حیات واہیات
انسان دنیا میں حیات مستعار برائے بندگی لے کر آیا مگر اک واضح اکثریت اس حیات انسانی کو ”حیات واہیات“ بنانے کے در پے ہے۔ معاشرہ میں شر کا لفظ موجود ہے جبکہ بشر میں تو شر کا عنصر مزید واضح ہے، بقول شاعر
طالب خیر نہ ہوں گے کبھی انسان سے ہم
نام اس کا ہے بشر اس میں ہے شر دو بٹا تین
قومی و مسلکی سطح پر ہم برہم مزاج ٹھہرے ہیں اور سوائے جذبات کے کچھ نہیں رکھتے۔ نگاہ پست، سخن دلخراش اور جاں بے سوز ہو چلی ہے۔ شمع بجھنے کے ساتھ پروانہ بھی مر کھپا۔ کتاب مبین ایصال ثواب اور مرضی کے دلائل کی کتاب ٹھہری اور مقام بیچ کر مکان پیدا کرنے کی رسم چل نکلی۔ صیاد و باغبان کی ملاقاتیں اپنا مقدر ہیں۔ گل کاغذ مہارتوں سے گلشن میں سجے ہیں اور ہر شاخ پر الو براجمان ہیں۔ پاکی ء داماں کے سر خیل کہہ مکرنیوں کی ڈھال لئے ہیں۔ ریاست کو کوئی یوٹوپیا تو کوئی ڈسٹوپیا ثابت کرنے پہ تلا ہے۔ علما اور قائدین کی شعلہ نوائیاں لوگوں کے سر پھٹنے پر منتج ہیں۔ مذہبی محافل میں غلو کی معراج ہے اور ان میں اب شبیہات اور حوروں کا نزول بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اب تشدد بھی دین کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ کسی نے خوب لکھا ہے
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے کی بو لہبی
تعلیمی اداروں میں سوائے درس و تدریس سب کچھ ہو رہا ہے۔ آبادی کی سونامی ام المسائل ہے مگر بقول یوسفی اپنے کرتوتوں کو بزرگوں کی دعا اور فضل ربی سمجھا جاتا ہے۔ پھر تبدیلی نے ناکوں چنے چبوا کر ارمان ہی ٹھنڈے کر دیے ہیں۔ تازہ ہوا کے شوق میں اتنے در بنا لیتے ہیں کہ دیوار ہی گرنے لگتی ہے۔ ایسے میں آسمان کی بلندیوں میں براجمان لوگ زمین کے مسائل کیونکر جانیں؟ با اختیار جوابدہ نہیں اور جوابدہ با اختیار نہیں۔
صفائی نصف ایمان ہے، یوں آدھا ایمان تو ہاتھوں سے جاتا رہا اور باقی بھی ریا کاری و رعونت کی بھینٹ جا چڑھا۔ اب لوگوں کا مطالبہ بجا ہو گا کہ ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے دور میں لئے قرضے خود واپس کرے۔ نیز تاریخ کے ساتھ انصاف ہو گا کہ ان جماعتوں کو بالترتیب کشکول، پاپوش، کیوی و چیری شو پالش، پٹرول پمپ جیسے انتخابی نشانوں سے نوازا جائے۔ اب شہروں کے نام اسمائے با مسمیٰ ہونا بھی لازم ہیں کہ انہیں ٹیکس لاء، لیا ہور، این آر او وال، کماء لیا، پاپوش نگر، صدقہ آباد اور ڈیرہ قاضی خان سے منسوب کیا جائے۔ ہر طرف شر پرستی، کار شر اور ذکر شر ہے۔ مستزاد ایسی جہالت کہ توہین جہالت بھی شرما جائے۔ جہاں مذہب، سیاست اور معاشرت میں رواداری، وضع داری اور دلیل کا قحط ہو تو اس حیات کا ”حیات واہیات“ ہونا اچنبھے کی بات کہاں اور کیوں؟


