طارق جمیل کی حور فینٹسی، مفتی طارق مسعود کے ٹوٹکے اور بچوں کی لائن
مذہبی شناخت رکھنے والوں کا یہ المیہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو کامل اور اپنے مذہب و فرقہ کو حق سچ ماننے اور دوسرے مذاہب و فرقہ کو گمراہ اور جھوٹے سمجھنے کی علت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ پست ذہنی انہیں بچپن سے ورثہ میں ملتی ہے جس میں معاشرتی ماحول، سکول، کالج اور مدرسہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس معاشرتی سکولنگ کو (ابتدائی ذہنی پروگرامنگ) کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اس ابتدائی سپون فیڈنگ کے نقوش بہت زیادہ پختہ اور انمٹ ہوتے ہیں جس کے اثرات زائل ہوتے ہوتے بھی اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں جیسا کہ مذہبی ذہن کا سائنس کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی، یہ طبقہ پی ایچ ڈی کرنے کے باوجود بھی سائنس کو منطقی و شعوری سطح پر گلے نہیں لگاتا جہاں تضاد پیدا ہو گا وہ سائنس کو لپیٹ کر ایک طرف کر دے گا اور اپنی ابتدائی گھٹی کو ترجیح دے گا۔
سائنس بلاوجہ کی وابستگیوں پر یقین نہیں رکھتی جذبات کی بجائے حقائق کو ترجیح دیتی ہے جبکہ مذاہب پختہ ایمان و ایقان پر یقین رکھتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جو جس مذہب میں آنکھ کھولتا ہے اس کی نظر میں وہی کامل سچائی ہوتی ہے اور وہ اسی مذہب و فرقہ کے مطابق زندگی بسر کرنے کو ترجیح دے گا۔ اگر طارق جمیل یا مفتی مسعود کسی عیسائی یا یہودی کے گھر پیدا ہوئے ہوتے تو اس بات کا یقین کر لیں کہ یہ بھی آج عیسائیت یا یہودیت کا دفاع کر رہے ہوتے اور ان کے اتنے ہی چوٹی کے مبلغ ہوتے جتنے آج اسلام کے ہیں۔
اس لئے کسی بھی انسان کا کسی بھی مذہب میں پیدا ہونا محض ایک اتفاق ہوتا ہے نہ کہ شعوری انتخاب۔ شعوری سطح پر کسی چیز، مذہب یا پیشہ اختیار کرنے میں بہت زیادہ ذہن کھپائی ہوتی ہے، اسی ذہن کھپائی کے نتیجہ میں بہت سارے (غامدیوں) کو اپنا ہی ملک چھوڑنا پڑ جاتا ہے۔ اس لیے محض حادثاتی طور پر کسی مذہب کا حصہ بننے پر دوسرے مذاہب کو گھٹیا سمجھنا کوئی اچھی روش نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مذہبی آدمی اپنے مذہب کے حوالہ سے نرگسیت زدہ ہوتا ہے اور وہ اپنے ذہنی بلبلے کا قیدی بن کر ساری عمر اسی کی تبلیغ میں مشغول رہتا ہے۔
اپنی اس اونچائی کی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ایسی باتیں بھی کرنے لگتے ہے جنہیں معاشرتی سطح پر قبول نہیں کیا جا سکتا اور اس کے اثرات معاشرے پر کوئی زیادہ اچھے نہیں پڑتے۔ آپ طارق جمیل کی وہ تقاریر سن لیں جو ابتدائی ہیں جن میں وہ مقبولیت کی سیڑھی پر قدم رکھ رہے تھے۔ ان تقاریر میں جو چیز آپ کو کثرت سے ملے گی وہ ہے (حور فینٹسی)۔ ان تقاریر میں مولانا صاحب جنت کا نقشہ کھینچتے کھینچتے حوروں کے ذکر پر آ کر پر جوش ہو جاتے ہیں۔
حوروں کی چھاتیوں کے سائز، پنڈلیوں کے سائز، ستر پوشی کے باوجود جسم کا نظر آنا، ایک مرد کا ایک وقت میں ستر حوروں کے ساتھ ہمبستری کرنے کے لئے دگنی جنسی طاقت کا ملنا اور حوروں کی ٹانگوں کے درمیان ایک جنتی کا لمبے عرصے تک چلنے کا احوال وغیرہ بڑی دلچسپی سے سناتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر (حور عینا) پر جو منظر کشی مولانا نے کی ہے وہ شاید کوئی دوسرا کرنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مردوں کے سامنے اتنی پرکشش منظر کشی ہوگی تو ان کے ذہن میں خواتین کا کیا امیج بنے گا؟
نارمل خاتون کا یا سیکس ڈول؟ جس کے ساتھ جب من چاہا جنسی بھوک مٹا لی ورنہ وہ ٹھہری اس کے بچوں اور گھر بار کی رکھوالن یا ملازمہ؟ جس طرح سے مرد کی سیکس لائف ہوتی ہے کیا عورت کی سیکس لائف کو تسلیم کیا جاتا ہے؟ جب ان سے پوچھا جاتا ہے مردوں کو تو انعام کے طور پر ستر حوریں ملیں گی تو عورتوں کو انعام میں کیا ملے گا؟ جواب ملتا ہے کہ آپ جنت میں حوروں کی سردار ہوں گی۔ مذہبی خواتین تو یہ جواب سن کر مطمئن ہو جاتی ہیں مگر باشعور خواتین اس انعام پر سوالات اٹھاتی ہیں۔ مولانا کی نظر میں حور فینٹسی کا مقصد لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مذہب کی طرف لانا ہے مگر کیا مذہب کی طرف رغبت دلانے کا یہ کوئی اچھا معیار ہے؟ ہر جگہ عورت ہی تختہ مشق کیوں؟ ابھی تک تو خواتین ان جملوں کے آفٹر شاکس سے باہر نہیں نکل پائیں جنہیں مفتی طارق مسعود جیسے مبلغ بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں۔
1۔ عورت گمراہی پھیلاتی ہے
2۔ عورت شیطان کا دوسرا روپ ہے جب یہ شیطانی کرتی ہے تو بڑے بڑے پناہ مانگتے ہیں
3۔ عورت اتنی چالاک ہے کہ اس نے آدم کو بھی ورغلا دیا تھا
4۔ عورت اگر شوہر کے بلانے پر اس کی جنسی بھوک نہ مٹائے تو وہ لعنتی ہے (یہ جانے بغیر کہ کیا اسے بھی طلب ہے )
5۔ عورت اگر بازار میں خوشبو لگا کر جائے تو اس پر لعنت برستی رہتی ہے
جب طارق جمیل اس طرح کی جنسی کشش والی باتیں کرتا ہے تو اس کا براہ راست نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مومن بھائی اس حور فینٹسی کو اپنی عورت میں محسوس کر کے رضامندی جانے بغیر بچوں کی لائن لگا دیتے ہیں جنہیں خاتون خانہ کے سپرد کر کے خود تبلیغ پر روانہ ہو جاتے ہیں، تبلیغ پر ہوتے ہیں تو سر راہ چلتے لوگوں کی خیر نہیں ہوتی گھر میں ہوتے ہیں تو بیوی کی خیر نہیں ہوتی۔ یہ ذہنیت عورت کو ایک جیتی جاگتی انسان سمجھنے کی بجائے گھر کی چاردیواری کی مردہ چیز سمجھتے ہیں جنہیں گھر بیاہ کر اس لیے لایا جاتا ہے کہ وہ مرد کی جنسی بھوک مٹانے کے علاوہ گھر کے کام کاج کرنے والی ملازمہ بن کر رہے اس کے علاوہ اس کا کوئی تیسرا کردار نہیں ہوتا۔
مذہبی طبقہ کے بچے بہت زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنا رزق خود آسمان سے لاتا ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ اس طبقے کا اپنی بیوی کے ساتھ رویہ حاکمانہ ہوتا ہے، ایسے رشتے یا ایسی عورت اپنی سیکس لائف کیا خاک انجوائے کر پائیں گے جسے ہر سال ایک بچہ پالنا پڑے؟ دوسری طرف مفتی طارق مسعود ہیں جو لوگوں کو اپنی بیوی کو کنٹرول کرنے کے طریقے بتاتے رہتے ہیں۔ جن کا چار شادیوں کے پیچھے فلسفہ یہی ہے کہ ایسے عورت قابو میں رہتی ہے اور اکثر اپنی تقاریر میں باقاعدہ گائیڈ کرتے ہیں کہ بیویوں کو کتنا اور کیسے مارنا چاہیے۔
ان لوگوں کی ذہنیت کا اندازہ لگائیں یہ اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ جب عورت سرکشی کرے تو اس کا بستر الگ کر دیں تو سوال یہ ہے کہ اگر مرد سرکشی کرے تو عورت کو پھر کیا کرنا چاہیے؟ ان لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ سب سے مکروہ سیکس وہ ہوتا ہے جو عورت کی اجازت کے بغیر کیا جائے مگر یہ ذہنیت تو عورت کو جنسی غلام سے زیادہ کا درجہ ہی نہیں دینا چاہتی۔ میری نظر میں یہ عورت کی سب سے بڑی تذلیل ہے کہ مبلغین مجمع میں حوروں کے قصیدے پڑھیں اور بیوی کو قابو میں رکھنے کے ٹوٹکے بتاتے پھریں۔
سوچیے اس منظر کشی سے عورت کی نفسیات پر کیا اثر پڑے گا؟ جب آپ اس قسم کی باتیں ڈنکے کی چوٹ پر کریں گے کہ جنت میں مردوں کو سو گنا جنسی طاقت سے نوازا جائے گا تاکہ وہ حور بازیاں کر سکیں تو کیا ہوس زدہ لوگ خواتین کو انسان سمجھنے کی زحمت گوارا کریں گے؟ ایسے معاشروں میں عورت کی عزت کیا خاک ہو گی جہاں وارثان دین اپنے وعظ و نصیحت میں حوروں کے نقوش اور جنسی کشش کے قصے بیان کرتے پائے جائیں۔ ویسے اسے مضحکہ خیزی کہیں یا مجبوری آپ کی تقریر بازیاں بھی ان کے بغیر نامکمل اور بے جان ہیں۔ کیا خیال ہے؟ کہیں آپ کے ذہن و حواس پر عورت سوار تو نہیں ہے؟ کیونکہ آپ کی سوچ عورت کی دونوں ٹانگوں سے باہر نہیں نکلتی۔


