مہنگائی غربت بے بسی اور بے حسی کی کہانی

یہ میں اور چچا خدا بخش اتفاق سے ایک ساتھ مقامی یوٹیلٹی اسٹور میں داخل ہو رہے ہیں۔ چچا خدا بخش میرے ہمسائے ہیں اور اسلام آباد کے نواحی علاقے میں یہ یوٹیلٹی اسٹور اگرچہ ہمارے گھر سے کافی دور ہے لیکن بیس روپے بچانے کے چکر میں، میں اور چچا خدا بخش اور بیسیوں دوسرے لوگ اس سرکاری اسٹور سے ہی سودا سلف لیتے رہے ہیں۔
دو سال پہلے تک ہمارے گھر کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک اسٹور ہوا کرتا تھا لیکن پھر تبدیلی آئی اور وہ اسٹور ختم کر دیا گیا۔ صرف وہ نہیں بلکہ ملک بھر میں سینکڑوں ایسے ہی یوٹیلٹی اسٹورز ختم کر دیے گئے۔
خیر دیکھیے آج یہ اسٹور بھی خالی خالی نظر آ رہا ہے۔ دو مہینے پہلے تک اس اسٹور میں چیزیں دستیاب ہوتی تھیں آج الماریاں خالی پڑی ہیں۔ چچا خدا بخش کو ایک تھیلا اٹا ایک کلو گھی ایک دو کلو چاول چاہیے۔ تینوں اشیا غائب ہیں۔ مجھے جو چار پانچ چیزیں چاہیے تھیں ان میں سے صرف ایک دستیاب تھی۔ چچا خدا بخش کے چہرے پر پریشانی کو تو دروازے سے داخل ہوتے ہوئے ہی میں نے محسوس کیا تھا جب انھوں نے فکرمند انکھیں اٹھائے میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے ’کی حال اے پتر تاڑا‘ کہا تھا اور پھر میرے پوچھنے پر ’شکر، شکر‘ کا تکرار کر کے خاموش ہوئے تھے۔
مقامی محاورے میں شکر عام مستعمل ہے جس کا مطلب ضروری نہیں کہ بندہ بالکل خوش باش اور خوشحال ہے بس کسی بھی حال میں شکر کرتے رہنا چاہیے۔ یہی صابرین کا طرز کلام ہوتا ہے۔ مگر چچا خدابخش کو شکر یعنی چینی بھی چاہیے جس کے بغیر چچا صبح ناشتے میں ایک آدھ پراٹھے کے ساتھ چائے نہیں پی سکتا مگر چینی دستیاب نہیں ہے۔ ”ابھی ابھی ختم ہو گئی جناب“ ۔ یہ اسٹور کے سینئر مینجر مجھے بتا رہا ہے۔ چچا خدا بخش پریشانی کی وجہ سے خاموش ہے۔
کیونکہ صبح صبح میں نے خود اپنے ہمسائے شہزاد صاحب کی دکان سے چینی خریدی تھی ایک کلو 160 روپے تھی۔ شہزاد صاب نے کہا، شاہ صاب 170 کی ہو گئی ہے آپ کو 160 کی دے رہا ہوں۔ میں نے کوئی بات نہیں کی۔ کیونکہ آج کل ہر صبح اٹھتے ہی اپ کسی اور چیز کی توقع کریں یا نہ کریں لیکن تبدیلی کی توقع ضرور رکھ سکتے ہیں۔ یعنی تبدیلی ہر صبح شام دوپہر ہر وقت اتی رہتی ہے، اس دن رات کو پٹرول پر اٹھ روپے فی لیٹر کے ساتھ آئی تھی۔
بہرحال یوٹیلٹی اسٹور کے سینئر منیجر سے میں پوچھ رہا ہوں، ”لیکن جناب گھی چاول دالیں اٹا کچھ بھی نہیں ہے اپ کے پاس“ ؟ ”اٹا تو دو مہینے سے نہیں آ رہا میں تو مسلسل ریکویسٹ بھیج رہا ہوں لیکن نہیں آ رہا ہے“ ۔ یہ صاحب مسکراتے ہوئے مجھے بتا رہا ہے۔ ماحول مایوس کن ہے اور اس میں چچا خدا بخش کے فکرمند چہرے نے مزید اضافہ کیا ہوا ہے۔ مجھے اپنی فکر نہیں ہے کیونکہ میں ایک اکیلا آدمی ہوں۔ چچا خدا بخش کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ایک عدد بیگم بھی ہے۔
دو بچے بالترتیب ساڑھے سات اور نو سال کے ہیں اور بچیاں بھی کچھ بڑی نہیں دس گیارہ بارہ سال کی ہوں گی۔ چچا ابھی ساٹھ سال کی عمر میں داخل ہوچکے ہیں۔ چند سال پہلے تک ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتے تھے پھر ’ضعیف العمری‘ کی وجہ سے کمزور پڑ گئے اور کمپنی نے کام سے نکال دیا اور اب چچا ایک ریڑھی پر کچھ پھل فروٹ بیج کر گزارا کر رہے ہیں۔
اسٹور سے میں نے ایک دو چیزیں خرید کر کا ؤنٹر پر بل دینے آیا تو رسید میں ایک فقرے کا اضافہ تھا یعنی ”سبسڈی۔ 29 روپے“ ۔ مجھے انتیس روپے کی سبسڈی ملی ہے۔ مگر غور کرنے سے مضحکہ خیز معاملہ، معاف کیجئے گا، تبدیلی نظر اتی ہے۔ یعنی جس چیز کی قیمت ایک سو ستر روپے تھی اس کی قیمت پہلے دو سو اسی روپے کردی گئی ہے۔ اور پھر اس دو سو اسی روپے میں سے مجھے سبسڈی ملی ہے۔ دس روپے بقایا نقدی کے بجائے ٹافیاں پکڑائی جا رہی ہے۔ دل کرتا ہے نانا پاٹیکر کی طرح پوچھوں ’کیا ہے یہ! لیکن خیر یہ ہم خودی کو بلند کر کے اس اسٹور سے نکل آئے۔
اسٹور کے منیجر نے مزید بتایا تھا کہ آٹا آ بھی جائے تو ہمارا کوٹہ ایک سو چالیس تھیلا ہے اور وہ اس پورے شہر کے لئے ناکافی ہے۔ فقط ایک سو چالیس تھیلا! مجھے معلوم ہے چند مہینے پہلے رمضان کے مہینے سبسڈائیزڈ چینی اٹا لینے کے لئے خواتین و حضرات یہاں ہی باہر ایک آدھ کلو میٹر لمبی لائن لگا کر کھڑے رہتے تھے۔ میں نے ان کی ایک عدد تصویر کھینچی تھی اور دل ہی دل میں کہا تھا اس قوم کی قسمت میں ذلت و رسوائی ہی کیوں لکھی ہے؟
خیر آج کل ایک طرف مہنگائی اور بے روزگاری کی چیخ و پکار ہے تو دوسری طرف بتایا جا رہا ہے کہ دنیا میں جو مہنگائی ہے اس کے مقابلے میں پاکستان میں تو ہے ہی نہیں۔ بہرحال ان کی بات بھی صحیح ہو سکتی ہے اور ان کی بھی۔ کیونکہ آج تک اس ملک میں کوئی ایسا پیدا ہی نہیں ہوا جس کی بات غلط ہوئی ہو۔
دوسری طرف زمانہ ایسا ہے کہ یہاں سارے دلیل بیکار اور ساری منطق فضول ہے۔ آپ کہہ دیں کہ امریکہ میں مہنگائی ہے تو روزگار بھی تو ہے۔ برطانیہ میں مہنگائی ہے تو سہولیات بھی تو ہے سعودیہ میں مہنگائی ہے تو لوگوں کو ریاست مدد بھی فراہم کر رہی ہے۔ ایران میں مہنگائی ہے تو سوشل سکیورٹی بھی تو ہے۔ بنگلادیش میں مہنگائی ہے تو کم از کم آمدنی بھی تو ہے۔ سب بیکار ہے سب فضول ہے۔ یہ کہنا بھی فضول ہے کہ چینی مزدور کے پانچ دن کی تنخواہ اور پاکستانی مزدور کے مہینے یا ایک سوئزرلینڈ کے ایک شہری کے ایک گھنٹہ کی تنخواہ اور پاکستانی مزدور کے ایک مہینہ کی تنخواہ برابر ہے۔
یہ سب بھی دیوانے کی بڑ ہے یا طوطی کی آواز نقار خانے میں۔ بھلا شاہ جہاں یا جلال الدین اکبر اور ان کے چیلوں کا عوام الناس کے مسائل سے کیا دلچسپی؟ زیادہ سے زیادہ ہمدردی ہو تو حاکم وقت مہنگائی کو ٹالنے کے لئے صدقہ خیرات دے سکتا ہے بس! دیکھ لیں ڈالر 178 پر ہے مہنگائی بے روزگاری اور غربت ہمالیہ کی چوٹی سے اوپر گئی لیکن دوسری طرف فارما کمپنیوں شوگر مافیا اور ایگریکلچر مافیا اور رئیل اسٹیٹ کے ٹائیکونز اور دوسرے مافیاز کے وارے نیارے ہو رہے ہیں۔ اور سب پر مستزاد حاکم وقت کی بے حسی (بے بسی؟ ) معنی خیز ہے!

