علما اور ویڈیو گیمز


آج کل قوموں کے عروج و زوال پر نگاہ رکھنے والے علما پریشان ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے ہتھے چڑھ کر نئی نسل گمراہ ہو رہی ہے۔ وہ لہو لعب میں پڑ چکی ہے۔ نیک اعمال کی راہ ترک کر چکی ہے۔ بلکہ انتہا ہی کہ کفار کے پروپیگنڈے سے اس حد تک گمراہ ہوئی ہے کہ اسے حیات بعد الموت پر یقین ہی نہیں رہا ہے۔ کہتی ہے کہ جو ہے اسی دنیا میں ہے۔ مولانا طارق جمیل جیسی جنت کا نظارہ کھینچتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ویسی تو اس دنیا میں بھی مل جاتی ہے۔ پینے کو شراب بلکہ اس سے کہیں کارگر سفوف، اور حور شمائل حسیناؤں کی بھلا یہاں کیا کمی ہے کہ لڑکا ان کے حصول کی خاطر فوت ہونے کا انتظار کرے۔

بلاشبہ یہ ایک گمبھیر مسئلہ ہے جس نے علما کو پھنسا دیا ہے۔ ہماری رائے میں اس کی وجہ یہ ہے کہ علما جدید دور سے کٹے ہوئے ہیں۔ انہیں نوجوانوں کی سوچ اور زندگی سے واسطہ نہیں پڑا اور انہیں قطعاً اندازہ نہیں کہ نوجوانوں سے کیسے بات کی جائے۔ ہم اس معاملے میں کچھ راہنمائی کیے دیتے ہیں۔

علما کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ حیات بعد از موت پر سب سے زیادہ پختہ یقین ویڈیو گیم کھیلنے والے نوجوانوں کا ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ گیم اوور کی موت کے بعد نئی زندگی ان کی منتظر ہو گی جو پچھلی زندگی سے بہتر ہو گی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ گیم کی دنیا میں ہر مرتبہ مرنے کے بعد ان کا تجربہ ان کی صلاحیت بڑھا دیتا ہے اور یوں ہر نئی زندگی پہلی سے بہتر ہوتی ہے۔ جیسے ہی بندہ مرے، تو محض ایک بٹن دبانے سے وہ نئی زندگی پا لیتا ہے اور نئے سرے سے اپنے مشن میں جت جاتا ہے۔

اب وہ پیغمبروں اور معجزوں کا دور تو رہا نہیں کہ حیات بعد از موت کا سوال پوچھنے والے اور اس کے گدھے کو مار دیا جائے اور ایک صدی بعد دوبارہ زندہ کر دیا جائے کہ بوسیدہ ہڈیوں میں بھی جان پھونکنا قادر مطلق کے لیے ناممکن نہیں۔ اب نوجوانوں کو یہ بتایا جا سکتا ہے کہ جس طرح ویڈیو گیم میں ایک کردار مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھتا ہے، ویسا ہی ماجرا یوم قیامت پر پیش آئے گا۔ نوجوان جیتی جاگتی گواہی اپنی سکرین پر دیکھیں گے تو انہیں یقین کرنے میں دشواری پیش نہیں آئے گی۔

افسوس علما جدید زمانے سے کٹنے کے سبب ویڈیو گیمز کی دینی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتے۔ امید ہے کہ جمعے کے خطبات میں ویڈیو گیم کھیلنے کے فضائل بیان کیے جانے لگیں گے اور نوجوانوں پر زور دیا جائے گا کہ فواحش میں مبتلا ہونے کی بجائے جی بھر کر ویڈیو گیم کھیلا کریں۔ بزرگوں کو سمجھایا جائے گا کہ نوجوانوں کو ویڈیو گیم کنسول، موبائل اور کمپیوٹر خرید کر دیے جائیں تو اس کا ثواب ملے گا۔ یوں تبلیغ بھی کامیاب ہو گی اور نوجوان اس سے خوب متاثر بھی ہوں گے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar