ماحولیاتی تبدیلیاں : گریٹا تھنبرگ بنام میڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماحولیاتی مسائل کے تناظر میں میڈیا کا کردار گزشتہ کچھ دہائیوں سے زیر بحث آتا رہا ہے اور اس حوالے سے شعبہ ابلاغیات میں تحقیقی کام بھی جاری ہے۔ جس کے ذریعے ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے میڈیا کے کردار کی اچھائیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔ اکثر محققین اور تجزیہ نگار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ سماج کی توجہ ماحولیاتی مسائل کی طرف مائل کرنے، عوام الناس کو ماحولیاتی مسائل کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور ان مسائل کے حل کے حوالے سے سماجی، سیاسی اور حکومتی سطح پر مکالمہ شروع کروانے میں میڈیا کے کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ داری نظام کے اصولوں پر کاربند کاروباری میڈیا کے مجموعی کردار کو ماحولیاتی کارکنوں اور سائنسدانوں کی طرف سے اکثر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ خاص طور پر یہ اعتراض عام طور پر سننے کو ملتا ہے کہ بڑی بڑی صنعتوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی آلودگی اکثر ان کی طرف سے ملنے والے اشتہارات کی چمک دمک کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عالمی میڈیا بڑے عرصے تک انسانی سماج کو ماحولیاتی مسائل کی سنگینی کا احساس دلانے میں ناکام رہا ہے۔

سیاست، جنگ یہاں تک کہ بسا اوقات کھیل و تفریح کی خبروں کو ماحولیات سے زیادہ اہمیت ملتی تھی جس کی وجہ سے ماحولیاتی بحران بڑے عرصے تک عالمی سیاست کے ایجنڈا سے غائب رہا۔ میڈیا ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سے لے کر قدرتی آفات تک مختلف مسائل کو کوریج تو دیتا رہا ہے لیکن اکثر ان مسائل کا ماحولیاتی پس منظر بیان ہونے سے رہ جاتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ماحولیاتی مسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کو میڈیا میں کافی پذیرائی ملی ہے اور دنیا بھر کے بڑے بڑے اخبارات، نشریاتی اداروں اور ویب سائٹس کی طرف سے اب ماحولیات کے حوالے سے خصوصی صفحے اور سیکشنز بھی مختص کیے جاتے ہیں اور کئی اداروں میں ماحولیات کی بیٹ پر اس شعبے میں خاص مہارت رکھنے والے صحافی کام کرتے نظر آتے ہیں۔

لیکن ماحولیاتی کارکنوں کی میڈیا سے شکایات اب بھی برقرار ہیں اس حوالے سے گزشتہ دنوں سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے میڈیا کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس کی عالمی سطح پر کافی تشہیر ہوئی ہے۔ گریٹا نے یہ خط یوگنڈا کی ماحولیاتی انصاف کے لیے جہدوجہد کرنے والی کارکن ونیسا ناکاتے کے ساتھ مل کر لکھا ہے۔ یہ خط ماحولیاتی کوریج کے حوالے سے میڈیا کے بنیادی مسائل اور خامیوں کا اچھے طریقے سے احاطہ کرتا ہے۔ خط کے آغاز میں وہ عالمی میڈ یا کے مدیران کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ پگھلنے والے گلیشیئرز٬ جنگلوں میں لگنے والی آگ٬ قحط٬ موت مار گرمی کی لہریں ٬ سیلاب٬ سمندری طغیانی٬ حیاتیاتی تنوع کا خاتمہ یہ سب ہمارے سیارے کے غیر مستحکم ہونے کی نشانیاں ہیں۔

اور یہ سب کچھ ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے آپ ان واقعات کی کبھی کبھار کوریج تو کر رہے ہیں لیکن اصل میں ماحولیاتی بحران اس میڈ یا کوریج سے بہت بڑا ہے۔ ماحولیاتی بحران کی موثر انداز میں کوریج کے لیے میڈیا کو کچھ بنیادی مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے جس میں وقت کی اہمیت، خبر کی جامعیت اور انصاف کے ساتھ کوریج کے معاملات شامل ہیں۔

سب سے پہلے اس خط میں وقت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ مصنفین کے مطابق ماحول کے حوالے سے صحافتی کہانیوں میں اگر گھڑی کی ٹک ٹک شامل نہ ہو تو ماحولیاتی بحران بھی دیگر سیاسی مسائل کی طرح ایک عام موضوع بن جاتا ہے۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب درجہ حرارت میں اضافے کو ڈیڑھ سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کے لئے ہمارے پاس صرف اس دہائی کے آخر تک کا وقت ہے ماحولیاتی بحران کے حوالے سے وقت کی اہمیت کو اجاگر کرنا بہت ضروری بن جاتا ہے

خط میں دوسری اہم بات ماحولیاتی خبر میں ضروری تفصیلات اور اعداد و شمار کی کمی سے متعلق ہے۔ خط کی مصنفین کے مطابق اس وقت میڈیا ماحولیاتی بحران کے کئی زاویوں کو نظر انداز کر رہا ہے اور اس طرح کی غیر جامع رپورٹنگ امیر ملکوں اور بڑے آلودگی پھیلانے والے اداروں کو نا مکمل اعداد و شمار٬ صحافتی خامیوں اور لفاظی کے پیچھے چھپنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔

خط میں تیسری اہم بات انصاف سے متعلق ہے ٬ جس کے مطابق ماحولیاتی بحران صرف شدید موسمی واقعات سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ بحران لوگوں سے متعلق ہے ٬ جیتے جاگتے لوگوں سے متعلق۔ ایسے لوگوں سے متعلق ہے جن کا یہ بحران پیدا کرنے سے خاص تعلق نہیں ہے لیکن ایسے لوگ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ایسے لوگوں خاص طور پر جنوب کے غریب ممالک کے ماحولیاتی مسائل عالمی اخبارات کے اگلے صفحوں پر بہت کم نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں میڈ یا کیلیفورنیا اور آسٹریلیا میں لگنے والی آگ اور یورپ میں آنے والے سیلاب کو تو بھرپور کوریج دیتا رہا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں سے برپا ہونے والی قدرتی آفات سے متاثر دنیا کے جنوبی حصے کی آبادیوں کی مشکلات عالمی میڈ یا میں بہت کم نظر آئیں۔

اس کے علاوہ انصاف پر مبنی کوریج کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو یاد دلایا جائے کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں تیزی سے کمی کرنا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس طرح آلودگی اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا تاریخی تناظر بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آلودگی پیدا کرنے میں حصہ داری کا تاریخی پس منظر میڈ یا کی طرف سے مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے۔ مزید برآں ہمیں اپنی دھرتی کو بچانے کے لئے فوری طور پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کو یقینی بنانا ہے ٬ لیکن اس حوالے سے عالمی سطح پر درپیش ناکامیوں کو میڈیا کی طرف سے اجاگر نہیں کیا جا رہا۔

خط کے آخر میں ماحولیاتی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لئے میڈ یا کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے بحران کے حل کے لیے آخری امیدوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ محدود وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بات پہچانے کی طاقت صرف میڈ یا کے پاس ہے۔ اب یہ میڈ یا پر منحصر ہے کہ وہ ماحولیاتی بحران کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے یا نہیں لیکن دونوں صورتوں میں انسانی معاشرے کے اس اہم ادارے کا کردار تاریخ کی نظروں سے اوجھل نہیں رہے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments