کاش خطیب حسین بھی ایسا سوچ لیتا


ناسازی طبیعت کی وجہ سے آج میں یونیورسٹی نہ جا سکا، شام کو ریحان کا فون آیا جو کہ میرا کلاس فیلو ہے، فون اٹھاتے ہی ریحان کی آواز سنائی دی، خطیب یار غضب ہو گیا آج اپنے انگریزی کے سر نے آج مذہب کے بارے میں بہت مغلظات بکی ہیں، ان کے عجیب و غریب عقائد ہیں، وہ شخص توہین مذہب کا مرتکب ہوا ہے اور اس کے علاوہ وہ جامعہ میں مخلوط پارٹی، گانے اور ڈانس کے حق میں بھی ہیں میری نظر میں اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، ریحان نے اپنی بات ختم کی۔

یہ سنتے ہی میرا خون کھول اٹھا اور سر خالد کے حوالے سے میرے ذہن میں ایک فلم چل پڑی۔

سر خالد کی ہی وجہ سے ابھی تک میں ڈگری مکمل نہ کر پایا تھا، گزشتہ سمیسٹر میں میری حاضری پوری نہ ہونی کی بنا پر سر خالد نے مجھے فائنل پیپر میں بیٹھنے کی اجازت نہ دی تھی اور وہ مضمون میں اس دفعہ دوبارہ پڑھ رہا تھا، میرے باقی سب دوست ڈگری مکمل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھ چکے تھے لیکن میں صرف سر خالد کی وجہ سے ابھی تک ڈگری مکمل نہ کر پایا تھا جس کا مجھے شدید دکھ اور غصہ تھا۔

میں بس موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی طرح سر خالد سے بدلہ لے کر اپنے اندر لگی آگ کو ٹھنڈا کر سکوں، جو کہ مجھے مل چکا تھا۔

جو شخص میرے مذہب کی توہین کرے میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا، میں سر خالد کو ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کر چکا تھا، میں اپنا پستول اٹھانے کے لیے مخصوص دراز کی جانب بڑھا تو میرے نظر الماری میں رکھے قرآن پاک پڑھی، میں نے سوچا کیوں نہ قرآن سے پوچھا جائے کہ اگر کوئی شخص توہین مذہب کرے تو اس کا کیا کرنا چاہیے تو میرے نظر پارہ نمبر۔ کی سورہ : المائدہ کی آیت نمبر۔ پر پڑی جس سے مجھے پتہ چلا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جو شخص کسی کی جان بچا لے، تو یہ ایسا ہے، جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔

اسکے ساتھ ہی میری نظر حدیث مبارکہ کی کتاب میں موجود ایک حدیث پر پڑی جس میں حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ:

اللہ کے نزدیک ساری دنیا کا ختم ہو جانا ایک مسلمان کے قتل کے مقابلے میں معمولی چیز ہے۔
(مشکوٰۃ، کتاب القصاص، الفصل الثانی، ج 3، ص 291، بشری)

یہ سب پڑھ کر میں عجیب تذبذب کا شکار ہو گیا، کیا میرا رب، میرا رسول اور میرا دین مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں ایک شخص کو قتل کر دوں؟ کیا میں نے ریحان کی بات کی تصدیق کی ہے؟ اگر سر خالد نے واقعی توہین مذہب کی تو کیا مجھ ایک عام شہری کو یہ اختیار پہنچتا ہے کہ میں اپنی عدالت لگا کر اس کو قتل کر دوں؟ میرے سوالات میرے ذہن میں ہتھوڑے کی طرح برسنے لگے اور پھر ان سوالات کے جوابات کے لیے میں اپنے علاقے کے مفتی صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا کہ اسلام کا پیغام ہے امن اور بھائی چارہ، قتل و غارت اور خون ریزی ہمارے دین کا حصہ نہیں اگر کوئی شخص توہین مذہب کرتا بھی ہے تو بھی ایک عام شہری کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے قتل کر دے، اس کے لیے آئین پاکستان میں قوانین موجود ہیں اور آئینی ادارے موجود ہیں، ایک عام شہری کو حق نہیں کہ وہ قانون ہاتھ میں لے۔

قانونی نقطہ نظر جاننے کے لیے میں ایک وکیل صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ہر شہری کا ریاست کے ساتھ ایک معاہدہ ہے جس کی رو سے ریاست تمام شہریوں کے جان مال اور عزت کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور جب کوئی شخص اپنی عدالت لگا کر کسی کو قتل کر دیتا ہے تو وہ ریاست کی رٹ کو للکارتا ہے جو کہ صریح غیر قانونی اور قابل سزا ہے۔ توہین مذہب پر باقاعدہ قوانین موجود ہیں اگر کوئی آدمی مرتکب ہوتا ہے تو عدالت اس کا فیصلہ کرے گی ناں کہ ایک عام شخص۔

وکیل صاحب نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے تمام پیرامیٹرز طے کر دیے ہیں اور انہوں نے یہ ہولڈ کیا ہے کہ کسی شخص کو اختیار نہیں کہ وہ قانون ہاتھ میں لے، یہ نہ صرف قانون بلکہ دین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

کیا سر خالد واجب القتل ہیں؟ بالکل نہیں مجھے جواب مل چکا تھا، قرآن و سنت، مفتی صاحب اور ماہر قانون کے جوابات سے میرے دل کو تسلی ہوئی اور مجھے یہ احساس ہوا کہ واقعی مجھے یا کسی بھی عام شہری کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ سر خالد یہ کسی بھی ایسے شخص کا قتل کرے، میں نے اللہ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگی اور ریحان کو فون ملانے لگا۔

اہم نوٹ:

یہ واقعہ 20 مارچ 2019 کو بہاولپور کے گورمنٹ صادق ایجرٹن کالج میں پیش آیا تھا جہاں خطیب حسین نامی طالب علم نے اپنے انگریزی کے پروفیسر خالد حمید کو مذہب کے نام پر قتل کر دیا تھا، کاش کہ وہ طالبعلم یہ تمام کام کر لیتا جو کہانی میں بیان کیے گئے ہیں تو ایک استاد کی جان بچ جاتی)۔

Facebook Comments HS