فارغین مدارس کے لیے میڈیا میں امکانات
ایسی ہی سوشل ویب کی ایک شکل سٹیزن جرنلزم یعنی عوامی صحافت اور ویب ویڈیو سائٹس ہیں۔ سٹیزن جرنلزم کا عام مفہوم کسی پیشہ ور صحافی کے بجائے عوام کا خبریں اور معلومات اکٹھا کرنا اور ان کی تشہیر کر کے صحافیانہ خدمات انجام دینا سمجھا جاتا ہے۔ یوں تو صحافت کے روایتی نمونوں میں بھی قارئین کی شمولیت خطوط، تجاویز اور آراء کے ذریعے رہی ہے، تاہم انٹرنیٹ پر بلاگز اور ویب ویڈیو کی ترسیل کرنے والی ویب سائٹس نے نہ صرف عوامی صحافت کو نئے خطوط پر استوار کیا ہے بلکہ اسے ویب ٹو کے نام سے پہچانے جانے والے انٹرنیٹ کے اوتار کا اہم جز بنا دیا ہے۔
اسی کی ایک شکل کر اؤڈ میڈیا بھی ہے، جو تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ رپورٹرز اپنے آرٹیکلز کے لیے اپنے اسمارٹ فونز کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں سوشل میڈیا کے طفیل وجود میں آنے اور فروغ پانے والی اس فوٹو گرافی نے ’کراؤڈ میڈیا‘ کا نام پایا ہے، جس نے اب تجارت کی صورت اختیار کرلی ہے۔ یہ تجربہ میڈیا کے اداروں کے لیے اس قدر مددگار ثابت ہوا ہے کہ وہ اپنے فوٹوگرافرز پر انحصار کرنے کے بہ جائے سوشل میڈیا فوٹو جرنلسٹس کی بروقت کھینچی گئی اور بہتر سے بہتر تصاویر کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں ’کراؤڈ میڈیا‘ کی ویب سائیٹ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کی معاون ثابت ہو رہی ہے۔ یہ ویب سائٹ اپنے خودکار سرچنگ سسٹم کے ذریعے روزانہ کھینچی جانے والی 150 ملین تصاویر میں سے سرچ کر کے مطلوبہ تصاویر فراہم کر سکتی ہے، اس طرح درکار وقت میں تصاویر کے خزانے سے کسی نیوز اسٹوری سے متعلق تصاویر بہ آسانی دست یاب ہوجاتی ہیں۔
کراؤڈ میڈیا یہ تصاویر عام صارفین سے حاصل کرتی ہے، جو عموماً فیس بک، ٹویٹر وغیرہ جیسی سوشل ویب سائٹس پر پوسٹ کی جاتی ہیں۔ کر اؤڈ میڈیا کو آن لائن ہوئے ابھی پندرہ منٹ ہی گزرے تھے کہ اس ویب سائٹ نے ٹویٹر پر آنے والی امریکی صدر باراک اوباما کی ایک فنڈ ریزنگ تقریب میں شرکت کی اولین تصاویر حاصل کر لیں اور ان کی اشاعت کے لیے گاہک بھی تلاش کر لیا۔ اس میدان میں کیریئر بنانے کے لیے خبروں کو سمجھ کر انہیں پیش کرنے کا فن، تکنیکی علم، زبان پر اچھی پکڑ ہونا ضروری ہے۔
نیوز پورٹل کے طور پر آزادانہ طور پر کام کرنے والی سائٹس کی تعداد ہندستان میں کم ہے، لیکن بیرون ملک اس کے مواقع کافی زیادہ ہیں۔ ایسی سائٹس کی تعداد زیادہ ہے، جو اپنے ویب کے مواد اپنے چینلز یا اخبارات سے لیتی ہیں۔ آپ آزاد نیوز پورٹل میں ویب صحافی بن کر بھی آپ اپنا کیریئر بنا سکتے ہیں، یہاں کھیل، ادب، آرٹ جیسی سائٹس پر کیریئر کے روشن امکانات ہیں۔
اس تمام گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ان تمام شعبہ جات میں مدرسہ سے فارغ التحصیل طلبہ اگر کسی ایک خاص شعبہ کا شوق رکھتے ہیں تو ان کی لیاقت کے مطابق انہیں ملازمت مل سکتی ہے۔ مثلاً کرکٹ یا دیگر کھیلوں کے شوقین طلبہ ان کھیلوں پر بہتر انداز میں خبریں پیش کر سکیں گے۔ اسی طرح فیشن کا زمرہ بھی مذہبی شعبہ جات میں موجود ہیں اور سیاست تو ہے ہی ہمیشہ سے گرما گرم موضوع۔ اچھی اور متاثر کن آواز والوں کے لیے ریڈیو کا شعبہ ہے، لکھنے والوں کی مہارت اخبارات میں کام آ سکتی ہے جبکہ اچھی شکل و صورت آپ کو ٹیلی ویژن پر لا سکتی ہے۔ ہر امتحان کی تیاری سے ہی اس میں کامیابی ممکن ہوتی ہے۔ کسی بھی مشینری یا ٹیکنالوجی کا استعمال جانے بغیر اسے مصرف میں لانا ہمیشہ خطرناک نتائج کا باعث بنتا ہے، میڈیا بھی ایک ٹیکنالوجی ہے، جسے استعمال کرنے سے پہلے اس کی بنیادی باتوں کا علم ہونا ضروری ہے۔
یہاں ایک اور پہلو کی وضاحت کرتا چلوں، جو ایک بہت بڑی غلط فہمی بھی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں ٹی وی فلم اور دیگر ویڈیوز کو ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا ذرائع ابلاغ کا ایک طاقتور حصہ ضرور ہے لیکن ایسا نہیں کہ اس کے بغیر پیغام رسانی اور نظریات کا فروغ ہی ممکن نہیں۔ ویسے تو بہت سے دینی حلقے کچھ حدود و قیود کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا کے قائل ہو چکے ہیں لیکن اگر کوئی جماعت اس کے بغیر ہی چلنا چاہے تو بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔
الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں آنے کے لیے بھرپور تیاری کی ضرورت ہے کیوں کہ دین کی تبلیغ کے لیے موجودہ رائج الوقت طریقے کارآمد نہیں ہوں گے۔ دینی جماعتوں کو چاہیے کہ الیکٹرانک میڈیا کے دائرہ کار میں قدم رکھنے سے پہلے دیگر شعبہ جات یعنی پرنٹ میڈیا (اخبارات و رسائل) ، سائبر میڈیا یعنی انٹرنیٹ وغیرہ میں زیادہ کام کریں۔ کچھ عرصہ کی مکمل پیشہ ورانہ تربیت کے بعد الیکٹرانک میڈیا کی طرف توجہ کی جا سکتی ہے، کیوں کہ یہ ایک مہنگا کام ہے اس کے لیے بغیر پیشہ ورانہ تربیت کے فنڈز ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
انٹرنیٹ، پرنٹ میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ بھی کچھ کم اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ اگر ان کو مکمل پیشہ ورانہ اصولوں کے ساتھ اختیار کیا جائے تو ان سے انتہائی مفید نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس شعبہ کی باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ پروپیگنڈا مکمل سائنس کا درجہ حاصل کر چکا ہے اور اس کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے بھرپور تیاری کی ضرورت ہے۔ یہاں ایک وضاحت یہ بھی ضروری ہے کہ ”پروپیگنڈا“ کے لفظ سے بھی میڈیا کی طرح صرف منفی معنی ہی اخذ کیے جاتے ہیں، حالاں کہ اس سے مراد پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلا دینا ہے، یعنی دعوت کو عام کرنا یہ منفی اور مثبت دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
اگر آپ اپنی دعوتی سرگرمیوں کو اچھے طریقے سے سرانجام دیں گے اور مضبوط نیٹ ورک بنائیں گے تو معاشرے کا بڑا طبقہ بشمول میڈیا آپ کے ساتھ چلے گا اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو یقیناً مخالفین حاوی نظر آئیں گے اور محض مساجد میں دیے گئے مواعظ اور خطبات کام نہ آ سکیں گے۔ دینی تعلیمات سے ہٹ کر زندگی گزارنے والوں کو بھی دین کے فریضہ کی ادائیگی کے باب میں کسی صورت بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس بحث کا مقصد صرف یہ ہے کہ نظریاتی تصادم کی اس گہما گہمی میں اسلام کی دعوت کے امین اور صاحب علم دینی حلقوں کو بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر میڈیا کے میدان میں۔
ایک اور چیز، جس کا یہاں ذکر کرنا شاید غیر مناسب نہ ہو، مدارس کے طلبہ اور جدید دانش گاہوں سے فارغ التحصیل طلبہ کے درمیان تال میل نہیں ہو پاتا۔ چوں کہ مدارس کے طلبہ میرے مخاطب ہیں، اس لیے میں ان سے کہوں گا کہ اس سلسلے میں ان کی جانب سے بھی کچھ کمی رہ جاتی ہے کہ وہ ان سے مثبت تعلقات استوار کرنے کی کوشش نہیں کرتے بالخصوص میڈیا سے وابستہ افراد سے تو بالکل تعلق نہیں، حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی تو یہی نوجوان نسل، جسے مذہب بیزار سمجھ لیا گیا تھا ہراول دستہ ثابت ہوئی۔
فلسطین کی تحریک آزادی میں یونیورسٹیوں کے طلبہ کا بڑا کردار ہے۔ مصر میں محمد مرسی کے خلاف فوج کی ظالمانہ مداخلت، روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے خلاف آواز، مظفر نگر فسادات سمیت ایسے متعدد نسلی و قومی عصبیتوں کے خلاف اس طبقہ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر تبلیغ میں بھی بڑا حصہ ایسے افراد کا ہے، جو شاید کبھی کسی مدرسے میں نہ گئے ہوں۔ یہ علمائے کرام کی کتابوں کی تشہیر کرتے ہیں اور مطالعہ کر کے دلائل ڈھونڈتے اور پیش کرتے ہیں۔ دینی طبقے کو میڈیا سے منسلک افراد سے رابطہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ قابل افراد کو بھی پیشہ ورانہ مہارت فراہم کر کے میڈیا کے اداروں میں پہنچایا جا سکتا ہے۔
اس قدر طویل گفتگو کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کے لیے مدارس کے طلبہ کیا کریں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح سے وہ دیگر میدانوں کا انتخاب کرتے ہیں، اس کا بھی انتخاب کریں اور پورے عزم و ہمت کے ساتھ میڈیا میں قدم رکھیں۔ اس کے لیے بہت سی یونیورسیٹیوں میں میڈیا کے شعبہ سے متعلق باضابطہ کورسز موجود ہیں، جنہیں پورا کرنے کے بعد مدارس کے طلبہ مکمل پروفیشنل انداز میں اس میں پاؤں جما سکتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جے این یو، اگنو اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مدارس سے فارغ طلبہ کے لیے مواقع زیادہ ہیں، جن میں سے بعض کا میڈیم اردو ہے اور ان کے ہاں داخلہ کی اہلیت کے لیے بھی امیدوار کا صرف بارہویں پاس ہونا ہے۔ اسی طرح انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن، نئی دہلی، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ میڈیا، پونے، سمباسس انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن، پونے، مدرا انسٹی ٹیوٹ آف کمیونی کیشنز، احمد آباد، جیسے ادارے ان کو رسوں کے لیے سب سے معروف اور بہتر تصور کیے جاتے ہیں۔
اس میں زیادہ تر انسٹی ٹیوشن داخلہ امتحانات منعقد کرتے ہیں۔ اس میں تحریری ٹیسٹ، انٹرویو اور گروپ ڈسکشن بھی ہوتا ہے۔ تحریری امتحان میں اسٹوڈنٹس کی تحریری صلاحیت، جنرل اور عام معلومات، تجزیہ کی صلاحیت اور فطری صلاحیتوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ اکثر طلبہ مجھ سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ اس کی تیاری کیسے کریں۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ انٹرنس اگزام کے لیے کوئی خاص تیاری نہیں کرنی ہوتی ہے، ٹیسٹ کے ذریعے امیدوار کے سوشل، کلچرل اور سیاسی ایشوز کے متعلق معلومات کو پرکھا جاتا ہے۔
حالات حاضرہ کی تیاری جرنلزم کے لیے ضروری عنصر ہے۔ خبروں پر آپ کی باریک نظر ہونی چاہیے۔ ایسے امیدوار ہی اچھے صحافی بنتے ہیں، جنہیں نیوز کی اچھی سمجھ ہوتی ہے اور جن کی تحریری صلاحیت اچھی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، ان کا اپنے پیشے سے نباہنے کا عزم ہونا بھی ضروری ہے۔ دراصل کسی بھی خبر کا تجزیہ کر کے اسے سادہ طور پر پیش کرنا ہی ماس کمیونی کیشن کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اگر آپ اس پیشے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو نیوز پیپر، میگزین اور حالات حاضرہ سے متعلق کتابیں ضرور پڑھیں۔
میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن کے بعد ماس کام میں داخلہ لینا چاہتا تھا تو ہر روز انٹرنس اگزام کی تیاری کے لیے اردو، ہندی اور انگریزی کے کئی لیڈنگ نیوز پیپر اور میگزین پابندی سے پڑھا کرتا تھا۔ اس سے ہر ایک کے نظریہ کا بھی علم ہوتا ہے اس کے لیے ٹی وی چینلوں کا دیکھنا اور ریڈیو وغیرہ کا سننا فائدے سے خالی نہیں ہو گا۔

