پاکستانی نوجوان رب نواز اور پائی نیٹ ورک کی فیس بک جیسی نئی ایپلیکیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رب نواز پنہنیار اپنے خوابوں کی تعبیروں اور منزل کی تلاش میں سکھر سے پہلے سنگ میل لاہور پہنچا ہے۔ سماجی ادارے سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا) کے ”روشن تارا“ کالج سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد سکھر کی مشہور آئی بی اے یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں بی ایس کیا۔ آپ اس وقت ایک سرکاری ادارے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ تو رہی ان کی تعلیم اور نوکری مگر انفرادی طور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انجنیئرنگ ان کا جنون ہے۔

سکھر آئی بی اے سے فائنل کرنے کے بعد رب نواز نے اپنی مادر علمی کو ایک ایسا لرننگ مینیجمنٹ سسٹم بنا کر دیا جس کی مدد سے سندھ کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں کرونا سے پہلے ہی آن لائیں تعلیم کا بنیاد ڈال دیا گیا۔ گورنمنٹ نے یہ پروگرام ورلڈ بینک کی مدد سے شروع کیا تھا جس کا مقصد سندھ کے دیہی علاقوں میں عام نوجوانوں کے لئے بہترین تعلیم کے حصول کو ممکن بنایا جانا تھا۔

رب نواز اس کے ساتھ ساتھ نجی طور دنیا کے اہم سافٹ ویئر انجنیئرز سے رابطے میں رہتا اور آنے والی نئی نئی ایپلیکیشنز کو جانچتا رہتا تھا۔ اس کے ذہن میں سماجی رابطے کی ایک ایسی ایپلیکیشن بنانا تھا جو بنیادی طور تمام صارفین کی اپنی ملکیت ہو، نہ کہ فیس بک کے مالک مارک ذکر برگ کی ذاتی ملکیت کی طرح۔ اور وہ ایپلیکیشن جو پیسے کمائے اس پر بھی تمام صارفین کا اتنا ہی حصہ اور حق ہو جتنا اس کے مالک کا۔

رب نواز نے اس سلسلے میں سب سے پہلے چین کی مشہور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”وی چیٹ“ کی طرز پر پاکستان کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ تیار کی جس کا سندھی میں نام رکھا ”پنھنجی چیٹ“ (اپنی چیٹ) ۔ رب نواز نے ایک اور قدم آگے اٹھاتے اپنے اس خیال کو ملکی سطح سے اور اوپر لے کر جاتے ہوئے ایک اور بین الاقوامی سطح کی ایپلیکیشن بنانے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں انہوں نے سب سے پہلے دنیا کے مشہور کمپیوٹر سائنٹسٹ پی ایچ ڈی ڈاکٹر نکولس کوکالس سے رابطہ کیا، اور اسے اپنا آئیڈیا پیش کیا۔ ڈاکٹر نکولس کوکالس کیلیفورنیا امریکا کی مشہور ترین اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اور دنیا بھر سے آئے کمپیوٹر سائنٹسٹ کو پڑھاتے ہیں۔

رب نواز کا کہنا ہے کہ ”میری ڈاکٹر نکولس سے کئی بار کئی گھنٹوں تک گفتگو رہی اور اپنے آئیڈیاز شیئر کرتا رہا، میں نے اس سے اپنی سماجی رابطے کی ایپلیکیشن کا بنیادی آئیڈیا صارفین کی اپنی ملکیتی ایپلیکیشن کے طور پر شیئر کیا تو وہ حیران رہ گیا۔“

”میں سماجی رابطے کی ایک ایسی ایپلیکیشن بنانا چاہتا ہوں جو صرف انفرادی طور پر میری نہیں بلکہ تمام صارفین کی مشترکہ ملکیت ہو۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ فیس بک کا مالک مارک زکر برگ اب اتنا امیر ہو چکا ہے کہ انہوں نے اپنے مقابلے میں آنے والی سماجی رابطے کی ایپلیکیشن واٹس ایپ کو 19 بلین امریکی ڈالرز اور انسٹاگرام کو 1 بلین امریکی ڈالرز میں خرید کر یہ پیغام دیا ہے کہ اب اس کے مدمقابل کوئی نہیں۔ یاد رہے کہ فیس بک نے صرف گزشتہ فسکل ائر میں ایک اندازے کے مطابق 86 بلین امریکی ڈالرز کمائے۔ فیس بک نے یہ پیسے آخر کہاں سے کمائے صاف ظاہر ہے اپنے صارفین سے، ملنے والے اشتہارات اور دیگر ذرائع سے، مگر صارف کو کیا ملا، شاید صرف رابطے کی سہولت۔ میں چاہتا ہوں کہ سماجی رابطے کی ایک ایسی ایپلیکیشن ہونی چاہیے کو جتنے پیسے کمائے وہ رقم مالک اور تمام صارفین میں برابر تقسیم ہو جائے، اور یہ ممکن ہے۔“

پروفیسر ڈاکٹر نکولس کوکالس کو یہ آئڈیا کمال لگا اور انہوں نے نیک تمناؤں کے ساتھ کہا کہ ”آپ کو اس ایپلیکیشن پر ضرور کام کرنا چاہیے، اور میری اور میرے ادارے کی ممکن مدد آپ کے ساتھ ہوگی۔“

عالمی سطح پر حوصلہ افزائی اور پذیرائی ملنے کے بعد رب نواز نے ایک عالمی سطح پر سماجی رابطے کی ایپلیکیشن بنانے پر کام شروع کر دیا اور اس کا نام رکھا ”پائی چیٹ“ ۔

سماجی رابطے کی ایپلیکیشن کا نام پائی چیٹ کیوں رکھا؟ سوال کے جواب میں رب نواز کا کہنا تھا کہ ”میں اصل میں سماجی رابطے کی ایک ایپلیکیشن ہی بنانا چاہتا تھا، ابھی نام کا سوچا بھی نہیں تھا، مگر جب میرا رابطہ پائی نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو اور اسٹین فورڈ کیلیفورنیا کے پروفیسر ڈاکٹر نکولس کوکالس سے ہوا تو مجھے ایک ایسا فورم مل گیا جس پر مجھے دنیا بھر کے 150 کمپیوٹر سائنٹسٹ کے ساتھ بات اور کام کرنے کا موقعہ ملا، اور میرے لئے عزت اور فخر کی بات یہ تھی کہ اس گروپ میں واحد پاکستانی میں تھا اور ہوں۔ اس فورم میں امریکا، سنگاپور، بھارت، ملائیشیا، چین، جاپان اور انگلینڈ سے درجن بھر سائنٹسٹ نے اپنے اپنے پراجیکٹس پیش کیے، اور میں نے ایک ایسی نہیں سماجی رابطے کی ایپلیکیشن بنانے کا خیال پیش کیا جس کے مالک اور صارف اس ملکیت اور اس کے ریونیو کے مجموعی مالک ہوں۔ تو یہ آئیڈیا ڈاکٹر نکولس کوکالس کو اتنا پسند آیا کہ دوسرے دن اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ مجھ سے ایک ڈیڑھ گھنٹے تک پراجیکٹ پر بات کی۔ اس وقت میں نے ڈاکٹر نکولس کے پائی نیٹ ورک کے نام پر سماجی رابطے کی اس ایپلیکیشن کا نام بھی ’پائی چیٹ‘ رکھ دیا، اور ڈاکٹر نکولس نے مجھے اس نام رکھنے کی خوشی سے اجازت بھی دی۔ مجھے یقین ہے کہ دنیا میں مستقبل پائی نیٹ ورک اور پائی چیٹ کا ہو گا۔“

آپ لوگوں کو کیسے یقیں دلائیں گے کہ ”پائی چیٹ جو پیسے کمائے گا وہ صارفین میں کیسے تقسیم کرے گا؟“ اس سوال پر رب نواز مسکرا دیے ”یقیناً اس بات پر یقین کرنا قدرے مشکل ہے کہ کوئی ایپلیکیشن پیسے تو کمانا چاہے گی بھلا صارفین میں پیسے تقسیم کیسے اور کیونکر کرے گی۔ میں اگر شروع سے سمجھاؤں تو 1970 کی دہائی میں اسٹیو جابز اور بل گیٹس ڈیسک۔ ٹاپ کمپیوٹر کے موجد بنے اور ان کو یہ پراڈکٹ مارکیٹ میں لانے اور منوانے میں کئی سال لگ گئے، پھر 1990 کی دہائی انٹرنیٹ ویب سائٹس یاہو، امیزون، گوگل وغیرہ کی دہائی رہی جس نے دنیا میں نیا انقلاب برپا کر دیا، پھر 2000 تک موبائل ایپلیکیشنز آ گئیں جس نے سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ 2009 سے کرپٹو کرنسی آ گئی ہے، سب کو یاد ہو گا کہ جب بٹ کوائن آیا تھا تو کوئی اس پر اعتبار نہیں کر رہا تھا، مگر اس وقت دنیا کی مارکیٹ اکانومی کا ایک بڑا حصہ بٹ کوائن پر آ گیا ہے، اب بٹ کوائن کے بعد ہزاروں اور کرپٹو کرنسیاں آ چکی ہیں، مگر اس تجربے سے عام آدمی سے زیادہ خاص یا پیسے والے لوگوں نے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ کرپٹو کرنسی میں پائی ایک نیا اضافہ ہے، اور پائی نیٹ ورک کا مالک ڈاکٹر نکولس دنیا بھر کے لوگوں میں اس وقت مفت یہ کرنسی تقسیم کر رہے ہیں، جو جلد ہی عالمی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی طرح ایک قیمتی کرنسی کا روپ دھار لیگی۔ اس کام پر دنیا بھر میں 150 سے زیادہ کمپیوٹر سائنٹسٹ اور ادارے کام کر رہے ہیں، ان میں ایک پائی چیٹ بھی ایک ہے۔ سماجی رابطے کی دیگر ایپلیکیشنز اور پائی چیٹ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پائی چیٹ اپنے ریونیو کو تمام صارفین پر تقسیم کرے گا، جو صارف صرف پائی چیٹ پر جتنا وقت صرف کرے گا، اس کو استعمال کرے گا، اس کے توسط سے خریداری کرے گا، حتا کہ یہ ایپلیکیشن خود بھی اشتہارات اور دیگر ذرائع سے جتنا بھی ریونیو بھی کمائے گی، اس کا حصہ بھی صارف کو ملے گا۔ ہاں اس میں ابھی تھوڑا وقت لگے گا، کیونکہ پائی کرنسی کو لانچ کیے جانے کے بعد یہ سب کچھ ممکن ہو سکے گا۔ ہم اس وقت وہ کام کر رہے جو فیس بک اور دیگر ایپلیکیشنز نے ابتدائی مراحل میں کیا تھا۔“

رب نواز پنہنیار انتہائی سادہ مزاج، فقیر طبیعت ایک ایسا پڑھاکو بچہ ہے جس کے گھر والوں اور دوستوں تک کو بھی اس بات کا پتا نہیں ہوتا کہ وہ جب گھر یا محفل میں ہوتا ہے تو ہمارے ساتھ ہوتا ہے یا کچھ اور سوچتا رہتا ہے۔ سماج میں انقلابی تبدیلی لانے اور دنیا کی دولت تمام اقوام میں منصفانہ طور پر تقسیم کرنے کا خیال ان کو خاندانی سرشت میں ملا ہے۔ نوجوان رب نواز سندھ کے مشہور سماجی رہنما اور لیفٹ کی سیاست کرنے والے مرحوم کامریڈ شاہجہان پنہنیار کا فرزند ہے۔ کامریڈ شاہجہان سندھ میں انسانی حقوق اور سماجی برابری کی جدوجہد کا اہم نام ہیں۔ جنہوں نے مرتے دم تک کئی بار گرفتاریوں، جسمانی اور ذہنی تشدد سمیت کال کوٹھڑیوں میں قید رہنے کے باوجود انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانا بند نہیں کیا۔ وہ ایک شاندار مقرر اور زبردست کالم نگار بھی رہے جس کے لکھی باتوں پر سندھ کے لوگ آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتے تھے۔

رب نواز پنہنیار نے اپنی سماجی رابطے کی ایپلیکیشن پائی چیٹ مکمل طور پر تیار کرلی ہے، جس کو انہوں نے پاکستان کی آزادی والے قومی دن 14 اگست 2021 کو لانچ کر دیا ہے۔ اب پائی چیٹ گوگل اسٹور پر موجود ہے، جبکہ اگلے مہینے تک ایپل اسٹور پر دستیاب ہوگی۔ سماجی رابطے کی اس ایپلیکیشن میں دنیا بھر سے ہزاروں ممبر ایک دوسرے سے چکے ہیں، اور روزانہ سینکڑوں لوگ شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ جس پر تمام فیچرز فیس بک والے ہی ہیں۔ نوجوان رب نواز سمجھتے ہیں کہ ”اگلا دور ہارڈ ویئر اور کاغذ کے نوٹوں یا کرنسی کا نہیں بلکہ ورچوئل سائنس اور کرپٹو کرنسی کا ہے، ہماری حکومت اپنی قوم اور ملک کے مستقبل کے لئے اس سلسلے میں یقیناً کچھ اچھا ہی سوچ رہی ہوگی، مگر اس دھرتی اور قوم کا ہم پر بھی ایک حق ہے، اور میں وہ حق ادا کرنا چاہتا ہوں۔ حکمرانوں اور عام لوگوں کو بھلے اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو کہ صرف فیس بک اور دیگر سماجی رابطوں کی ایپلیکیشنز پاکستان سے ہر سال ایک ارب ڈالرز کا ریونیو کما کر لے جاتی ہیں، ہم اگر صرف وہ ریونیو بچانے میں بھی کامیاب ہو گئے تو یہ کمال ہو گا۔ میں تو اتنا خوش فہم ہوں کہ اگر وفاقی سرکار کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی وزارت مدد کرے تو ہم ہر سال دس سے بیس بلین ڈالر کا ریونیو باقی دنیا سے کما کر ملک میں لا بھی سکتے ہیں۔“ بس ہمیں ماضی کو چھوڑ کر مستقبل میں جینا پڑے گا اور ہاں ہمیں نصاب نہیں نیتوں کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ ”


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments