معیار کی اصطلاح
میں کچھ دن سے معیار کی اصطلاح پہ سوچ بچار کر رہی تھی۔ معیارات کیوں ہیں کیا ہیں اس سے قطع نظر میرا سوال حکام بالا سے یہ ہے کہ ایک ملک میں اتنے مختلف معیارات کیسے ہوسکتے ہیں حکومتی معیارات حکومت کے لیے اور عوام کے لیے اور ہیں
جبکہ یہاں عسکری حکومتیں بھی قائم ہوئی ہیں وہاں بھی ان کے معیارات کچھ اور ہوتے ہیں اور کیونکہ عسکری حکومتیں عوام کو سویلین کہتے ہیں تو سویلین کے لیے معیارات بالکل دوسرے ہوتے ہیں۔ یہ معیارات کن بنیادوں پہ طے ہوتے ہیں۔ اور کیوں؟
عوام کے لیے دوہرے معیارات رکھ کر بھی ان کے لیے حوصلہ افزا کام یا تو ہوتا نہیں یا تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ ذرائع جو بھی ہوں کام نامکمل ہی رہتا ہے کوئی مکمل کام تجاوزات کی شکل پہ اختتام پذیر ہوتا ہے جیسے حال ہی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں قائم شدہ ضیا محی الدین تھیٹر۔ یا پھر عوامی نوعیت کے پروجیکٹ کھٹائی میں پڑے رہتے ہیں جیسے آبی ذخائر کے لیے ڈیم۔
مغربی ممالک یہاں تک مشرق وسطی میں حکومتیں یا بادشاہتیں اپنے ملک و عوام کے لیے بہترین اور اعلی معیارات پہ کام کرتے نظر آتے ہیں چاہے وہ سوشل سیکورٹی ہو یا جان و مال کا تحفظ۔ بنیادی سہولیات اعلی، اہم اور عوام کے لیے ہیں جو تکمیل تک پہنچنے کے بعد مستقل بنیادوں پہ کام کرتے ہیں۔ اپنے لیے بھی کرتے ہوں گے لیکن عوام کے لیے اتنے ہیں ان کا ذکر محال۔ دس سال پہلے یو اے ای وزٹ کیا جہاں بیشمار پروجیکٹ پہ کام چل رہا تھا ان میں سے ایک نمکین پانی اور ڈسپوزبل پیکٹ کی مدد سے سبزیاں اگانے کا تجرباتی کام بھی شامل تھا جو آج کامیابی سے چل رہا ہے۔
لب لباب یہ کہ یہاں دھرے معیارات رکھنے کے باوجود عوام ریلیف کا کام نہیں ہوتا۔ یہ تو ملکی نظام میں چل رہا ہے۔ ذرا پروموشنل کمپنیز و بڑی کمپنی میں میڈیا ڈپارٹمنٹ کے معیارات دیکھیں۔
باوجود ویب سائٹ کے ذریعے بڑی غیر ملکی کمپنیز کو اپروچ کیا جا سکتا ہے مگر پروجیکٹ آگے بڑھانے والے اسی ملک کے۔ (یعنی کمپنی پاکستان میں ہے تو پاکستانی ہوں گے ۔ ) انفرادی طور سے غیر ملکی کمپنی کو اپروچ کرنا ممکن ہے لیکن اس پاکستانی کو اپروچ کرنا مشکل۔ کسی طرح رسائی حاصل ہو گئی ہے تو آگے آنا ناممکن۔ یعنی جس کمپنی نے پروموشن ممکن بنانے کے لیے انہیں رکھا ہے انہوں نے اپنی منشا پسند ناپسند پہ عام ہنرمند کے لیے بنا دیا وہی پروموشن ناممکن۔
میں ابھی ایک مشہور کمپنی کا ایڈ دیکھ رہی تھی جو اسی دن ریلیز ہوا لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود بھی مجھے وہ غیر معیاری لگا۔ تب میں ایک تجزیے پہ پہنچی کہ پیسہ کسی فن یا ہنر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ البتہ پیسہ کسی اور کا اور ہنر کسی اور کا بہترین شراکت دار ہو سکتا ہے جیسے پچھلے وقتوں کا سنیما جس میں دولت و ہنر، معیار، شہرت اور نام حاصل کرتا ایک بہترین پروڈکٹ بنایا کرتا تھا۔
آج پیسہ ہنر کا استحصال کر رہا ہے جب اس پیسے نے ہنر کو چھوڑ کر شہرت سے شراکت کی۔ ہر چیز معیاری سے غیر معیاری ہو گئی۔ پیسہ ممکن ہے دگنا ہوجاتا ہو لیکن ہنر کا نقصان ہوتا ہے۔
پیسہ لگانے کا یہ کام سیٹھ سے کمپنیوں تک آ گیا رسک سیٹھ بھی لیتا تھا لیکن ہنرمندوں کے بل پر۔
ایسے میں کسی بڑی کمپنی کے میڈیا مینجمنٹ کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیوں یہ رسک نہیں لیتے انہیں خود کی انتظامی صلاحیتوں پہ شک ہے۔ یا یہ نا اہل ہیں؟
کمپنیز اسٹوڈنٹس و نئے ٹیلنٹ کو پروموٹ کرنے، ان کی حوصلہ افزائی کے لیے بجٹ مختص کرتیں ہیں لیکن غیر معیاری مینجمنٹ یہی بجٹ کسی شہرت یافتہ پہ لگا دیتے ہیں یا نئے ٹیلنٹ سے غیر معیاری کام کی طلبی کرتے ہیں۔ کیوں؟
آخر ان دوہرے معیارات کی پوچھ گچھ کون کرے گا۔ کب ہوگی؟
جو عوام یا سویلین کے لیے کھڑے کیے گئے اور اب بڑی غیر ملکی مشروب کمپنی کی استحصالی میڈیا مینجمنٹ مسلسل غیر معیاری موسیقی کو موسیقی بنا کر سماعتیں ماؤف کرنے پہ کاربند ہے۔ یا من پسند کو روشناس کراتے کراتے تھکتے نہیں۔ جبکہ نئے ٹیلنٹڈ صرف یوٹیوب یا فیس گروپ تک محدود ہیں جو اسپونسرز کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایک آدھ ہنر مند کو مدت بعد میٹھی گولی مل جاتی ہے۔
ابھی میں غیر معیاری ایپ اور مواد کی بات نہیں کر رہی۔ صرف دوہرے معیارات کی بات کر رہی ہوں۔ جس کا نتیجہ ابھی تک استحصال کی صورت میں آیا ہے۔ نئے ہنرمندوں کا استحصال بھی دوہرا ہے جو شہرت یافتہ و میڈیا مینجمنٹ مل کے انجام دے رہے ہیں۔
اسی ضمن میں عرض کرتی چلوں پچھلے مہینے نوے کی دہائی کا ایک امریکی میوزک بینڈ فیس بک پہ ایکٹو ہوا تو اس نے اپنے فینز کے لیے اعلان کیا کہ ”آج کل ہمارے گانے بہت سے فین گاتے ہیں ہمیں یہ جان کر خوشی و حیرت ہوئی کہ ہم آج بھی لوگوں میں پسند کیے جاتے ہیں ہم نے فینز کا شکریہ ادا کرنے کے لیے یہ سوچا ہے کہ فینز ہمیں اپنی آواز میں گانا بھیجیں ہم شکریے کے ساتھ اسے اپنے پیج پہ شیئر کریں گے یہ ان کی محبت کا صلہ تو نہیں لیکن وہ ہماری شہرت کا کچھ فائدہ آگے نئے گانے والوں میں شامل ہو کر مستقبل میں ضرور اٹھا سکتے ہیں”
خود ہی فیصلہ کریں شہرت قابل اور اہل ہنرمندوں کو ملتی ہے تو کیا کرتی ہے۔ جبکہ فیس بک پہ پاکستان سے کیو اے پی کے نام سے نئے و شوقیہ ہنرمندوں کا ایک بڑا گروپ موجود ہے یہاں موسیقی کے ساتھ ساتھ آرٹ ویڈیو بھی شیئر ہوتی ہیں جو ان کی ہنر مندی کا نمونہ ہیں۔ آئے دن مشہور گائیکوں کے گانے گائے جاتے ہیں۔ انہیں خراج تحسین دیا جاتا ہے۔ آپ نے کسی بھی متعلقہ فنکار سے کسی بھی نئے ٹیلنٹ کے لیے کوئی حوصلہ افزا جملہ سنا ہے۔ یا کسی سے اس گروپ کا نام؟ یا شکریے کا کوئی لفظ ان کے اپنے فیس بک پیج پہ؟ کم از کم میں نے تو نہیں دیکھا نہ سنا۔
ملکی معیار قوم کے لیے بلند ہو تو سوچ بھی بلند رکھتی ہے۔ فنکار تو عام معیار سے بہت بلند سوچ کا مالک ہوتا ہے اور حوصلہ افزائی اس کا بڑا پن۔ جیسا کہ امریکی گروپ نے اپنے فینز کو سراہا۔
یہ بات کہ معیار دنیا میں گرا ہے ادب و فنون موسیقی کا معیار گر گیا تو کیا ہوا۔ غلط ہے۔
دنیا کی قومیں عروج کے بعد کی منازل پہ ہیں جبکہ پاکستان میں ابتدا سے ترقی پذیری میں ہی پسماندگی حائل ہے اب تو اخلاقی پسماندگی بھی شامل ہو گئی۔
میں سمجھتی ہوں کہ ان دوہرے رویے کا شکار مجھ سمیت کبھی عوام اور کبھی سویلین تو ہیں ہی ہم ایک دوسرے کی فنی حوصلہ افزائی میں غیر معیاری بھی ہوچکے ہیں۔


