ملالہ کے شوہر عصر ملک کون ہیں؟


ملالہ نے منگل کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے شوہر عصر ملک کا کرکٹ سے گہرا تعلق ہے۔

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی کرکٹ میں دلچسپی سے تو اکثر لوگ واقف ہیں۔ وہ اپنے متعدد انٹرویوز میں اظہار کر چکی ہیں کہ انہیں کرکٹ سے کتنا لگاؤ ہے۔

ملالہ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا اعلان کیا اور اپنے نکاح کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ ملالہ کے شوہر عصر ملک کا بھی کرکٹ سے گہرا تعلق ہے۔

عصر ملک پاکستان کے شہر لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور کے ایچیسن کالج سے حاصل کی تھی۔ بعدازاں انہوں نے 2012 میں لاہور یونی ورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) سے اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔

عصر ملک کی لنکڈ ان پروفائل کے مطابق وہ کھیلوں میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں جنرل مینیجر کے عہدے پر فائز ہیں۔

عصر ملک نے 2005 میں لاسٹ مین اسٹینڈز (ایل ایم ایس) کے نام سے ایک کرکٹ لیگ کی بھی بنیاد رکھی تھی اور وہ اس لیگ کے شریک بانی ہیں۔ عصر ملک پاکستان سپر لیگ (پی ایس یل) کی فرنچائز ملتان سلطانز کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

شادی سے قبل عصر ملک کو ملالہ یوسف زئی کے ساتھ متعدد بار دیکھا گیا ہے۔

عصر ملک نے ماضی میں ملالہ کے ساتھ کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک سیلفی بھی شیئر کی تھی جس میں ان کے ساتھ پاکستان کے سابق اسپنر ثقلین مشتاق بھی موجود تھے۔

https://www.instagram.com/p/BzLjc_pHH_J/?utm_source=ig_embed&ig_rid=d6b04ae0-fa99-4885-b250-a14c6d2b70d4

رواں برس عصر ملک نے ملالہ کو سالگرہ کی مبارک باد دیتے ہوئے ان کے ساتھ تصویر بھی شیئر کی تھی۔

واضح رہے کہ ملالہ چند ماہ قبل شادی سے متعلق ہی ایک تنازع میں اس وقت گھر گئی تھیں جب انہوں نے ایک برطانوی جریدے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ آپ کی زندگی میں کوئی فرد آئے تو اس سے شادی کرنا کیوں ضروری ہے؟ صرف پارٹنر شپ کیوں نہیں کی جاسکتی۔

ملالہ کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ ایسی بات کہنے کی جرات بھی مت کرنا۔ تمہیں شادی کرنی ہو گی، شادی خوب صورت رشتہ ہے۔

ملالہ کے اس انٹرویو پر سوشل میڈیا پر خوب تنقید ہوئی تھی جس کے بعد ان کے والد ضیاءالدین یوسف زئی نے کہا تھا کہ ملالہ کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

Facebook Comments HS

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3333 posts and counting.See all posts by voa