خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں!


ملک میں ہنگامہ آرائیوں کے شعلے بھڑکتے گئے اور بھڑکائے چلے جا رہے ہیں، عوام کی خاموش اکثریت اداسی سے معمور ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کے بالمثل، لب دوز (بظاہر) محو تماشا ہے۔ احساس ہے کہ ان کے دل پر کیا گزر رہی ہے کیا کسی کو معلوم؟ اس طبقے کی تعجب انگیز، غیر متوقع خاموشی پر احباب کی طرف سے استفسارات، تقاضے، مطالبے، مشورے، شکوے بلکہ شکایت ہائے رنگین اور بعض گوشوں کی طرف سے طنز و طعن کے تیر و نشتر تک موصول ہو رہے ہیں اور یہ، ان سب کے باوجود لب بند ہیں، قلم میں ایسی سیاہی سے محروم جس کے حروف تاریکی میں اجالے کا گماں دیں۔

جہاں تک ملک میں برپا ہونے والے خلفشار اور انتشار سے اثر پذیر ہونے کا تعلق ہے، یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ بہت کم قلوب ہوں گے جو اس جیسے وقف کرب و اضطراب ہوں اور اس کی وجہ ظاہر ہے۔ پاکستان کا وجود ہمارے نزدیک اس خطہ زمین کے تحفظ، بقا اور استحکام کی اہمیت کس قدر ہے، اگر (خدانکردہ) اس خطہ زمین کو کچھ گزند پہنچ گیا تو، اوروں کی تو شاید دنیا ہی اجڑے گی، ہم جیسوں کی تو (محاورہ کے مطابق) دین و دنیا دونوں ویران ہوجائیں گے، جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے اس سے ہمارا قلب حزیں قیامت کی گزرگاہ بن رہا ہے، لیکن اس کے باوجود۔

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی؟

اور وہ بات جس کی وجہ سے ہم جیسوں کو اسی چپ لگی ہے، کوئی سراسر پردہ نہیں۔ کوئی ایسا راز نہیں جسے کھلے بندوں کہا نہ جا سکے، بات بالکل صاف اور واضح ہے۔ اس وقت ملک کی حالت یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی مفاد پرستیوں کے نشہ میں بدمست ہیں اور کچھ مشتعل، جذبات کے جنون میں پاگل ہو رہے ہیں۔ آپ سوچئے کہ جو شخص ”کسی نشے میں دھت ’یا شدت جنون میں ہلڑ مچا رہا ہو اسے ایسی حالت میں کوئی نصیحت بھی کار گر ہو سکتی ہے؟ ایسی حالت میں ہر نصیحت بیکار اور ہر مشورہ عبث ہوتا ہے۔ بے کار اور عبث ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ کچھ اور۔ لہذا ایسے حالات میں خاموشی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتا، اگرچہ اس قسم کی خاموشی مغز استخوان تک کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے بقول غالب۔

گر نگاہ کرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
شعلہ خس میں جیسے، خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا

اس وقت ملک کی خاموش اکثریت ہی واحد ایسا طبقہ ہے جسے کچھ بتانا اور سمجھنا مفید ہو سکتا ہے، ورنہ انتظار میں رہیں کہ مد ہوشوں کا نشہ اترے اور موسم جنون کی شدت میں کچھ کمی واقع ہوئے تو ان سے کہا جا سکے کہ ذرا دیکھو کہ تم نے جو گھر اجاڑا ہے، خود تمہارا اپنا گھر ہی تو نہیں۔ یہ امر باعث اطمینان بھی ہے کہ ملک کی ساری آبادی اس جنون کا شکار نہیں ہو رہی، اس نشہ میں مدہوش یا جنون میں مبتلا تو ملک کی 22 کروڑ آبادی کا اقل قلیل حصہ ہے، شاید چند ہزار۔ سوال یہ ہے کہ ملک کی بقایا، اس قدر کثیر آبادی کیا سوچ رہی اور کیا کر رہی ہے، اس پر مایوسی کیوں طاری ہے، آپ اس طبقہ ساکت و صامت کے کسی بھی فرد سے بھی ملیں گے تو اس کے لب پر پہلا سوال یہ ہو گا کہ ”اب کیا ہو گا؟“ ، اس ملک کا کیا بنے گا۔

مشکلات ہزار پیش آئیں اگر ان کا حل آپ کے سامنے ہے تو آپ پر کبھی مایوسی طاری نہیں ہوگی، مایوسی اس وقت طاری ہوگی جب کسی مشکل کا حل سمجھ میں نہ آئے۔ منزل کتنی ہی دور کیوں نہ ہو اور آپ کتنے تھکے ہوئے بھی کیوں نہ ہو، اگر اس تک پہنچنے کا راستہ آپ کے سامنے ہے، تو آپ کچھ وقت تک سستانے کے لئے بیٹھ جائیں تو اور بات ہے، آپ مایوس نہیں ہوں گے، آپ مایوس اس وقت ہوں گے جب آپ کو کوئی راستہ نظر نہ آئے۔ قوم کے اس کثیر حصہ کی جس کا میں ذکر کر رہا ہوں، اس وقت یہی حالت ہے۔

یہ جو ہر شخص سر تا پا سوال ہے کہ ”اب کیا ہو گا“ ، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس تباہی سے نکلنے کا کوئی راستہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ دبے لفظوں میں بتانے کا مقصد یہی ہے کہ اپنی فکر کو خود ساختہ تبدیلی سے آزاد کریں، تاکہ جن راستوں کو بند دیکھ کر مایوسی چھا رہی ہے اس کی گرد ہٹائی جا سکے۔ ہم سب کی یکساں خواہش ہے کہ یہ خطہ زمین محفوظ رہ جائے اور اللہ تعالی ابدالآباد تک محفوظ رکھے اور یہاں ایسا طبقہ تبدیلی کے سحر سے باہر نکلے، جو نہ خود غرض، مفاد پرست ہو اور نہ ہی طاقت کے نشے میں اپنے ہو اس و حواس کھو بیٹھے۔

انا پرست نظام میں سیاسی جماعتوں میں باہمی جذبات نفرت اور عداوت مستقل شکل اختیار کرلیتے ہیں، جن کا مظاہرہ روزمرہ کی زندگی میں بالعموم اور پارلیمان کے ایوانوں میں بالخصوص سال بھر ہوتا رہتا ہے۔ بعض اوقات تصادم اس قدر شدت اختیار کر جاتا ہے کہ جنگ کی سی شکل پیدا ہوجاتی ہے، حزب اقتدار کو قانون، پولیس یا فوج کی قوت حاصل ہوتی ہے، حزب اختلاف کے پاس یہ کچھ نہیں ہوتا، وہ ان کے مقابل، عوام کے جذبات کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، مزاحمت میں قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہوجاتا ہے، املاک ضائع ہوتی ہیں، نظم و نسق درہم برہم ہوجاتا ہے، ملک کی معیشت تباہ ہوجاتی ہے، اس تصادم میں ملک کی آبادی کا بہت قلیل حصہ ملوث ہوتا ہے، ملک کی کثیر آبادی ان سے الگ اور ان ہنگاموں کے سخت خلاف ہوتی ہے، ان حالات میں ان کی نظریں تیسری قوت کی جانب اٹھتی ہیں کہ بطور ثالث کی حیثیت اختیار کرے اور کشتی لڑنے والے ان دو پہلوانوں کو چھڑا دے۔ ثالث یا مفاہمت کے نہ ہونے سے دو افراد کے درمیان لڑائی سے صرف ان کا نقصان ہو گا، لیکن حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے تصادم سے ملک برباد اور قوم تباہ ہوجاتی ہے، قوم کا وہ امن پسند طبقہ، جس کا ان متصادم گروہوں کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا، بھلا وہ ملک اور قوم کی اس تباہی پر خون کے آنسو کب تک بہاتا رہے۔

Facebook Comments HS