خوف، سستی اور بھوک کی تثلیث

ہم نے بڑے بڑے۔ دیکھے ہیں مگر ان سا آج تک نہیں دیکھا ویسے تو ہمارا پیارا ملک نمونوں سے بھرا ہوا ہے اس لیے اس میں اچنبے کی بات نہیں کہ ایک اور سہی۔ وہ ہمارے محکمے کے سربراہ کے طور پر تعینات ہو کر تشریف لائے تھے گورا رنگ، بھاری بھرکم جسم گھنگھریالے بال، آنکھیں چھوٹی چھوٹی، ماتھا چوڑا، ناک مناسب لیے ہوئے ہم کو ہمیشہ وہ بیٹھے ہوئے ہی ملے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بھائی صاحب

Read more

کہانی پوچھتی ہے

سجاد جہانیہ ایک مشہور کالم نگار خاکہ نگار اور افسانہ نگار ہیں لیکن میرا تعارف سجاد جہانیہ سے مرزا یاسین کے ذریعے ہوا اگرچہ سجاد جہانیہ صاحب اور ہم دونوں ملتان کے رہنے والے ہیں اس لیے ہم ملتانی بھائی ہیں لیکن وسعت شہر کا رونا روئیں یا روزی روٹی کی مشقت کا کہ ان سے تعارف مرزا یاسین صاحب نے لاہور میں کرایا اور یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ وہ محکمہ اطلاعات میں کام

Read more

کوئی مقابلہ نہیں

چند دن پہلے موٹر وے پر سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ میں اور میرے دوست سوزوکی کلٹس پر سوار تھے اور موٹر وے کی مقرر کردہ رفتار پر سفر کر رہے تھے۔ ڈرائیونگ میرے دوست کر رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے ایک فارچونر آئی اور زناٹے سے ہمیں کراس کر گئی۔ میرے دوست جذباتی ہو گئے اور ایکسیلیٹر پر پورا پاؤں دبایا اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ میں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگے اس کی جرات ہمیں

Read more

معلومات، علم اور دانش

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم معلومات کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ہمیں ہر موضوع پر ہر لمحے معلومات کا خزانہ مہیا ہے۔ یہ تمام معلومات صرف اور صرف ایک کلک پر موجود ہیں۔ ہم میں سے اکثر اس معلومات کو کسی نہ کسی انداز میں استعمال کر رہے ہیں انفوٹینمنٹ آج کا مشہور ترین طریقہ کار ہے۔ لیکن کئی دن ایک سوال میرے ذہن میں آ رہا ہے اتنی معلومات کے دور میں لوگ زیادہ جذباتی تقسیم

Read more

سول سروس اور خودکشی

بلال پاشا کی جب خودکشی کی خبر آئی تو میں لائف سکلز کی تربیت لے رہا تھا جو کہ ہر پرموشن کی تربیت کا لازمی جز ہے جس میں آپ کو زندگی میں آنے والے چیلنج اور مسائل سے نبرد آزما ہونے کی تربیت دی جاتی ہے۔ سول سروس کا حصہ ہونے کی وجہ سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ سول سروس میں تربیت کی بہترین سہولیات دی جاتی ہیں اور جہاں تک سول سروس میں دوسری سہولیات کا

Read more

سید صاحب

سید صاحب المعروف ”پیر و مرشد“ بھیس بدلنے کے ماہر تھے۔ کبھی کلین شیو، کبھی مونچھیں، کبھی داڑھی مونچھیں رکھ لیتے تھے۔ کبھی موٹے ہو جاتے اور کبھی بڑے سمارٹ ہو جاتے۔ ان کو دیکھ کر ہمیں تو گرگٹ کی یاد آ جاتی تھی۔ نجانے کب وہ اپنا رنگ بدل لیں کوئی نہیں جانتا بلکہ وہ خود بھی نہیں جانتے تھے۔

ان کے گرد ہمیشہ لوگوں کا ہجوم رہتا جو ان کے مرید کہلاتے تھے۔ سید صاحب کا ایک ہی اصول تھا، ’اس کو زیادہ دعائیں دی جائیں گی جو زیادہ کھانا کھلائے گا‘ ۔ ہم نے جب بھی سید صاحب کو دیکھا ان کو لذیذ کھانوں کے درمیان پایا اور ان کے منہ کو جگالی کی حالت میں پایا۔ ان کی پسندیدہ غذا حلوہ تھی۔ وہ ہر کھانے کے بعد ضرور تناول کرتے تھے بلکہ ان کا دل کرتا کہ حلوہ کی ایک پلیٹ ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں۔ جب دل کرے منہ میٹھا کرتے رہیں۔

Read more

ڈاکٹر ناصر عباس نیئر: نئے نقاد کے نام خطوط

ہمارے ہاں پیروی، اندھی تقلید کے سائے ہمیشہ منڈلاتے رہے ہیں ایسے میں کوئی کتاب جو آپ کو سوچنے اور سوال کرنے کی تحریک دے تو عجیب سا محسوس ہوتا ہے اور اس پر مزید حیرت کی بات یہ ہو کہ کتاب اردو زبان میں ہو اور اردو کے ادیبوں، قاریوں اور نقادوں کے لئے مشعل راہ ہو بظاہر کتاب کا مکالمہ نقاد کے ساتھ ہے اس لیے اس کا نام نئے نقاد کے نام خطوط رکھا گیا ہے لیکن

Read more

سرکاری خط کی روداد

جیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ میرا جنم ہر سرکاری ادارے کے اندر ہوتا ہے۔ اکثر میرے جنم سے پہلے ہی مجھے مار دیا جاتا ہے۔ کبھی مجھ میں لکھے الفاظ پسند نہیں آتے کبھی میرے متن پر اعتراض ہوتا ہے، اس لیے اس دنیا میں آنے سے پہلے اور سرکاری خط کہلانے سے پہلے ہی میں صرف کاغذ پر چند الفاظ بن کر ردی کی ٹوکری کا حصہ بنتا ہوں اور میری آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔ اگر

Read more

شادی کی باتیں

ویسے تو ساری زندگی انسان شادی کی باتیں کرتا ہے۔ شادی سے پہلے شادی ہونے کی باتیں، خواب اور منصوبے اور شادی کے بعد اس کے نہ ختم ہونے والے مسائل کے بارے میں۔ کہتے ہیں شادی ایک ایسی تقریب ہے جو کسی بھی معاشرے کی عکاس ہوتی ہے۔ اس میں کون سی روایات ہیں، کون سی رسوم ہیں اور وہ زندگی کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ جب ہم نے شادی کی تقریب پر غور کیا تو پایا اس وقت

Read more

آئینہ خانہ میں

جب بھی کوئی خاکوں کی کتاب آتی ہے تو دل اس کی طرف لپک جاتا ہے اور میرے اندر سے آواز آتی ہے کہ کلیم کتاب خریدو اور پڑھو۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اکثر میں کتاب خرید لاتا ہوں اور بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا جب ہم نے سنا اصغر ندیم سید کی کتاب ”پھرتا ہے فلک برسوں” چھپ کر مارکیٹ میں آ چکی ہے۔ میرے نزدیک خاکہ وہ منظر ہے جو

Read more

ہم نے بھی مرغیاں پالیں

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارا تبادلہ خوشاب میں ہوا تھا۔ خوشاب میں ہم کو جو سرکاری گھر ملا وہ کافی وسیع و عریض تھا اور ہم گھر میں چار افراد۔ جب شام کو ملازم چھٹی کر کے چلے جاتے تو اتنا بڑا گھر کاٹنے کو دوڑتا اور ایک عجیب قسم کی تنہائی، اداسی اور مایوسی کا احساس جاگنے لگتا۔ ویسے تو ہمیں بھی خالی گھر کاٹنے کو دوڑتا تھا لیکن اس کا زیادہ احساس ہماری زوجہ صاحبہ

Read more

کھڑپینچ (خاکہ)

گورا رنگ، خمیدہ کمر، لمبا قد، چہرے پر جھریاں، کمزور جسم، ماتھے پر بل، آنکھوں میں لالی اور بالوں سے خالی سر لیے اپنے ”باجوہ صاحب“ ہمارے پہلے ہیڈ کلرک واقع ہوئے تھے۔ کہتے ہیں زندگی میں ہر پہلی شے یاد رہتی ہے جیسے پہلا عشق، پہلی مار، پہلی لڑائی، پہلی لڑکی، پہلی نوکری، پہلی تنخواہ وغیرہ وغیرہ لیکن ہمیں ان میں سے کوئی یاد نہیں سوائے باجوہ صاحب کے۔ باجوہ صاحب کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ یعنی باجوہ فراہم

Read more

محکمہ تعلیم اور اساتذہ کے مسائل

علم سے محبت کرنا اور اس کی بہتری کے لیے کام کرنا ہمارے ملک میں گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کا تھوڑا بہت ادراک ہم کو پہلے بھی تھا لیکن اس پر تصدیق کی مہر محکمۂ تعلیم میں تعیناتی کے دوران لگی۔ جب لوگ ہم کو آ کر کہتے محکمۂ تعلیم آرمی کے بعد دوسرا بڑا ادارہ ہے اور یہ بحر الکاہل ہے جب کہ ہم کو ’بحر الجاہل‘ سنائی دیتا۔ ہم ایک جذباتی اور حساس بندے ہیں

Read more

ادریس قریشی

ادریس قریشی اپنی ذات میں انجمن ہیں لیکن کہتے ہیں بعض ادیبوں کا ایک شعر ان کے باقی تمام کام کے سامنے دیوار بن کر بلکہ آہنی دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ ہمارا دل تمہاری ہی محبت کے لیے ہے مگر یہ پیش کش محدود مدت کے لیے ہے ہم سے ان کا تعارف خوشاب کے ایک مشاعرے میں ہوا جہاں وہ باقی شعراء کے ساتھ پھیکی شاعری پڑھنے

Read more

انتہائی پر اثر سرکاری ملازم کی سات عادات

یہ مضمون سالوں کی عرق ریزی اور کئی ہزار سرکاری ملازمین کی زندگی کا نچوڑ ہے۔ یہ ہر سرکاری ملازم کو ایک نیا انداز نظر عطا کرے گا جس کے تحت وہ اپنی زندگی اور ملازمت کو پر اثر اور کامیاب بنا سکتے ہیں۔ ہمارے پاس سرکاری ملازم کئی قسم کے آتے ہیں۔ اکثر کی مشن سٹیٹمنت واضح نہیں ہوتی۔ زیادہ تر لوگ اس الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ انھوں نے لوگوں سے مٹھائی لینی ہے یا نہیں۔ مضمون

Read more

تعلیم کا مقصد کیا ہے؟

ہمارے ہاں اکثر لوگ تعلیم کو بنیادی طور پر دو مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پہلا تعلیم بنیادی ذریعہ ہے کہ اس کو حاصل کر کے انسان کچھ مہارت سیکھتا ہے جس کو استعمال کر کے کوئی پیشہ اپنایا جا سکتا ہے۔ دوسرا مقصد تعلیم کا یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے روایات، نظریات کو نئی نسل میں منتقل کیا جاسکتا ہے اور کیا جا تا ہے۔ پاکستان میں بنیادی طور پر تعلیم حاصل کرنے کے لئے

Read more

احمد حسن – خاکہ

زندگی میں کچھ لوگ خوشبو کی مانند ہوتے ہیں جو نظر نہیں آتی لیکن فضاء میں اپنی موجودگی اور احساس دلاتی رہتی ہے۔ احمد حسن صاحب المعروف حسن بھائی المعروف حسن جم والے کی شخصیت بھی ایسی تھی۔ ہمارا ان سے پہلا واسطہ ساتویں یا آٹھویں جماعت میں ہوا جب گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم نے کراٹے کی کلاسز لینے کا فیصلہ کیا۔ ہم اس وقت بالکل کمزور اور مہین تھے اور کانگڑی پہلوان کہلاتے تھے۔ اسکول میں سارے لوگ

Read more

رات، بخار، خیالات

جمشید جب سونے کے لیے بستر پر لیٹا تو اس کا جسم دکھ رہا تھا۔ آج سارا دن اس نے سفر کیا تھا اور اپنے دفتر کی طرف سے دوسرے شہر گیا ہوا تھا۔ واپسی پر اس نے کھانا کھا کر بتیاں بند کرا دی تھیں اور وقت سے پہلے ہی سونے کی کوشش کرنے لگا تھا۔ اس کے بیٹے نے کہا بھی تھا ابھی تو صرف آٹھ بجے ہیں لیکن جمشید نے جھاڑ کر سونے پر مجبور کیا اور

Read more

گنجے کے دکھ

سوال: گنجے کے دکھ، درد، کرب اور مسائل پر نوٹ لکھیں اور مثالیں دے کر واضح کریں۔ جواب: استاد محترم ویسے تو میں گنجے کے دکھ کو نہیں سمجھ سکتا مگر اس کی ایک جھلک میں نے بھی دیکھی ہے۔ جب ساتویں جماعت میں والد محترم نے ہماری کثیر القوام جوؤں کی بستیاں دیکھ کر ہمارا گنج کروا دیا تھا۔ یاد رہے ہمارا گنج عارضی تھا لیکن اس نے ہمیں مستقل گنجے کے مسائل ضرور دکھا دیے تھے۔ جب ہمارا

Read more

میں کون ہوں؟ ذاتی خاکہ

تو کون ہے؟ تم کون ہو؟ آپ کون ہیں؟ یہ سب سوال ایک ہیں لیکن پوچھنے والے کا پتہ دیتے ہیں۔ یہ سوال اکثر میرے کان میں گونجتے رہتے ہیں اور ان کو سن کر میرے ذہن میں بھی سوال اٹھتا ہے میں کون ہوں؟ جب میں اس پر غور کرتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ لوگ مجھے کلیم کے نام سے پکارتے ہیں اور میں اس نام کا اتنا عادی ہو گیا ہوں کہ اگر سویا بھی ہوں

Read more

جمشید ایک نالائق استاد کیسے بنا؟

جمشید نے نئی نئی یونیورسٹی میں نوکری شروع کی تھی اس کے عزائم بہت بلند تھے وہ باہر سے پی ایچ ڈی کر کے آیا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے علم کے ذریعے اپنے طالب علموں میں تنقیدی سوچ، سوال کرنے کی جرات اور سوچنا کیسے ہے سکھائے۔ اس نے اپنے کورس کے ذریعے یہ باتیں سکھانے کا کام شروع کیا تو اس کو اندازہ ہوا یہ کام اتنا آسان نہیں کیونکہ ہر دوسرا طالب علم

Read more

سرکاری نوکری کا زبانی امتحان

چیئرمین: اپنا تعارف کروائیں۔ برکت علی: جی میرا نام برکت علی ہے میرے والد کا نام حرکت علی ہے اور جن کی حرکت کی وجہ سے میں 10 جنوری 1985 کو فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے گاؤں ڈنگہ میں پیدا ہوا۔ میرے والد صاحب کے پاس بہت سارے ڈنگر تھے۔ اس لیے میں نے ڈنگر ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا اور ڈنگر ڈاکٹری کرنے کے بعد آج کل میں پرائمری اسکول میں پڑھا رہا ہوں۔ چیئرمین: ڈنگر ڈاکٹری اور

Read more

ہم چار سو سال سے رکے ہوئے ہیں

کچھ دن پہلے اپنے امیر دوست جو کہ لاہور میں پلاٹوں کی خریدو فروخت کا کام کرتے ہیں، کے ساتھ سرکاری دفتر جانے کا اتفاق ہوا جہاں پر پلاٹوں کی رجسٹری کی جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ لاہور کا ہر امیر آدمی پلاٹوں کی خریدوفروخت کا کام کرتا ہے۔ اس لیے پلاٹوں کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں اور غریب اور مڈل کلاس کے لوگ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے بھی لاہور میں پانچ مرلے کا

Read more

میں کامل انسان نہیں ہوں

میں کامل انسان نہیں ہوں اور مجھے اس بات کا کوئی غم نہیں ویسے بھی کہتے ہیں ”انسان خطا کا پتلا ہے“ اور اگر یہ سچ ہے اور میں خود کو انسان مان لوں تو خطا مجھ کو ودیعت کی گئی ہے۔ اس لیے میں کامل نہیں ہو سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کامل کی تعریف کیا ہو گی؟ اس میں اتنا کہا جا سکتا ہے ”جتنے منہ اتنی باتیں“ ۔ یعنی ہر انسان کی کامل ہونے کی مختلف

Read more

معصوم گناہگار

سلطان آج ایک کامیاب ترین انجینئرنگ فرم کا مالک تھا اور ایک خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کر رہا تھا۔ آج بھی جب بھی وہ وہ اپنے ماضی میں جھانکتا تھا تو ایک کسک اس کے دل میں اٹھتی تھی۔ سلطان بچپن سے ہی ایک محنتی طالب علم تھا اور اپنی اس خوبی کی بنیاد پر اپنے والد عبد الاحد صاحب کا چہیتا بیٹا تھا۔ غربت کے باوجود عبد الاحد اس کی تمام تعلیمی ضرورتیں پوری کرتا عبد الاحد کی تمام

Read more

خاکہ زنی

ڈاکہ زنی، نقب زنی، شمشیر زنی کے بعد حاضر ہے خاکہ زنی۔ ان تمام مرکب الفاظ میں زنی کا لفظ مشترک ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ تمام کے معنی بھی منفی ہیں۔ جب سے ہم نے خاکہ زنی پڑھی ہے نجانے کیوں یہ ہمیں نقب زنی کی چھوٹی بہن لگی ہے۔ جیسے نقب زنی میں انسان کسی کے گھر میں نقب لگاتا ہے اور اس کی دو چار قیمتی اشیاء اٹھا کر رفو چکر ہو جاتا ہے۔ اسی

Read more

دو قسم کے لوگ

دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو نظام کو مان لیتے ہیں اور اس کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو نظام سے انحراف کرتے ہیں اور اس کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو آپ کئی نام سے جانتے ہیں، باغی، غدار کافر وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہم غور کریں تو دنیا کے ہر کسی شخص میں کچھ باغیانہ خیالات ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر ان کو اپنے اندر رکھتے ہیں اور لوگوں

Read more

اب دیر ہو چکی ہے- افسانہ

جاوید اپنے والدین کا بڑا بیٹا تھا۔ غریب والدین اور دس بچوں کے ساتھ نے زندگی کو بڑا مشکل بنا دیا تھا۔ والدین نے بچپن سے ہی جاوید پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ جاوید نے بچپن کا کوئی لطف حاصل نہ کیا۔ اور سارا دن موٹر ورکشاپ میں گاڑیوں کے نٹ بونٹ کھولتے استادوں کی جھاڑ کھاتے اور ان کے ذاتی کام کرتے گزر گیا۔ استاد جی! جاوید کو ہر غلطی پر جھاڑ پلاتے اور گالیاں دیتے۔ لیکن جاوید نے کبھی بھی اس بات کا ذکر اپنے والدین سے نہ کیا۔

Read more

میاں جی گم صم

گول مٹول، گورا رنگ، بھرا بھرا جسم، موٹاپے کی طرف مائل بالکل گول چہرہ جیسے کسی نے پرکار سے بنایا ہو، قد مناسب اور چال میں ایک ڈھیلا پن جیسے کسی نے زبردستی چلنے پر مجبور کیا ہو، چہرے پر ہمیشہ نہ ختم ہونے والی ناگواری لیے میاں جی گم صم رہتے تھے اور سگریٹ کے کش پہ کش لگائے جاتے تھے۔ میاں جی سے پہلی ملاقات جام صاحب کے طفیل ہوئی تھی۔ وہ جام صاحب کے سگے چچا تھے

Read more

عشق، دل اور عقل

مشرقی روایات کے مطابق دل و عشق کو ہمیشہ عقل پر فوقیت دی گئی ہے۔ دل و عشق کے معنی یہاں اپنی ذات کو دوسروں کی خاطر قربان کرنا یا اس میں حصہ دار بنانا ہوتا ہے اور اس عشق کی اوج معلیٰ ”فنا“ ہے ذات کو مٹا دینا۔ یعنی دل والا ہے وہ ہے جو اپنی خوشی میں دوسروں کو شریک کرتا ہے اپنے منہ کا نوالہ دوسروں کو دے دیتا ہے عشق اور دل سے مراد اپنی ذات کی قربانی ہے۔ اقبال کا ایک شعر ملاحظہ ہو:۔

عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ زاہد نہ ملا نہ حکیم

Read more

سائنس کی دنیا اور اسے سمجھنے کے دعویدار

ہم میں سے اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ سائنس کا کام صرف ایجادات کرنا ہے اور جس کو ہر شخص استعمال کر سکتا ہے۔ یہ بات کافی حد تک ٹھیک ہے لیکن پوری بات نہیں۔ سائنس کی اپنی دنیا ہے جس کو سمجھنا بہت ضروری ہے بغیر اس کو سمجھے کوئی بھی سائنسی فکر اور سوچ نہیں اپنا سکتا ہے۔ سائنس کا باطن فلسفہ سے نکلا ہے اور اس کی بنیاد قارون وسطی میں مذہب کے مقابل رکھی گئی ہے۔

Read more

خوابوں کا شہزادہ – افسانہ

حافظ صاحب ہسپتال میں وارڈ کے باہر بڑی بے چینی سے چکر لگا رہے تھے۔ آج ان کے ہاں تیسرے بچے کی پیدائش تھی۔ بیوی سعدیہ زچگی کے لئے اندر تھی۔ آج ان کو امید تھی کہ بیٹے کی پیدائش ان کے گھر روشنی اور مسرت لے کر آئے گی۔ پہلی دو بیٹیوں کی پیدائش نے ان کو مایوس کر دیا تھا۔ ان کے ہونٹ مسلسل دعا کے لیے ہل رہے تھے کہ اللہ ان کی خواہش پوری کر دے۔

Read more

چند ٹکے

ڈاکٹر نے رپورٹ پڑھیں اور پروین کو اپنے آفس آنے کو کہا۔ ڈاکٹر صاحب۔ آپ نے مجھے کیوں بلایا خیر تو ہے۔ پروین نے عجلت میں پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے بیٹھنے کو کہا۔ پروین مزید پریشان ہو گئی ڈاکٹر صاحب کچھ دیر بعد گویا ہوئے۔ پروین بہن بات یہ ہے کہ محمود کی ٹانگ میں تین گولیاں لگی تھیں۔ جو ہم نے نکال دیں لیکن رپورٹ کچھ Negative ہے۔ ساری ٹانگ میں انفیکشن پھیل گئی اگر ہم محمود کی

Read more

تنقید بھی پر اثر ہو سکتی ہے!

آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ اس لیے ہر خبر اسی پر ہی ملتی ہے ہمیں بھی اس کتاب ”یہ قصہ کیا ہے معنی کا“ یہیں معلوم ہوا۔ ویسے بھی اس کے مصنف پاکستان کے بہترین تنقید نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ لیکن ناصر عباس نیئر کی شہرت کے باوجود تنقید کی کتاب پڑھنا ہمارے لیے ہمیشہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس بار ہماری سوچ بدل گئی ہے کتاب پر بہترین تبصرے پڑھ کے ہم نے

Read more

ذہن کیسے بنتا ہے؟

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا ذہن خالی ہوتا ہے۔ اس کا کوئی نام نہیں ہوتا، نہ اس کی کوئی زبان ہوتی ہے، نہ اس کے کوئی عقائد اور اچھے برے کی تمیز ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اس کو والدین پھر معاشرہ یعنی لوگ سکھاتے ہیں۔ بچہ اپنے بڑوں کو جو کچھ کرتے دیکھتا ہے وہ سیکھ جاتا ہے جو اس کو اچھا برا بتایا جاتا ہے وہ سمجھ لیتا ہے۔ انسان کے پاس پانچ حواس ہوتے

Read more

بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے

تبدیلی ایک ایسی شے ہے جو نعروں سے نہیں ہوتی بلکہ خود بخود ہو رہی ہوتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے تبدیلی ہی ایک ایسا امر ہے جو مستقل ہے باقی سب کچھ عارضی ہے۔ چلیں ہم کچھ باتوں پر غور کر کے اس کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا بچے نپل پی کر چپ رہتے تھے لیکن آج کل بچوں نے نپل پینا چھوڑ دیا ہے بلکہ موبائل پر لوری سن کر چپ ہوتے ہیں۔ کچھ

Read more

شخصی آزادی یا گروہی مفاد

انسان ایک سماجی حیوان ہے اور شروع سے ہی گروہ میں رہتا آیا ہے۔ گروہ میں رہنے کی وجہ سے ہمیشہ اس کے ذہن میں گروہ کی اہمیت مسلم رہی ہے۔ زمانہ قدیم کی تمام فکری و دینی تحریکیں اور نظام گروہ کو فرد پر اہمیت دیتے آئے ہیں۔ فرد پر لازم ہے وہ گروہ کی بات مانے اور گروہ کے مروجہ اصولوں پر عمل کرے اور جہاں گروہ کو کوئی خطرہ ہو وہاں اپنی قربانی دینے سے بھی دریغ

Read more

خوش رہنے کا فارمولہ

بہت کم ایسی کتابیں ہوتی ہیں جو انسان کو اپنے سحر میں جکڑ لیں اور کتاب ختم کرنے کے بعد بھی کتاب میں پڑھے گئے آئیڈیاز آپ کے ذہن میں گردش کرتے رہیں۔ میرے ساتھ ایسا ہی ہوا جب میں نے کتاب خوشی کا مفروضہ Happiness Hypothesis پڑھی۔ یہ کتاب جانتھن ہائیڈ نے لکھی ہے جو کہ ایک مثبت نفسیات دان ہیں اور نیو یارک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ کتاب دس باب پر مشتمل ہے جس میں انسانی زندگی کے

Read more

کیا ہم دین سے دور ہیں

جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے اس وقت سے یہ بات سنتے آئے ہیں کہ آج ہماری ابتری کی وجہ دین سے دوری ہے۔ ہم نے سوچا کیوں نہ اس بات پر غور کیا جائے کہ ہم واقعی دین سے دور ہیں یا نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ دین ہماری نس نس میں ہے۔ سب سے پہلے آپ ہمیں اس بات کا جواب دیں اگر آپ مسلمان مرد ہیں تو آپ نے ختنے تو ضرور کروائے ہوں گے ۔

Read more

جنت بیگم

گورا رنگ، بھرا بھرا جسم، لمبا قد، گول چہرہ اور گھنگریالے بال لیے جنت بیگم ایک شان سے چلا کرتی تھیں۔ پورے خاندان میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ خاندان میں کوئی بندہ ایسا نہ تھا جو ان سے دبتا نہ ہو۔ یہاں تک کے ان کے اپنے خاوند بھی ان کے آگے سر جھکائے، ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ کہنے والے کہتے تھے کہ ان کا نام جنت تھا لیکن انہوں نے لوگوں کے لیے زندگی دوزخ

Read more

ایک دن سرکاری دفتر میں

کسی نے ہم سے کہا تھا کہ سرکاری دفتر میں اگر کام کروانا ہو تو صبح جلدی جلدی دفتر میں پہنچیں تو کام ہو جاتا ہے۔ ہم ٹھہرے بدھو فوراً ان کی باتوں میں آ گئے اور صبح صبح دفتر جا پہنچے۔ دفتر بالکل خالی تھا حالانکہ سرکاری اوقات کے مطابق دفتر کھلے آدھ پون گھنٹہ ہو چکا تھا۔ ایک خاکروب صفائی کرتا دکھائی دیا تو ہم تیزی سے اس کے پاس جا پہنچے اور پوچھا بھیا! دفتر میں بابو

Read more

بہترین عمر

عمر کے بارے میں کئی باتیں مشہور ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک بچپن بڑا سنہرا دور ہوتا ہے جب انسان کو کسی شے کی پرواہ نہیں ہوتی۔ جہاں جی چاہا سو گئے جہاں جی چاہا خوش ہو گئے اور جہاں جی چاہا رو پڑے اور پھر کچھ دیر بعد بھول گئے۔ اگر کسی بچے سے آپ پوچھیں کہ اس کی کیا خواہش ہے اور اس کی زندگی کیسی ہے پہلے تو اس سوال پر وہ آپ کو ایسے دیکھے گا

Read more

نوکری وہ بھی سرکاری کیوں؟

ادھر ادھر دیکھا جدھر بھی دیکھا نوکر نظر آیا اور وہ بھی سرکاری نوکر۔ ہم سب پڑھ لکھ کر مالک نہیں نوکر بننا چاہتے ہیں۔ چاہے ہم کسی دفتر میں چپڑاسی ہی کیوں نہ لگ جائیں شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کو اکثر دفتر میں نائب قاصد، ڈبل ایم اے، انجینئر یا اب تو ایم فل بھی نظر آتے ہیں کچھ دنوں تک پی ایچ ڈی یعنی ڈاکٹر صاحب ہوں گے اور افسر یہ کہیں گے ڈاکٹر صاحب چائے

Read more

کہانی کار

اکثر میں سوچتا ہوں کہانیاں کہاں جنم لیتی ہیں، کیسے جنم لیتی ہیں کیا کہانی لکھنے والے کوئی اعلیٰ و ارفع قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ویسے بھی ہم فارغ بندے ہیں اس لیے ایسے خیالات کا آنا لازم ہے۔ ان کی تلاش میں سوچتا جاتا ہوں اور جواب تلاش کرتا ہوں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر انسان میں ہی ایک کہانی کار موجود ہوتا ہے جو کہانیاں بنتا رہتا ہے بس فرق اتنا ہے کہ ان کو لکھ

Read more

میں اور میرا موبائل

وہ ایک چیز جس کے بغیر میں ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتا وہ ہے میرا موبائل، میرے بچے غائب ہو جائیں بیوی ادھر ادھر ہو جائے کوئی پرواہ نہیں لیکن کچھ دیر کے لیے موبائل آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو دل میں ہول سے اٹھنے لگتے ہیں۔ میں سارا دن موبائل پر ہی رہتا ہوں۔ میرے موبائل کے مطابق میں سب سے زیادہ وقت یو ٹیوب پر گزارتا ہوں پھر فیس بک کی باری آتی ہے اور وٹس

Read more

عورت ہی عورت کی دشمن

یہ سچ ہے کہ ہمارا معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عورت کو مرد کے پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد کا ساتھ ہمیشہ عورت دیتی آئی ہے اور اپنے قبیل سے دشمنی کرتی رہی ہے۔ ساس، نند اور ماں عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ جب بھی بیٹی پیدا ہوتی ہے تو ماں، ساس پہلے رونا شروع کر دیتی ہیں۔ جب کہ ہم سب کو معلوم ہے بیٹا یا

Read more

میں کیوں لکھتا ہوں

یہ سوال میرے ذہن میں دن میں کئی بار گردش کرتا ہے کہ ”میں کیوں لکھتا ہوں“ ۔ کچھ دن سے اس سوال نے بہت زیادہ تنگ کیا ہوا ہے تو میں نے سوچا کیوں نہ اس سوال کا جواب لکھ کر تلاش کیا جائے شاید مل جائے۔ میرا خیال میری تحریر میرا خود سے مکالمہ ہے۔ ہر شخص سب سے زیادہ خود سے مکالمہ کرتا ہے جو خود کلامی کہلاتی ہے اگر خود کلامی کی آواز دوسروں تک نہ

Read more

ترغیبی خطبہ – موٹیویشنل ٹاک

ہم لوگ خطبہ سننے کے عادی ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں اور اکثر ان خطبوں میں جذبات کو بھڑکانے، انا کو جگانے کے علاوہ ہوتا بھی کچھ نہیں اس لیے ان خطبوں سے سیکھنے کا عمل کب کا ختم ہو چکا ہے۔ اس میں قصور نہ صرف خطیب کا ہے بلکہ سننے والے کا ہے۔ لیکن دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ہم نے کچھ سمجھنا

Read more

نئے مصنف کے نام ایک خط

پیارے مصنف:۔ مجھے کل ہی معلوم ہوا ہے کہ تم ہماری برادری میں نئے نئے وارد ہوئے ہو۔ تمہارا لکھا ہو مضمون جمیل نے لا کر دکھایا، پڑھ کر خوشی ہوئی لیکن چند گزارشات میں کرنا چاہتا ہوں جیسے کہ تمہیں معلوم ہے ہمارے ملک میں مشورہ اور نصیحت بالکل مفت ملتی ہے۔ اس لیے ہر کوئی مشورہ اور نصیحت دیتا ہوا نظر آتا ہے اور شاید مشورہ مفت ہے اس لیے اس پر عمل بھی کوئی نہیں کرتا اور

Read more

طالب علم بمقابلہ طالب ڈگری

ویسے تو ہمارے ہاں زیادہ تر طالب ’طالب ڈگری‘ ہوتے ہیں لیکن کچھ چنیدہ لوگ ’طالب علم‘ بھی ہوتے ہیں اور ’علم‘ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے شاگردوں کو دو حصوں میں تقسیم کرنا پڑا۔ ان دو گروپس کی اپنی علیحدہ خصوصیات ہیں۔ آئیں دیکھتے ہیں دونوں میں کیا کیا خصوصیت پائی جاتی ہے۔ طالب علم ( 1 ) طالب علم کا مقصد علم حاصل کرنا

Read more

کس کا اعتبار کروں؟

صغیر کی پیدائش ایک غریب خاندان میں ہوئی۔ صغیر کا خاندان آزادی کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے لاہور آ بسا تھا۔ بھارت میں اس کے دادا کی کباڑ کی دکان تھی۔ صغیر کے دادا ایک شریف النفس انسان تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پاکستان میں آ کر کوئی جائیداد کا تقاضا نہ کیا بلکہ لاہور کے جنرل بس سٹینڈ پر ہاکر بننے کو ترجیح دی۔ بس سٹینڈ کا اپنا ماحول تھا۔ لڑائی جھگڑا روز کا معمول

Read more

ماہر بیویات

دنیا کے اکثر ممالک میں ماہر نفسیات، ماہر تعلقات، ماہر معاشیات وغیرہ ہوتے ہیں لیکن پاکستان ایک واحد ملک ہے جہاں ماہر بیویات موجود ہیں جو آپ کو ہر قسم کے طبی و غیر طبی، لڑائی و غیر لڑائی، محبت و غیر محبت، ساس بہو، خاوند کو بیوی قابو کرنے کے مشورے بالکل مفت دیتے نظر آتے ہیں۔ ویسے تو ایسے ماہر ہر گھر میں اور چوک میں نظر آتے ہیں لیکن بقول جام صاحب ماہر بیویات بننے کے لیے

Read more

امی جان (خاکہ)

ماں پر قلم اٹھانے کے لیے بڑا دل و گردہ چاہیے اس لیے اکثر نے اپنی ماں پر خاکے نہیں لکھے۔ حالانکہ ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کے ساتھ انسان سارا بچپن، لڑکپن، جوانی اور بعض مرتبہ بڑھاپا بھی گزارتا ہے اور انسان کے پاس لکھنے کو بہت سا مواد ہوتا ہے۔ لیکن شاید خاکے لکھنے کے لیے جو بے باکی اور برجستگی چاہیے وہ ماں جیسے رشتے کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے۔ اس لیے اگر خاکہ لکھا

Read more

قصور عورت ہونا ہے یا غریب؟

جج صاحب نے پروین سے پوچھا کیا تم اپنے شوہر عباس خان کے ساتھ جانا چاہوں گی یا میں تمہیں دارالامان بھیج دوں۔ پروین۔ جج صاحب میں اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتا چاہتی ہوں۔ پروین کے ذہن میں گزرتے ہوئے دن کے عکس واضح ہونے لگے۔ یہ دس دن پہلے کی بات ہے کہ جب عباس نے روٹی کے جلنے پر اور بیٹی کی پیدائش پر اسے طلاق دے دی تھی۔ طلاق

Read more

بیس برس پہلے کی عید

ہم کمرے میں چار لوگ ہیں اور چاروں ہی اپنے اپنے موبائل میں سر دیے اپنی اپنی دنیا میں گم ہیں۔ آج انتیس کا روزہ ہے اور قوی امید ہے کہ کل عید ہوگی لیکن ہم چاروں اس وقت شدید بوریت کا شکار ہیں اور ہمارے پاس عید منانے کا صرف ایک انتظام ہے کہ ہمارے پاس ایک مضبوط اور مستحکم انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔ یہی باتیں سوچتے سوچتے میں بیس برس یا اس سے زائد پہلے کے عرصے

Read more

قتل، غیرت اور کہانی

  بیان ازاں مسمی سید تجمل حسین ولد سید عباس حسین قوم سید سکنہ موضع کروڑی تحصیل جھنڈ ضلع اٹک بابت مقدمہ نمبر 2019 / 27 تھانہ جھنڈ زیر دفعہ 302 تعزیرات پاکستان حلف لیا کہ جو کچھ کہوں گا کہ میں سچ کہوں گا، میں ایک عاقل، بالغ اور شریف خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ مورخہ 4 نومبر 2019 کو بوقت ساڑھے چار بجے میں اپنے گھر میں اپنی چار بیٹیوں کے ساتھ موجود تھا۔ جب مقصود احمد، منظور

Read more

جدید روزے دار کے تقاضے

نیا دور نئے تقاضے لے کر آتا ہے۔ اس لیے ہم کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ جدید روزے دار کے نئے اور اچھوتے تقاضے ہیں کیونکہ وہ واٹس ایپ، فیس بک کے دور میں جی رہا ہے اس سے پہلے کوئی نسل اس دور میں نہیں تھی۔ اس لیے جدید روزے دار کو جدید ہی ہونا تھا۔ اس جدید دور میں سب سے پہلے روزے دار فطرت سے لڑتا ہے اور دن کو رات اور رات کو دن میں

Read more

عوام کی جیت

چوہدری یاور اپنے علاقے کا ایم پی اے تھا اور پچھلے 15 سال سے اس علاقے کی نمائندگی کر رہا تھا۔ سیاست اس کو وراثت میں ملی تھی۔ اس سے پہلے اس کے والد اور دادا بھی اس علاقے کی نمائندگی کر چکے تھے۔ وہ علاقے کا با اثر زمیندار بھی تھا اور اس کو اپنی برداری کی اک کثیر تعداد کی حمایت حاصل تھی۔ بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا۔ چوہدری یاور نے اس مرتبہ اپنے بیٹے چوہدری

Read more

افسران کی اقسام (حصہ دوم)

لیڈیز افسر : آج تک نسوانی حسن مردوں کے دلوں پر راج کرتا آیا ہے۔ اردو غزل محبوبہ کے حسن کی کہانیوں سے بھری ہوتی ہے۔ عورت کا راج گھر میں بھی مسلم ہے۔ ہوم منسٹر کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ گھر میں پر بھی نہیں مار سکتا ہے۔ سیاست ہو کہ سول سروس اب ہر جگہ لیڈیز چھائی ہوئی ہیں۔ ہم بھی عورتوں کے حقوق کے علمبردار ہیں اور عورت کے سماجی اور معاشی حقوق کے قائل ہیں۔

Read more

افسروں کی اقسام (حصہ اول)۔

افسر بھی انسان ہوتے ہیں لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ وہ کوئی خلائی مخلوق بن گئے ہیں۔ جیسے ہی افسری کی ٹوپی ان کے سر پر رکھی جاتی ہے تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس معاشرے کا حصہ نہیں رہے اور یہ سلیمانی ٹوپی اب لوگوں کے سامنے سے ان کو غائب کر دیتی ہے۔ سلیمانی ٹوپی پہننے کے بعد ان کی گردن میں ایک مضبوط لوہے کا سریا لگ جاتا ہے۔ عوام کو اپنے سامنے کیڑے

Read more

ایک اچھے لیڈر کی خوبیاں

جام صاحب نے اچھے لیڈر کی خوبیاں اور اوصاف اپنے تجربے، مطالعہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر جمع کیے ہیں اور بقول جام صاحب کے اگر کسی بھی شخص کے اندر یہ اوصاف ہیں تو وہ اچھا لیڈر بن سکتا ہے، چاہے اس کا تعلق سیاست، کاروبار یا کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے ہو۔ 1۔ پہلی خوبی جو آپ نے بیان کی ہے وہ ہے باتیں کرنا۔ اچھے لیڈر کو باتیں بنانا خوب آتی ہوں۔ چاہے آپ کی باتوں

Read more

لاہور لاہور ہے (دوسرا حصہ)

اس مضمون کا پہلا حصہ اس وقت لکھا تھا جب ہم نئے نئے اس شہر ہنگام میں وارد ہوئے تھے۔ اس شہر کی ہنگام آرائی کو دیکھ کر آنکھیں، دل اور دماغ ششدر رہ گئے لیکن ایک دوست جو کہ کافی عرصہ سے لاہور میں آباد تھے انہوں نے فرمایا کہ لاہور شہر شروع شروع میں نئے واردین کو قبول نہیں کرتا اور یہ سیلاب کی طرح اٹھا کر آپ کو باہر پھینکتا ہے۔ مگر انسان، اس شہر میں کچھ ٹھہر جائے اور اس کے اسلوب سے شناسائی ہو جائے تو پھر آپ کو یہ شہر ”the city of opportunity“ نظر آئے گا اور آپ یہاں بس جانے کو ترجیح دیں گے۔

Read more

ملتان آرٹس فورم (کچھ پرانی اور نئی یادیں)۔

یہ کوئی سن 2005 ء کی بات ہوگی کہ جب پہلی مرتبہ میں نے اور میرے دوست یاسر نے ادیب بننے کے بارے میں سوچا تھا۔ ہم دونوں لمبی لمبی چھوڑا کرتے تھے اور خواب دیکھا کرتے تھے۔ منٹو، ندیم، انتظار حسین، بانو قدسیہ، پطرس اور یوسفی پر ہماری طویل مباحث ہوتیں اور بحث کے دوران ہم سوچتے بلکہ محسوس کرتے کہ ہم بھی ادیب بن گئے ہیں۔ ان دنوں ہمیں معلوم ہوا کہ ملتان میں ایک ادبی فورم ہے

Read more

دلال، منشی، چوکیدار

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک علاقے میں سیٹھ نے آ کر اپنا کاروبار شروع کیا وہ کسانوں سے اجناس لیتا اور اس کو باہر منڈیوں میں فروخت کرتا تھا۔ اپنے کام کو چلانے کے لیے اس کے پاس منشی تھا جو وہ اپنے ساتھ لے کے آیا تھا۔ منشی اپنے کام کا ماہر تھا اور تمام کاروبار کے بارے میں جانتا تھا۔ اور اس کا حساب کتاب رکھتا تھا۔ سیٹھ کو شروع میں مقامی لوگوں کی طرف سے

Read more

علم، ہنر اور رویہ

ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ اگر آپ زندگی میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اپنے تین عدد حصوں پر کام کریں، علم حاصل کریں، ہنر میں مہارت حاصل کریں اور اپنا رویہ مثبت رکھیں، تب ہی جا کر آپ زندگی میں کامیاب ہو سکیں گے۔ لیکن جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ شاید ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ جب ہم نے یہ بات اپنے دوست جام صاحب سے کی تو وہ فرمانے

Read more

شوق اور پیشہ

آج کل ہر کوئی ایک بات کرتا نظر آتا ہے کہ اپنا شوق تلاش کرو اور پھر اس کو اپنا پیشہ بنا لو۔ یو ٹیوب پر اس موضوع پر آپ کو ہزاروں ویڈیو مل جائیں گی کہ اپنا شوق تلاش کرو۔ ہم کو اس بات پر اپنے دوست کا ایک قصہ یاد آ رہا ہے کہ ہمارے دوست عدیل صاحب بڑے معصوم واقع ہوئے تھے۔ ہم سے کوئی تین، چار سال عمر میں چھوٹے ہوں گے۔ میٹرک میں بد قسمتی

Read more

میں جب بیدار ہوا

میں جب بیدار ہوا تو خامشی ہر سو چھائی ہوئی تھی۔ میں نے سمجھا کہ میں رات کے تین بجے اٹھ گیا ہوں۔ جب موبائل دیکھا تو صبح کے آٹھ بج چکے تھے۔ میں نے سوچا آج کوئی چھٹی کا دن تو نہیں نہ ہی کوئی تہوار ہے پر اتنی خامشی ہو۔ جب میں نے اپنی زوجہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا آپ کو کیا ہو گیا ہے، آپ دفتر سے لیٹ ہو رہے ہیں، جلدی تیار ہو جائیں۔

Read more

جدید مشاعرہ

مشاعرہ اردو ادب کی خاص روایت ہے جس میں شاعری کو سنایا جاتا ہے اور داد وصول کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر شاعر آپ کو نیم گلوکار بھی ملتے ہیں اور اپنی روکھی پھیکی غزل پر ترنم کا تڑکا لگا کر سامعین کو سنا دیتے ہیں، جیسے کہ پڑے ہوئے سالن کو والدہ ماجدہ تڑکا لگا کر کھلا دیتی ہیں اور ہم تڑکے کے دھوکے میں باسی سالن مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔ جدید مشاعرے کے

Read more

چلتی جائے

مثل مشہور ہے کہ مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم آخر میں نکلتا ہے۔ لیکن ہمارے ”پیارے صاحب“ میں یہ دونوں صلاحیتیں ایک ساتھ پوری توانائی لیے موجود ہیں کہ دل دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ زبان ہے کہ قینچی کی طرح ”چلتی جائے چلتی جائے“ ۔ ان کے موضوع سخن کوئی خاص نہیں ہیں۔ راستے میں چلتے ہوئے اور کچھ کرنے کو جب نہ ہوتا تو دکانوں کے بورڈ بلند آواز میں پڑھنا شروع کر

Read more

ابو جی

والد گرامی کے متعلق لکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایک طرف رشتے کا تقدس، دوسری طرف مزاح کی ذمہ داری، لیکن کوئی بات نہیں ہم شروع سے خار دار راہ پر چلنے کی عادی ہیں۔ اس لیے قلم اٹھا کر دیکھتے ہیں۔ جب ہم نے سوچا ابو جان کا ایک خاکہ لکھنا چاہیے کیونکہ ان کی طبیعت اور ذات میں متعدد ایسے پہلو تھے کہ جن کو یاد کر کے دل خوش ہوتا ہے لیکن جب قلم کو

Read more

مری یاترا – چند تاثرات

پاکستان میں کوئی شخص رہتا ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ مری نہ جانا چاہے۔ خاص طور پر ہر نیا شادی شدہ جوڑا یہاں آ کر اپنا ’ہنی مون‘ منانا چاہتا ہے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مال روڈ پر گشت کرنا ہر مڈل کلاس شادی شدہ جوڑے کی نمبر ایک خواہش ہوتی ہے۔ اس چاہ کو پورا کرنے اکثر لوگ کچھ نہ کچھ ادھار پکڑ کر یہاں تشریف لے آتے ہیں۔ ہماری مری کے ساتھ پرانی یاد اللہ

Read more

بڑے بندوں کی نشانیاں

ہر معاشرہ میں بڑے بندے کی چند نشانیاں ہوتی ہیں جیسے کہ امریکہ میں بڑے بندے اپنی دولت اپنے بچوں کے نام نہیں کرتے اکثر خیرات کر دیتے ہیں۔ کتابیں لکھتے ہیں اور کتابیں پڑھتے ہیں۔ کسی رفاہی کام کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ قانون کی پاسداری کرتے دکھائی دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے پیارے پاکستان میں بڑے لوگ موجود ہیں بلکہ کہنا چاہیے بہت ہی بڑے لوگ ہیں۔ ان کی چند نشانیاں درج ذیل ہیں : ( 1 ) وہ

Read more

سچی محبت کے قصّے

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر کوئی سچی محبت کی تلاش میں سرگرداں ہے لیکن سچی محبت ہے کہ ملتی ہی نہیں۔ کیا سچی محبت واقعی ناپید ہو گئی ہے یا اس کی مقدار کم ہی پائی جاتی ہے۔ چلیں چند قصوں سے اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ہمارے دیرینہ دوست نے جب دو شادیوں اور ڈیڑھ درجن بچوں کے بعد سوال کیا یار سچی محبت کہاں ملتی ہے تو ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور آنکھوں

Read more

جام صاحب کا فلسفہ فیس بک

جام صاحب پر کبھی کبھی فلسفہ کا نزول ہوتا تھا اور وہ ایسی باتیں کرتے کہ واقعی فلاسفر محسوس ہوتے اور سننے والے ان کی دانائی پر عش عش کر اٹھتے۔ ایک دن ان پر فلسفہ کا نزول ہوا تھا قسمت کی یاوری تھی کہ ہم ان کے ساتھ تھے۔ بیٹھے بیٹھے فرمانے لگے کہ تم نے کبھی فیس بک پر غور کیا ہے؟ ہم نے جواب دیا استعمال کرتا ہوں، آج کے دور میں رابطہ کا موثر ذریعہ ہے۔ وہ

Read more

بھٹہ صاحب

جام صاحب کے دوست بھٹہ صاحب اپنی نوعیت کے واحد آدمی تھے۔ بھٹے رے بھٹے تیری کون سی کل سیدھی۔ بھٹہ صاحب جوانی میں ہی اپنے بالوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ جام صاحب کے بقول بھٹہ صاحب نے بال دھو دھو کے ہی کھوئے ہیں۔ وہ دن میں کم از کم دس مرتبہ شیمپو کیا کرتے تھے۔ اس لیے بال ان کے سر سے اتر کر ہاتھ میں آ گئے اور آج تک واپس سر پر نہیں لگ سکے۔

Read more

پاپولر ادب

کچھ دن پہلے بوریت کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کا ایک ناول اٹھا کر پڑھا تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں جب بچپن میں ’عمرو عیار‘ سے لے کر ’عمران سیریز‘ اور بعد میں والدہ کے رومانی ناول پڑھا کرتے تھے۔ دل نے کہا بیٹا اس موضوع پر کچھ لکھو۔ اس مضمون کا مقصد ہلکا پھلکا طنز و مزاح ہے نا کہ کسی بھی صنف کو برا کہنا ہے۔ چلیں دیکھتے ہیں اس قسم میں پہلی طرح کی

Read more

ڈارون کا نظریہ کیسے وجود میں آیا؟

انسان اشرف المخلوقات ہے اس میں کسی کو بھی شک نہیں۔ تمام انسان اس پر کامل یقین رکھتے ہیں لیکن تفریق اس بات پر ہے کہ کچھ کہتے ہیں کہ انسان اس مقام پر ہی پیدا کیا گیا ہے جب کہ ڈارون صاحب کا بیان ہے کہ نہیں، انسان عقل اور شعور کی اس منزل پر ارتقاء کے ذریعے پہنچا ہے۔ اس کے مطابق کبھی انسان مچھلی تھا پھر سانپ بنا، پھر بندر بنا اور بندر سے انسان بنا۔ ارتقاء

Read more

جوتا

انسان ایک ایسا حیوان ناطق ہے جو ایک شے کے کئی استعمالات سیکھ جاتا ہے اور دوسروں کو بھی سکھاتا ہے۔ جوتا بنیادی طور پر پاؤں میں پہننے کے کام آتا ہے تاکہ پتھریلی زمین، گرم اور سرد سے پیر کو بچا سکے لیکن ہم نے جوتے کے کئی استعمال نکال لیے ہیں۔ جوتے کا پہلا ثانوی استعمال ہم یہ کرتے ہیں کہ اس میں دال بانٹی جاتی ہے (معذرت) باتوں میں بات آ گئی کہ ہم اس کو ہتھیار

Read more

چھوڑنا بہت مشکل ہے

جی ہاں چھوڑنا بہت مشکل ہے یہاں چھوڑنے سے مراد لمبی لمبی چھوڑنا نہیں ہے کیونکہ لمبی لمبی چھوڑنا بہت آسان ہے اس لیے لوگ لمبی چھوڑتے ہیں اور ہم کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ہم پکڑ سکیں لیکن اکثر ہم پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں لیکن ہم یہاں کچھ اور چھوڑنے کی بات کر رہے ہیں مثلاً جب ماں بیٹے کو کہے کہ بیٹا جاؤ دروازہ کھولو تو بچے کے لیے بستر چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اس

Read more

ٹیوشن والا بھائی

اسکول کی موجودگی کے باوجود ٹیوشن کا رواج ہمارے معاشرے میں نمایاں ہے بچے،پہلے دن کا حصہ اسکول میں گزارتے ہیں اور گھر آنے کے بعد ٹیوٹر گھر آکر پڑھاتا ہے۔ ٹیوشن کے بڑھتے ہوئے رجحان سے کئی بے روزگار نوجوانوں کا سلسلہ آمدن چلا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں جو کوئی کام نہیں کر سکتا وہ ٹیوشن ضرور پڑھا سکتا ہے۔ ٹیوشن پڑھانے کے لیے تعلیم کی کوئی خاص ضرورت نہیں کیونکہ کوئی بھی آپ کی تعلیمی اسناد نہیں دیکھتا

Read more

کوچہ الم غلم

ہم کو ادراک ہے کہ آپ بھی کسی کوچہ الم غلم کے باسی سے شناسائی رکھتے ہوں گے۔ بقول جام صاحب، کوچہ ”الم غلم“ کا کوئی خاص جغرافیائی حدود اربعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جس کے اندر باقاعدہ طور پر مختلف چوک، گلیاں، سڑکیں و عمارتیں موجود ہیں۔ گوشہ آرام پرست: کوچہ الم غلم کے سب سے مشہور چوک کا نام گوشہ آرام پرست ہے۔ اس چوک پر چار گلیاں آ کر ملتی ہیں

Read more

کامیابی کے مضر اثرات

آج تک ہم نے جس کو بھی دیکھا ہے اس نے کامیابی کے حق میں بات کی ہے اور ناکامی کو برا قرار دیا ہے اور ناکامی کے بعد ہونے والے نفسیاتی، جسمانی اور روحانی مسائل پر خوب بات کی ہے۔ لیکن آج تک ہم کو کوئی ایسا جوان یا بزرگ نہیں ملا جو کامیابی کے مضر اثرات پر بھی بات کرے۔ اس کی وجہ ہم کو یہ سمجھ آئی کیونکہ ہر بندہ کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اس کے

Read more

بچے کتنے ہونے چاہئیں؟

ہمارے ہاں سب سے پہلا سوال آپ سے آپ کی شادی کے متعلق ہوتا ہے آپ کی شادی ہو گئی اور دوسرا سوال آپ کے بچوں کے متعلق ہوتا ہے دیکھنے میں آیا ہے ہے کہ بچوں کے متعلق لوگوں کے مختلف خیالات اور رائے ہوتی ہے کہ بعض مرتبہ بندہ لوگوں کی رائے سن کر حیرت سے منہ کھول لیتا ہے کہ مکھی جانے کا اندیشہ کافی قوی ہوتا ہے اور ساتھ ہی بندہ سوچتا رہ جاتا ہے یہ

Read more

غلط فہمی

انسان کو ایک بہت بڑی غلط فہمی ہوتی ہے کہ وہ آزاد ہے اور اپنے فیصلے خود کر رہا ہے۔ اکثر لوگ تو اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں اور باقی اس کو امر ربی مان کر قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے کی تعمیر اور ساخت اس طرح سے ہے کہ آپ کے پاس کوئی آزادی نہیں بلکہ آپ ایسے غلام ہیں جو بغیر زنجیر کے بھی کہیں بھاگ

Read more

بے روزگار نوجوان کی درد بھری کتھا

جام صاحب فرماتے ہیں تعلیم اور بیروزگاری کا چولی دامن کا ساتھ ہے نہ تعلیم حاصل کرو نہ ہی بے روز گاری کا چولا اوڑھنا پڑے۔ ان پڑھ آدمی، محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال لیتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان محنت سے جان چراتا ہے اور بے روز گار رہنا پسند کرتا ہے کیونکہ اس نے تعلیم محنت مزدوری کر نے کے لیے تھوڑی حاصل کی ہے۔ جام صاحب اپنے ایک دوست جو کہ عرصہ دراز سے نوکری کی

Read more

قومی مشغلہ:

قومی لباس، قومی ترانہ، قومی جانور وغیرہ وغیرہ کے بارے میں تو کثرت سے سنا ہے۔ یہ قومی مشغلہ کیا ہے؟

میں قاری کی توجہ قومی مشغلہ کی طرف دلوانا چاہتا ہوں جو آج تک ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی اوجھل رہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ بڑے بڑے جید مصنفین اور عالم نے بھی اس کو طاق نسیاں پر رکھ دیا ہے۔ جب یہ نا چیز اپنی ارض پاک کے طول و عرض پر بسلسلہ ملازمت دھکے کھار ہا تھا تو محسوس ہوا کہ اس قوم کا ایک مشغلہ بھی ہے وہ ہے کھانا۔

Read more

طالب علم کی اقسام

تھیٹا تھیٹا اپنے نوٹس کسی کو نہیں دیتا لیکن ہم نے بھی ایسا جواز بنایا کہ اس کو کاپی دینی پڑی۔ کاپی کھولی تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس نے استاد محترم کے سارے What؟ کیا؟ بھی لکھ رکھے ہیں۔ ہمارے استاد محترم کا تکیہ کلام تھا کہ وہ ہر فقرے کے شروع میں یا آخر میں انگریزی لفظwhat کا استعمال کرتے تھے۔ اس لیکچر میں استاد محترم نے what کی تین سنچریاں کی تھی اور تھیٹے نے ان کو

Read more

مڈل کلاس

مڈل کلاس معاشرہ کا وہ طبقہ ہے جو ہمیشہ دو کشتیوں پر سوار ہوتا ہے، اس کی ایک ٹانگ روایات، مذہب اور اقدار پر ہوتی ہے اور دوسری ٹانگ ترقی پسند سوچ پر۔ وہ زندگی میں آگے بھی بڑھنا چاہتے ہیں لیکن ماضی کی چادر اوڑھ کر۔ اس دوہرے عذاب کا بوجھ لادے آخرکار اپنے ہی طبقے کے دریا میں زندگی گزار کر اس دنیا سے چل بستے ہیں۔ اس طبقے کا بنیادی اصول قدامت پسندی ہے لیکن یہ اصول

Read more

پولیس: آگے سے دوڑے چل

ہمارے معاشرے میں نہ عزت، لکھاری کی ہے نہ بھکاری کی ہے اگر ہے تو وہ صرف تھانے دار کی ہے۔ جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ جانوروں کو ہانک سکتا ہے۔ یہ قوم ایسی ہے جو کہ خود کو تمام قوموں سے افضل سمجھتی ہے اس لیے کسی بھی قانون پر عمل نہیں کرتی۔ مثل مشہور ہے جس عہدے کے ساتھ دار لگا ہو، وہ آپ کو تختہ دار پر چڑھا سکتا ہے۔ جام

Read more

جام کی سوزوکی

جام صاحب اپنی ماضی بعید کے قصے اکثر سنایا کرتے ہیں جو ان کے نزدیک کل کی بات ہے۔ ان سے ایک مشہور الزماں قصہ ان کی سوزوکی کے بارے میں ہے جو ان کو ان کے والد محترم کی جانب سے میٹرک میں اعلیٰ نمبروں یعنی سیکنڈ ڈویژن حاصل کرنے کے بعد تحفہ کے طور پر دیا گیا تاکہ وہ کالج میں شان کے ساتھ داخلہ لے سکیں بشرطیکہ ان کو کسی کالج نے داخلہ دے دیا تو ،

Read more

ایم ایس سی میتھ اور چھٹی جماعت کی ریاضی

ویسے تو ہمیں کچھ نہیں آتا لیکن ہمارے پاس بہت سی تعلیمی ڈگریاں موجود ہوتی ہیں۔ بچپن سے ہمارے ذہن میں ایک تصور بہت راسخ ہو چکا تھا کہ سائنس کے طالب علم ذہین، قابل اور پڑھاکو ٹائپ کے ہوتے ہیں جبکہ آرٹس کے طالب علم کمزور، نالائق اور نکمے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی ہم راسخ عقیدہ واقع ہوئے ہیں اس لیے اپنے عقیدے سے جلدی پھرتے نہیں لیکن کبھی کبھار انسان کو توبہ کر کے اپنی غلطی ماننی پڑتی

Read more

شادی سے پہلے اور بعد

شادی سے پہلے محبوب: جان تم آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔ بہت عمدہ سوٹ پہن رکھا ہے۔ محبوبہ: اس کا مطلب ہے تم کو میں خوبصورت نہیں لگتی۔ محبوب:جان! میں تو آپ کی تعریف کر رہا ہوں۔ محبوبہ: یہ میری تعریف نہیں بلکہ کپڑوں کی تعریف ہے۔ محبوب: میرے چاند:تم چاند ہو، چاند کب بد صورت لگتا ہے لیکن آج تم چودھواں کا چاند لگ رہی ہو۔ محبوبہ: مجھ سے بات مت کرو۔ محبوب: تم خواہ مخواہ ناراض ہو

Read more

عورت اور شاپنگ

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ عورت آکسیجن کے سہارے نہیں بلکہ شاپنگ کے سہارے زندہ رہتی ہے۔ عورتوں کا بس چلے تو وہ ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا بازار میں کھائیں۔ ویسے تو سنا ہے کہ عورت بہت نازک ہوتی ہے مگر بازار کو دیکھتے ہی ان میں نجانے کہاں سے قوت بھر جاتی ہے مرد بیچارہ پیچھے پیچھے دم ہلاتا پھرتا ہے اور اس کی زبان بھی باہر آجاتی ہے لیکن عورت کی شاپنگ ختم

Read more

کتاب اور ہم

کتابوں کے ساتھ ہمارا کوئی عجیب قسم کا تعلق ہے۔ اس لیے ہم نے ان کو طاق نسیاں پر رکھا ہوا ہے۔ جیسے ہی ہم بولنا شروع کرتے ہیں ہمارا واسطہ کتاب سے پڑتا ہے اس لیے کتاب کو دیکھ کر ہم کو نیند آنا شروع ہو جاتی ہے اور اکثر و بیشتر یہ سلسلہ تمام عمر چلتا ہے۔ اس لیے لوگ اپنے آپ کو کورس کی کتابوں تک محدود کر لیتے ہیں لیکن پھر ان کو کورس کی کتابیں

Read more

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

جب اسامہ صدیق کا ناول ”Snuffing out of the Moon“ شائع ہوا تو ہم نے اس کے بارے میں اچھی رائے سنی اور فیصلہ کیا کہ اس کو پڑھیں گے۔ ویسے بھی پاکستان میں ناول وہ بھی اچھے ناول انگریزی یا اردو (دونوں میں ) بہت کم لکھے گئے ہیں اور آپ ان کو اپنی انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ لیکن اس کے مقبولیت کے باوجود جیسے کہتے ہیں ناں ’دنیا میں اور بھی غم ہیں محبت کے سوا‘ ،

Read more

مرد اور دوسری شادی

جام صاحب فرماتے ہیں کہ اس دنیا کے ننانوے فی صد مرد اپنی شادی شدہ زندگی میں کبھی نہ کبھی دوسری شادی کرنے کا ضرور سوچتے ہیں باقی ایک فی صد جو ہیں ان کے مرد ہونے پر شک کرنا لازم ہے۔ مردوں کی نفسیات بھی عجب ہے ایک طرف تو شادی کو خانہ بربادی، محکومیت اور غلامی گردانتے ہیں دوسری طرف یہ غلامی کا طوق کئی مرتبہ اپنانا چاہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مردوں کو اسلام کی کوئی دلیل

Read more

وکیل صاحب کی دوسری شادی

کامران صاحب میرے اچھے دوست ہیں۔ ان سے ہماری دوستی سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی۔ پہلے پہلے ہماری ملاقات ورچوئل ہوا کرتی تھی۔ ان کے سوالات بڑے مختلف قسم کے ہوتے تھے، جیسے کوئی واقعہ ہوا تو انہوں نے ہم سے شیئر کیا اور پھر ہماری رائے اس کے بارے پوچھی۔ ہم ان کو یہی کہتے تھے کہ ہر قسم کا بندہ ہوتا ہے اور رائے بھی مختلف ہوتی ہے لیکن وہ باز نہیں آتے تھے۔ ایک دن باتوں

Read more

کرایہ دار

کرایہ دار کا دکھ کرائے دار کے سوا کوئی نہیں جان سکتا چاہے وہ کتنا ہی بڑا دانش مند، فلسفی یا شاعر ہو۔ آپ نے زندگی کا فلسفہ سیکھنا ہے تو میرا مشورہ ہے آپ ایک مرتبہ ضرور کرایہ دار بنیں اور اگر اللہ توفیق دے اور آپ اپنا گھر بنا لیں اور گھر کا ایک حصہ کرایہ پر دے کر مالک مکان بھی ضرور بنیں جب آپ اس عمل سے گزریں گے تو ہم کو امید واثق ہے کہ آپ پورا فلسفہ زندگی بھی سمجھ جائیں گے اور جو غم آپ نے بطور کرایہ دار اٹھایا ہوگا اس کا بھی ازالہ ہو جائے گا۔ ہمارا مقصد آپ کو بدلہ پر اکسانا نہیں ہے بلکہ مالک مکان ہونے کے اعزاز سے صرف روشناس کرانا ہے۔

Read more

لاہور لاہور ہے

جام صاحب فرماتے ہیں جب وہ پہلی مرتبہ ایشیاء کے پیرس تشریف لائے تو اس کی حالت زار پر بہت رونا آیا۔ ایسا ہجوم کہ اللہ کی پناہ، وہ ہجوم کو دیکھ کر اپنی شناخت ہی بھول گئے۔ لاہور شہر میں تین قسم کی آبادی رہتی ہے۔ پہلی وہ جو چھ بجے اٹھتی ہے۔ دوسری دوپہر کو دو بجے، تیسری شام سات بجے ان تین آبادیوں کی وجہ سے لاہور سوتا نہیں ہے۔ جب ایک آبادی کے سونے کا وقت ہوتا ہے باقی جاگ رہے ہوتے ہیں۔ لاہور شہر میں آپ کو ویرانی صرف آپ کے دل میں محسوس ہوتی ہے باقی ہر جگہ رونق ہی رونق ہے۔

Read more

فیصلہ انسان کیسے کرتا ہے؟

دنیا میں ہر انسان کے فیصلہ کرنے کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں باوجود اس کے وہ اپنے فیصلہ کو دوسرے کے فیصلوں سے مقدم اور افضل سمجھتا ہے اور اپنی دانش پر اکڑتا ہے کہ اس جیسا ذہین انسان پورے کرہ ارض پر معرض وجود میں نہیں آیا۔ اگر ہم غور کریں تو ہر انسان کی ایک سوچ کا دائرہ بن جاتا ہے جس کے زیر اثر وہ فیصلہ کرتا ہے لیکن وہ خود کو آزاد مانتا ہے حالانکہ وہ اپنی سوچ کا غلام ہوتا ہے۔ جام صاحب نے کچھ ایسے ذہنی رجحانات کی طرف توجہ دلائی ہے ذرا دیکھتے ہیں وہ کیا ہیں

Read more