جاتے دسمبر کا وہ دن

آج نیا سال شروع ہوئے کئی دن ہو چکے ہیں، لیکن میرا دل سخت بے سکون ہے، یوں لگتا ہے کہ جاتے دسمبر کا وہ دن اپنے ساتھ بہت کچھ بہا کر لے گیا ہے، سترہ دسمبر کا وہ دن میں کیسے بھول سکتی ہوں، جب میں نے وہ منحوس میسج اپنے فون پر پڑھا تھا میرے ہاتھوں میں یہ جملہ لکھنے کی سکت نہیں ہو رہی کہ سارہ اب اس دنیا میں نہیں رہی، میں نے فوراً فون بند

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب پر تبصرہ

اس سال مارچ میں جب کینیڈا گئی، تو ڈاکٹر خالد سہیل صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، اور وہ اتنے خلوص اور پیار کے ساتھ ملے، کہ احساس تک نہ ہوا میں ان سے پہلی دفعہ مل رہی ہوں۔ بے شک خلوص اور عاجزی دلوں کو فتح کر لیتی ہے۔ ان سے گفتگو کے دوران احساس ہوا، کہ ایک مایہ ناز سائیکاٹرسٹ اور ماہر علم ہونے کے باوجود ان میں عاجزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ان

Read more

اور ہم نے بچوں کے ساتھ زندگی کو جیا!

ہم لوگ ابھی امیگریشن سے فارغ ہو کر بورڈنگ پاس پر دیے گئے گیٹ کے سا منے آ کر بیٹھے تھے، گو کہ سارا طریقہ کار کافی تھکا دینے والا ہوتا ہے، لیکن چونکہ ہم کافی جلدی ائرپورٹ پہنچ گئے تھے تو رش ہونے سے پہلے پہلے فارغ ہو کر اب سکون سے لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ہی بچوں کی ویڈیو کال آ گئی، ان کے چہرے بھی خوشی سے تمتما رہے تھے، اور

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل: ایک انسان دوست سے ملاقات

میں اور میرے شوہر احمد تقریباً ساڑھے چار بجے گھر سے نکلے تھے اور جس ایڈریس پر ہم نے جانا تھا، اس پر پہنچنے کا وقت انٹرنیٹ پر پینتالیس منٹ آ رہا تھا۔ رش کا وقت بھی شروع ہو چکا تھا، کہ جب ہر کوئی کام سے فارغ ہو کر اپنے گھر جلد از جلد پہنچے کی کوشش میں ہوتا ہے، اس ہائی وے پر ٹریفک لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی، اور میری بے چینی میں مزید اضافہ

Read more

امید اور یقین ایک روشن چراغ

امید ایک رجائیت پسندانہ دماغ کی کیفیت ہے، جو مثبت امکانات کی توقع پر ٹکی ہوتی ہے۔ یہ اعتماد کے ساتھ توقع کا نام ہے۔ انسان کی زندگی کبھی بھی امید کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ انسانی زندگی کا ہر عمل کسی امید اور نتیجہ خیزی کی توقع کے ذریعے ہی انجام پاتا ہے، اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش امید ہی کا دوسرا نام ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں امیدوں کی ایک دھند ہے، اور کچھ

Read more

مری سانحہ کا ذمہ دار کون?

آج سارا دن سوشل میڈیا پر دل دہلا دینے والی خبریں چلتی رہیں اور ابھی تک چل رہی ہیں۔ مری میں ہونے والے المناک حادثے پر ہر کوئی غمزدہ ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے۔ اس انہونی پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ ساری فوم متاثرہ خاندانوں کے غم میں شریک ہے اور دعا گو ہے، کہ رب کائنات ان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور جانے والوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے آمین۔ کون جانتا تھا

Read more

اپنے رشتوں کی قدر کیجئے

رشتے اور مضبوط تعلقات خدا کی بہت بڑی نعمت ہے، اور زندگی کا وہ سرمایہ ہے جس سے بڑھ کر اور کسی چیز کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ قریبی اور گہرے تعلقات میں خلوص اور محبت شامل ہوتا ہے، جو ایک دوسرے کے قریب کھینچ لاتا ہے۔ یہ رشتے ہماری زندگی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں، اور ان رشتوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ان رشتوں کے بغیر زندگی ویران اور بے رونق ہو جاتی ہے۔

Read more

توہم پرستی – ایک پیر بابے کی کہانی

مجھے یاد ہے کہ یونیورسٹی میں ہم نے اس موضوع پر ریسرچ کی تھی۔ کہ پیری مریدی کی طرف طلبہ اور طالبات کا کیا رجحان ہے؟ تقریباً ستر فیصد لڑکوں نے اس کو بالکل فضول کہا جب کہ تیس فیصد لڑکوں نے کہا ہم تو زیادہ یقین نہیں رکھتے لیکن ہمارے گھر والے بہت یقین رکھتے ہیں۔ دوسری طرف اسی فیصد لڑکیاں اس کی حامی تھیں۔ اسی ریسرچ کے دوران ہم نے سوچا، کہ ایسے کسی پیر بابے کے پاس جا کے دیکھنا چاہیے، آخر پتہ تو چلے کہ وہاں کیا ماحول ہوتا ہے اور کیسے یہ پیر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور اپنے تابع کر لیتے ہیں اور انہیں جو بھی عمل کرنے کو کہتے ہیں وہ پورے یقین کے ساتھ اس پر اعتقاد رکھتے ہوئے اس عمل کو بجا لاتے ہیں۔

Read more

مکان یاد کیا کرتے ہیں مکینوں کو

دھیان کا پرندہ نہ جانے کون سے آسماں پر پرواز کر رہا تھا کہ میں بالکل بھول گئی تھی، کہ میرے سامنے ڈائری کا جو صفحہ کھلا پڑا ہے اس پر کیا لکھا ہے۔ بس نظروں کے سامنے ماں کا شفیق چہرہ پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ پیاری امی جان آپ سولہ اکتوبر 2015 تین محرم کو اس دارفانی سے کوچ کر گئی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، میں اپنے سنٹر میں بریک کے دوران اپنے

Read more

ہم جس دیس کے باسی ہیں

آج فون پر بیٹے سے بات کر رہی تھی، تو پاکستان کے حالات حاضرہ پر بات ہونے لگی، بیٹے نے بات کرتے کرتے اچانک کہا، اماں پاکستان کی ہر روز دل دہلانے والی خبروں کے مطابق میرا خیال ہے کہ اس ملک میں کوئی عورت محفوظ نہیں، ہم اپنے بچپن سے اس طرح کی خبریں پڑھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں لیکن آج تک ان میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس قدر لاقانونیت ہے کہ

Read more

نوید شہزاد آپ کا دکھ بہت بڑا ہے

نوید شہزاد کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ وہ ایک بہترین اداکارہ، رائٹر اور بہترین استاد ہیں۔ وہ ایک بردبار شخصیت رکھتی ہیں۔ بہت متانت، اور نرم لہجے میں گفتگو کرتی ہیں، وہ میری پسندیدہ شخصیت ہیں۔ ان کے مرحوم شوہر کاروبار کرتے تھے اور کرکٹ کی کمنٹری بھی کرتے تھے۔ اور دونوں نے پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز پرائیڈ آف پرفارمنس بھی حاصل کیا۔ نوید شہزاد کے بہترین ڈرامے دور جنون، غلام گردش اور حال ہی میں

Read more

میرے باؤ جی

جس زمانے میں انہوں نے زمیندارہ کالج گجرات سے بی اے کیا، اس دور میں کوئی ہزاروں میں سے ایک ہوتا تھا جو بی اے یا ایم اے کرتا تھا۔ میرے والد صاحب بھی ان خوش قسمت لوگوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے معاشی وسائل بہتر نہ ہوتے ہوئے بھی اپنی بے پناہ محنت اور لگن سے بہترین تعلیم حاصل کی۔ ان دنوں ہمارے گاؤں کے آس پاس جتنے بھی گاؤں تھے ان میں والد صاحب واحد بی اے

Read more

آہ یہ عورت

وہ میرے سامنے بیٹھ کر بلک بلک کر رو رہی تھی ایک آنسوؤں کا ریلا تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا، ساتھ ساتھ بولتی بھی جا رہی تھی بلکہ بین کر رہی تھی، وہ میرے سر کا سائیں تھا، میرا سائبان تھا، میرے بچوں کا باپ تھا، ہائے میرے بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ اس کی بیٹیاں بھی سسکیاں لے لے کے رو رہیں تھیں۔ میں ان کو تسلیاں دے رہی تھی، صبر کرو، اللہ بڑا کریم

Read more

مادری زبان یا ماں بولی

دنیا کے کسی بھی کونے یا ملک میں بسنے والے جو بھی زبان بولتے ہیں، اس کو مادری زبان کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کبھی بھی اس کو آبائی زبان یا خاندانی زبان نہیں کہا گیا، ہمیشہ مادری زبان کی ہی اصطلاح استعمال کی گئی۔ جیسے پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، لیکن ہر صوبے کی اپنی زبان ہے۔ صوبہ پنجاب کی پنجابی ہے، لیکن ہر علاقے کا پنجابی بولنے کا اپنا انداز ہے جو یقیناً ماں سے ہی

Read more

نارسائی کا دکھ

فریدہ کوآج ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا، وہ اپنے بھتیجے کی شادی پر آئی تھی۔ اس کا شوہر اور بچے واپس جا چکے تھے، لیکن بھائی کے بے حد اصرار پر وہ کچھ دنوں کے لیے رک گئی تھی۔ ویسے بھی گھر داری کے جھمیلوں سے فرصت کہاں ملتی ہے، اس لئے اس نے بھی سوچا کچھ دن فرصت میں گزار لوں۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد وہ کمرے میں آ کر لیٹ گئی تھی، گھر کی ملازمہ

Read more

مامتا کی سنگدلی یا معاشرتی بے حسی

آج پھر ایک دل کو دہلا دینے والی خبر سنی، ایک سنگدل ماں نے اپنے دو جگر گوشوں کو قتل کر دیا۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا، آئے دن اس طرح کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں، میڈیا پر بار بار بریکنگ نیوز دی جاتی ہے، ہر چینل ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں اس مصیبت زدہ خاندان کے گھر تک جا پہنچتا ہے۔ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ ماں کے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

Read more

پردیس میں مسیحا

وہ تینوں باپ اور دو بیٹے ٹارچ کی روشنی میں ہمیں اونچی نیچی گلیوں میں سے گزار کر اپنے گھر لے جا رہے تھے۔ اور ہم رات کے گھپ اندھیرے میں دس بارہ لوگ بچوں اور سامان اٹھائے ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ اور دل ہی دل میں اپنے رب کائنات کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اس ویرانے میں، جہاں نہ کوئی ہوٹل تھا، نہ کوئی جاننے والا تھا، کس طرح یہ لوگ ہمارے لئے رحمت ایزدی بن کر آ گئے تھے۔

یہ کئی سال پہلے کی بات ہے، جب ہر سال کی طرح گرمیوں کی چھٹیوں میں سیر و تفریح کے لئے شمالی علاقوں میں پہاڑوں پر جانے کا پروگرام بنا، سو اس دفعہ کھنیاں کی خوبصورت وادی، جو کاغان اور پارس کے درمیان دریا کے کنارے واقع ہے، وہاں جانے کا پروگرام بن گیا اور اپنی فیملی کے دس بارہ لوگوں کا یہ قافلہ دو گاڑیوں میں لدا پھدا روانہ ہو گیا۔ تمام سفر بخیر و عافیت ہی کٹ گیا تھا۔ سہ پہر تین بجے کے قریب ہم پارس پہنچ گئے۔

Read more

کرکٹ کے دیوانے عوام

ٹی وی کی سکرین پر بریکنگ نیوز آ رہی تھی کہ عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پی ایس ایل نے کورونا کو شکست دے دی۔ ہم جو اپنی سوچوں میں مگن تھے، ایک دم ذہن میں خیال آیا، شاید پاکستان نے کوئی نئی ویکسین بنا لی ہے، بھئی یہ تو کمال ہو گیا ہے جس کی وجہ سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ ہر وقت ٹی وی پر ایک ہی رونا دھونا ہوتا ہے۔

Read more

سال نو کی آمد پر گاؤں کی سیر

سال نو کی آمد کے ساتھ ہی ہم سب بہن بھائیوں کا پروگرام بنا کہ گاؤں چلتے ہیں اور وہاں تین چار دن رہتے ہیں۔ سب کو فون پر مطلع کر دیا گیا۔ کافی عرصے سے یہ موضوع زیر بحث تھا کہ کبھی اکٹھے جا کے رہیں۔ امی جان کے انتقال کے بعد موقع ہی نہ مل سکا۔ ہر دفعہ کوئی نہ کوئی مجبوری آڑے آ جاتی۔ ہم نے میاں صاحب کو بھی تیار کر لیا اور فٹافٹ سامان باندھنے لگ گئے۔ ہمارے گاؤں پہنچنے سے پہلے بھائی، بھابھی اور بہن بچوں کے ساتھ گاؤں پہنچ چکے تھے۔

Read more

ناجانے لڑکیاں بڑی کیسے ہو جاتی ہیں

وہ کوئی تیس سال بعد مجھے بازار میں نظر آآئی، اس کے ساتھ اس کی امی تھیں۔ میں تو خوشی سے پاگل ہو گئی، وہ میری واحد بہترین دوست سارہ کی چھوٹی بہن ثنا تھی۔ میں اور سارہ تھرڈ ائر اور فورتھ ائر میں دوست بنے، ہم ہو سٹل۔ میں بھی اکٹھے رہتے تھے، اور روم میٹ بھی تھے۔ ہوسٹل میں پہلے دن ملاقات ہوئی، کیونکہ کمرہ مشترکہ تھا، ۔ ہم چار لوگ تھے۔ لیکن ذہنی ہم آہنگی کی وجہ

Read more

گاؤں، بچپن، جگنو

کس قدر سادہ اور خوبصورت زمانہ تھا، ہر قسم کے فکروفاقہ سے آزاد، امارت اور غربت کے احساس سے بالاتر، پورا گاؤں ایک ہی خاندان کی طرح ہی لگتا تھا۔ اگر گاؤں کے کسی گھر میں کوئی بیمار ہو جاتا، تو پورا گاؤں تیمارداری کے لئے آ جاتا، اور ہر قسم کے دیسی ٹوٹکے استعمال کیے جاتے، حیرت کی بات یہ تھی، کہ لوگ ان سے ٹھیک بھی ہو جاتے۔ تب شاید لوگوں میں خلوص بھی خالص تھا، جس کی تپش ہر قسم کی بیگانگی اور تکلف کے پردے اٹھا دیتی تھی۔

Read more

آخر کب تک

کچھ دن پہلے ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم، اسلام آباد بینک وڈیو
پڑھا۔ ڈاکٹر صاحبہ بہت خوبصورت اور بے باک انداز میں ان تلخ حقیقتوں پر تبصرہ کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔

کالم پڑھ کے دل بوجھل سا ہو گیا۔ اور خیالات کا دھارا کئی سال پیچھے چلا گیا۔ جب ہم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے، تو سوچا کیوں نہ بینک میں جاب کی جائے، سو ڈرتے جھجکتے والد صاحب کے پاس پہنچے، اور اپنا مدعا بیان کیا، یہ سنتے ہی کہ ہم بینک میں جاب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے سختی سے ڈانٹ دیا، کہ یہ بھی کوئی ملازمت کرنے کی جگہ ہے۔ بہت حیرانی ہوئی، کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ جب کو ایجوکیشن میں پڑھنے کی اجازت دے دی، تو اس میں کیا قباحت ہے۔

Read more

خصوصی بچے (مینٹلی چیلجنڈ) اور تلخ معاشرتی رویے

میں نے 1990 سے لے۔ کر اب تک اسپیشل بچوں (مینٹلی چیلجنڈ) کے ساتھ کام کیا ہے۔ اس طرح مجھے ان بچوں اور ان کے والدین سے جڑی بہت سی تلخ حقیقتوں کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جس کا اندازہ شاید دور رہ کر کبھی نہ ہوتا۔

جب والدین کو پتہ چلتا ہے، کہ ان کا بچہ نارمل بچوں سے مختلف ہے تو یہ ان کے لئے ایک ناقابل یقین حقیقت ہوتی ہے۔ جس کو تسلیم کرنے میں ان کو عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پھر خاندان اور ارد گرد بسنے والے لوگوں کے بے حس رویے ان کے لیے اور اذیت کا باعث بنتے ہیں۔

Read more

غربت اور بے بسی: ایک سچا واقعہ

کچھ دن پہلے کی بات ہے میری کام والی نے چھٹی کر لی۔ اگلے دن آئی تو میں نے پوچھا کیا ہوا تھا؟ دبے لفظوں میں بولی کچھ ضروری کام تھا کام کر کے بتاتی ہوں۔ فارغ ہونے کے بعد میرے پاس آ کے بیٹھ گیٔ۔ میں نے یوں محسوس کیا کہ وہ کچھ ہچکچا رہی ہے۔ میں نے پو چھا ہاں بتاؤ کیا ہوا تھا بولی باجی کیا بتاؤں ہم غریب لوگ ہیں ہماری تو کوئی عزت ہی نہیں کیا کریں گھر بیٹھ جائیں تو کھائیں تو کہاں سے

Read more

ڈیزاینر اور برانڈ کا جنون، یا منفی ر حجان

وبا کے ان پر آشوب دنوں میں، جب کہ ہر کوئی یہ دہائی دے رہا ہے کہ کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے، بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے، تا جر بھی چیخ پکار کر رہے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں، لیکن ساتھ ہی اگر دوسری طرف دیکھیں، تو ڈیزائنر کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ لاک ڈاؤن میں بھی آن لائن دھڑا دھڑ خریداری ہو رہی ہے۔ 12000 کا جوڑا بھی دو تین دن کے اندر آؤٹ آف سٹاک ہو جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا، کاروبار بند ہیں، لیکن پیسہ بے تحاشا ہے۔ کیا یہ مثبت ذرائع سے کمایا ہوا پیسہ ہے؟

خواتین کا کہنا ہے کہ ہر مہینے کم از کم دو ڈیزائنر سوٹ تو ہونے چاہیے، کیوں کہ کیٹی پارٹی یا کہیں اور آنا جانا پڑتا ہے۔ لو جی، ان مشکل دنوں میں پارٹیاں بھی جاری و ساری ہیں۔ بس کیا بتائیں، کہ ڈیزائنر اور برانڈ کی دوڑ میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے جانے کی کوشش میں ہے۔ لوگ برانڈڈ چیزیں خریدتے ہیں اور پھر یہ مشکل کہ اب دوسروں تک کیسے تشہیر کی جائے۔ یہ بتانے کا بھی ایک الگ انداز ہے۔ جیسا کہ، ذرا میرے اگ (برانڈ) کے جوتے تو لانا، میری بربری کی جیکٹ تو دینا، ہائے میرا کوچ کا بیگ نہیں مل رہا، بھئی میں تو برانڈڈ جوتے کے علاوہ کوئی اور پہن ہی نہیں سکتی۔

Read more