بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ فوجی یا پائلٹ!

ہمارے بچپن میں جب بھی کسی بچے سے سوال کیا جاتا کہ ”بڑے ہو کر کیا بنو گے“ تو دو حصوں پر مشتمل ایک ہی جواب آتا۔ ”فوجی یا پائلٹ“ ۔ جو بچہ پائلٹ کہتا اس سے اگر مزید پوچھ لیا جاتا کہ کون سا پائلٹ۔ وہ جو پی آئی اے کا مسافروں والا جہاز اڑاتا ہے یا جنگی جہاز اڑانے والا پائلٹ۔ فوراً جواب آتا جنگی جہاز والا پائلٹ۔ اس موضوع پر آگے بڑھنے سے پہلے ایک ضمنی سی

Read more

آخر ہم انساں ہی تو ہیں

کیا آپ خود کو ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں؟ ایسا انسان جو تمام بشری خامیوں اور کمزوریوں سے پاک ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر آپ کو علم کامل تو حاصل ہو گا ہی۔ یعنی ماضی اور حال کے ساتھ ساتھ مستقبل کی بھی ٹھیک ٹھیک تصویر ہر لمحہ آپ کی نظروں کے سامنے ہوتی ہو گی۔ چلیں یہ بھی ممکن نہیں تو پھر آپ عصر حاضر کے نہیں تو کم از کم اپنے حلقہ احباب کے

Read more

جہد مسلسل ناکامی کا تریاق ہے

سٹیو جابز نے انیس سو چھہتر میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایپل کمپنی قائم کی اور انیس سو پچاسی میں اسے اسی کمپنی سے ہتک آمیز انداز میں نکال دیا گیا۔ جدوجہد کے ان نو برسوں میں سٹیو جابز نے ٹیک جینئس سٹیو وازنیک کی مدد سے دنیا کو بدل کے رکھ دینے والی ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی۔ پھر بھی اسے یہ دن دیکھنا پڑا اور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اختلافات کے باعث اسے چلتا کیا۔

Read more

ڈپریشن کا مریض کیا کرے

زندگی کو حوصلے کے بل پر جیا جاتا ہے اور ڈپریشن میں انسان سب سے پہلے حوصلہ ہی ہارتا ہے۔ اب وہ کیا کرے۔ اس بیماری کا سامنا کرنے کے لیے ہمت کہاں سے لائے جو وار ہی جینے کی امنگ پر کرتی ہے۔ ادویات لے، نفسیاتی ماہر کی باتوں سے علاج کروائے، ورزش کرے، عبادت میں دل لگائے یا بس ہمت کر لے۔ کیا کرے؟ یہ وہ سوال ہیں جو پہلے سے ڈپریشن کی اذیت میں مبتلا ذہن کو

Read more

جنوبی پنجاب میں سیلاب۔ ادھوری اور بے سمت امدادی سرگرمیاں

کوہ سلیمان کے دامن میں واقع جنوبی پنجاب کے دو اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے باسی ہر سال دہری اذیت سے گزرتے ہیں۔ برسات میں سیلاب اور سال کے باقی دنوں میں خشک سالی۔ جب تک ان علاقوں میں بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے جھیلیں اور چھوٹے ڈیمز تعمیر نہیں ہوں گے یہ لوگ کبھی پانی اور کبھی پیاس سے مرتے رہیں گے۔ دونوں اضلاع کی آبادی تقریباً ساٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جن

Read more

عرفان خان کی یاد میں

ایک سال سے اوپر ہوگیا تمھیں موت کو گلے لگائے ہوئے اور میں ابھی تک نہیں سمجھ سکا کہ آخر اتنی جلدی کس بات کی تھی۔  اتنی دور کا سفر اور وہ بھی اتنا اچانک۔ سوچا بھی نہ تھا کہ جس کی آنکھیں زندگی سے اتنی بھرپور ہوں وہ مر بھی سکتا ہے۔    میں مانتا ہوں دنیا میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا لیکن تم بھی ایسا کر جاو گے اس کا خیال تک نہ تھا۔ تمھاری ہر ادا انوکھی تھی، ہر اندا جدا تھا، ہر بات نرالی تھی۔ تم لاکھوں میں ایک تھےاور پھر روگ بھی تم نے اتنا ہی کم یاب اور مہلک پالا جو لاکھوں میں کسی ایک کو ہی ہوتا ہے۔   تم نے اپنے آخری خط میں لکھا تھا کہ ہو جاتا ہے۔ ایسے بھی ہوجاتا ہے کبھی کبھی۔ لیکن پھر بھی۔ ایسا ہونا تو نہیں چاہیے نا۔ ایسا نہیں ہے کہ تم پہلے شخص ہو جسے میں نے اچانک کھویا ہو۔ کچھ کو تمھاری طرح موت لے گئی تو کچھ کو زندگی نے ہی دور کردیا۔ لیکن ان میں اور تم میں ایک فرق بہت بڑا ہے۔ تم سے تو میں کبھی ملا بھی نہ تھا۔ بات تک نہ ہوئی تھی اور پھر بھی تمھارے چلے جانے پر اتنا ملال۔ میں یہ بات بھی آج تک نہیں سمجھ سکا۔  تمھارے وجود سے اداسی چھلکتی تھی۔ وہی اداسی جو کم عمری سے ہی اپنی الگ سوچ رکھنے والوں کا نصیب ہوتی ہے۔ تمھاری آنکھوں سے کرب بہتا تھا۔ وہی کرب جو منزل کے لیے پاوں شل کر لینے والے مسافروں کی آنکھوں میں بستا ہے۔ تمھاری باتوں سے عاجزی ٹپکتی تھی۔ وہی عاجزی جو زمین سے جڑئے رہنے والوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ اور پھر تمھارے چہرئے سے معصومیت بھی تو جھلکتی تھی۔ وہی معصومیت جو سونے جیسا دل رکھنے والوں کی نشانی ہوتی ہے۔  تم نے اپنے کمال فن سے دلوں پر راج کیا اور اپنے انداز سے اپنے شعبے کے بھی سارے انداز بدل ڈالے۔ جدوجہد کیسے کی جاتی ہے یہ ہم کو سکھایا۔ حوصلہ کیسے برقرار رکھا جاتا ہے یہ لوگوں کو بتایا۔ بکھر کے پھر سے کیسے جڑا جاتا ہے یہ دنیا کو دکھایا اور گر کے کیسے اٹھا جاتا ہے یہ بھی کرکے دکھایا۔  لیکن پھر تم سب کچھ چھوڑ کر یوں چلے گئے جیسے دنیا کو طویل طویل عرصے تک اپنی ناقدری کرنے کی سزا دینا چاہتے ہو۔ شاید بونوں کی اس بستی میں جسے دنیا کہتے ہیں تمھارے قد کا کوئی مقام ہی نہ تھا۔   تم اداکار تھے لیکن اداکاری تو کرتے ہی نہ تھے۔  کردار میں ڈوب کر بس اس جیسا Behave کرتے تھے۔ خود خاموش رہتے اور مکالمے تمھارا چہرہ ادا کرتا۔ تمھاری آواز، جملوں کی ادائیگی اور لہجے کا اتار چڑھاؤ سحر انگیز تھا لیکن یہ بات طے ہے کہ کہانی میں کردار پر کیا بیت رہی ہے یہ بتانے کے لیے تم زبان کو حرکت دینے کے محتاج نہیں تھے۔ کہانی تمھاری  زباں سے کم اور آنکھوں سے زیادہ بیان ہوتی تھی۔  لوگ کہتے تھے تمھاری پرسنالٹی فلمی ہیرو جیسی نہیں تھی۔ تم نے اپنے فن سے ہیرو بننے کا فرسودہ معیار ہی بدل ڈالا۔ پھر تمھارا نام ہر فلم کی کامیابی کا ضامن بن گیا۔ تم نے اپنے فن سے اس خطے کے لوگوں کو یہ بتایا کہ وہ دہائیوں سے اداکاری کے نام پر صرف کرتب دیکھ رہے تھے۔  کسی کردار کو خود پر طاری کرکے اس کی کہانی بتانے کے لیے خون جگر

Read more

اب ہم کہیں کے نہیں رہے

نوبل پرائز کا نام پہلی بار سکول میں سنا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ ایوارڈ صرف اس کو ملتا ہے جو بہت لائق ہو اور بڑے بڑے کام کرتا ہو۔ ساتھ ہی دنیا میں اس ایوارڈ کو حاصل کرنے والے نمایاں افراد اور ان کے ممالک کے نام لیے گئے۔ بہت سے ملکوں کا ذکر ہوا سوائے اپنے وطن پاکستان کے۔ سوچنے کی بیماری بچپن سے ہے سو اسی وقت سوچا کہ کسی پاکستانی کا نام کیوں نہیں لیا گیا۔

Read more

احساس کمتری کے شکار شخص سے دور رہیے

جب معروف بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے نے لکھا تھا کہ ”دشمن آپ کی ہمت کو نہیں توڑ سکتا، یہ کام صرف آپ کے دوست کر سکتے ہیں“ تو ان کے مدنظر یقیناً ایسے دوست نما لوگ ہوں گے جن کی روح بغض کے بوجھ تلے آ کر مر چکی ہوتی ہے۔ لیکن بات بغض سے شروع نہیں ہوتی۔ کینہ و بغض سے پہلے آتا ہے احساس کمتری۔ کمتر ہونے کا احساس حسد پیدا کرتا ہے۔ حسد بغض میں تبدیل

Read more

ہو سکتا ہے

ہو سکتا ہے زندگی میں آپ پر کبھی کوئی رات ایسی بھی گزری ہو جس کا ڈھلنا ابھی تک باقی ہو۔ کسی شام ایسی بارش برسی ہو جس کی بوندوں سے آنکھیں آج بھی نم رہتی ہوں۔ یا کوئی سہ پہر سرمئی ایسی بھی آئی ہو جس کی خاموشی آج بھی کانوں میں گونجتی ہو اور کوئی صبح اتنی چمکدار بھی رہی ہو کہ اس کی تمازت دل کو برسوں بعد بھی سرشار رکھتی ہو۔ ممکن ہے دل میں اس

Read more

گنے کے رس سے گڑ بناؤ، دگنا منافع کماؤ

اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد میں گنے کے کاشتکار ان دنوں بہت مصروف اور پرجوش ہیں۔ کماد کی فصل کٹ چکی ہے اور اب کسانوں کو ان کی محنت کا اجر ملنے کا وقت ہے۔ لیکن اس سال انہیں اپنی محنت کے صلے کے لیے شوگر ملوں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔ اب وہ گنے کے رس سے گڑ بنانے میں آزاد ہیں اور اور یہ آزادی انہیں گزشتہ ماہ لاہور ہائی کورٹ نے مہیا کی تھی۔ عدالت

Read more

دینی مدارس اور میرا پی ایچ ڈی دوست

ہمارے ایک دوست ہیں۔ پی ایچ ڈی ڈاکٹر، درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ اور انتہائی قابل۔ اتنے قابل کہ پی ایچ ڈی کے بعد دو دو بدیسی یونیورسٹیوں سے پوسٹ ڈاکٹریٹ بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے ابتدائی سے لے کر اعلی اور اعلی سے لے کر اعلی ترین تعلیم جدید اداروں سے حاصل کی اور اب لگ بھگ ڈیڑھ دہائی سے ملک کی نامور یونیورسٹیوں سے منسلک ہیں۔ دین سے گہرا لگاؤ ہے لہذا لبرلز خاص طور پر

Read more

ہم کو وہ آدمی ملا ہی نہیں

بچپن میں ایک فارسی محاورہ سنا تھا۔ فارسی تو بھول گئی اس کا اردو مفہوم یاد رہ گیا کہ ”عمارت کی بنیادیں رکھتے وقت اگر اینٹیں ٹیڑھی لگ جائیں تو اس عمارت کو بھلے ہی آسمان تک اٹھا دو، وہ رہے گی ٹیڑھی کی ٹیڑھی ”۔ یوں لگتا ہے اپنے معاشرے کی بنیادوں میں بھی اینٹیں ٹیڑھی لگ گئی ہیں۔ کوئی دریچہ ہوا کے رخ پر نہیں بنایا میرے بزرگوں نے گھر سوچ کر نہیں بنایا۔ شاعر نے جانے کس گھر

Read more

آصف علی کی انگریزی اور ہم

آصف علی اپنے ایک پرانے انٹرویو میں بتا رہے ہیں کہ کس طرح انہوں نے انتہائی غربت کا انتھک محنت سے مقابلہ کیا اور چند نہیں بلکہ سالہا سال کے دھکوں کے بعد قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنائی۔ پھر کارکردگی کی بنیاد پر آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے لئے منتخب ہوئے، مخالفین کی جانب سے مسلسل تنقید کا سامنا بھی کیا اور پھر افغانستان کے خلاف ایک اہم میچ کے اہم ترین اوور میں چار

Read more

کابل میں تبدیلی اور منانا جشن صالحین کا

افغان طالبان اب بدل گئے ہیں۔ کیا واقعی بدل گئے ہیں؟ اچھا کتنا بدل گئے ہیں؟ ٹھیک ہے۔ بدل ہی گئے ہیں تو کب تک بدلے رہیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد تاہم ان سوالات کے جواب ڈھونڈنا نہیں ہے۔ اس مضمون میں صرف ”طالبان کے بدلنے پر“ صالحین کے فخر و انبساط سے لبریز جذبات اور ان کی جانب سے لبرل حلقوں پر ہونے والی طنزیہ

Read more

عورتوں کو چار دیواری میں رکھا جائے

ہم پاکستانی مرد زندگی سے لطف اندوز ہونا جانتے ہیں۔ ہر وقت جوش سے بھرے رہتے ہیں۔ چودہ اگست ہمارا پسندیدہ ترین دن ہے اور اس دن آزادی کا جشن منانے کے لیے ہم بڑی انوکھی حرکتیں کرتے ہیں۔ جیسے ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلانا اور باجے بجانا وغیرہ۔ لیکن اس سال شاید مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے بوریت کچھ زیادہ تھی لہذا ہم نے کچھ نیا کرنے کا فیصلہ کیا اور لاہور میں اپنی ہی ایک بیٹی

Read more

سازش اور غداری کی پناہ گاہیں

مسلم دنیا کی وہ تاریخ جو ہمیں پڑھائی گئی ہے اس کے ہر دوسرے پنے پر اور کچھ ملے نہ ملے کسی نا کسی سازش کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ ایسی سازش جس کے بارے میں ہر شخص یہی سوچتا ہے کہ اگر نہ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ سقوط غرناطہ نہ ہوتا، تاتاری بغداد پر قابض نہ ہوتے، سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان کو شکست نہ ہوتی، مغلوں کے اقتدار کا خاتمہ نہ ہوتا، خلافت اپنے اختتام کو نہ

Read more

ساقی سو رہا ہے

شاعر مشرق نے ایک دنیا دیکھنے کے بعد ساقی کو بتا دیا تھا کہ اگر اس خطے کی مٹی ذرا سی نم ہو جائے تو یقیناً بڑی زرخیز ثابت ہوگی۔ بات تو ٹھیک تھی لیکن ساقی کی آخر اپنی بھی کچھ مجبوریاں اور مصروفیات ہوتی ہیں۔ اور پھر زیادہ نمی بھی تو نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس سے زمین میں سیم و تھور پیدا ہوجاتا ہے۔ یقیناً ہمارے ساقیوں کے پیش نظر یہی مسئلہ رہا ہوگا اسی لیے انہوں نے قوم کی مٹی کے لیے ضروری نمی فراہم کرنے میں ہمیشہ احتیاط برتی۔

Read more

عورت مارچ کی ”رنڈیاں“ اور امت

کراچی سے شائع ہونے والے ایک اخبار ’امت‘ نے اپنے صفحہ اول پر خبر دی ہے کہ دنیا کے چودہ ممالک ایسے ہیں جہاں عورتوں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات کی سالانہ تعداد پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ تبصرہ نما خبر میں ساتھ ہی پوچھا گیا ہے کہ ”عورت مارچ کی رنڈیوں کو یہ غیر مسلم ملک نظر نہیں آتے؟“

Read more

ابوبکر البغدادی کی ہلاکت، داعش کا مستقبل اور امن کے امکانات

عالمی دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق والشام یا داعش کا سربراہ ابوبکرالبغدادی امریکی حملے میں مارا جاچکا ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق چھبیس اکتوبر ہفتے کی رات امریکی سپیشل فورسز کے ایک یونٹ نے شام کے علاقے ادلب میں البغدادیکے کمپاونڈ پر حملہ کیا تو اس نے اپنی خودکش جیکٹ کو دھماکے سے اڑا کر خود کو ہلاک کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق البغدادی کیخودکش جیکٹ پھٹنے سے اس کے قریب موجود تین بچے بھی مارے گئے تھے۔

Read more

امت مسلمہ کے تصور کا ظالمانہ استعمال

مسلم اُمّہ کا جو خوشگوار تصور اسلامی تعلیمات میں ہمیں ملتا ہے اسے ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں نے ایک بوجھ بنا دیا ہے۔ ایسا بوجھ جس کے تلے پہلے برصغیر اور پھر پاکستان کے مسلمان مسلسل پستے آئے ہیں۔ پیسنے والوں کے تو خیر اپنے مفادات تھے لیکن پسنے والوں نے جس رضامندی سے اپنا آپ گنوایا ہے اس پر عقل حیران رہ جاتی ہے۔

Read more

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

فیض صاحب نے کہا تھا اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا یہ بات زندگی کی ایک اہم حقیقت ہے لیکن خدا جانے لوگوں کو اس بات کا یقین کیوں نہیں آتا۔ گفتگو کے دوران شاعرانہ پیرائے میں کوئی بات کہہ دیں یا فیس بک کی دیوار پر کوئی شعر تحریر کرکے دیکھ لیں۔ سب سے پہلے آنے والے کمنٹس میں ”خیر تو ہے“ والا جملہ سننے یا پڑھنے

Read more

ایک بیوہ کی زندگی

یوں لگتا ہے کہ جیسے جوانی میں بیوہ ہونے والی خاتون کے نصیبوں میں جتنے دکھ خدا لکھتا ہے ان سے کہیں زیادہ اذیتیں یہ معاشرہ خود اپنے ہاتھ سے تحریر کردیتا ہے۔ شوہر کی موت کے ساتھ ہی بیوہ خاتون کے سسرالی رشتے اس کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں اور عدت کی مدت مکمل ہونے تک اس کے سسرال میں مزید قیام پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ زیادہ تر بیوہ واپس اپنے والد کے گھر کی راہ لیتی

Read more

کیا پھپھو واقعی بہت بری ہوتی ہے؟

”تم زیادہ پھپھو بننے کی کوشش نہ کرو“۔
یہ وہ جملہ ہے جو ہمارے ارد گرد بے جا روک ٹوک اور نکتہ چینی کرنے والے فرد کو خاموش کرانے کے لیے عام بولا جانے لگا ہے۔ چاہے غیر ضروری تنقید کرنے والا فرد کوئی مرد ہی کیوں نہ ہو، اسے تشبیہ پھپھو سے ہی دی جاتی ہے۔ حتی کہ قومی یا بین الاقوامی معاملات میں بھی کوئی بڑی شخصیت مسلسل ناراضگی اور ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ دکھائے تو اسے بھی سوشل میڈیا پر اکثر پھپھو کے خطاب سے ہی نوازا جاتا ہے۔

Read more

ہم ایک بد تہذیب قوم ہیں

ہم ایک بد تہذیب قوم ہیں۔ ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے۔ ماننا اس لئے ضروری ہے کہ خامی دور کرنے سے پہلے خامی کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

رقم نکلوانے کے لیے نصب کسی بھی آٹو میٹڈ ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) کے کیبن میں جائیں آپ کو اس معاشرے میں بنیادی آداب کا معیار زمین پر پڑا مل جائے گا۔ بستر میں لیٹے ہوئے پورے اطمینان سے موبائل فون پر ”راستے میں ہوں، بس پانچ منٹ میں پہنچ جاوں گا“ کہہ دینا ہمارے لیے معمولی بات ہے۔

Read more

دس سالہ چیلنج کا عالمی بخار

دنیا بھر کے سوشل میڈیا پر آج کل ”دس سالہ چیلنج“ کے نام سے ایک نئے رجحان کا بہت چرچا ہے۔ اس سادہ سے چیلنج میں صارف اپنی تازہ ترین اور دس سال پرانی تصاویر کا موازنہ پیش کرتا ہے اور اس کے آن لائن حلقہ احباب میں شامل لوگ ان تصاویر کو لائک کرتے یا متعلقہ شخص کے خدوخال میں آنے والی تبدیلیوں پر اپنی رائے دیتے ہیں۔ سماجی رابطے کی تقریبا تمام ہی ویب سائٹس پر ہیش ٹیگ

Read more

بانجھ نسلیں

کسی بھی جگہ جہاں چند عمر رسیدہ یا ادھیڑ عمر افراد کی محفل جمی ہو نئی نسل ضرور زیر عتاب آتی ہے۔ کوئی نوجوانوں کی آرام طلبی پر تنقید کرتا ہے اور کوئی ان میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی پر فکرمند دکھائی دیتا ہے۔ کسی کو طالب علموں کی بے ادبی اور گستاخی کا گلہ ہوتا ہے اور کوئی ان کی دین سے دوری کا رونا روتا ہے۔

ایسی گفتگو کے دوران محفل میں موجود بزرگ اپنی جوانی اور اپنے زمانے کی ایسی ایسی خوبیاں بھی گنواتے ہیں کہ انسان سوچتا ہے خدائے بزرگ و برتر نے دنیا میں ایسی بھولی بھالی ہستیوں کا مزید نزول آخر موقوف کیوں کر دیا ہے۔

Read more

پاکستان کی کِشو بائی ”سو با اثرخواتین“ کی فہرست میں شامل

بلند سوچ، وسیع حوصلہ اور گہرے احساس کی مالک کِشو بائی تھر کے بے رحم صحرا کی باسی ہیں۔ جس دھرتی پہ رہنے والوں کے لیے پیاس کی شدت اور خوراک کی کمی سے مر جانا معمول کی بات ہو۔ جہاں عام سی بیماریوں کا علاج بھی موت کی صورت ملتا ہو اور جہاں کے با اثر وڈیرے کم حیثیت انسانوں سے چوپایوں جیسی مشقت کرانا اپنی روایت سمجھتے ہوں۔ کِشو بائی نے اسی بے مہر دھرتی پہ سر اٹھا

Read more

بیٹی سے نجات کا نادر نسخہ

دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے نوجوانوں کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا رہتا ہے، تاہم ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل بالخصوص لڑکیوں کو درپیش مسائل کی نوعیت پوری دنیا سے الگ ہے۔ یہاں انھیں تعلیم، شعور اور ترقی کے یکساں مواقع کے لیے جدوجہد کے ساتھ ساتھ اپنے وجود سے جڑے "بوجھ” کے تصور کو بھی جھیلنا پڑتا ہے۔ بیٹیوں کو ایک مسئلہ قرار دینے والی جاہلانہ سوچ صرف والدین ہی کی نیندیں حرام کرنے کا باعث

Read more

کیا عمران خان کھوٹے سکوں سے نیا پاکستان بنا سکتے ہیں؟

عمران خان کا دعوی ہے کہ وہ بے اصول سیاست کی گرد سے دھندلائے ہوئے مفاد پرست چہروں کی مدد سے اس ملک میں تبدیلی لے آئیں گی۔ ایسا کیسے ہو گا؟ تحریک انصاف کے چیئرمین کی کرشماتی شخصیت کے سحر میں گرفتار کسی بھی نوجوان سے یہ سوال پوچھیں تو جواب آتا ہے کہ ملکی سیاست کی حقیقتوں کے پیش نظر ان روایتی سیاستدانوں کو ساتھ ملانا ضروری تھا لیکن خان چونکہ خود ایماندار اور راست باز انسان ہے

Read more

ہمارے خاندانی نظام کی حقیقت

"آپ کے یہاں خاندان کا ادارہ اس لئے مضبوط ہے کیونکہ آپ کے ریاستی ادارے کمزور ہیں” یہ جملہ تین سال پہلے بین الاقوامی امور کے ماہر امریکی پروفیسر سٹیفن پی کوہن نے ایک مباحثے میں ادا کیا اور میں آج تک اس جملے کی گہرائی میں الجھا ہوا ہوں۔ دو ہزار پندرہ میں ابھرتے ہوئے پاکستانی صحافیوں کا ایک مختصر سا وفد امریکہ کے دورے پر تھا اور پاکستانی سماج ،تاریخ اور سیاست پر گہری نظر رکھنے والے امریکی

Read more

بیٹیوں کو بوجھ سمجھنا چھوڑ دیجیے

بابا بابا ادھر دیکھیں ۔ میں اس وقت گھر کے قریب ایک پارک میں بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا جب میری بیٹی کا یہ جملہ مجھے سنائی دیا۔ میں نے توجہ کتاب سے ہٹا کر اس کی جانب منتقل کی تو دیکھا کہ وہ پارک میں گرنے والے املتاس کے بہت سے پیلے پھولوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے پرجوش کھڑی تھی۔ میرے دیکھتے ہی اس نے ان پھولوں کو ہوا میں اچھالا اور اپنے چہرے کو اوپر اٹھا ان

Read more