بے موسمی اظہار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات کا تیسرا پہر ہے۔ کمرے کے اندر سائیڈ لیمپ کی روشنی ہے اور کمرے کے باہر چاند کی جس کو کھڑکی سے جھانکتی کرنوں سے محسوس کیا جا سکتا

ہے۔ ہر طرف گہری خاموشی کا راج ہے اتنی زیادہ کہ کمرے میں موجود سوتے نفوس کے سانسوں اور دیوار پہ آویزاں گھڑی کی ٹک ٹک کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

مدھم مدھم جلتے لیمپ کے قریب والے بیڈ پر وہ قرآن کھولے بیٹھی ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ اس کی سمجھ میں آ رہا ہے۔ زندگی کے بہت سال کوشش کے بعد وہ اس قابل ہوئی ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں کے لئے خط (قرآن) اس کے لئے قابل فہم بنا ہے۔ اس کا دل خوشی سے بھر رہا ہے۔ اور بے حد تشکر اور محبت سے وہ اپنی اس استاد کو یاد کرتی ہے جو اسے اس قابل بنا سکیں۔

رات کی تاریکی سحری کی جانب گامزن ہے۔ اس نے قرآن کو ایک طرف پڑے میز پر رکھ کر اپنا سر پیچھے ٹیک سے لگا لیا ہے۔ آنکھیں بند ہیں اور ان کے اس پار اس کے بہت سے استاد نظر رہے ہیں۔ جنہوں نے بچپن تا پچپن اسے انسان بنانے میں اپنا آپ لگایا ہے۔ مخلصی کے بیج سے اس کی زندگی کو سینچا ہے۔

مس جمشید: اس کی پرائمری استاد: خوش اطوار، خوش ذوق اور خوبصورت انسان جنہوں نے کلاس میں ہر وقت سوتی، جھولتی چار سالہ بچی کو حقیقتاً بہت جگہ دی۔ خوش خطی اور محنت کے رنگوں سے اسے ٹاپر بنایا۔ مسلسل شفقت سے اس کے اندر کو پہچانا۔

مس رخسانہ، مڈل سکول میں عربی کی استاد: جاں فشاں اور پہلی جاب کی وجہ سے ہر وقت زیادہ کرنے کو تیار۔ جنہوں نے عربی کے مضمون کو حلوہ بنا دیا۔ اتنا آسان اور ایسا کیلکولیٹڈ بنایا کہ بھلے سو بٹا سو لے لو۔ دھند میں لپٹی صبحوں میں خود بھی سکول ٹائم سے پہلے پہنچتیں اور ہم جیسوں کو بھی جلد پہنچنے پر راغب کر لیتیں۔ پہلی دفعہ ان سے سیکھا کہ سرمایہ کاری ہمیشہ پیسوں کی نہیں ہوتی بلکہ جذبوں کی بھی ہوتی ہے اور پڑھانا یا کچھ کرنا آتا ہو تو مشکل ترین اور غیر اہم چیزیں بھی دلچسپ ہو سکتی ہیں۔

مس طاہرہ، ہائی سکول میں اردو، اسلامیات کی استاد: درمیانی عمر کی منظم، پر جوش، اس وقت کے لحاظ سے روشن خیال جنہوں نے گفتگو اور سختی میں چھپی نرمی سے ایک نوجوان کو اپنی آنکھ سے دنیا کو دیکھنے کی تربیت دی۔

مس تسنیم رحمان: کالج میں اردو کی لیکچرر: دبلی پتلی، نئی تقرری، جنہوں نے دو سالہ مختصر لیکن موثر ساتھ میں تحریر کو پرکھا اور حوصلہ افزا رویہ رکھا۔ کلاس مجمعے میں بولنے کا موقع دیا اور سنا۔

ڈاکٹر غلام عباس انجم (مرحوم) ، یو۔ ای۔ ٹی کے پروفیسر: اونچے لمبے، قابل، اپنے پیشے میں ذہین، جنہیں مٹی سے سونا بنانا اور ہیروں کو تراشنا آتا تھا۔ جنہوں نے ایک چھوٹے شہر کی طالب علم کو ٹاؤن پلاننگ سے لے کر زندگی کے بہت سے سبق پڑھائے۔ میری پیشہ وارانہ اور ازدواجی زندگی دونوں ان کی احسان مند ہیں۔

ڈاکٹر عبدالوحید، پی۔ ایچ۔ ڈی سپروائزر: جوان، خوش مزاج اور بہت ساتھ دینے والے۔ جن کے ’ہو جائے گا‘ اور ’مسئلہ ہی کوئی نہیں‘ نے زندگی کے ان سالوں کو بڑا سہل کیا۔ ان کا تسلی والا رویہ مجھے یہ سکھا گیا کہ اکثر اوقات ہماری حوصلہ افزائی، بے حد بھروسا اور شفقت کھوٹے سے کھوٹے سکے کو کارآمد بنا سکتی ہے۔

ڈاکٹر جمال الدین تھہیم، اسسٹنٹ پروفیسر، نسٹ: سنجیدہ، سمجھدار مشورے، ہر وقت بغیر کسی صلے اور پروٹوکول کے طلباء کی مدد کو تیار۔ جن سے ملاقات کم رہی لیکن ریسرچ کی تحریریں کو نکھارنا عباس صاحب کے بعد ان کی مرہون منت ہے۔ وہ استادوں کی اس کیٹگری میں سے ہیں جو کسی مقام پر پہنچنے کے بعد آؤٹ آف ریچ نہیں ہوتے بلکہ ہر ممکن حد تک اپنی موجودگی سے آپ کی مدد کو موجود۔ مرتبے کے ساتھ عاجزی کو محبت، ترقی، کشادگی اور دعاؤں کا پھل لگتا ہے، یہ انھوں نے دکھایا۔

ڈاکٹر راحیل نواز، مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی، یو۔ کے : مقرر، ایڈمنسٹریٹر، ریسرچر اور اعلیٰ ظرف۔ جنہوں نے یہ کر کے دکھایا کہ کسی کے لئے کچھ کرنے کے لئے پہلے سے جاننا اور دیکھنا ضروری نہیں۔ پاس ہونا اہم نہیں۔ سات سمندر پار رہ کر، صرف آواز سن کر بھی کسی کی اڑان کو سہل کیا جا سکتا ہے۔ کسی جونیئر بچے کے لئے راستے بنا جانے بھی ہموار ہو سکتے ہیں۔ نئے خیالات کو فروغ دینے کے لئے بڑی پوزیشن سے زیادہ کشادہ دلی واجب ہے۔ وہ سفر جو چھوٹی عمر سے شروع ہوا، اس کی لمبی اور اونچی اڑان کے گر وہ سکھا رہے ہیں۔

مسز انجم، قرآن کلاس کی استاد: ذمہ دار، مددگار خاتون جن سے حادثاتی تعارف ہوا۔ لیکن قرآن کی انٹرایکٹو لرننگ انھوں نے دی۔ تین ماہ کے بچے کے ساتھ مجھے خوش دلی سے ایڈجسٹ کیا۔ اللہ کی کتاب سیکھنے والے کو تمام جائز مجبوریوں کے ساتھ جگہ دینا اور نہ جتانا، گھاٹے کا سودا نہیں۔ اس بات کا پتہ ان سے چلا۔

رات بیت رہی ہے لیکن اس کے استادوں کی یاد ایسی میٹھی ہے کہ اس کی نیند بھی احتراماً دور کھڑی ہے۔ اس نے شکر، محبت اور خلوص کی روشنی کو گہری سانس لے کے اپنے اندر اتارا اور ان کے لئے دل سے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ ان کے احسانوں کو اپنے لفظوں میں یاد کیا۔ اور مولا سے ان سب کی مزید آسانیوں کی درخواست کی۔

بات لمبی ہو گئی لیکن کہنا صرف یہ تھا کہ یہ مت بھولیے کہ آپ زندگی میں جس اچھے مقام پر ہیں۔ والدین کے بعد آپ کو جینے کی راہیں اور انسان بنانے والے آپ کے استاد ہیں۔ ان میں سے کوئی آپ کے قریب رہتا ہو تو اس کی قدم بوسی کی روٹین بنائیں۔ کچھ ان کی پسند کا بنائیں، کھلائیں۔ دور ہوں تو کبھی کبھار کوشش کر کے ملنے جائیں، زیادہ دور یا سمندر پار ہوں تو فون ہی کر لیں ورنہ کم از کم میسیج ہی کر لیں۔ اور اگر وہ وہاں ہوں جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں تو دعا کریں اور ہو سکے تو قبر پر فاتح کے لئے جائیں۔ اور یہ جان لیں کہ جس طرح ان کے دیے حوصلے سے ہماری گم شدہ منزلیں مل جاتی ہیں۔ بالکل ویسے ہی ہمارے اعتراف اور احسان مندی ان کے سر فخر سے بلند کرتی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments