معذوری۔ ہمت و حوصلہ یا کاروبار


کہا جاتا ہے کہ عذر گناہ بد تر از گناہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک تو بندہ گناہ یا غلطی کرے اس کے اوپر پھر ایسے عذر تراشے بہانے بنائے حیلے جوڑے کہ اپنی غلطی اور گناہ کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کے لئے جواز بناتا رہے۔ ایسے لوگ جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اس کے لئے جواز ڈھونڈتے ہیں زندگی بھر غلطیوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ بد قسمتی سے ہمارے پشتون معاشرے میں یا تو معذور افراد کی تعداد دنیا بھر کے مقابلے میں زیادہ ہے کیونکہ کسی بھی سڑک چوراہے یا گلی میں چھوٹی موٹی معذوری کے شکار درجنوں لوگ خیرات مانگتے نظر آتے ہیں۔

یا پھر شاید ہم نے غیرت اور خود داری کے نام نہاد دعووں کے برعکس اپنے ان معذور افراد کو ہمت و حوصلہ دینے کی بجائے اپنے لئے آسان کاروبار بنا کر معاشرے کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اور بجائے اس کے کہ گھر کے باقی صحت مند افراد اس معذور فرد کا بوجھ اٹھائے ہم میں سے اکثر اس کی معذوری کو کمائی کا ذریعہ بنا کر پورے خاندان کا وسیلہ رزق بنا دیتے ہیں۔ اس پر گھر اور خاندان کے صحت مند افراد کو نہ کوئی شرم محسوس ہوتی ہے نہ یہ انہیں کوئی غلط لگتا ہے۔

نہ معاشرے کے دیگر افراد کے جذبات کا استحصال کر کے پیسے بٹورنا انہیں حرام کی کمائی لگتی ہے۔ معاشرے کے مخیر اور صحت مند افراد لاکھ احتیاط کے باوجود بھی ان لوگوں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔ اور گزشتہ ہفتے ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری ہونے والے تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صرف پشاور میں پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد آٹھ سو سے ایک ہزار کے درمیان ہے۔ ان پیشہ ور بھکاریوں میں سینکڑوں لوگ ایسے ہیں جن کی ماہانہ کمائی ایک لاکھ سے تین لاکھ کے درمیان ہے۔

مگر اس کے باوجود وہ اس نفع بخش کاروبار سے کنارہ کش ہونے اور حقیقی حقدار کے لئے جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کیونکہ اس میں صرف معذور افراد نہیں ان کے خاندانوں سمیت باقاعدہ گینگ اور ٹھیکیدار ملوث ہیں۔ اب ان تمام بنیادی معلومات کے باوجود انتظامیہ اس کی روک تھام سے پہلوں تہی کیوں کر رہی ہے۔ یہ خود سوالیہ نشان ہے۔ ؟ کیا اس حرام کی کمائی سے خود انتظامیہ کے بعض افراد کو حصہ تو نہیں ملتا؟ یہ معاشرے میں موجود معذور افراد کی ایک شکل ہے جس کی وجہ سے پورا معاشرہ بھکاری اور دھوکہ باز نظر آتا ہے۔ اور جنھوں نے باقی معاشرے اور صحت مند افراد کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ کہ ان کے دینے والے پیسے کس کو اور کیوں مل رہے ہیں کیا یہ واقعی حقدار ہیں یا نہیں؟

اب معاشرے میں موجود کچھ حقیقی معذور افراد بھی ہے جن کی خود داری غیرت اور ہمت دیکھ کر صحت مند افراد بھی رشک کرتے ہیں۔ نہ صرف ان افراد کی ہمت و جرات پر بلکہ ان کے خاندان والوں اور اس ادارے کی تربیت پر جس نے ان لوگوں کو اس قابل بنایا اور دوسروں کی محتاجی سے بچایا بلکہ وہ معاشرے پر بوجھ بننے کی بجائے معاشرے کو کچھ دینے کے اہل ہو گئے۔

میں ذکر کر رہا ہوں پیرا پلیجک سنٹر حیات آباد کا اور اس میں داخل یا اس سے فارغ ہونے والے ان سینکڑوں ریڑھ کی ہڈی کے مریضوں کا جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنے پاؤں پر چلنے سے تو معذور ہیں مگر ان کا ہمت و حوصلہ نہ صرف قابل رشک بلکہ دوسروں کے لئے قابل تقلید ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے پشاور میں منعقدہ انتیسویں سپیشل سپورٹس فیسٹیول میں فرینڈز آف پیرا پلیجک کے تیرہ رکنی دستے نے نو، سونے اور چار، چاندی کے تمغے حاصل کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

انھوں نے دنیا پر ثابت کیا کہ ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔ پاؤں پر چلنے سے معذور ان افراد کے کارنامے اگر ایک طرف ان کے خاندان والوں اور پیرا پلیجک سنٹر کے لئے قابل فخر ہے تو دوسری جانب یہی کارنامے ان لاکھوں افراد اور ان خاندانوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ جنھوں نے اپنی معمولی معمولی معذوری کو ذریعہ روزگار بنا کر خیرات مانگنے کو بطور پیشہ اپنا لیا ہے۔ پیرا پلیجک سنٹر حیات آباد اور فرینڈز آف پیرا پلیجک ایک ایسے ادارے اور تنظیم کا نام ہے جہاں پرکٹوں کو اڑنا سکھا یا جاتا ہے۔

جہاں مایوسی کو یاس میں بدلا جاتا ہے۔ جہاں حقیر سمجھنے والوں کو عظیم بنایا جاتا ہے۔ جہاں مانگنے والوں کو دینے کا اہل بنایا جاتا ہے۔ جہاں لوگ محبت خودداری اور اپنا بوجھ خود اٹھانا سیکھتے ہیں۔ اللہ تعالی اس ادارے کو قائم و دائم رکھے تاکہ معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کو گلے لگانے کا سلسلہ قائم رہے۔ خراج تحسین ہے ان تمام تمغے جیتنے والوں کو جنھوں نے نہ صرف اپنا اور اپنے ادارے کا نام بلند کیا بلکہ انھوں نے لاکھوں معذور افراد کو جینے کا گر سکھا یا۔ ویلڈن فرینڈز آف پیرا پلیجک۔

Facebook Comments HS