جوتے میں شراب پینے والے غریب
آج کل آسٹریلیا والوں کی ویڈیو اور تصاویر نیٹ پر دکھائی دے رہی ہیں جن میں وہ جوتے میں قیمتی شرابیں انڈیل کر پی رہے ہیں۔ اسی سے آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ پاکستان میں ہم کتنی شاہانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دودھ دہی فالودہ لسی سب پینے کے لیے ہمارے پاس درجنوں گلاس اور کپ موجود ہوتے ہیں۔ اور ادھر ان نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں یہ حال ہے کہ ان غریبوں کے پاس بیش قیمت شراب پینے کے لیے کپ تک نہیں ہے۔ گمان ہے کہ یہ جوتے بھی انہوں نے کچرے کے ڈھیر سے اٹھائے ہوں گے۔ خریدنے کے پیسے تو ظاہر ہے کہ ان کے پاس نہیں ہوں گے۔
پھر ان لوگوں کی کہانیاں سنیں جو بتاتے ہیں کہ وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہ رہی ہیں۔ وہ یہ تو بتاتے ہیں کہ وہاں ہر قدم پر حور شمائل گوریاں پھر رہی ہیں جو گندمی رنگت کے پاکستانی کو دیکھتے ہی اس کی عزت لوٹنے کو اتارو ہو جاتی ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ وہ ایسا شدید غربت اور افلاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کرتی ہیں۔
آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں تو آپ معزز وفاقی وزیر شہریار آفریدی کی نیویارک کی ویڈیو دیکھ لیں جہاں بے شمار امریکی اتنے غریب تھے کہ ان کے پاس پہننے کو کپڑا اور سر چھپانے کو چھت نہیں تھی۔ وہیں گلی کوچوں میں پڑے سوتے تھے۔ ان میں کوئی بہت خوشحال تھا تو اس کے پاس سونے کو گتے کا ڈبہ تھا۔ غضب یہ کہ بہت سوں کے پاس تو جگہ تک دستیاب نہیں تھی۔ وہیں سرعام عشق کرنے پر مجبور تھے۔ غالباً کووڈ کی وبا سے وہاں مہنگائی بڑھی ہے تو ان بچاروں کا یہ حال ہو گیا ہے۔
ادھر ایک دفتر میں ہم نے خود دیکھا کہ صفائی کرنے والی ماسیاں گاڑی پر سوار ہو کر آئیں۔ ہم دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ بچاریاں کسی اچھے کھاتے پیتے گھر کی ہوں گی اور اب مہنگائی نے عاجز کیا ہے تو جھاڑو پوچا کر کے اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ ہم نے ہمدردی کے جذبات سے مغلوب ہو کر حال احوال پوچھا تو علم ہوا کہ ایک اچھے علاقے میں ان کا گھر ہے، اور گھر میں ٹی وی، فریج، واشنگ مشین، اوون وغیرہ جیسی سب سہولیات موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سب ان کے اچھے دنوں کا خریدا ہوا سامان ہو گا ورنہ صفائی والی ماسی بھلا یہ سب کہاں افورڈ کر سکتی ہے۔
ایک دن ہم گھر کے باہر کھڑے ہوئے تھے تو اچھا بھلا معزز دکھائی دینے والا ایک شخص ایک ٹرک سے اترا اور گھر کے سامنے موجود کوڑے کا ڈرم اٹھا کر لے گیا۔ ہم نے بات کی تو اس نے اچھی انگریزی میں جواب دیا۔ یعنی اتنا پڑھا لکھا شخص تھا کہ خوب روانی سے انگریزی بول سکتا تھا۔ شام کو محلے کے پب میں وہ آیا تو ہم نے دیکھا وہ مرسیڈیز سے اتر رہا ہے۔ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ایک امیر کبیر اور پڑھا لکھا شخص بھی اب ایسے حالات کا شکار ہو گیا ہے کہ کوڑا اٹھانے لگا ہے۔
ایک دن سیر کرتے کرتے ایک ساحل پر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں تو غربت کا ایسا عالم طاری تھا کہ ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ ایسی ایسی حسین گوریاں وہاں تفریح میں مشغول تھیں کہ دیسی شہزادیاں ان کو دیکھ کر شرمائیں۔ مگر غربت کا ایسا عالم کہ بچاریوں کے پاس پہننے کو کپڑا نہیں۔ بعض دو دھجیوں سے اپنی غربت بمشکل چھپائے ہوئے تھیں تو بعضوں کو وہ دھجیاں بھی نصیب نہیں تھیں۔ ہم تادیر غربت کا یہ عالم دیکھ کر عبرت پکڑتے رہے۔ خواجہ حسن نظامی نے مغل شہزادیوں کا جو حال لکھا ہے رہ رہ کر بس وہی یاد آتا رہا۔
چند اچھے خوشحال پاکستانیوں کے گھر جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ دیکھا کہ وہاں نہ انہیں جھاڑو پوچے والی ماسی دستیاب ہے اور نہ ہی حلال خور آتا ہے کہ لیٹرین کی صفائی کر دے۔ سب کام خود کرتے تھے۔ برتن کپڑے بھی بچارے خود ہی دھوتے تھے۔
صحیح بات ہے کہ ہم پاکستان میں راج کرتے ہیں۔ مہنگائی کا بلاوجہ شور مچانے والے باہر کے حالات تو دیکھیں کیسے ہیں۔ نہ ہمارے ہاں ایسی غربت کہ بالائی مڈل کلاس بھی کوڑے کے ڈرم اٹھائے اور اس طبقے کی معزز خواتین جا کر دوسروں کے گھروں دفتروں میں صفائی کریں، اور نہ ایسی آفت کہ اپنے گھر میں بندہ جمعدار بنا پھرے۔ نہ یہاں کپڑے لتے کی ایسی شدید کمی جیسی وہاں دکھائی دیتی ہے۔ اور نہ ہی روح افزا کو جوتے میں ڈال کر نوش کرنا پڑتا ہے۔ ہاں جوتیوں میں دال یہاں خوب بٹتی ہے۔ وہ آج کل بھی بٹ رہی ہے۔
گورے ایک سازش کے تحت ہمارے سب سے ذہین دماغوں کو الٹے سیدھے خواب دکھا کر بے وقوف بناتے ہیں اور اپنے ملک لے جاتے ہیں۔ وہاں ہمارے ان نابغوں سے خوب کام کرواتے ہیں لیکن اتنی سہولت بھی نہیں دیتے کہ وہ اچھی زندگی گزار سکیں، بس غلامی کر رہے ہیں بچارے۔ ورنہ جو مزے یہاں ہیں وہاں کہاں۔


