سجدے کرنے والے ورلڈ کپ سے باہر اور شیمپین اڑانے والے ورلڈ چیمپین
میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے پہلے ایک ڈس کلیمر دینا چاہتا ہوں کہ میرا مقصد مذہبی اقدار کا مذاق اڑانا بالکل نہیں ہے اور نہ کسی خاص پہلو کو ہٹ کرنا ہے۔ جمہوریت اور فریڈم آف ایکسپریشن کے اس دور میں اپنی ناقص رائے کا اظہار کرنے کی کوشش کروں گا۔ دنیا میں صرف مسلمانوں کا ہی وجود نہیں ہے بلکہ بے شمار مذاہب کے پیروکار موجود ہیں۔ جیسے ہمارا اپنے مذہب اور خدا کے بارے میں یہ پختہ ایمان ہے کہ ہم خدا کی منتخب قوم ہیں اور وارثان جنت بھی ہم ہی ہیں بالکل یہی تصور دوسرے مذاہب کے لوگوں کا بھی ہے کہ (وی آر چوزن ون) ۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قانون فطرت میں ان دعووں کی گنجائش بالکل بھی نہیں ہے۔ قانون فطرت کا یہ اٹل قانون ہے کہ جس کی کوشش اور محنت میں جتنا دم ہو گا وہی جیتے گا۔ سجدوں، عبادات، پوجا پاٹ اور منتروں سے قانون فطرت کو زیر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید ہم دنیا کی ہر فیلڈ کے امام ہوتے۔ اگر ہم پاکستانی ٹیم کی مثال لیں تو کڑوی حقیقت یہی ہے کہ پروفیشنل ازم کی بے انتہا کمی پائی جاتی ہے مگر دل پشوری اور کھلاڑیوں کا مورال بلند رکھنے کے لیے ملی نغمے اور مختلف چینلز پر (ڈے ڈریمنگ میراتھون ) چلتی رہتی ہے۔
یہ سب کچھ بزنس آف لائف کا حصہ ہے مگر ہم کب تک حقائق سے نظریں چراتے رہیں گے۔ دنیا کی باقی ٹیمیں نہ صرف کرکٹ بلکہ دوسری گیمز پر بھی ریاست بھر پور توجہ دیتی ہے اور جی کھول کر انویسٹ کرتی ہے۔ مختلف گیمز آپ کے سافٹ کلچر کو پیش کرتی ہیں اور کھلاڑی اپنے اپنے ملکوں کے سفیر ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنی کرکٹ ٹیم کے بات کریں تو ان کے اندر آپ کو جیت کا جذبہ ضرور ملے گا مگر پلاننگ کا بہت زیادہ فقدان ملے گا۔ ہماری ٹیم اچھی (ٹل باز ) ضرور ہے اور اسی ٹل بازی کی وجہ سے قوم شاہد آفریدی کے بخار میں مبتلا رہے ہیں لیکن یہ ایک گڈ پروفیشنل ٹیم نہیں ہے۔
انہی تکہ بازوں کی وجہ سے بہت سے نچلے لیول کے پلیئرز جن کے اندر خفیہ ٹیلنٹ موجود ہوتا ہے مگر ان کو آگے آنے کا چانس ہی نہیں دیا جاتا اور ہمارا بہت سارا ٹیلنٹ زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ حقیقت میں ہم ہیرو ورشپ کی ماری ہوئی قوم ہیں اور ہمیں ہر وقت مسیحائی کے لئے ایک مسیحا درکار ہوتا ہے اور اسی سے ہمیشہ ہمیشہ کے امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ یہ ذہنیت ہماری ہر فیلڈ کا خاصہ بن چکی ہے۔ ہماری ریاست کو مسیحا کا کردار مولانا طارق جمیل میں نظر آیا تو اسے صدارتی ایوارڈ سے نواز کر اپنی ریاست کی شناخت بنانے کی کوشش کی۔
اب اندازہ لگائیں کہ یہی ذہنیت ہماری کرکٹ ٹیم میں کافی عرصے سے موجود ہے۔ دوران میچ دعا و مناجات میں مصروف ہونا ہماری ٹیم کا ایک طرح کا اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے اور یہ سب کچھ مولانا طارق جمیل کا کارنامہ ہے۔ ہمیں اکیسویں صدی میں ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ مذہب ہر انسان کا ذاتی فعل ہوتا ہے اور مذہب کو پروفیشنل ازم کے ساتھ مکس اپ نہیں کیا جاسکتا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب ہم سرکاری ملازم، پرائیویٹ ملازم، ڈیلی ویجر یا کسی بھی گیم کا حصہ ہوتے ہیں تو آپ تنخواہ دار ہوتے ہیں جو قوم کے خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے اس میں بددیانتی کرنے کا مطلب آپ قوم اور ریاست کے مجرم بن جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آفس ٹائم کے دوران کوئی بھی اپنی نجی کام بشمول عبادت میں مشغول نہیں ہوتا بلکہ جی لگا کر کام کرتا ہے کیونکہ وہ لوگ workaholic ہوتے ہیں اور وہ اس بنیادی تصور کو بڑے اچھے سے جانتے ہیں۔ لیکن ہم ہر جگہ پر مذہب گھسیڑ لیتے ہیں اور عوامی بددیانتی دھڑلے سے کرتے ہیں۔ ہم بنیادی طور پر کام چور ہیں اور بغیر کوئی حیلہ کیے معجزوں کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ اب معجزوں کا وقت گزر چکا ہے کیونکہ اب ہم شعور کے دور میں جی رہے ہیں۔
ہمیں پروفیشنل ازم اور مذہبی اقدار کے درمیان بنیادی فرق کو سمجھنا ہو گا۔ نجی طور پر یا چار دیواری میں آپ جو مرضی کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر آپ کسی پروفیشنل فیلڈ میں اپنی مذہبی رسومات کا دکھاوا کریں گے تو بہت فرق پڑتا ہے۔ قانون فطرت کو آپ کی دعا و مناجات سے کوئی غرض نہیں ہے وہ صرف پریکٹیکل اور ہارڈ ورکنگ کو سپورٹ کرتے ہیں اور اسی ہارڈ ورکنگ اور پروفیشنل ازم کی بدولت آسٹریلیا چیمپئن بن چکا ہے۔
بنیادی طور پر ہمیں مذہب اور کھیل کو الگ الگ کرنا ہو گا۔ اپنی عبادات کو ہمیں گیسٹ روم یا ڈریسنگ روم کی حد تک رکھنا چاہیے اور میدان کے اندر ایک پروفیشنل پلیئر ہونے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ آج وہی قومیں ہر فیلڈ کی بادشاہ بن چکی ہیں جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے نام کمایا ہے اگر عبادات معیار ہوتا تو وہ ہمارے آج غلام ہوتے اور ہم آقا لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے، محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ ہم عبادات و روحانیت میں خود کفیل ہونے کے باوجود مقام صفر پر کھڑے ہیں اور ہماری نظر میں کافر اعظم دنیا کے امام بن چکے ہیں۔ مذہبیت کا دکھاوا کر کے ہم اپنی نظروں میں تو مہان بن سکتے ہیں لیکن کسی فیلڈ کے بادشاہ نہیں۔


