جن کا درخت


یہاں ایک چھتنار درخت ہوا کرتا تھا۔ بہت زمانے پہلے کی بات ہے۔ بہت زمانے پہلے کی تم لوگوں کے لیے۔ درختوں اور جنوں کی زندگی میں تو یہ عرصہ اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔ تم لوگ تین سو پینسٹھ مرتبہ سورج ابھرنے اور ڈوبنے کو ایک سال سمجھتے ہو اور ہماری زندگیوں میں سورج کے گرد گھومنے سے ایک دن بنتا ہے، اس لیے کہ ہم، یعنی جن اس کرے کی مخلوق نہیں ہیں۔ ہم تو یہاں گھومنے آتے ہیں اور ہم میں سے کچھ کو یہاں کی تنہائی ایسی بھاتی ہے کہ وہ یہیں رہ پڑتے ہیں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔ تمہارے ہاں بھی تو تنہائی پسند آرٹسٹ اپنے دیس چھوڑ کر کبھی ٹاہیٹی اور کبھی دوبئی میں رہ پڑتے ہیں۔

میرے لیے انسانوں کی گفتگو پتوں کی سرسراہٹ یا شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے زیادہ نہیں۔ کیا تم نے کبھی چیونٹیوں کے بل یا بھڑ کے چھتے کو بستی تصور کیا ہے؟

تو یہاں ایک پرانا درخت ہوا کرتا تھا۔ پنچھی اس کی شاخوں میں بسیرا کرتے تھے۔ میں ان کی عاشقی کے گیت سنتا، گھونسلوں میں بچے ہوتے تو ماؤں کی لوریاں سنتا۔ وہ انھیں دانہ بھراتیں تو میں ایک انجان مسرت سے یہ سرگرمی دیکھتا۔ یہاں تک کہ ایک دن وہ اپنے پر پھیلانے لگتے اور پھر ہوا کے دوش پر ڈولتے ایک شاخ سے دوسری پر اور پھر وہاں سے دوسرے درخت تک کی اڑان کے بعد وہ نیلے آکاش کو چھونے کی کوششیں کرتے اور ہوا میں قلابازیاں کھاتے اور کبھی نہ گرتے۔ اس وقت سے بہت پہلے ہی ان کے ماں باپ ان کی طرف سے بے فکر ہو چکتے تھے۔

اس درخت کے سائے میں راہگیر رکتے۔ باراتیں اور کاروباری قافلے اس کے نیچے ٹھیکی لیتے۔ یہ سب اس زمانے کا ذکر ہے جب تم لوگ جانوروں پر سواری کرتے تھے۔ حاکم بھی کوئی اور تھا اور درخت کے نیچے ٹھٹکنے والے بھی۔ سبھی اس درخت کی، جسے میں اپنا درخت سمجھتا تھا، عزت کرتے تھے۔ وہ سایہ دیتا تھا۔ اس سے زیادہ اس کی خصوصیات کا تو ان کم علموں کو علم ہی نہیں تھا۔ وہ تو بس یہ جانتے تھے کہ اس کا سایہ ایک بے لوث برکت ہے۔ سب اس کی قدر کرتے تھے، مجھے اس سے انس تھا، مجھے اس کی عادت تھی۔ کبھی میں اس سے دور اپنی برادری میں جاتا لیکن کچھ عرصے میں ہی ہم صحرا نشین، ویرانوں کے باسی، اپنے ہم جنسوں کی صحبت سے گھبرانے لگتے اور دوبارہ ملنے کے وعدے کرتے اپنی اپنی راہ لیتے۔

پھر ایسا ہوا کہ ایک دفعہ ایک بچہ کٹی پتنگ اتارنے اس درخت پر چڑھ گیا۔ پیچھے پیچھے ماں ہائیں ہائیں کرتی دوڑی آ رہی تھی۔ اترنے میں بچے کا پاؤں شاخ پر نہیں جما اور وہ گرنے لگا۔ چڑیا کے بچوں کی طرح پر پھڑپھڑا کر اتر نہیں سکتا تھا۔ ہاتھ پاؤں مارتا ایک پتھر کی طرح گر رہا تھا۔ پتہ نہیں کیوں میں نے اسے تھام لیا۔ تم لوگ بھی تو کبھی پتے سے پانی میں گرے کیڑے کو بچا لیتے ہو، تو میں نے اسے تھام کر آہستہ سے زمیں پر ٹکا دیا۔

ماں نے پہلے اسے سینے سے لگایا پھر کہنا نہ ماننے پر دو ہتڑ لگایا اور پھر درخت کے سامنے ماتھا ٹیک دیا۔ کھڑی ہوئی تو رام رام کرتی ہاتھ جوڑ کر بولی بھگوان آپ کی کرپا سے یہ مورکھ بچ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پھولوں کے ہار اور چندن سے درخت کے تنے کو سجا رہی تھی اور شربت اور مٹھائی کا دونا لیے درخت کے نیچے راہگیروں کو درخت کی کرامت سنا رہی تھی۔ اس طرح میں اپنے درخت کی طرف سے بے فکر ہو گیا۔ اب اس کی شاخوں پر لکڑی کے لیے للچائی نگاہیں پڑنی بند ہو گئیں بلکہ اب کئی لوگوں کو وہ وقت یاد آئے جب میں نے درخت بچانے کے لیے دھکا دے کر انھیں اس سے گرایا تھا۔ اب وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہے تھے نا بابا اس درخت پر تو بھگوان بستے ہیں۔

درخت مضبوط تھا، جڑیں گہری اور دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں، اس کا سایہ سب کے لیے تھا۔ لیکن سڑکیں بن رہی تھیں، اطراف کے درخت کاٹے جا رہے تھے۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں شور مچاتی دوڑ رہی تھیں لیکن گھوڑا گاڑیاں اونٹ گاڑیاں اب بھی چل رہی تھیں۔ کہ ایسے میں ایک سیلاب سا آیا، لوگوں کا سیلاب۔ لٹے ہوئے لوگ، اپنی زمینوں سے اکھڑے ہوئے لوگ سروں پر اپنے مختصر اثاثے اٹھائے وہ اس درخت کے نیچے رکنے لگے۔ اس کی شاخوں میں رسیاں باندھ کر سائبان بنانے لگے۔

قریب میں آگ جلانے کے لیے اس کی شاخوں کو تاکنے لگے۔ مجھے کئی ایک کو دھپ لگانے پڑے تب انھوں نے گری شاخوں اور جھاڑیوں پر اکتفا کی۔ لیکن ان لوگوں کی نظر میں اس درخت کی کوئی عزت نہیں تھی۔ اس کے موٹے گدوں پر آری لے کر چڑھنے والوں کو میں نے جب گدی سے پکڑ کر نیچے پٹخا تو کسی نے کہا اس درخت پر تو کسی جلالی روح کا سایہ ہے۔ اگلے روز ایک سرخ آنکھوں والے مجذوب نے کہا کہ یہ درخت ایک بزرگ کی قبر پر سایہ فگن ہے۔ وہی لوگوں کو اسے کاٹنے سے منع فرما رہے ہیں، عالم رویا میں قبر کی نشاندہی فرمائی ہے ویسے انھیں ہم مصیبت زدوں کے قریب رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اسی رات کسی کے بیٹے نے گردن توڑ بخار سے داعی اجل کو لبیک کہا۔ کفن دفن کے وقت ہی سرگوشیاں ہونے لگیں کہ اس نے درخت کے نزدیک پیشاب کیا تھا۔

درخت کی تو جاں بخشی ہوئی اور مجذوب کی نشاندہی پر قبر تعمیر ہونے سے پہلے ہی درخت کی نچلی شاخوں میں منت کے لال پیلے دھاگے بندھنے لگے۔ کوئی نوکری کی دعا تھی تو کوئی سر چھپانے کا آسرا مانگ رہا تھا اور کوئے کھوئے عزیز کے مل جانے کی دلدوز التجا تھی۔

دعائیں سننے والا تو نیند اور اونگھ سے بے نیاز ہے۔ دعائیں پوری بھی ہوتی تھیں۔ قبر پر چڑھاوے چڑھتے اور مجذوب کے لیے نئے کرتے آتے جن کا گریبان وہ پہنتے ہی ہو الحق کا نعرہ لگا کر پھاڑ ڈالتا۔ اپنے پرکھوں کی ہڈیوں سے دور اپنے پیروں فقیروں کے مزاروں سے بچھڑے ہووں نے اس قبر کو اپنا لیا تھا۔

وقت گزرتا رہا۔ لوگ گھروں میں منتقل ہو گئے، جھگیاں حکومت نے اٹھوا دیں۔ اب درخت کے سامنے سے چمکیلی گاڑیاں تیرتی گزر جاتیں۔ مجذوب کے مرنے کے بعد سے احاطے پر ایک یتیمی سی برسنے لگی تھی، فقیر تو اب بھی مزار کے اطراف میں لیٹے بیٹھے نظر آتے تھے لیکن وہ زیادہ تر افیمی اور چرسی تھے ان میں مجذوب کی طرح لوگوں کو مرعوب کرنے کی صلاحیت نہیں تھی یا اب لوگ اتنے اکھڑے ہوئے نہیں تھے کہ تنکے کا سہارا ڈھونڈتے۔ فقیر اپنی پینک سے جاگے تو ایک بلڈوزر احاطے کو گرا رہا تھا۔

پینٹ ٹائی میں ایک انجینئر درخت کا جائزہ لے رہا تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اسے کاٹنے کے ارادے سے نہیں دیکھ رہا۔ ”اتنے پرانے درخت اب کہاں نظر آتے ہیں۔“ ۔ ”ایسا نہ ہو تعمیر کے دوران اس کی جڑوں کو نقصان پہنچ جائے“ ۔ دوسرے نے خدشے کا اظہار کیا۔ انھوں نے درخت کے گرد ایک دائرہ زمین پر کھینچ دیا کہ اس کے اندر کی زمین نہ کھودی جائے نہ سیمنٹ سے پاٹی جائے۔ کسی مزدور نے قبر کی طرف توجہ دلائی لیکن انجینئر ہنس پڑا۔

”زمین کے چپے چپے پر کوئی نہ کوئی دفن ہے۔ احاطے کے ساتھ قبر بھی مسمار ہو گئی اور ایک محل سا مکان بننے لگا اس شور شرابے سے اکتا کر میں تو گھومنے نکل گیا واپس آیا تو بڑی سی کوٹھی کے سامنے درخت گھاس کے قطعے میں سایہ فگن تھا ایک جھولا شاخوں میں آویزاں تھا، بچے پینگیں بھر رہے تھے۔ جمعرات کی شام کسی عورت نے درخت کے نیچے دیا روشن کر دیا اور ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھنے لگی۔ ضرور وہاں کے مزدوروں نے اسے مزار کے بارے میں بتایا ہو گا۔

اب وہ کوٹھی بھی خالی ہو چکی ہے۔ فاتحہ پڑھنے والی کی بھی فاتحہ پڑھی جا چکی ہے۔ جھولا جھولنے والے دور دیسوں میں بس چکے ہیں۔ بازار بڑھ کر کوٹھی کی دیواروں تک پہنچ چکا ہے۔ انجینیئروں کی ایک نئی کھیپ عمارت کی فروخت کے بعد یہاں پلازا بنانے کے لیے علاقے کی پڑتال کر رہی تھی۔ میرا درخت جو اس علاقے کی ہوا کو اپنے پتوں سے صاف کرتا تھا۔ جو سب کو سایہ دیتا تھا۔ اس کو کاٹا جانا تھا۔ میں نے کئی ہاتھ پاؤں توڑے بڑے دھکے لگائے ان کی مشینیں خراب کیں لیکن وہ ایک کا دس نہیں ایک کا سو بنانے کے چکر میں تھے۔ ایک دیوہیکل مشین آئی اور اس درخت کو جس میں نہ گھن لگا تھا نہ دیمک، جڑوں سے اکھاڑ کر چلی گئی۔ کیا جن روتے ہیں؟ تمہاری کہانیوں میں جن قہقہے تو لگاتے ہیں لیکن کیا کبھی روتے بھی ہیں؟

میں چلا گیا اس کرہ سے واپس اپنے گھر، درختوں کے کٹنے سے تپتی زمینوں سے دور، جلتے جنگلوں کے دھویں سے آلودہ فضاؤں سے دور۔

ہوا کی چادروں کے پار اس حسین کرے کے لوگ راکٹ میں بیٹھے دوسری دنیائیں بسانے کی آرزو میں سفر کرتے نظر آئے۔

Facebook Comments HS