بچے کتنے ہونے چاہئیں؟


ہمارے ہاں سب سے پہلا سوال آپ سے آپ کی شادی کے متعلق ہوتا ہے آپ کی شادی ہو گئی اور دوسرا سوال آپ کے بچوں کے متعلق ہوتا ہے دیکھنے میں آیا ہے ہے کہ بچوں کے متعلق لوگوں کے مختلف خیالات اور رائے ہوتی ہے کہ بعض مرتبہ بندہ لوگوں کی رائے سن کر حیرت سے منہ کھول لیتا ہے کہ مکھی جانے کا اندیشہ کافی قوی ہوتا ہے اور ساتھ ہی بندہ سوچتا رہ جاتا ہے یہ کیا فرما رہے ہیں۔

اگر آپ بے اولاد ہیں تو لوگ آپ کی طرف حیرت سے دیکھیں گے اگر شادی کیے ہوئے آپ کو کوئی دو سے تین سال بیت گئے ہیں تو ان کی حیرت میں کئی سو گنا اضافہ ہو جائے گا اور ان کی آنکھیں ایکسرے بن جائیں گی جیسے آپ کے اندر کوئی نقص ہو جس کی شناخت ان کی آنکھوں کے ذریعے ہی ہونی ہو اور مشورہ دیں گے بھائی صاحب ڈاکٹر کو دکھائیں پھر آپ کی ناگواری دیکھ کر بات بدلتے ہوئے کہیں گے میں تو ویسے مشورہ دے رہا تھا کہ آج کے جدید دور میں کئی قسم کی بیماریاں آ گئی ہیں تو شاید کوئی ایسا آپ کے ساتھ بھی ہو۔ آپ کہیں کہ ڈاکٹر کو دکھایا ہے کوئی مسئلہ نہیں تو وہ کہتے ہوئے چلے چلیں گے بھائی پھر اللہ کی مرضی لیکن ان کی آنکھیں ابھی بھی کہہ رہی ہوں گی تم جھوٹ بول رہے ہو

اگر آپ کی بیٹیاں ہو تو پھر آپ کو اولاد نرینہ اللہ کی ایک خاص نعمت لگے ہے اس کا اندازہ صرف بیٹیوں والا ہی کر سکتا ہے۔ لوگ اس پر افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ اس کو بیٹا دے اگر کوئی بندہ دو بیٹیوں کے بعد اولاد کی خواہش نہ کرے تو لوگ کہتے ہیں ابھی تو جوانی ہے اور کوشش کرو اللہ بیٹا دے گا آپ کا سہارا بن جائے گا اور اگر کوئی شخص ان کی بات مان کر بچیوں کی لائن لگا دیں تو لوگ پھر کہتے ہیں بیٹے کی لالچ میں دیکھو کتنی بیٹیاں اکٹھی کر ڈالیں ہیں کتنا بے وقوف ہے اب بیٹیوں کی شادی کیسے کرے گا ان کا جہیز کیسے بنائے گا وغیرہ وغیرہ

اگر آپ کے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی تو لوگ کہیں گے ماشاءاللہ اللہ اللہ نے دونوں بچے دیے لیکن ایک اور کوشش کریں اللہ جوڑا بنا دے دو بیٹے تو ہونے چاہیں اگر ایک نکما اور ناہنجار نکلے تو دوسرا آپ کا ساتھ دے گے بندہ پوچھے دونوں بھی تو نکمے اور ناہنجار نکل سکتے ہیں اگر آپ جوان ہیں اور بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں لوگ کہیں گے ابھی تو جوان ہوں ایک بچہ اور کرلو بچے کے ساتھ کھیلتے کھودتے زندگی گزر جائے ورنہ اتنے سال کیسے گزارو گے

اگر آپ خوش قسمت ہیں اور آپ کے صرف بیٹے ہی بیٹے ہیں تو آپ کی بیوی کا دل چاہے گا کہ میری ایک بیٹی تو ہونی چاہیے جو میری سہیلی بنے اور میں اپنی گڑیا کے ساتھ کھیلوں میرے دکھ سکھ کا کوئی تو ساتھی ہو۔ کچھ لوگ جو کہ آٹے میں نمک کے برابر ہے بیٹی کے چکر میں کرکٹ ٹیم پیدا کر لیتے ہیں لیکن ان کو ایک سکون ہوتا ہے لڑکے ہیں اپنا کما کھا مریں گے ان کی شادی کے لئے جہیز بھی نہیں بنانا پڑے گا نہ ہی رشتے ڈھونڈنے پڑیں گے چاہے آخر میں یہ سارے بیٹے ہی باپ کی کمائی پر زندگی گزارتے رہیں۔ بچوں کے متعلق لوگوں کے مشورے ایسے ہی ہیں کہ آپ جو مرضی کر لیں لوگوں کے اعتراضات اور منہ بند نہیں کر سکتے۔ کہتے ہیں ناں جتنے منہ اتنی باتیں

Facebook Comments HS