کیا الیکٹرانک ووٹنگ مشین جنرل حمید گل کا ہاتھ روک لے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کاش 1988 میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہوتی تو جنرل حمید گل سارا جوار بھاٹا اکٹھا کر کے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جی آئی) بنا کر الیکشن میں دھاندلی نہ کر سکتے۔ جنرل حمید گل ایک پروفیشنل سولجر تھے۔ بہت ہی محب وطن تھے۔ ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے جیسا آج کا افغانستان ہے۔ طالبان اور آج کا افغانستان بنانے میں جنرل حمید گل نے بہت محنت کی۔ پاک فوج سے تو صرف تنخواہ لی کام تو افغانستان کے لیے کرتے رہے۔ اور اپنی اس کامیابی پر بجا طور پر فخر بھی کرتے تھے۔ ان کے فالورز بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں اور ان کی سوچ کو لے چل رہے ہیں۔ جنرل صاحب کی وفات کے بعد راولپنڈی کی مختلف سڑکوں پر ”فکر حمید گل“ کے بینرز نظر آتے ہیں۔

جنرل صاحب اور ان کے باس اور باقی کولیگ پاکستان کا بھلا چاہتے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بے نظیر جیسی غدار خاتون ایک پاور فل وزیراعظم بن جائے۔ ظاہر ہے کہ اگر ایک منصفانہ الیکشن ہو جاتے اور اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی ایک مضبوط حکومت بن جاتی تو انہوں نے یا تو پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں بیچ دینا تھا یا اپنی لبرل آئیڈیولوجی کی وجہ سے پاکستان کا مشرقی اسلامی تشخص بگاڑ کر رکھ دینا تھا۔ اب جنرل حمید گل بے چارے مرتے کیا نہ کرتے۔

انہوں نے آئی جی آئی بنائی اور الیکشن میں جوڑ توڑ کے ذریعے پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ کوئی مفروضہ یا سنی سنائی بات نہیں ہے۔ جنرل حمید گل نے اپنے اس کارنامے کا ذکر کئی بار ٹی وی پر بڑے فخر سے کیا ہے۔ یوٹیوب پر بہت سے ایسے کلپ پڑے ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے ممکن ہوا کیونکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین نہیں تھی۔ اگر یہ مشین ہوتی تو آئی جی آئی نہ بنائی جا سکتی۔

اس کے بعد یکے بعد دیگرے تین الیکشن ہوئے۔ ایک کمزور حکومت بنتی اور دو اڑھائی سال چل جاتی۔ تاوقتیکہ جنرل مشرف خود تشریف لے آئے اور پاکستان کو ایک اور محب وطن سولجر کے ذریعے استحکام نصیب ہوا۔

سن 2002 کے الیکشن جنرل مشرف نے خود کروانے تھے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ غداروں کی تعداد دگنی ہو چکی تھی۔ بے نظیر کے ساتھ ساتھ نواز شریف کی پارٹی کو بھی حکومت سے باہر رکھنا لازمی تھا۔ دوبارہ شکر ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین نہیں تھیں اور جوڑ توڑ کرنا ممکن ہوا۔ اللہ کے فضل سے مسلم لیگ ق کی جیت ہوئی۔

الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے پر کسی گہری تحقیق کی ضرورت ہی نہیں۔ الیکشن جوڑ توڑ میں ملوث لوگ خود ہی ان باتوں کا ذکر ٹی وی پر بیٹھ کر کرتے ہیں۔ سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں چوہدری پرویز الہی صاحب نے بتایا کہ کیسے جنرل شجاع پاشا تمام سیاسی بہروپیے (الیکٹ ایبلز) کو پی ٹی آئی میں اکٹھے کر رہے تھے۔ اسی طرح برگیڈیئر اعجاز شاہ نے بتایا کہ 2007 کے الیکشن سے پہلے کیسے مختلف پارٹیوں میں سیٹیں تقسیم کی گئیں لیکن محترمہ بے نظیر کی شہادت کی وجہ سے تمام معاملہ بدل گیا۔ الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج لینے کا سلسلہ جاری ہے۔

سن 2018 کے الیکشن میں تمام سیاسی بہروپیے پی ٹی آئی میں اکٹھے کیے گئے اور نواز شریف کا راستہ روکنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ نواز شریف کوئی سول سپرمیسی کے چیمپیئن تھے نہ ان سے کسی انقلاب کا ڈر تھا۔ اصل مسئلہ ان کو نافرمانی کی سزا دینا اور عبرت کا نشان بنانا تھا۔ تاکہ کوئی وزیراعظم آئندہ حکم عدولی کی ہمت ہی نہ کر سکے۔

باقی مثالوں میں الیکشن سے چند ہفتے قبل بلوچستان میں بنائی جانے والی ”باپ“ پارٹی ہے۔ بھلے دور میں جب تک ایم کیو ایم غدار نہیں ہوئی تھی اور ان کے پاس الیکشن جیتنے کا لائسنس تھا تو ان کے الیکشن جیتنے کے اپنے طریقے ہوتے تھے۔ خیبرپختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت بھی الیکشن جوڑ توڑ کی ایک روشن مثال تھی۔

پاکستان کے الیکشن میں خرابی کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ اور سول اداروں کے درمیان طاقت کا عدم توازن ہے۔ اس عدم توازن کا حل الیکٹرانک مشین نکالا گیا ہے۔ آئندہ جب اسٹیبلشمنٹ کا کوئی افسر کسی سیاسی بہروپیے کو فون کر کے ہدایات جاری کرے گا کہ فلاں سیاسی پارٹی میں شامل ہو جاؤ تو الیکٹرانک ووٹنگ مشین آگے بڑھ کر اس افسر کا ہاتھ روک لے گی۔ کوئی آئی جے آئی، ایم ایم اے، باپ پارٹی اور ایم کیو ایم نہیں بن سکے گی کیونکہ اب تو الیکٹرانک ووٹنگ مشین جو آ گئی ہے۔ اور اگر کبھی ایسے ہتھکنڈوں سے الیکشن میں خرابی ہوئی تو اس کا الزام الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ہی ہو گا۔ اسی لیے تو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا قانون پاس کرانے کے لیے تمام سیاسی بہروپیے ”بڑے اہتمام سے“ اکٹھے کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی بھی ویسے ہی حکم بجا لا رہی تھی جیسے ان کے ناراض ارکان۔

دھاندلی صرف الیکشن تک محدود نہیں۔ عدالتیں بھی کچھ ایسے ہی سلوک کی عادی ہیں۔ جج اور جنرل اس معاملے پر کھل کر باتیں کر چکے ہیں۔ اب عدالتی فیصلوں کے لیے بھی کوئی الیکٹرانک مشین لائی جاوے تاکہ ان کی ذمہ داری بھی کسی مشین پر ہی ڈالی جا سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 297 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments