاتا ہے بلکہ اس میں واپسی بھیانک ہوتی ہے۔ میرے کچھ دوست ابھی اس سانحہ سے گزر رہے ہیں میں اپنے اس حوالے کو گزشتہ ایک ماہ سے جاری بلوچستان میں سیاسی رساکشی سے جوڑنا نہیں چاہتا مگر موضوع خود با خود اس جانب جانا چاہتا ہے۔ ظاہر سی بات میں عوامی بندہ عوامی رائے کو مدنظر رکھ کر ہمیشہ اپنے اردگرد ماحول کو قلم کی ضبط میں لانے کی کوشش کرتا ہوں اب یہ اتفاق ہے یا ضرورت مگر موضوع آج سیاسی رویوں پر منحصر ہے۔
میں گزشتہ تین سال سے جب بھی ضرورت پڑی تعارف میں یہی کہتا آیا ہوں کہ میں سابق سی ایم بلوچستان محترم جناب جام کمال خان عالیانی کا پڑوسی ہوں (سابق ) اضافہ وزیراعلی شپ سے استعفیٰ کے بعد ممکن ہوا۔ میں جام صاحب کی طبیعت مزاج سے اور اکرم حبیب جیسے تجزیہ نگار سے زیادہ بلوچستان کے حالات سے واقف ہوں کیونکہ میں یہاں کا ازلی رہائشی ہوں اور شعبہ ذرائع ابلاغ سے منسلک بھی۔ وزیراعلی شپ کے دوران جام صاحب کی پالیسی کیسی بھی تھی اس کا ازالہ ان کو اپنی ہی پارٹی کی جانب سے بھگتنا پڑا اب پاور آف سیٹ نہ ہونے کے تحت ڈسکس کرنا زیادہ مزہ دار نہیں رہے گا۔
جبکہ یہ سارا معاملہ میرے اگلے موضوع کا حصہ ہو گا۔ مگر سابق وزیراعلی بلوچستان کے ضلع میں موجود تین سال تک ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے والے لوگ جو ٹیم کی شکل میں تھے ان کو ڈسکس کرنا لازمی ہے تاکہ جام صاحب کو بھی اس بلاگ کے تحت آگاہی ہو سکے۔ بالخصوص ضلعی سطح پر وزیراعلی ٹو ڈسٹرکٹ ٹیم درمیانی پاور ان کے رویے شاید ہی لسبیلہ کی عوام اب بھول پائیں بلکہ ان کی وجہ سے جام صاحب سے حقیقی محبت کرنے والے لوگ بھی مایوس ہو گئے ہیں اور کسی حد تک ان کے دل کی ترجمانی سے بھی اس بلاگ کو تشبیہ دے سکتے ہیں۔
وزیراعلی شپ بلوچستان ہمارے ڈسٹرکٹ لسبیلہ کے کھاتے میں چوتھی بار آنے کے باوجود ہمارے ڈسٹرکٹ کو نہ بدل سکی اس کے افسوس کے ساتھ ساتھ مجھے امید ہے قائد مخصوص گروہ شدید مصروفیات کے باعث مکمل صورتحال سے غافل رہے اب آئندہ الیکشن تک رہ جانے والے وقت میں اپنی ٹیم سے ان کی پبلک پروگریس کے متعلق ضرور رجوع کریں گے۔ لیکن حیرت اس بات کی ہے ٹیم کے پاس ایسا کچھ نہیں ہو گا بتانے کو جو ایک ورکر کے پاس اپنے لیڈر کو بتانے کے لیے ہوتا ہے عوامی رائے کے ساتھ ساتھ کیونکہ یہ دنیا کی واحد ٹیم تھی جس میں ہر دوسرا بندہ خود کو قائد تصور کرتا رہا ہے مگر بتانے سے کتراتا ہے اس کی کئی جگہ پر مثالیں موجود ہیں۔ پبلک کے سامنے یہ اپنے رویے سے ثابت کرتے ہیں کہ قائد کی غیر موجودگی میں ہم ہی قائد ہیں اور بعض اوقات اپنے کسی کام کو قائد کے حکم سے منسوب کرنے کے سارے ہنر ان کے پاس تھے اور ہیں۔
ویسے کسی سیاسی فرنٹ لائن گرو کا اپنے قائد، پارٹی اور علاقے سے وفاداری کے لیے ضروری ہوتا ہے پارٹی کے پیغام کی عوام تک رسائی، مفاہمت کی سیاست، اجتماعی کام میرٹ کی بحالی، سفارشی کلچر کا خاتمہ، پارٹی ممبر شپ پارٹی کنوینشنز، سرکاری اداروں سے سیاسی اجارا داری کا خاتمہ، قائد کی جانب اختلاف رائے رکھنے والوں کو قائد کا عزم بتانا ان کے کام آنا ان کو اپنا بنانا دوسری پارٹیز یا گروپس کے ساتھ باہمی مشاورت کے ساتھ ترقی کے کاموں کو یا ہونے والے کاموں کو تکمیل تک پہنچانا، علاقے کے مسائل سے متواتر آگاہی، عوامی بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہنا۔
بشمول صحت تعلیم روزگار پانی بجلی کے مسائل کو ایمرجنسی بنیاد پر ان کا کا حل، صفائی ستھرائی کے لیے اقدامات وغیرہ یہ وہ سارے کام ہوتے ہیں جن کو حل کرنے کے لیے کسی قائد کے گروہ کا مقصد ہونا چاہیے۔ تاکہ کام ہونے یا نہ ہونے سے لے کر اگلے الیکشن تک صرف ان کی موجودگی عوام کو رسپونس دینا کام آتا ہے تاکہ عوام کے درمیان جو تعلق ہے وہ برقرار رہے اور یہی کچھ کسی سیاسی ورکر کی ذمہ داریوں میں سے اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔
اور اقتدار کسی بھی سیاسی گروہ یا پارٹی کے پاس بہترین ایڈوانٹج ہوتا ہے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے لیکن بدقسمتی سے اس کے لیے سیاسی شعور، اخلاقی اقدار، قبائلی اہمیت و افادیت اور علاقے کے متعلق معلومات کا ہونا اور سب سے پہلے ورکر کو پارٹی کے منشور کا پتا ہونا لازمی ہوتا ہے جس کا فقدان تھا اور رہے گا کیونکہ بنیادی کام اور سیاسی رویوں میں خرابی کے سبب اقتدار ہونے کے باوجود اختلافات میں مزید اضافہ ہوا بلکہ اپنے ہی گروپ سے اس میں زیادہ اختلافات نظر آئے جس کے واضح سائیڈ افیکٹس نظر آنے ابھی باقی ہے۔
ضلعی سطح پر ہمارے سابق وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان صاحب کی جانب سے منتخب شدہ اپنی ضلعی گروہ جن کو ہر ادارے کے آفیسر، کام کلام آرڈر پر اختیار تھا ان میں ابتدائی طور پر ہی یہ سارے اسالیب نہیں تھے۔ اور اس بات کو لے کر نا کوئی عام عوامی بندہ میری بات سے اختلاف رکھنے کی جرآت کرے گا اور نہ متعلقہ گروپ کے نچلے سطح کے لوگ کیوں کہ میں اختلاف رائے کسی سے پوچھ کے نہیں رکھتا دیکھنے پر یقین رکھتا ہوں۔ تو جب کسی نان ایکٹیو سیاسی ورکر کو علم ہی نہیں تھا سیاست میں پاور کا آنا اور جانا اتفاق ہے اور عروج و زوال اس کھیل کا حصہ ہے پھر تو ممکن ہی نہیں تھا ان کے اندر بدلاؤ آنا۔
تین سال کے عرصے میں انتقام، الزام، آپسی گروپ بندیاں، ذاتی مفادات، سرکاری اداروں کو سیاسی رکھیل سمجھنا، انتظامیہ سے لے کر سیول اداروں کے آفیسرز چھوٹے بڑے سرکاری ملازمین کو سیاسی پاور کے تحت ذہنی ٹارچر کرنا، بلیک گلاس گاڑی لڈو تاش وغیرہ کی محفلیں، قبائلی معاملات میں مداخلت، تعزیت و شادی بیاہ کی تقریبات میں دو مخالف گروپ کے بندوں کی تصاویر کے تحت پابند کرنا، سماجی گیدرنگ پر پابندی، مسائل کی تشہیر پر پابندی وغیرہ جیسی حکمت عملیوں کا رجحان رہا۔ آپ لوگ سمجھ رہے ہوں گے یہ تو ایک ڈکٹیٹرشپ ہتھوڑا گروپ یا سیریل ویلین گروہ کی بات ہو رہی ہے جی بالکل ایسا ہی تھا اور یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا۔
میری ذاتی رائے یہ ہے سیاست میں مسلسل ایک ٹیم کا اثر و رسوخ نہیں ہوتا اسی لیے ذاتی اخلاقی قبائلی یا پھر سماجی اقدار کا مان رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ ذاتی چپقلش انا کا رعب اقتدار کے ہونے تک ہوتا ہے اور اس کیفیت میں ورکر ہو یا رہنما اپنی حقیقی ذمہ داری بھول جاتا ہے اور ایک اچھا خاصہ موقع گنوا دیتا ہے جس کی وجہ سے چند ایک اچھے کارنامے بھی عوامی نفرت کی نظر ہو جاتے ہیں۔ اور تمام تر ذمہ داری رہنما کی ٹیم پر عائد ہوتی ہے اور اس کا اظہار الیکشن یا پھر اقتدار جانے کے بعد منظر عام پر آتا ہے۔
ان رویوں کی واضح مثال 2018 کے عام انتخابات میں لسبیلہ میں دیکھی گئی مگر عبرت اقتدار اور پاور میں ہونے کے وجہ سے حاصل نہیں کی گئی بلکہ آئندہ الیکشن میں شاید اس سے زیادہ برا وقت آ سکتا ہے کیونکہ وقت بدل رہا ہے تب تک زیادہ بدل چکا ہو گا لیکن بدلے تو بس یہ چند لوگ نہیں جو مخلصی کی چادر اوڑھ کر ذاتی مفاد پر فوکس رکھتے ہوئے اپنے رہنما سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اور نتیجہ مقابلے کے وقت عوام دیتی ہے۔


