اقبال : جہان نو کا شاعر
تخیل اقبال زماں و مکاں کی قیود سے بہت آگے بندہ حر کی طرح آزاد نظر آتا ہے۔ شعور و آگہی سے پرے مستقبل کی جلوہ آفرینیوں میں ڈوبا ایک شاعر، حسین و تابناک عظمت گزشتہ کے پس منظر میں عظمت فردا کی شان اور کرو فر کا ایک خواب ہمیں دکھاتا ہے۔ شوکت رفتہ کے مناظر دل کو لبھانے کے لئے ہمارے سامنے پیش نہیں کیے جاتے ہیں بلکہ اسی شوکت اور اوج و کمال کو دوبارہ زندہ کرنا مقصود ہے۔ شان مومن، نگاہ مسلماں، پیغام لا الہ الا، تیغ خودی، عشق ربوبیت، وفا محمد، عروج آدم، ذوق خدائی، ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا حوصلہ، براہمی نظر، ضرب کلیمی، علوم وحی، زور حیدری، جرات حسینی، ایثار و صدق بوبکری، معرکہ بدر و حنین، سطوت ایوبی، خالد کی جانبازی، شوکت سنجر و سلیم، فقر حسین و بایزید، تمام ہی جہان نو کی نمود کے لیے ضروری ہے۔
ماضی کے واقعات اور قصے مستقبل کی ایک شاندار عظیم الشان شوکت کروفر کو وجود میں لانے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ماضی کی حسین واقعات و معرکے دل کی تسکین اور طمانیت اور گراں خوابی کے لئے نہیں ہیں۔ بلکہ ذہن و روح کی بالیدگی کے لئے ہے جس سے عظمت گزشتہ کا سراغ پایا جا سکتا ہے اور داغ حاضرہ کو دھویا جاسکتا ہے۔ عناصر میں سے کوئی ایک بھی کم ہوں تو عروج خام خیالی ہے۔ سوز و تڑپ، بغیر جدوجہد کے لا حاصل سرچشمہ حیات ہے۔ امت واحدہ کا خواب اسی وقت ممکن ہے جب پرچم یک رنگ پر سب متفق ہوں۔ چیدہ چیدہ کوششیں اور پرچم صد رنگی امت واحدہ کی شان نہیں۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
اقبال ایک ایسی دنیا کے خواہاں تھے جو اپنے قوت بازو سے پیدا کی جا سکتی ہے اور دوسروں کے احسان اور سہاروں کی پیداوار نہیں۔ نیرنگی اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ جہاں ہر دن گزشتہ دن سے بہتر ہوتا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مومن کا ہر گزرا ہوا دن گزشتہ دن سے بہتر ہوتا ہے۔ ایسے ہی دن کے نمو وہ چاہتے تھے۔ ایسے ہی زمانے کی نمود ان کی تخیل کی جولانی ہے۔ ایسے صبح و شام کی آفرینش کے وہ دلدادہ تھے جو ہر لحظہ نئی شان و رنگ لئے ہوئے ہوں۔
وہی بے چارگی اور صید زبوں حالی سے انھیں سخت نفرت تھی۔ ان کے خیال میں ساحر افرنگی اور دوسرے اقوام کے احسانات سے نئے زمانے اور نئے صبح و شام پیدا نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ نئے زمانے اور نئے صبح و شام کے محرکین و معمار وہی ہوسکتے ہیں جو فطرت سیماب کے مالک ہوتے ہیں۔ جو طرز کہن پر اڑتے نہیں اور آئین نو، انقلاب، تغیر و تبدل کے خواہاں ہوتے ہیں اور انہیں تسلیم کرتے ہیں۔ شاہینی نظر اور چیتے کا جگر کے اوصاف سے جو مالامال ہوتے ہیں۔ مستعار لینے والے اور تخیلات کے اسیر نئے زمانے اور نئے صبح و شام کے تخلیق کار نہیں بن سکتے ہیں۔ اس لئے وہ دنیا میں کاری ضرب نہیں رکھتے ہیں۔ اور نا ہی زمانہ ان کی تقلید کرتا۔
نشان یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں
قلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلال
یہ امتیں ہیں جہاں میں برہنہ شمشیریں
ایک اور نظم میں انھوں نے معمار جہاں کے صفات اور ان کے جذبۂ اندرون کو اس طرح بیان کیا ہے۔
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر
حرکت، تغیر، تبدیلی، انقلابی واقعات، حادثات، چلنا، پیش رفت اور عمل تمام زندگی کی علامات ہیں۔ ناکارگی، جمود، ٹھہراؤ، سکوت، رکنا، تھم جانا موت کی نشاندہی کرتا ہے۔ جہان نو کی آفرینش و پیدائش حرکات، افعال، تازہ واقعات اور نت نئے کارناموں کے بدولت ممکن ہے۔ دنیا کی کایا پلٹ عمل کی تیزی پر منحصر ہے۔ جس قدر سبکی و رفتار سے سفر حیات ہوتا ہے اور ایک منضبط و منصوبہ بندی سے آگے بڑھا جاتا ہے اس قدر نئے صبح و شام وجود میں آتے ہیں۔ عروج و کمال کے کلس پر اسی صورت پہنچا جاسکتا ہے جب جدت کو اپنایا جاتا ہے اور روایت پسندی سے ہٹ کر زمانے میں چلا جاتا۔ قوموں پر تسلط اور ترقی نئے شعور و آگہی سے ممکن ہے۔ آداب خود آگاہی سے ہی افراد زمام اقتدار و زمانے کی لگام تھامے آگے بڑھتے ہیں۔
سمجھے گا زمانہ تیری آنکھوں کے اشارے
دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے
ناپید تیرے بحر تخیل کے کنارے
پہنچے گے فلک تک تیرے آہوں کے شرارے
تعمیر خودی کر ، اثر آہ رسا دیکھ
کارنامے، واقعات تازہ، نمود صبح و شام، نئے زمانے، تغیرات ایام کا نام ہے۔ دنیاوی علوم و فنون کی نیرنگی، حیات کی جملہ سامانیوں کی ندرت ہی نئے کارنامے و واقعات برپا کر سکتے ہیں۔ افعال جلیلہ اور اقدار اعلیٰ فتح و نصرت کی اپج ہے۔ خورشید جہاں تاب ان ہی اقوام کا ممکن ہے جو ہنر و نظر میں یکتا و نیرنگی لئے ہوں۔ وہ افراد جو دنیا کے ہر میدانوں کی نکیل اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں وہ محنتی، ہنرمند، سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ جن کی امیدیں قلیل اور مقاصد، ارادے جلیل ہوتے ہیں۔
تنگ نظری، کوتاہ بینی، بغض و عناد سے اذہان و قلوب پاک ہوتے ہیں۔ جہاں تخت و طاؤس، مسند و امارت کا حصول شمیر و سناں کے بعد ظہور پذیر ہوتا ہے۔ واقعات تازہ جہاں بینی و جہاں گیری سے وقوع ہوتے ہیں۔ لفظی کارروائیوں اور دوسروں کے سہاروں کی امید سے جلیل کارنامے و واقعات تازہ عالم وجود میں نہیں آتے ہیں۔ تازہ واقعات و نئے کارنامے مجتمع عمل، کردار، بے باکی، جرات و استقلال، شمشیر و تدبیر سے مؤجب وجود میں آتے ہیں۔
خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں
آباد ایک تازہ جہاں تیرے ہنر میں
اے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ
متحرک و سر گرم رہنا واقعات کا رونما ہونا اشد ضروری ہے۔ مہمات کو سر کرنے کا نام زندگی ہے۔ نئے اہداف بنانا اور آگے بڑھنا جہان نو کی پیداوار ہے۔ تحریک و فعالیت آنے والوں کے لئے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ کامیابی کی شاہ کلید ہے۔ نئی نسل کے لئے ایک ساز گار اور مثالی ماحول پیدا کرنا عمدہ معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ قوموں کی زندگی انہیں نکات پر موقوف ہے۔
زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیر تقدیر
خواب میں دیکھتا ہے عالم نو کی تصویر
اور جب بانگ اذاں سے کرتی ہے بیدار اسے
کرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر
ان اوصاف کے حاملان اگر نا پید ہوں تو قدرت انسانوں کو بخشے ہوئے مقامات سے محروم کر دیتی ہے۔ زوال اور پسماندگی ان پر مسلط ہو جاتی ہے۔ بیچارگی اور کسلمندی ان میں پیدا ہوجاتی ہے۔ قدرت کئی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اور جب کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے۔ طویل انتظار کے بعد قدرت ان کی جگہ کسی اور کو لا کھڑا کرتی ہے۔ جب فرنگی عروج پر تھے۔ مادیت کے حصول زندگی کا جز لاینفک سمجھا جاتا تھا۔ اقبال اس دور میں بھی جہان نو کے خواب سے سرشار تھے۔ ایسا جہاں جو بازوئے قوت مسلم سے پروان چڑھا ہو۔ وہ جہاں جو مرد مومن کے ذریعہ عالم وجود میں آتا ہے۔ وہ عالم پیری کے اندیشوں کا شکار نہ ہو۔ بلکہ جس کی پرواز لولاکی ہو۔ آسماں جس کا نخچیر ہو، جس کی نگاہ پاک اور وہ صاحب ادراک ہو۔
جہان نو ہو رہا ہے پیدا وہ عالم پیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ
ہوا ہے گو تندو تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ
نئے زمانے، نئے صبح و شام، معرکے، واقعات کا ظہور، عروج و کمال کا حصول ممکن کیوں نہیں اس کی وجوہات بھی علامہ اقبال نے عیاں کر دیے ہیں۔ اس کے حصول یابی کے لئے درکار اوصاف کو بھی بیان کیا ہے۔
اے لا الہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتار دلبرانہ، کردار قاہرانہ
تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ
اگر افعال و اعمال جاری ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ زمام زمانہ ہمارے ہاتھ میں نہیں، نہ ہی ہماری ضرب کاری ہے۔ قدرت کے مطلوبہ معیار سے ہماری سعی و جدوجہد نہیں ہے۔ ہم اس منصب کے اہل نہیں جو قدرت کو مطلوب ہے۔
دل سوز سے خالی ہے نگاہ پاک نہیں ہے
پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے
ہے ذوق تجلی بھی اس خاک میں پنہاں
غافل! تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے
اقبال خاکی تھے مگر انداز افلاکی رکھتے تھے۔ انھیں پختہ یقین تھا کہ ایک مرد مومن ہی نئے زمانے، نئے صبح و شام اور انقلاب کا بانی و محرک ہے۔ مومن جو ضرب کلیمی رکھتا ہو، عشق خلیلی رکھتا ہو۔ عالم اس کا زیر نگیں ہے۔ جس کے زمانے عجیب جس کے فسانے عجیب۔ جو تابع ستارہ نہیں بلکہ زندہ خاک ہے۔
عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے


