اپنے رشتوں کی قدر کیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رشتے اور مضبوط تعلقات خدا کی بہت بڑی نعمت ہے، اور زندگی کا وہ سرمایہ ہے جس سے بڑھ کر اور کسی چیز کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ قریبی اور گہرے تعلقات میں خلوص اور محبت شامل ہوتا ہے، جو ایک دوسرے کے قریب کھینچ لاتا ہے۔ یہ رشتے ہماری زندگی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں، اور ان رشتوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ان رشتوں کے بغیر زندگی ویران اور بے رونق ہو جاتی ہے۔

آج کے اس پر آشوب دور میں ہم سب کو ایک دوسرے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، لیکن افراتفری کے اس دور میں رشتوں کا تقدس ختم ہوتا جا رہا ہے، ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں مصروف ہے۔ مادیت پرستی اس حد تک بڑھ گئی ہے، کہ اس کے آگے رشتوں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ رشتے کمزور ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے، کہ ہم انہیں نبھاتے کم اور آزماتے زیادہ ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے شکوہ کناں رہتا ہے، ہم پرانی باتوں اور رنجشوں کو دل و دماغ سے نکالنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، اور ان کا زہر ہمارے حال اور مستقبل کے رشتوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتا ہے۔

رشتہ کوئی بھی برا نہیں ہوتا، لوگ اچھے اور برے ہوتے ہیں، لوگوں کی سوچ اچھی اور بری ہوتی ہے۔ رشتے احساس اور محبت کے ہوتے ہیں۔ جب کسی رشتے میں سچائی اور محبت نہیں ہوتی، تو رشتوں کو نبھانا مشکل ہو جاتا ہے، دلوں میں منافقت ہو تو یہ رشتے جھوٹ اور چالاکیوں کی موت مر جاتے ہیں۔ جب رشتوں میں ضد اور مقابلہ آ جائے تو یہ دونوں جیت جاتے ہیں اور رشتہ ہار جاتا ہے، اس لیے رشتہ بچانے کے لیے اگر جھکنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ کہتے ہیں، ہمیشہ پھلدار شاخ ہی جھکتی ہے، اور اسی میں بڑا پن ہے۔

رشتے احساس کے ہوتے ہیں، اور احساس کے رشتے کسی دستک کے محتاج نہیں ہوتے، یہ تو خوشبو کی طرح ہوتے ہیں جو بند دروازوں سے بھی گزر جاتے ہیں۔ احساس کی عدم موجودگی کی وجہ سے رشتوں میں جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ کبھی بھی پورا نہیں ہو پاتا۔ رشتوں کو نبھانے میں چند باتیں بہت اہم کردار ادا کرتیں ہیں۔ جیسے قوت برداشت، بردباری، مثبت انداز فکر کا ہونا ضروری ہے۔

دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا رشتوں کو مضبوط بناتا ہے، کیونکہ ہر کسی میں خوبیاں اور خامیاں موجود ہوتیں ہیں۔

حسد بغض اور کینہ رشتوں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے، اس لیے دوسرے کی خوشی میں خوش رہنا سیکھیں، اس سے آپ کی اپنی زندگی سہل اور خوشگوار رہے گی۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں میں رشتوں کی قدر اور اہمیت کا احساس۔ پیدا کریں، ننھیال اور ددھیال کا فرق کیے بغیر رشتوں کا احترام سکھائیں۔ رشتے درختوں کی مانند ہوتے ہیں، بعض اوقات ہم اپنی انا کی تسکین کے لیے ان کو کاٹ دیتے ہیں اور گھنے سائے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

رشتہ خون کا ہو، یا دوستی کا ہو، اپنے خلوص اور محبت سے ان کی آبیاری کرتے رہیں، جس طرح ایک پودے کو پانی مٹی اور ہوا کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح رشتوں کو پنپنے کے لئے، مضبوط اور خوشگوار بنانے کے لیے احساس، پیار اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ رشتوں کی گہرائی کا احساس برتاؤ اور رویوں سے ہوتا ہے۔

وقت، دوست اور رشتے انسان کو مفت میں ملتے ہیں، اور ان کی قدر ان کو کھونے کے بعد معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے رشتوں کی قدر کیجئے، جب تک پیڑ سے لگے رہتے ہیں، سر سبز و شاداب رہتے ہیں، اور جب پیڑ سے علیحدہ ہو جاتے ہیں تو اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔ اپنے رشتوں سے جڑے رہیں، کیونکہ انہی رشتوں کی محبت، خلوص اور چاشنی میں زندگی کی بقا ہے، زندگی خوشگوار ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments