عرب مسلمان مذہبی شدت پسند کیوں نہیں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم آج ”فریڈم آف ریلیجن“ اور ”فریڈم فرام ریلیجن“ کے دور میں جی رہے ہیں، ہم چاہے تسلیم کریں یا نہ کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ حقیقت یہی ہے کہ دنیا کی ترجیحات بدلتے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی جا رہی ہیں، اب اسے حالات کا جبر کہہ لیں یا ارتقائی پراسس، اگر ہم نے بھی آگے بڑھنا ہے تو پھر ہمیں بھی خود کو تبدیل کرنا ہو گا اور وہ تمام ذہنی بیریئر ہٹانے ہوں گے جو مستقبل کی حقیقی تصویر کو ”سموک سکرین“ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، جبری اخلاقیات مصنوعی تنفس کی طرح ہوتی ہے ان کے اندر کوئی دیرپا حل موجود نہیں ہوتا۔

ایشیائی چلن میں مذہبی جنونیت بہت زیادہ پائی جاتی ہے اور یہ مٹی ایسے لوگوں کے لیے بہت زیادہ زرخیز ہے جو نفرت کا کاروبار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، ہماری ذہنیت ان لوگوں نے اس قسم کی بنا دی ہے کہ ہمیں مہنگائی، چھوٹی بچیوں سے ریپ، شادی شدہ عورت کے ساتھ بچوں کی موجودگی میں گینگ ریپ، مدارس میں مولویوں کی چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، آئے روز بجلی کے بلوں میں اضافہ، بھوک کی وجہ سے لوگوں کا خودکشی کرنا، بے روزگاری میں اضافہ اور حکومتی نا اہلیوں سمیت جیسے بڑے بڑے مسائل سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان مسائل کے لئے کوئی بھی سڑکوں پر آ کر 126 دنوں کا دھرنا دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا مگر جیسے ہی ایک پرائمری اور درس نظامی کرنے والا ایک مولوی سپیکر پر یہ اعلان کرتا ہے کہ فرانس میں ایک ایک بدبخت نے ہمارے نبی کے گستاخانہ خاکے بنا دیے ہیں یا امریکہ میں فلاں بد بخت نے قرآن جلا دیا ہے تو اس پر ہماری سیدھی سادھی پبلک ڈنڈے اور پتھر لے کر غصے میں آگ بگولہ ہو کر سڑکوں پر نمودار ہو جاتی ہے اور اپنے ہی ملک میں گھیراؤ جلاؤ اور اپنی ہی املاک جو کہ انہی کے ٹیکس کے پیسوں سے بنتی ہیں توڑ ڈالتی ہے۔ ایسا کر کے انہیں ایک طرح کا ذہنی سکون ملتا ہے مگر فرانس یا امریکہ کا کیا بگڑتا ہے یہ سمجھ سے باہر ہے؟

سوال یہ ہے کہ دنیا میں تقریباً 22 کے قریب عرب ممالک موجود ہیں کیا وہاں مسلمان نہیں بستے؟ کیا ان گستاخانہ حرکتوں سے ان کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی؟ وہ سڑکوں پر آ کر مذہبی عقیدت کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟ کیا ان کے دل نبی و مذہب کی محبت سے خالی ہیں؟ وہ امریکہ یا فرانس کے سفیروں کو ملک سے نکالنے کی باتیں کیوں نہیں کرتے؟ ان کا ایمان و مذہب خطرے میں کیوں نہیں پڑتا؟ کیا ان کے مفتیان و عالم ہمارے مفتیوں جتنی فہم نہیں رکھتے؟ کیا ہمارے عالم عرب مفتیان سے زیادہ علم رکھتے ہیں؟

یہ وہ بڑے بڑے سوال ہیں جو کہ بہت ہی غور طلب ہیں اور ہماری بھولی بھالی پبلک کو سوچنا چاہیے کہ کہیں کوئی ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے تو نہیں لگا رہا اور ہمیں استعمال کر کے اپنی طاقت اور ویلیو کو دوگنا کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا؟ کیونکہ اگر آج مذہب واقعی خطرے میں ہوتا تو سب سے زیادہ جن کی رائے معتبر جانی جاتی وہ سعودی عرب کے مفتیان ہوتے اور وہ فتوٰی جاری کرتے کہ سب مسلمان ممالک کے باشندے سڑکوں پر آ جائیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا مگر ہمارے یہاں سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی بلکہ اب تو یہ رواج پڑ گیا ہے جس مذہبی گروہ کو پروموشن چاہیے ہوتی ہے وہ پندرہ یا بیس ہزار بندے لے کر سڑکوں پر آ جاتا ہے اور اپنی بین بجا کر ہائی لائٹ ہو جاتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون لوگ ہوتے ہیں جو ان لوگوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں اور کافی دنوں تک سڑکوں پر پڑے رہتے ہیں؟ تنخواہ دار، ملازمت یافتہ، دیہاڑی دار یا دکاندار قسم کے لوگوں کے پاس فالتو وقت بالکل نہیں ہوتا کہ وہ اپنی فیملیز کو چھوڑ چھاڑ کر کئی دنوں تک سڑکوں پر رلتے رہیں۔ اب یہ ایک بہت بڑا سوال ہے تو پھر یہ کون لوگ ہیں؟ ریاست کو کھوج لگانی چاہیے کہ ان فارغ لوگوں کا ذریعہ معاش کیا ہے؟ کیونکہ ایک بات تو طے ہے کہ مذہب خطرے میں بالکل نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا کے اس دور میں چکر کچھ اور ہی ہے، کہیں یہ شہرت کا نشہ تو نہیں ہے؟

انجینئر علی مرزا اور مفتی مسعود کی کلپ بازیاں اسی نشے کا شاخسانہ ہے اور ان دونوں کے چکر میں سینکڑوں دفاعی چینل کھل چکے ہیں، دنیا میں پنپنے کے کیا طریقے ہیں آپ سعودی عرب سے سیکھ لیجیے جس نے آہستہ آہستہ ”جبری سپرنگ“ سے ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا ہے، خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت، حج پر عورت کو محرم کے بغیر جانے کی اجازت، سینما گھروں کا کھلنا اور شراب خانے کھولنے تک کی اجازت دے دی گئی ہے، گزشتہ دنوں وہاں ایک سینما گھر کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جہاں پر ”دروازے توڑ“ رش تھا۔

یہ سب زندگی کے رنگ ہیں اور کسی کو بھی یک رنگی سے جینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، یہ حقیقت ہے کہ اگر بدلتی دنیا کی صفوں میں ہم نے اپنی جگہ بنانی ہے تو ”گلوبل اپروچ“ کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہو سکتا، اس کے لئے ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی اور ایسے لوگوں کا محاسبہ کرنا ہو گا جو ہمیں ”ایموشنل فول“ بنا کر کوٹھی اور بنگلوں کے مالک بن جاتے ہیں اور غریب پبلک بیچاری قطار میں لگ کر دو وقت کا آٹا خریدنے میں مصروف رہتی ہے۔

یہ سب وہ لوگ ہیں جو ہماری جہالت کو کیپٹلائز کر کے اپنی ”سوشل سٹینڈنگ“ بناتے ہیں یہ تو اس کے عوض بہت کچھ وصول کرلیتے ہیں مگر ہمیں اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، غور طلب بات یہ ہے کہ بطور مسلمان ہمیں اپنی ذہنی مہار کسی ایرے غیرے کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے بلکہ خود دین کی فہم حاصل کرنی چاہیے کیونکہ آج کے دور میں قرآن کی تفاسیر و تراجم اور احادیث کا مجموعہ انٹرنیٹ پر موجود ہے آپ خود مستفید ہو سکتے ہیں، ہمیں ان ڈنڈا بردار محافظان دین کو سمجھانا چاہیے کہ اسلام اور نبی کی عصمت خطرے میں نہیں ہے بلکہ وہ محفوظ ہے اس لیے آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments