ہو سکتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہو سکتا ہے زندگی میں آپ پر کبھی کوئی رات ایسی بھی گزری ہو جس کا ڈھلنا ابھی تک باقی ہو۔ کسی شام ایسی بارش برسی ہو جس کی بوندوں سے آنکھیں آج بھی نم رہتی ہوں۔ یا کوئی سہ پہر سرمئی ایسی بھی آئی ہو جس کی خاموشی آج بھی کانوں میں گونجتی ہو اور کوئی صبح اتنی چمکدار بھی رہی ہو کہ اس کی تمازت دل کو برسوں بعد بھی سرشار رکھتی ہو۔ ممکن ہے دل میں اس رستے کا موڑ آج بھی گرہ بن کر رہتا ہو جہاں کسی منزل کو کھویا ہو، من کی مانگ سے بچھڑے ہوں یا ایسی راہ چل نکلے ہوں جو خود سفر میں ہو۔

دل کو خواہشوں کی گٹھڑی بنائے سر پہ خود مختاری کی تہمت لیے زندگی کی راہ پر مسلسل آگے ہی آگے بڑھتا انسان کبھی بھی مکمل طور پر ان رستوں کو نہیں بھول پاتا جن پر وہ چل آیا ہو۔ جس طرح رات کی خاموشی میں دور سے آنے والی موذن کی صدا، موسیقی کی آواز یا فاصلوں سے سارے انسان ہمیشہ اچھے ہی لگتے ہیں اسی طرح ماضی جیسا بھی رہا ہوں دل میں پیوست ہی رہتا ہے۔ کچھ بھی ہو جائے انسان کہاں سے کہاں پہنچ جائے، پرانے گھر، بیتی باتیں، پیچھے رہ چکی گلیاں اور ماضی کے موسم اس کے دل پر سایہ کیے ہی رہتے ہیں۔

انسان یہ سب کیوں بھلا نہیں پاتا۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن کیا انسان کو یہ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھ جانا چاہیے؟ یہ ہمارا آج کا موضوع ہے۔

یہ بات طے ہے کہ انسان ماضی سے مکمل طور پر چھٹکارا کبھی نہیں پا سکتا۔ یہ ماضی ہی ہے جو انسان کی شخصیت کو جس رنگ میں رنگتا ہے اس کے ”آج“ پر بہت حد تک وہی رنگ حاوی رہتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ثابت شدہ ہے کہ جو ماضی سے سیکھ کر آگے بڑھ گیا وہ کندن بن گیا اور جو وہیں رہ گیا وہ خاک ہوا۔

ہم لوگ یا تو ماضی کے خوشگوار لمحوں کی خوشبو میں کھوئے رہتے ہیں یا خود پر گزر جانے والے دکھوں کے بت بنا کر ان کی پوجا کرتے ہیں۔ لیکن ماضی کی خوشبو میں کھوئے رہنے والے تو حال کی مہک سے بھی محروم رہتے ہیں اور گزشتہ کل کی کڑواہٹ کو ساتھ ساتھ لیے پھرنے والوں کا ”آج“ بھی ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔

خود پر لمحہ موجود کے دروازے کھولنے کی بجائے ماضی کی تلخ و شیریں یادوں کو ساتھ ساتھ لیے پھرنے والے لوگ ذرا سوچیں تو سہی کہ اگر کل خوشیاں ملی تھیں تو آج دوبارہ بھی تو مل سکتی ہیں۔ اگر کل زمانے نے نہیں سمجھا تھا تو اب کوئی احساس کرنے والا مل سکتا ہے۔ اگر دامن کل دکھوں سے بھر گیا تھا تو آج اس میں مسرتیں بھی تو سما سکتی ہیں۔ مانا کہ وقت نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ آپ کی زندگی وہ نہیں رہی، زندگی میں شامل وہ لوگ نہیں رہے، وہ جذبے وہ خواب وہ تمنائیں نہیں رہیں۔ تو پھر کیا ہوا۔ آپ دیکھیں۔ آسمان تو آج بھی نیلا ہے، بادل اب بھی آتے ہیں، بارش آج بھی برستی ہے، کچھ لوگ ابھی بھی زندہ ہیں، رزق اب بھی اترتا ہے اور خدا بھی اب تک وہی ہے جو ماضی میں تھا۔ زندہ و جاوید و مہربان۔ آپ اپنے گرد کھڑی دیواروں میں ایک در بنا کر تو دیکھیں۔

اگر آپ کو یہ سب باتیں کتابی اور شاعرانہ لفاظی لگ رہی ہیں تو پھر آپ ان کے علاوہ کوئی اور حل بتا دیں۔ دنیا جہاں کا علم و فلسفہ، گیان و تجربات کھنگال کر دیکھ لیں زندگی جینے کا ایک ہی طریقہ مستند ملے گا اور وہ ہے امید بنائے رکھ کر چلتے رہنا اور بس چلتے رہنا۔ مثبت سوچ کے ساتھ آگے کی جانب بڑھتے بڑھتے یقین کیجیے جو چھن گیا اس سے بہتر ملے گا، جو ملا ہی نہیں اس کا متبادل ملے گا اور جو خوشیوں بھرے پل ماضی میں ملے تھے ان سے بھی دلفریب لمحے زندگی میں آئیں گے۔ یقیناً آتے ہیں!

بس شرط صرف اتنی ہے کہ ماضی سے سیکھ کر اس کو دفن کر دیجیے۔ وہ آیا ہی سکھانے کے لیے تھا۔ تاکہ ہم ”آج“ میں پہلے سے بہتر انسان بن کر جئیں۔ یہ ”آج“ بھی کچھ سکھا کر جائے گا تاکہ ہم آنے والے کل کو بہتر بنا سکیں۔

اگر اب بھی دل نہیں مانا تو پھر آگے پڑھیے۔

کہتے ہیں کہ ایک ہستی ایسی ہے جو ہمیں ان حالات سے گزار کر بس ہمارا امتحان لیتی ہے۔ وہ ذات کچھ دیتی ہے تو یہ دیکھنے کے لیے کہ بندے نے شکر کیا کہ نہیں۔ کچھ واپس لے لیتی ہے تو یہ دیکھنے کے لیے بندے نے صبر کیا کہ نہیں۔ کھونے والے نے صبر کر لیا تو وہ کھو کر بھی محروم نہ رہا اور پانے والے نے شکر کا حق ادا نہ کیا تو وہ پا کر بھی محروم رہا۔

یعنی اصل اہمیت پانے کھونے کی نہیں ہر دو صورتوں میں ہمارے رویے کی ہے۔ اور ہم امتحان کے وقت چوکنے ہو کر اپنے طرز عمل پر نظر رکھنے کی بجائے دل کو روگ لگا بیٹھتے ہیں۔ کمرہ امتحان میں اگر سخت گرمی ہو تو عقل مند طالب علم اس بے آرامی پر افسردہ ہونے کی بجائے سوالات حل کرنے پر دھیان دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ امتحان ختم ہوتے ہی تکلیف دینے والے کمرہ امتحان کو چھوڑ ہی تو دینا ہے۔ کمرہ امتحان کی سہولت بھی امتحان اور عارضی اور یہاں ملنے والی مشکل بھی محض امتحان اور عارضی۔

اگر زندگی کے مرحلے دل کے لیے روگ بننے لگ جائیں اور کوئی دوسری دلیل کام نہ آئے تو پھر اس زندگی کو منزل کی بجائے محض ایک امتحان ایک مرحلہ سمجھتے ہوئے جی کر دیکھیں۔ ایسے معاملات میں یہ سوچ اکثیر ہے جو جینا آسان تر بنا دیتی ہے۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شاہد وفا

شاہد وفا ایک براڈکاسٹ جرنلسٹ اور لکھاری ہیں۔ معاشرے میں تنقیدی سوچ اور شعور اجاگر کرنا چاہتے ہیں اس لیے معاشرتی ممنوعات کو چیلنج کرنے، جمود توڑنے اور سماجی منافقت کو بے نقاب کرنے کے لیے باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔

shahid-wafa has 25 posts and counting.See all posts by shahid-wafa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments