قلعہ جنگی: سات نوجوان، سات کہانیاں


میری ذاتی کم علمی سمجھ لیجیے کہ پڑھنے سے قبل میں نے مستنصر حسین تارڑ کے ناول قلعہ جنگی کا کہیں ذکر نہیں سنا تھا۔ گزشتہ برس تارڑ صاحب کی سالگرہ پر سنگ میل پبلشرز نے 25% کی رعایت کا اعلان کیا تو کچھ کتب منگوائیں، زیر نظر ناول قلعہ جنگی بھی اس میں شامل تھا۔ تارڑ کو زیادہ تر سفر نامہ نگاری کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے، جو کہ بلا شبہ ایک جائز وابستگی ہے۔ لیکن راکھ اور اس کے بعد قلعہ جنگی کا مطالعہ مجھے اس نتیجے پر لایا کہ تارڑ صاحب ایک سفرنامہ نگار سے بڑے ناول نگار ہیں اور ایک بڑے ناول نگار سے بڑے سفرنامہ نگار۔ اسکول کے زمانے میں جپسی اور پیار کا پہلا شہر میری پسندیدہ تصنیف تھیں لیکن ان کا ماخذ بھی تو چاچا جی کے سفر نامے ہی تھے۔

قلعہ جنگی افغانستان میں روس اور امریکا کے مابین لڑی جانے والی جنگ کے پس منظر میں لکھا گیا ایک پریشان کن ناول ہے۔ پریشان کن شاید صحیح اصطلاح نہیں، اس کی جگہ حقیقت کو افشا کر کے قاری کو سوچنے پر مجبور کر دینے والا ناول کہ دینا مناسب ہو گا۔ یا ایک چشم کشا تحریر۔ ہاں جی اب بہتر لگ رہا ہے۔ بس تو اگر ایک فقرہ میں بتانا مقصود ہو تو کہ سکتے ہیں کہ ”قلعہ جنگی افغانستان میں روس اور امریکا کے مابین لڑی جانے والی جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی ایک چشم کشا تحریر ہے“ ۔

قلعہ جنگی 7 نوجوانوں کی کہانی ہے جنہوں نے اپنی مختلف معاشی، معاشرتی یا جذباتی وجوہات کی بنیاد پر افغان جہاد میں حصہ لیا۔ تارڑ صاحب نے جنگ کی دوران زخمی ہو کر ایک تہ خانے میں چھپنے والے مجاہدوں کی اس قدر زندہ تصویر کشی کی ہے کہ قاری خود کو تہ خانے کے سرد اور حبس زدہ گھپ اندھیرے میں محسوس کرتا ہے۔ یہ اتنا حقیقت کے قریب تر احساس تھا کہ یہ تحریر قلمبند کرتے وقت بھی میں نے اپنے ہاتھوں کی پشت پر وہ ٹھنڈک محسوس کی ہے جو کوئی بھی کسی بھی ایسے تہ خانے میں محسوس کر سکتا ہے جس میں پہلی سات سیڑھیوں کے بعد کبھی دھوپ نہ اتری ہو۔ ان زخم خوردہ جوانوں کے جسموں سے رستا ہوا گاڑھا خون، اسی تہ خانے میں مردہ گھوڑے کی جمی ہوئی لید کی بدبو، تازہ ہوا کا فقدان، بھوک سے سکڑتے ہوئے معدے، سردی سے اکڑتے ہوئے بدن، گلے میں پیاس کی شدت سے چبھتے ہوئے کانٹے، اتنی خوفناک نقشہ کشی کی گئی ہے کہ قاری خود کو اس منظر کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔

سات نوجوان، سات کہانیاں، سات یکسر مختلف پس منظر، سات مختلف مالی حالات، اور ایک افغان جہاد لیکن سات الگ الگ نصب العین۔ آخر وہ کیا جذب باہم تھا جو ان افراد کو واشنگٹن، انگلینڈ، اسلام آباد، سرگودھا، صوبہ سرحد، چیچنیا اور سعودی عرب سے افغانستان لے آیا؟

بجائے اس کے کہ ان جوانوں کی انفرادی کہانیوں کا خلاصہ لکھ کر ناول کے تجسس کے ساتھ گستاخی کی جائے بات کرتے ہیں کہ مصنف نے افغان جہاد میں پاکستان کے کردار کو کیسے دیکھا اور لکھا۔ تاریخ اور بین الاقوامی تعلقات کا ادنیٰ طالب علم ہونے کی ناتے راقم کی رائے میں تارڑ صاحب کا افغان جہاد کا تجزیہ قابل ستائش حد تک ماہرانہ ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان نے کیا نقصانات اٹھائے اور ارباب بست و کشاد نے اس جنگ سے کتنا فائدہ حاصل کیا، یوں گمان ہوتا ہے گویا مصنف نے ناول لکھنے سے پہلے جنگ اور سیاسی معیشت پر کسی ضخیم کتاب کا دیانتدارانہ مطالعہ کیا تھا۔ کیوں کہ اس کے بغیر اتنی باریک تفصیلات میں اتنی درستگی سے جانا ممکن نہیں۔

ناول کا اختتام قاری کی توقعات کے عین مطابق ہے یعنی شروع کے کچھ صفحات میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ انجام کیا ہو گا، پھر بھی تحریر کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ پورا پڑھے بغیر چارا نہیں۔ راقم کو یہ ناول اتنا پسند آیا کہ اس کی ایک اور کاپی منگوا کر اپنی ایک دوست کو بھی تحفتاً بھیجی۔ ایسا لگا کہ یہ ناول ان لوگوں کو واپس لے آئے گا جو مصروفیات کی بنا پر کتب بینی سے دور ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شریکی سنگھ سندھو کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments