کھینچ کے رکھو تان کے رکھو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

wusat ullah khan وسعت اللہ خان

بیالیس برس پہلے عرب دنیا کی ایران سے بدظنی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ایران ان دو مسلمان ممالک (ترکی ) میں سے تھا جنھوں نے اسرائیل کے سفارتی وجود کو ابتدا میں ہی تسلیم کر لیا تھا۔ عرب ایسے کسی بھی قدم کو ”قابل نفرین و ناقابل معافی غداری“ سمجھتے تھے۔

شاید اسی لیے جب انور سادات نے انیس سو ستتر میں اسرائیل کو بطور جائز ریاست تسلیم کیا تو خلیجی ریاستوں سمیت عرب لیگ اور اسلامی کانفرنس کے ارکان کی اکثریت نے مصر پر تھو تھو کی۔ دونوں تنظیموں سے مصر کو نکال دیا گیا۔ مگر کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے تحت مصر کو مقبوضہ علاقے واپس مل گئے تو اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی جانب سے حقہ پانی بند کرنے کی کوشش کو گھاس بھی نہیں ڈالی اور رفتہ رفتہ سب بھائیوں نے مصر کو پرانی تنخواہ پر دوبارہ قبول کر لیا۔

دوسری جانب سب سے پرانے اسرائیل نواز ملک ایران میں جب بادشاہت کا بستر گول ہوا تو اس کے ساتھ ہی اسرائیلی سفارتخانہ بھی لپٹ گیا اور اس کی عمارت تنظیم آزادی فلسطین کے حوالے کر دی گئی۔ نئے ایران کی عرب دنیا میں بھی بہت واہ واہ ہوئی۔ مصر کو طعنے دیے گئے کہ تم نے عرب ہو کر فلسطین کاز سے غداری کی اور ایران نے عجمی ہونے کے باوجود فلسطین کی بابت اپنا حق ادا کر دیا۔

مصر کے صدر انور سادات کو اسرائیل تسلیم کرنے کے عوض تین برس بعد جان سے ہاتھ دھونا پڑے مگر ان کے اس تاریخی قدم کے بعد عرب دنیا کا بقول شخصے ”جھاکا“ کھل گیا۔

صرف مانع تھی حیا بند قبا کھلنے تلک
پھر تو وہ جان حیا ایسا کھلا ایسا کھلا
( رسا چغتائی )

آج مصر کی جانب سے اسرائیل تسلیم کرنے کے چوالیس برس بعد اس کا حقہ پانی بند کرنے والے مسلم ممالک میں شامل خلیجی ریاستوں (بحرین، متحدہ عرب امارات ) کی بھی یوں کایا کلپ ہو چکی ہے کہ مصر اسرائیل کے ساتھ ساجھے داری میں ان کا مددگار اور سعودی عرب خاموش پشتی بان ہے۔

جب کہ بیالیس برس قبل اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑنے والا ایران خلیجی ریاستوں، مصر اور اسرائیل کا مشترکہ دشمن سمجھا جاتا ہے۔ ترکی کی خارجہ پالیسی عملاً کچھ یوں ہے کہ وہ شیر کے پیچھے بھی ہے اور شکاری کے ساتھ بھی دوڑ رہا ہے۔

پس ثابت ہوا کہ خالص آدرشی نظریہ صرف عام آدمی کو بوقت ضرورت گرمانے یا ٹھنڈا رکھنے کا معجون ہے اور ریاستوں کے لیے ہر آن بدلتے مفادات پر یقین ہی اصل عملی نظریہ ہے۔

کہاں جمال ناصر کے مصر نے اسرائیل کی بحیرہ احمر کی جانب کھلنے والی بندرگاہ ایلات کا مئی انیس سو سڑسٹھ میں بحری محاصرہ کیا تو جنگ چھڑ گئی اور کہاں اسی بحیرہ احمر میں گزشتہ ہفتے امریکا، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے پہلی بار مشترکہ آبی مشقیں کیں۔ ان کا مقصد مشکوک جہازوں کی موثر تلاشی کا ہنر صیقل کرنا اور اس بابت باہمی تجربات سے مستفید ہونا تھا۔

چونکہ بحیرہ احمر اور بحیرہ روم کے درمیان نہر سویز ہے اور خلیج فارس سے لگ بھگ ستر فیصد عالمی تیل گزرتا ہے۔ لہٰذا دونوں اہم ترین بحری راستوں کو محفوظ اور کھلا رکھنا مقامی ممالک کی ذمے داری ہے۔ اس اعتبار سے اسرائیل اور امریکا کا خلیجی ممالک سے عسکری تعاون اور مشترکہ تربیت و حکمت عملی ایک اہم قدم ہے۔

ان تمام دوستوں کے مابین ایران کی علاقائی سرگرمیوں پر گہری تشویش کے سبب ایک مشترکہ تزویراتی حکمت عملی پر بہت پہلے ہی سے اتفاق ہے۔ گزشتہ ماہ موساد کے سربراہ نے پہلی بار بحرین کا علانیہ دورہ کیا، جب کہ اسرائیل کی حدود میں جو فضائی مشقیں ہوئیں ان میں متحدہ عرب امارات کی فضائیہ نے بھی شرکت کی۔

اس وقت دبئی میں جاری بین الاقوامی اسلحہ نمائش میں اسرائیلی ہتھیار بھی صلائے عام دے رہے ہیں۔ امارات، فلائی دبئی اور اتحاد ائرلائنز کی تل ابیب تک روزانہ پرواز ہے اور اسرائیلی ائرلائنز ایل آل بھی سعودی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے دبئی میں لینڈ کرتی ہے۔

اسرائیلی شہری پیشگی ویزے کے بغیر بحرین اور امارات آ جا سکتے ہیں۔ پچھلے ایک برس میں لگ بھگ دو سو اسرائیلی و اماراتی کمپنیوں نے کاروباری یادداشتوں پر دستخط کیے اور ایک دوسرے کے ہاں تجارتی دفاتر کھولے۔ اندازہ ہے کہ دو ہزار پچیس تک صرف امارات اور اسرائیل کی دو طرفہ تجارت کا حجم دس ارب ڈالر سالانہ سے بڑھ جائے گا۔

صرف ڈیڑھ برس میں اتنی زبردست سہ ملکی یاری کی بین الاقوامی تعلقات میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔

ایران، امریکا اور یورپی اتحادیوں کے مابین ہونے والے دو ہزار پندرہ کے جوہری عدم پھیلاؤ کے سمجھوتے سے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کی مکمل بحالی کا اعلان کر دیا۔

اب امریکا ایک بار پھر دو ہزار پندرہ کی طرز کے سمجھوتے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔ مگر خطے کی بدلی ہوئی یاریوں اور دشمنیوں کے تناظر میں اس ماہ کے آخر میں امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا نیا دور شروع ہونے سے پہلے ایران سے متعلق خصوصی امریکی ایلچی رابرٹ مولے نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کا دورہ کر کے اس بابت دوستوں کا عندیہ جاننے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کا اس سلسلے میں واضح مشترکہ موقف ہے کہ ”کھینچ کے رکھو تان کے رکھو، ملاؤں کو باندھ کے رکھو۔“

دریں اثنا اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے پر یہودی آباد کاروں کے لیے دو ہزار مکانات پر مشتمل ایک نئی بستی کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔ یروشلم کے ایک قدیم قبرستان کو ایک اسرائیلی عدالت نے ریاستی ملکیت قرار دیتے ہوئے اس قبرستان میں مزید تدفین پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حتیٰ کہ فلسطینیوں کے لیے پرانی قبروں پر فاتخہ خوانی بھی اسرائیلی گشتی فوجی ٹکڑیوں کی موجودگی میں انتہائی کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔ مگر اس طرح کی خبر دیگر عرب ممالک تک اب نہیں پہنچتی۔ پہنچ بھی جائے تو نیا طرز عمل ہے کہ یار کب تک ہم ساتھ دیتے رہیں۔ ان فلسطینیوں کا رونا دھونا تو یونہی چلتا رہے گا۔

دوسری جانب لبنان تکنیکی اعتبار سے اسرائیل کے ساتھ چوہتر برس سے حالت جنگ میں ہے اور تمام تر امریکی و فرانسیسی دباؤ کے باوجود اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کو تیار نہیں۔ نیز یہ چھوٹا سا ملک ایران اور سعودی حلقہ اثر کی بساط پر مسلسل مہرہ بھی بنا ہوا ہے۔

ان دنوں لبنان کی اقتصادی کمر زمین سے لگی ہوئی ہے۔ لبنانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نوے فیصد قدر کھوچکی ہے۔ مڈل کلاس سڑکوں پر آ چکی ہے۔ مگر لبنانی سیاست بدستور روایتی مسیحی، سنی اور شیعہ اشرافیہ کا بدعنوان جوا گردن پر اٹھائے ادھ موئی سی رینگ رہی ہے۔ ایسے جاں بلب ملک پر آخری درہ خود لبنانی وزیر اطلاعات جارج کوردائی کے اس بیان کی صورت پڑا ہے کہ یمن کے حوثی قبائل اس وقت بیرونی جارحیت سے اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔

سعودی حکومت نے مطالبہ کیا کہ اس گستاخ وزیر اطلاعات کو فوراً برطرف کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ چنانچہ سعودی، اماراتی، بحرینی اور کویتی سفیروں کو واپس بلا لیا گیا۔ ان ممالک نے اپنے شہریوں پر لبنان سے ربط ضبط رکھنے پر پابندی عائد کر دی۔

گویا لبنان کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے جو اس سے پہلے قطر کے ساتھ ہو چکا ہے۔ مگر قطر میں دم تھا اس لیے ہر پابندی آرام سے جھیل گیا۔ لبنانیوں کو تو اس وقت یہ بھی نہیں معلوم کہ اگلے وقت کی روٹی میسر ہو گی بھی کہ نہیں۔ یہ صورت حال جس ملک کے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش ہے وہ اسرائیل ہے۔

تو یہ ہے آج کا مشرق وسطی۔ مگر ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہماری گردن تو افغانستان کی وجہ سے ہی ان دنوں نہیں مڑ پا رہی۔
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments