سقراط کی موت اور سچ کی حیات جاوید
سقراط پر یونان کی ریاست نے دو الزام لگائے۔ پہلا الزام یہ تھا کہ وہ یونان کے خداؤں کو نہیں مانتا اور دوسرا الزام یہ تھا کہ وہ نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے۔ سقراط کو یونان کی عدالت نے سزائے موت دی اور حکم دیا کہ وہ زہر کا پیالہ پیے۔ زہر کا پیالہ پینے سے پہلے سقراط کوایک ماہ جیل میں رکھا گیا۔ سقراط کے آخری دنوں کے بارے میں افلاطون نے ایک ڈرامہ۔ کر ٹو۔ لکھا جو سقراط کے قریبی دوست کا نام تھا۔ میں اس کالم میں اس ڈرامے کی تلخیص اور ترجمہ پیش کرتا ہوں۔
(نوٹ۔ اس ڈرامے کا پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات سے کوئی تعلق نہ سمجھا جائے )
۔ ۔
سقراط جیل کی کوٹھڑی میں سو رہا تھا۔ وہ صبح سویرے جاگتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کے سرہانے اس کا پرانا دوست کر ٹو بیٹھا ہوا ہے۔
سقراط: تم بہت جلدی آ گئے۔ کیا وقت ہوا ہے؟
کرٹو: صبح صادق سے پہلے کا وقت ہے۔
سقراط: تم ابھی ابھی آئے ہو یا کافی دیر سے انتظار کر رہے ہو۔
کرٹو: مجھے آئے کافی دیر ہو گئی ہے۔
سقراط: تو تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟
کرٹو: میں تمہیں نیند سے جگانے کی کیسے جسارت کر سکتا ہوں۔ میں تو خود بے خوابی کا شکار رہتا ہوں۔ تم اتنے سکون سے سوتے ہو کہ مجھے تم پر رشک آتا ہے۔ مجھے تمہاری پرسکون نیند پر ہی نہیں پرسکون زندگی پر بھی رشک آتا ہے۔ تم کتنے ناگفتہ بہہ حالات سے گزر رہے ہو اور پھر بھی پریشان نہیں ہو۔ تم کتنے تحمل سے زندگی کی دشواریاں برداشت کرتے ہو۔
سقراط: جب کوئی انسان میری عمر تک زندہ پہنچ جائے تو اسے موت سے نہیں گھبرانا چاہیے۔
کرٹو: میں تمہارے بہت سے ہم عمروں کو جانتا ہوں جو موت سے بہت گھبراتے ہیں۔
سقراط: ان باتوں کو چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ تم اتنی جلدی مجھ سے ملنے جیل میں کیوں آئے؟
کرٹو: میں ایک بری خبر لے کر آیا ہوں۔ ہو سکتا ہے تمہارے لیے وہ بری نہ ہو لیکن تمہارے سب چاہنے والوں کے لیے اور خاص طور پر میرے لیے وہ بری خبر ہے۔
سقراط: کیا ساحل پر وہ جہاز آ لگا ہے؟
کرٹو: وہ ابھی آیا تو نہیں لیکن آج پہنچنے والا ہے اور اگر آج آ گیا تو پھر تمہیں کل زہر کا پیالہ پینا ہو گا۔
سقراط: میں نے ایک خواب دیکھا ہے تمہارے آنے سے ذرا پہلے۔ چلو اچھا ہوا کہ تم نے جگایا نہیں۔
کرٹو: تم نے کیا خواب دیکھا؟
سقراط: میں نے خواب میں سفید کپڑوں میں ملبوس ایک خوبصورت دوشیزہ دیکھی اس نے کہا سب اچھا ہو گا۔
کرٹو: سقراط تمہارا خواب بے معنی ہے
سقراط: میری نگاہ میں تو بامعنی ہے۔
کرٹو: تم میری مانو اور میرے مشورے پر عمل کرو اور میرے ساتھ اس قید سے فرار ہو جاؤ۔ میں نے فرار ہونے کے سب انتظامات کر لیے ہیں۔
اگر تم نے زہر کا پیالہ پی لیا تو نہ صرف میں ایک عزیز دوست سے محروم ہو جاؤں گا بلکہ بہت سے لوگ مجھ پر یہ الزام بھی دھریں گے کہ میں نے دولت بچانے کی خاطر تمہاری مدد نہ کی۔ کوئی بھی یہ یقین نہیں کرے گا کہ میں نے
تمہیں فرار کا مشورہ دیا اور تم نے میرے مشورے پر عمل نہ کیا۔
سقراط: میرے عزیز کر ٹو۔ تمہیں اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ جو لوگ سمجھدار ہوتے ہیں وہ حقائق کو قبول کر لیتے ہیں اور جو سادہ لوح ہوتے ہیں وہ افواہوں پر یقین کر لیتے ہیں۔
کرٹو: ہمیں عوام کی رائے کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ تمہارا موجودہ المیہ اس بات کا گواہ ہے کہ عوام الناس کتنی تباہی پھیلا سکتے ہیں۔
سقراط: اگر عوام برے کام کر سکتے ہیں وہ اچھے کام بھی کر سکتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ عوام سوچ سمجھ کر نہ اچھے کام کرتے ہیں نہ برے کام۔ وہ تو اکثر اوقات بغیر سوچے سمجھے جذباتی فیصلے کرتے رہتے ہیں۔
کرٹو: اگر تم یہ سوچ کر میرے ساتھ فرار نہیں ہو رہے کہ میں اس کے لیے بڑی رقم خرچ کر رہا ہوں تو اس کی پرواہ مت کرو۔ میں یہ سب کام خوشی سے کر رہا ہوں تا کہ میرا دانشور دوست اپنی جان بچا سکے۔
سقراط: میں نے تمہارے مشورے پر غور کیا ہے لیکن میں اپنے موقف پر قائم ہوں۔ میں یہاں سے فرار نہیں ہونا چاہتا۔
کرٹو: میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ چند لوگ مناسب دام لے کر تمہیں یہاں سے خفیہ طور پر لے جا سکتے ہیں۔ سقراط! میری بات غور سے سنو۔ اگر تم جان بچا سکنے کے باوجود نہ بچاؤ گے تو یہ کوئی دانائی کا کام نہیں ہو گا۔ کیا تم جانتے ہو کہ زہر کا پیالہ پی کر تم اپنے بیٹوں کو ان کے باپ کے سائے سے محروم کر دو گے۔ تمہارے بغیر وہ یتیم ہو جائیں گے۔ سقراط! کیا تم نہیں سمجھتے کہ یا تو انسان کو بچے پیدا ہی نہیں کرنے چاہییں اور اگر وہ پیدا کرے تو ان کی ساری عمر ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ تم اپنی ذمہ داری سے کوتاہی برت رہے ہو۔ اگر تم موت کو گلے لگاؤ گے تو میں تمہیں بزدل سمجھوں گا جس نے ذمہ داری کی زندگی سے فرار کی راہ اپنائی۔
اب بھی وقت ہے اپنا فیصلہ بدل لو۔ میرا مشورہ مانو۔ یہاں سے فرار ہو جاؤ اور موت کی بجائے زندگی کو گلے لگاؤ۔
سقراط: مجھے تمہارے نیک جذبات اور خیالات کا احساس ہے لیکن میں کسی بھی دوست کا کوئی بھی مشورہ قبول نہیں کر سکتا جب تک وہ مجھے قائل نہ کر لے۔ میں اپنے اصولوں سے روگردانی نہیں کر سکتا۔ میں یا تو با اصول زندگی گزارنا چاہتا ہوں اور یا مر جانا چاہتا ہوں۔ کر ٹو! یہ بتاؤ کیا انسان کو با اصول زندگی نہیں گزارنی چاہیے؟
کرٹو: ضرور گزارنی چاہیے۔
سقراط: اسی لیے مجھے فرار نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ برا سلوک کرے تو کیا اسے بھی جواب میں برا سلوک کرنا چاہیے؟
کرٹو: نہیں ہرگز نہیں
سقراط: کیا ہمیں ریاست کے قوانین کی پابندی نہیں کرنی چاہیے؟
کرٹو: ضرور کرنی چاہیے
سقراط: ریاست کی عدالت نے میرے خلاف فیصلہ سنایا ہے اور میرے مرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اگر میں اس فیصلے کو نہیں مانوں گا اور اس پر عمل نہیں کروں گا تو سب کی نظروں میں غدار کہلاؤں گا۔ میں ریاست سے فرار ہونے سے زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دوں گا۔
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں قانون کی پابندی کروں گا اور ریاست کے حکم کے خلاف نہیں جاؤں گا۔ اگر ہم قانون کی تابع فرمانی نہیں کریں گے تو ریاست کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ جو شہری ریاست اور قانون کی تابع فرمانی نہیں کرتے وہ ریاست کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اگر ہمیں کسی قانون یا آئین سے اختلاف ہے تو ہمیں اسے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں ملک سے فرار ہو کر کسی اور ریاست میں رہائش پذیر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ریاست کے بنیادی اصولوں اور شہریوں کے آدرشوں کے خلاف ہے۔ اسی لیے میں تمہارے ساتھ فرار نہیں ہو سکتا۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں کل زہر کا پیالہ پی لوں گا۔
۔ ۔ ۔


