عالمی یوم فلسفہ اور پاکستانی یونیورسٹیوں میں فلسفہ کی کسمپرسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال نومبر کے تیسرے جمعرات کو یونیسکو کے زیر اہتمام دنیا بھر میں فلسفے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس سال 18 نومبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم فلسفہ منایا جا رہا ہے۔ یہ عالمی دن معاشرے میں فلسفیانہ مباحث کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ فلسفہ ایک ایسا شعبہ تعلیم ہے جس کی تعریف ابھی متنازع ہے۔ تاہم وسیع تناظر میں کہا جائے تو فلسفہ اردگرد کے حالات کے بارے میں شخصی نظریہ ہے۔ شاید ہی کسی علم کی شاخ نے انسان کی سوچ میں ایسی انقلابی تبدیلیاں رونما کی ہوں جو فلسفے کی دین ہیں۔

فلسفے نے انسان کو سوالات کے ساتھ جینا سکھایا۔ لفظ فلسفہ کا مآخذ دو یونانی الفاظ فلو اور سوفی ہیں جن کا لغوی معنی ”حکمت سے محبت“ ہے۔ فلسفہ کی تاریخ اتنی پرانی ہے۔ جتنی انسانی تاریخ۔ فلسفہ کو علوم کی ماں کہا جاتا ہے۔ تمام علوم کا مآخذ فلسفہ ہے۔ کسی معاشرے کے ترقی میں فلسفہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے فلاسفر اپنی سوچ سے معاشرے کی ترقی کے لیے نئی راہیں بناتے ہے۔ مشکل حالات سے نکالتے ہے۔ ہمیشہ جستجو کرتے ہے۔

صحیح اور غلط نظریات میں تمیز کرتے ہیں۔ اخلاقی اقدار کی درس دیتے ہیں۔ ہمیشہ اچھائی کی ترویج کرتے ہیں۔ سیاست اور معاشرت پر مثبت گفتگو کرتے ہیں۔ لوگوں میں شعور بیدار کرتے ہیں۔ شعور کی آبیاری کرتے ہیں۔ دلائل اور استدلال کو فروغ دیتے ہے۔ ظلم اور جبر کے خلاف آواز بلند کرتے ہے۔ کیوں کہ فلاسفر کی ذہنی سطح دوسرے لوگوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ ان کی سوچ اور فکر اس کو معاشرے سے یکتا کرتا ہے۔ پاکستان میں فلسفہ سات مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔

لیکن ضیاء الحق کے دور حکومت سے فلسفہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا رویہ رکھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف مادہ پرستی کے دور میں لوگوں کا رجحان بھی بہت کم ہے۔ کیوں کہ پاکستان میں تعلیم کا مقصد نوکری ہے۔ یہاں تعلیم نوکری کے حصول کے لیے حاصل کی جاتی ہے۔ اس لیے فلسفہ میں داخلوں کا رجحان بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ تیسری وجہ قابل اساتذہ کا فقدان ہے۔ جس کی وجہ سے فلسفہ کسمپرسی کا شکار ہے۔ حالیہ دنوں میں پشاور یونیورسٹی نے شعبہ فلسفہ کی کلاس رومز سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کردی۔

کیوں کہ ایم اے فلسفہ کے خاتمے کے بعد بی ایس فلسفہ میں داخلوں کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو کہ موجودہ معاشی حالات میں یونیورسٹی آف پشاور کے لیے ممکن نہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں فلسفہ گریجویٹس بے روزگار پھرتے ہیں۔ کیوں کہ یونیورسٹیوں میں فلسفہ بطور جنرل مضمون پڑھائی جاتی ہے لیکن ان کے اساتذہ کسی اور مضمون کے گریجویٹ ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کماحقہ عبور حاصل نہیں ہوتا اور مضمون غیر موثر ہوتا ہے۔ یوں یونیورسٹیاں فلسفہ کے بجائے کسی اور مضمون کو پڑھانے لگ گئی ہیں۔

جس کی وجہ سے ملک میں یونیورسٹیوں میں حکمت کے بجائے تشدد فروغ پا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن فوری طور پر ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں فلسفہ کے مضامین بی ایس میں لازمی کروائے اور ان کی تدریس کے لیے فلسفہ گریجویٹس کو مقرر کریں۔ فلسفہ کی اہمیت کے پیش نظر قومی سطح پر فلسفہ کے بحث مباحثے کو فروغ دے۔ تاکہ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکلا جا سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments