پوائنٹ زیرو زیرو پرسنٹ
اس کے سامنے تین راستے تھے، ایک، بزرگوں سے سنی حکایتوں بھری تربیت پر عمل کرتا۔ دو، کوئی بہانہ کر دیتا۔ تین، سب کچھ پس پشت ڈال کر دو چار گھونٹ چڑھا لیتا۔ اس نے لمحہ بھر کو سوچا، قہقہہ لگایا اور تیسری آپشن پر عمل کا ارادہ کیا۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ آپ کے سامنے ہے۔ اس پورے تھیسس سے کیا حاصل ہوا؟ بالکل ٹھیک، ایک ایسا تجربہ جو بتاتا ہے کہ ہم جو مرضی کر لیں عادت ایک بار لگ جائے تو پھر جاتی نہیں۔
اگر ان سطور میں آپ کو کوئی خاص رنگ نظر آ رہا ہے تو قصور آپ کا ہے نہ میرا، معاملہ ہی کچھ ایسا آن پڑا ہے۔
آسٹریلیا میں پرانے زمانے میں بومیرنگ نامی لکڑی کا ایک ہتھیار استعمال ہوتا تھا، بلکہ اب بھی ہے، جس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے جہاں سے پھینکا جائے گھومتا ہوا وہیں واپس آتا ہے، اس لیے پھینکنے والا یا تو وہاں سے ہٹ جاتا یا پھر اس کو کیچ کر لیتا ہے۔ ایسے میں ذرا سی لاپرواہی پھینکنے والے کو ہی شکار بنا سکتی ہے۔
کچھ بیانات اور اعمال بھی بومیرنگ کی طرح ہوتے ہیں، خصوصاً کیمرے اور مائیک کے دور میں، کچھ بول دیں یا کر دیں، وہ چیز کہیں جاتی نہیں، ہوا میں گھومتی رہتی ہے اور تب تک آپ کے پاس واپس نہیں آتی جب تک آپ اس سے الٹ کوئی قدم نہیں اٹھا لیتے۔ اس کے بعد وہ الفاظ یا عمل کسی اڑتے ہوئے تیر کی طرح آپ کے پیچھے آتا ہے۔
موجودہ متقدر جماعت اور وزیراعظم اس معاملے میں ورلڈ چیمپیئن ہیں، ان کے ایسے آڈیو، ویڈیو اور تحریری بیانات روز ہی مختلف شکلوں میں آتے ہیں، تاہم ان کے پاس یوٹرن کی شکل میں کسی حد تک بچاؤ کا ہتھیار بمع اس توجیہہ کے کہ ’وہ بڑا لیڈر ہی نہیں جو یو ٹرن نہیں لیتا‘ موجود ہے، اس لیے بچت ہو جاتی ہے، لیکن پچھلے دنوں ایسا ہی بومیرنگ ایک مشہور صحافی، کالم نگار، اینکر، مصنف، ادیب اور خیر سے موٹیویشنل سپیکر (مائنڈ چینجر) کی طرف بھی لپکا ہے۔
خبر آئی کہ ان کے صاحبزادے نے پی پلا کر اور سکول میں گھس کر خواتین اساتذہ پر تشدد کیا، جس پر گرفتار کیا گیا اور ایف آئی آر کی کاپی بھی اس وقت سوشل میڈیا پر گھوم رہی ہے۔
مجھے یقین اس لیے نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی صاحب ہیں، جن کے کالم میٹرک کے دور میں پڑھ پڑھ کے صحافت کی طرف آنے کا ارادہ کیا تھا یہ اور بات کہ تخیلی اور عملی صحافت میں اتنا ہی فرق ہے جتنا جون میں اے سی والی گاڑی کے ڈیڑھ فٹ شیشے کے پیچھے سے ملتان کا سفر انجوائے کرنا اور گاڑی خراب ہونے پر نکل کر دھکا لگانا۔ اس مثال کا ماخذ بھی موصوف مصنف کا ایک کالم ہی ہے۔
بہرحال یہ صاحب کس حد تک پہنچے ہوئے ہیں اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجیے کہ ان کی ایک سیلفی بہت مشہور ہوئی تھی جس میں انہوں نے وزیراعظم، آرمی چیف کو بھی اپنے پیچھے رکھا تھا اور چشمے سے بھی زیادہ چمکدار ان کی مسکراہٹ تھی۔
یہ صاحب الفاظ کے جادوگر ہیں یا پھر یوں کہہ لیں کہ پیر ہیں، لفظ ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں، اور وہ انہیں ایسے ہی انداز میں حکم دیتے ہیں جیسے کوئی چوہدری کسی کو کہتا ہے کہ ’جا او حقہ تازہ کر کے لے آ‘
یہ بہت لمبی چوڑی فین فالوونگ رکھتے ہیں اور ان کا ایک کالم یا ایک پروگرام ہی رائے عامہ کو زیر و زبر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
ان کے کالم کس حد تک عام فہم اور عوامی ہوتے ہیں اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ شروع کرتے ہی آپ کو لگے گا کہ آپ آبپارہ والے اتوار بازار میں گھس گئے ہیں، جہاں دل کے بند والو کھولنے والی عجوہ کھجور کی پیسٹ بھی ملے گی اور وہ منجن بھی جو مسواک کی اضافی طاقت رکھتا ہے، یہاں آپ کو وہ کتابچہ بھی بغیر ڈھونڈے ملے گا جو بتائے گا کہ ڈیڑھ سو روپے سے ڈیڑھ کروڑ کیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اسامہ بن لادن کے حالات زندگی، طالبان کے مشن، استنبول کی مساجد، تیزاب کے جلد پر اثرات، نفسیاتی الجھنوں، صوفی ازم، مذہب، تقدیر، تدبیر اور دنیا و آخرت کی گتھیاں بھی ایسے سلجھیں گی جیسے چیونگ گم کا ریپر اترتا ہے۔
مختصر یہ کہ موصوف نے سب کچھ ہی بتا رکھا ہے اور بتا بھی رہے ہیں لیکن پھر جانے کس نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ موٹیویشنل سپیکر بھی بن سکتے ہیں۔
چونکہ اشفاق احمد، پروفیسر رفیق اختر، بابوں اور صوفیوں سے خاصے متاثر ہیں اس لیے انہوں نے اس والی سپیکری میں بھی زبردست نام کمایا۔
کچھ عرصہ پیشتر ان کا ایک وی لاگ بچوں کی تربیت کے حوالے سے دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں حسب معمول انہوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جو انہی کے ساتھ پیش آیا جبکہ مرکزی کردار ہمیشہ کی طرح بے نام، بے مقام رہے۔
بقول ان کے ایک خاتون اپنے بچے کو ان کے پاس لائیں اور کہا کہ جب یہ کسی بزرگ شخص کو دیکھتا ہے تو بڑے عجیب مضحکہ خیز انداز میں کھانستا ہے جس سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق بچے کو نفسیات دانوں کو بھی دکھایا گیا لیکن کچھ فرق نہیں پڑا۔ ان کے پاس لانے کا مشورہ بھی یقیناً نفسیات دانوں نے ہی دیا ہو گا۔
خیر، انہوں نے خاتون سے پوچھا کہ اس نے ایسا پہلی بار کب کیا تھا؟ جواب ملا جب یہ شاید ایک سال کا تھا، میرے والد بیمار تھے اور اسی انداز میں کھانستے تھے، یہ ان کو کاپی کرتا تھا جس پر سب ہنستے تھے۔
وہ فوراً ہی مسئلے کی جڑ تک پہنچ گئے تھے اور بتایا کہ آپ نے حوصلہ افزائی کر کے خود ہی بچے میں یہ عادت ڈالی ہے اس لیے یہ اب زندگی بھر رہے گی، یہ اگر حقیقی انداز میں کبھی کھانسے گا تو ایسے ہی کھانسے گا کیونکہ ہمیں عادتیں بناتی ہیں۔
ظاہر ہے مجھ جیسے کمزور انسان میں اتنی ہمت نہیں کہ ایک اینکر جو موٹیویشنل سپیکر بلکہ مائنڈ چینجر بھی ہوں، ان سے کچھ پوچھ سکوں، لیکن اگر ہو بھی تو تب بھی یہ نہیں پوچھوں گا کہ ان کے صاحب زادے نے جس ’عادت‘ کا مظاہرہ کیا اس کا ذمہ دار کون ہے، اس کی حوصلہ افزائی کس نے کی، اور کیا ان کو اس کے دوہرائے جانے کا خدشہ نہیں؟ کیونکہ بقول انہی کے، عادتیں کبھی پیچھا نہیں چھوڑتیں جبکہ گلزار صاحب بھی بتا چکے ہیں ’عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ ‘
پولیس کے پیٹی بند بھائیوں کی طرح شاید میڈیا میں بھی قلم، کی بورڈ یا پھر ٹائی بھائی ہوتے ہیں، اس لیے لوکل میڈیا میں یہ خبر دیکھنے کو کم ہی ملی، سوشل میڈیا پر چلتی رہی، لہٰذا اس کالم کے چھپنے کی امید بھی ’زیرو پوائنٹ زیرو زیرو پرسنٹ‘ سے کچھ کم ہی ہے، مگر پھر بھی بھجواؤں گا، عادت جو ہوئی۔


