وبا کے ان پر آشوب دنوں میں، جب کہ ہر کوئی یہ دہائی دے رہا ہے کہ کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے، بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے، تا جر بھی چیخ پکار کر رہے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں، لیکن ساتھ ہی اگر دوسری طرف دیکھیں، تو ڈیزائنر کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ لاک ڈاؤن میں بھی آن لائن دھڑا دھڑ خریداری ہو رہی ہے۔ 12000 کا جوڑا بھی دو تین دن کے اندر آؤٹ آف سٹاک ہو جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا، کاروبار بند ہیں، لیکن پیسہ بے تحاشا ہے۔ کیا یہ مثبت ذرائع سے کمایا ہوا پیسہ ہے؟
خواتین کا کہنا ہے کہ ہر مہینے کم از کم دو ڈیزائنر سوٹ تو ہونے چاہیے، کیوں کہ کیٹی پارٹی یا کہیں اور آنا جانا پڑتا ہے۔ لو جی، ان مشکل دنوں میں پارٹیاں بھی جاری و ساری ہیں۔ بس کیا بتائیں، کہ ڈیزائنر اور برانڈ کی دوڑ میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے جانے کی کوشش میں ہے۔ لوگ برانڈڈ چیزیں خریدتے ہیں اور پھر یہ مشکل کہ اب دوسروں تک کیسے تشہیر کی جائے۔ یہ بتانے کا بھی ایک الگ انداز ہے۔ جیسا کہ، ذرا میرے اگ (برانڈ) کے جوتے تو لانا، میری بربری کی جیکٹ تو دینا، ہائے میرا کوچ کا بیگ نہیں مل رہا، بھئی میں تو برانڈڈ جوتے کے علاوہ کوئی اور پہن ہی نہیں سکتی۔
Read more