طویل مدتی پالیسی اور مہنگائی
ہر دور میں انسان کو اگر کسی چیز کی فکر اور ضرورت رہی ہے تو وہ ہے، روٹی کپڑا اور مکان، کیونکہ یہ وہ بنیادی ضروریات ہیں جو انسان کی بقاء کے لئے لازمی ہیں اور بہتر زندگی گزارنے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ اگر کسی بھی انسان کو یہ بنیادی سہولیات اور اشیاء میسر نہیں تو وہ خوشحال زندگی کا خواب پورا نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی تاریخ کے مختلف سیاسی اور حکومتی ادوار میں مہنگائی ہمیشہ سے اہم ترین مسائل میں شامل رہی ہے، جبکہ عوام افراط زر کے خلاف بہت سے مظاہرے کرتے رہے، ریلیاں نکالی گئی، جلسے جلوس ہوئے اور جواب میں حکومتی قائدین اور مخالف پارٹیاں ایک دوسرے پر بدعنوانی، ظلم، بد نیتی، نا اہلی اور عوام دشمنی کے الزام لگاتے رہے۔
جس دن سے پاکستان تحریک انصاف نے ملک کا اقتدار سنبھالا ہے، اس پر عزم حکومت نے لانگ ٹرم پالیسی کے حوالے سے لا تعداد ترقیاتی اقدامات اٹھائے ہیں اور موثر انداز میں کام کیا ہے، مثلاً 1970 کی دہائی کے بعد اب پہلی بار پاکستان میں بڑے ڈیمز بنائے جا رہے ہیں، مفلس ترین طبقات کے لئے پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں اور انہیں مفت مکان بھی فراہم کیے جا رہے ہیں، اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار مستقبل کے لئے بلین ٹری سونامی جیسا بہترین منصوبہ نہایت شفافیت اور کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اس کے علاوہ عوامی سطح پر تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پر بھی اہم سنگ میل عبور کیے جا چکے ہیں۔
البتہ، موجودہ حکومت کی شارٹ ٹرم پالیسی، فوری طور پر معاشی استحکام، یا مہنگائی کو کم کرنے میں اب تک ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جس کے باعث، ملک کے نچلے طبقات میں محنت کش گھرانوں کو ؛ خوراک اور صحت کے حوالے سے کوئی ریلیف نہیں مل پایا۔ موجودہ حکومت کے آتے ہیں، عالمی وبا کووڈ۔ 19 نے بھی پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک میں اقتصادی تباہی پھیلا دی، جس کے مہلک اثرات نے پاکستانی معاشرے کے ہر سماجی اور صنعتی شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لہٰذا، ترقی اور خوشحالی کا سفر بھی فی الحال رک سا گیا ہے۔
1970 کی دہائی کے بعد ، پاکستان میں بڑے ڈیمز کی تعمیر پر کسی بھی حکومت نے کوئی نمایاں کام نہیں کیا۔ ڈیمز وہ منصوبے ہوتے ہیں، جو پاکستان جیسے زرعی ممالک کے لئے آب حیات کا درجہ رکھتے ہیں اور عوام کے روشن مستقبل کی ضمانت دیتے ہیں۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق، اگر مزید بڑے ڈیمز کی تعمیر جلد مکمل نہ کی گئی، تو سنۂ 2025 کے بعد پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا۔ لہٰذا، اس خدشہ کو دور کرنے کے لئے، موجودہ حکومت نے فوری طور پر بڑے ڈیمز کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے، جس تیزی کے ساتھ ڈیمز پر کام جاری ہے، تو امید ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم 2028 میں مکمل ہو جائے گا جب کہ مہمند ڈیم کی تکمیل 2025 تک جائے گی۔ اگر یہ ڈیمز اپنے وقت پر تیار ہو گئے تو یہ پی ٹی آئی حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہو گا۔
اس کے علاوہ، بے گھر افراد کے لئے ہر شہر میں لاکھوں مکانات کی تعمیر اور مفت تقسیم کا منصوبہ بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شروع کیا گیا ہے۔ رہائشی سہولت ہر خاندان کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے، چاہے امیر ہو یا غریب۔ یہ ایک ایسا شاندار منصوبہ ہے، جو ہر نادار گھرانے کی زندگی کو بدل کر رکھ دے گا، ۔ حکومت نے اپنی منشور میں 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا، البتہ، موجودہ معاشی صورتحال میں ان 50 لاکھ گھروں کی تعمیر ایک انتہائی دشوار ہدف ہے۔
لیکن اگر یہ حکومت 15 سے 20 لاکھ گھر بھی بنا لے، تو اسے بڑی کامیابی قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ پاکستان میں کسی بھی حکومت کا منشور اتنا غریب پرور نہیں رہا، جو نچلے طبقات کے معیار زندگی پر اتنی بڑی سرمایہ کاری کرچکی ہو۔ ایسے دعوے اور وعدے، ہر حکومت محض الیکشن سے پہلے کرتی رہی ہے، مگر الیکشن میں ووٹ لینے کے بعد انہیں بھول جایا کرتی تھی۔
اس کے علاوہ بلین ٹری سونامی بھی ایک ایسا پروجیکٹ ہے جو ایک صحت مند اور خوشحال مستقبل کی ضمانت دیتا ہے، کیونکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ماحولیاتی تباہی اور آلودگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان نے میاواکی جنگل کا بھی افتتاح کیا تھا جو کہ مستقبل میں دنیا کا سب سے بڑا جنگل ثابت ہو سکتا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت پورے پاکستان میں بلین ٹری سونامی کے ذریعے دس ارب سے زائد درخت لگا رہی ہے۔
عالمی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے بھی پاکستان کی کارکردگی کی تعریف کی ہے، کیونکہ اس سے قبل، چھوٹے پیمانے پر ”بلین ٹری سونامی“ منصوبے میں پاکستان شاندار کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں شجر کاری کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے عوام کو با عزت روز گار کے مواقع بھی مل رہے ہیں۔ 3 سالوں میں حکومت نے مختلف شہروں میں شجر کاری اور آگاہی مہمات کے ذریعے عوام کو اس جانب مائل کیا کہ؛ شجر کاری کیسے کی جاتی ہے، یہ کیوں ضروری ہے اور اس کے کیا کیا فوائد ہیں۔
حالیہ مہینوں میں میڈیا پر جو سب سے بڑی بحث چل رہی ہے، وہ الیکڑانک ووٹنگ کے حوالے سے ہے، حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے الیکشن کروانا چاہ رہی ہے۔ حکومت اس جدید مشین کی کارکردگی پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہی ہے، البتہ، اپوزیشن اس مشین کو ناکام اور مشکوک قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے بضد ہے کہ؛ اس سے ووٹر کی رازداری نمایاں ہو جائے گی۔ حالانکہ، حکومت اس حوالے سے ہر اعتراض کا جواب دے چکی ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی الیکٹرانک ووٹنگ پر 37 اعتراضات اٹھائے تھے اور ابھی تک گو مگو کا شکار ہے کہ الیکشن کس طریقے سے کروائے جائیں۔
اس معاملے پر بات چیت ابھی جاری ہے، آنے والے دنوں میں پتا چل جائے گا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اگر حکومت، اپوزیشن اور الیکشن کمیشن، تینوں فریقین کا الیکٹرانک ووٹنگ اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ووٹنگ کے حق پر اتفاق ہو جاتا ہے، تو یہ اس حکومت کی ایک اور بڑی کامیابی ہو گی، جو کہ آنے والے الیکشن کو کافی حد تک فری اینڈ فیئر بنا سکے گی۔ کیونکہ ماضی کے ہر الیکشن کی شفافیت پر اعتراض ہی ہوتا رہا ہے۔
اس وقت پی ٹی آئی حکومت کو جس شعبے میں سب سے زیادہ مشکلات درپیش ہیں وہ مہنگائی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ؛ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ کووڈ 19 کی وبا بھی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ؛ گزشتہ حکومتوں کے دوران بھی مہنگائی ہوتی رہی مگر اتنی بھی نہیں جو گزشتہ کچھ مہینوں سے ہو رہی ہے۔ غیر معمولی بین الاقوامی حالات کے باوجود، پی ٹی آئی نے بہت سی مثبت تبدیلیاں اور معاشی بہتری کو ممکن بنایا ہے، مگر اس کے باوجود، بنیادی اشیاء اور سودا سلف کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مثلاً آٹا، دالیں، چینی، گھی، چاول، پٹرول وقتاً فوقتاً مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کئی بار ایکشن لیا مگر اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو سکا، کو نکہ کچھ مافیاز مہنگائی کو کم نہیں ہونے دے رہے اور چند وزیروں کی نا اہلی بھی ظاہر ہوئی ہے۔
میری رائے میں موجودہ حکومت کو سب سے پہلے مہنگائی کو کنٹرول کرنا چاہیے، کیونکہ اگلے الیکشن میں نتائج کا دار و مدار موجودہ مہنگائی پر ہو گا۔ خان صاحب، آپ کو مہنگائی پر قابو پانا ہو گا، آپ کی نیت یقیناً صاف ہے، مگر جب غریب آدمی آٹا، چاول، چینی، دال وغیرہ کی قیمتیں دیکھتا ہے، تو وہ آپ کے ڈیم، بلین ٹری سونامی یا مفت مکانات سمیت، پی ٹی آئی کے تمام اچھے کاموں کو بھول کر ، اپنا پیٹ بھرنے کے لئے فکر مند ہو جاتا ہے۔
حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کو ہی لیجیے، ان انتخابات میں حکومت نے زیادہ سیٹیں تو جیت لیں، مگر واضح برتری حاصل نہیں کر سکی۔ آزاد امیدواروں نے حکومتی اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دیا، آزاد امیدواروں کا جیتنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس وقتی ناکامی کی بڑی وجہ، حالیہ مہنگائی ہے، اس مہنگائی میں زیادہ حصہ گزشتہ حکومتوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے بھی ہے، مگر جو حکومت 3 سال سے زیادہ کا عرصہ حکومت کر لے، اس پر بھی الزام آتا ہے۔ کوئی حکومت اگر صحیح فیصلے نہ کر رہی ہو تو اپوزیشن کو حق ہوتا ہے کہ، حکومت کو تنقید، جلسے جلوس اور ترقیاتی تجاویز دے۔ مگر پاکستان میں سزا یافتہ اپوزیشن کی ماضی کی نا اہلی ظاہر ہو رہی ہے، کیونکہ اپوزیشن کے متعدد رہنماؤں پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں جو کہ گزشتہ حکومتوں کے دوران لگائے گئے تھے۔


