وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کہاں ہیں


موسم میں سردی اور سیاست میں گرمی کی شدت میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے سردی کی شدت میں اضافہ اگلے سال جنوری کے آخر تک اور سیاست میں گرمی کا سلسلہ اپریل کے وسط تک عروج پر رہے گا جوں جوں ملک بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گا سیاست سرد مہری کا شکار ہوتی جائے گی پاکستان کی سیاست کا موسم بھی ہر سال اسی طرح اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے جیسے ہی موسم گرم تو سیاست ٹھنڈی ٹھار ہو جاتی ہے اور ہمارے سیاست دان جو کہ گرمی کی شدت برداشت نہیں کر سکتے ائر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں براجمان ہو کر عوام کو ہاتھ ہلا ہلا کر تسلی دیتے ہیں کہ فکر نہ کریں ہم سردیوں میں سڑکوں پر ہوں گئے آپ گرمی برداشت کریں اور قربانی دیں پاکستانی سیاست کی یہ دلچسپ داستان برسوں سے ہماری تاریخ کا حصہ بن رہی ہے لیکن موجودہ دور کی سیاست میں جہاں اور بہت سی دلچسپی کی باتیں وہاں پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کا سیاست میں کردار بھی کسی دلچسپی سے کم نہیں۔

عثمان بزدار وزیر اعظم عمران خان کی ایسی دریافت ہیں جس نے ان کے قریب رہنے والوں کو بھی پریشان ہی نہیں حیران بھی کر دیا اگر تاریخ کے حوالے سے بات کریں تو کرکٹ میں عمران خان نے منصور اختر اور سیاست میں عثمان بزدار کا جتنا وزن اٹھایا ہے شاید یہ خوش نصیبی کسی اور کے حصے میں نہ آئی ہو۔ کرکٹ کے میدان میں منصور اختر کو اتنی سپورٹ ملی کہ وہ دنیا میں اپنا مقام بنا سکتے تھے ان کا کھیلنے کا انداز دلکش اسڑوک لگاتے تو دیکھنے والے داد دیے بغیر نہ رہ سکتے لیکن وہ کرکٹ کے بڑے میدانوں اپنا لوہا نہ منوا سکے اور پھر ایک دن ایسا آیا کہ کپتان نے جیسے ہی منصور اختر کو خدا حافظ کہا وہ تاریخ کا حصہ بن گئے۔

وزیر اعظم عمران خان کی بائیس سالہ جد و جہد میں بہت سے لوگ منظر عام پر آئے اور چلے گئے لیکن عثمان بزدار کا نام کسی بھی جگہ پر دور دور تک نہ تھا جیسے ہی عمران خان تخت نشیں ہوئے تو پنجاب کی وزارت اعلی کا قرعہ عثمان بزدار کے نام نکلا تو تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن ایک دوسرے سے سوال کرتے نظر آئے خیر عثمان بزدار نے وزارت اعلی سنبھالی اور کام شروع کر دیا ان کی وزارت اعلی میں سب سے اہم یہ بات ہے کہ وزیر اعظم ہر سات دن بعد عثمان بزدار کے حق میں ایک بیان جاری کرتے ہیں پنجاب حکومت کی کارکردگی وزیر اعلی عثمان بزدار خود یا ان کی ٹیم بتانے کی بجائے وزیر اعظم بتاتے ہیں اور ان کی نظر میں عثمان بزدار سے کوئی دوسرا بہتر نہیں ہے وہ ہی پنجاب کی پگ کی حفاظت کر سکتے ہیں وزیر اعظم نے وزیر اعلی پنجاب کے متعلق بیان میں یہ بھی کہا کہ عثمان بزدار شریف آدمی ہیں وزیر اعلی کے مخالفین نے جو بھی الزام لگائے وزیر اعظم کی جانب سے خود جواب دیا گیا پنجاب حکومت کے تیسرے سال وزیر اعظم نے اپنی حمایت کو مزید پختہ کیا اور فرمایا عثمان بزدار تشہیر سے گریز کرتے ہیں ان کے کئی ترجمان بھی تبدیل ہوئے لیکن عثمان بزدار خود نہیں بولے اور اب تین سال گزرنے کے بعد وزیر اعظم نے مہربانی فرماتے ہوئے وزیر اعلی کو مشورہ دیا ہے کہ کوئی کارکردگی پوچھے تو کہہ دینا پانچ سال بعد پوچھنا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے وزیر اعلی کو پانچ سال پورے کرنے کا مکمل مینڈیٹ دیے کر ان کی ہمت بندھائی ہے کہ فکر نہیں کرنا لیکن اس بار کی وزیر اعظم کی تعریف میں کچھ فرق سا لگ رہا ہے وہ وزیر اعلی سے کچھ کر گزرنے کا کہہ رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ کرکٹر منصور اختر کی طرح آپ کچھ کرنا شروع کریں لیکن میرا فیصلہ تبدیل ہو جائے ابھی تک کی جو تصویر سامنے نظر آ رہی ہے اس کے مطابق تو سردار عثمان بزدار وزیر اعظم کے منصور اختر ہی لگتے ہیں۔

دوسری طرف عثمان بزدار قسمت کے ایسے دھنی ہیں کہ ان کی مخالف جماعتیں بھی چاہتی ہیں کہ وزارت اعلی عثمان بزدار کے پاس ہی رہے اور وہ پانچ سال بعد عوام کے سامنے ان کی کارکردگی لے کر جائیں۔ ویسے تو وزیر اعلی پنجاب کے پاس وزیروں اور مشیروں کی بڑی تعداد موجود ہے وہ یقینی طور پر مشورہ بھی دیتے ہوں گئے کہ صاحب تین سال گزر گئے عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بعض افراد کو زندگی میں سب کچھ مل جاتا ہے وہ اختیارات سے مالا مال ہوتے ہیں پھر بھی وہ کچھ نہیں کر پاتے اور اسی طرح کچھ لوگ نچلی سطح سے اپنی محنت لگن اور دیانت سے سب کو مات دے کر اپنا مقام بنا لیتے ہیں ایسے افراد ہر انسان کی زندگی کے سامنے ضرور منظر عام پر آتے ہیں اور کام کرنے والوں کی اپنی تاریخ اور نہ کام کرنے والوں کی اپنی تاریخ عوام کی زبان پر رہتی ہے لیکن جسے تاریخ رقم کرنا کہتے ہیں وہ کام کرنے والے ہی کر پاتے ہیں اور دوسرے سب تاریکی میں گم ہو جاتے ہیں۔

اب تاریخ یہ لکھ رہی ہے کہ جناب وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار سے کارکردگی کا تقاضا کر دیا ہے انہوں نام تو کسی اور کا لیا ہے کہ پانچ سال بعد سوال کرنا لیکن اصل میں یہ بتایا ہے کہ پانچ سال بعد آپ نے جواب دینا ہے اب وزیر اعلی عثمان بزدار کو چاہیے کہ وہ نمائشی قسم کے دورے کرنے کی بجائے عوام کے وہ بنیادی مسائل حل کریں جن کے باعث وہ تکلیف میں ہیں وگرنہ گاڑی پر شہر کے چکر لگا کر جائزہ لینے جیسی کارروائیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

اور وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کو وزیر اعظم کے سامنے یہ سوال رکھنا چاہیے کہ ایک تنظیم کے ساتھ مذاکرات میں مجھے اہمیت کیوں نہیں دی گئی مجھے صرف امن و امان کے اجلاسوں کی صدارت کے علاوہ بھی ملکی معاملات میں شامل کیا اپ کو اپنا مقام بنانے کے لیے اگلے قدموں پر کھیلنے کی ضرورت ہے تین سال اپ بیک فٹ پر کھیل چکے اب جارحانہ انداز اپناتے ہوئے تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوا سکتے ہیں یہ بھی اپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے کرکٹ کا منصور اختر بننا ہے یا عوام کا حقیقی نمائندہ بننے کو ترجیح دیں گے اور آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ اگر کچھ نہ کر سکے تو تاریخ بڑی ظالم بھی ہوتی ہے آپ تو اپنے حلقہ انتخاب میں واپس چلے جائیں گے اور عمران خان اپ کو وزیر اعلی پنجاب نامزد کرنے کی وجوہات بتاتے رہیں گے کہ اپ شریف آدمی تھے عثمان بزدار کے گھر بجلی کا میٹر تک نہیں لگا تھا۔

Facebook Comments HS