چیف جسٹس کے منہ میں گھی شکر، لیکن کون سی آزادی ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کے منہ میں گھی شکر کہ انہوں نے عدلیہ کی مکمل خود مختاری کا اعلان کیا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی سر آنکھوں پر کہ وہ کسی کی ’ڈکٹیشن‘ نہیں لیتے ۔ تاہم عدالتوں سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر، ملک میں آزادی رائے کی صورت حال اور جمہوری روایات کو درپیش خطرات کی صورت حال زبانی دعوؤں کی بجائے گہرے غور و فکر اور عملی اقدامات کا تقاضہ کرتی ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے دعویٰ کیاہے کہ کسی میں جرات نہیں ہے کہ مجھے کوئی فیصلہ لکھنے کی ہدایت دے۔ لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں وکیل رہنما علی احمد کرد کی تند وتیز تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتشار نہ پھیلایا جائے اور لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ اس خوش آئیند یقین دہانی کے باوجود چیف جسٹس کو سوچنا چاہئے کہ ملک کے شہریوں کی اکثریت عدلیہ کی بے بسی اور جمہوری حقوق کے بارے میں علی احمد کرد سے کیوں متفق ہے۔ اس کانفرنس میں وکیلوں کی قیادت سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے ججوں اور سفیروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ’انسانی عظمت کو درپیش چیلنجز‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد کی بلند آہنگ اور سخت گفتگو نے کانفرنس ہال کا ماحول تبدیل کردیا۔ ایک طرف نوجوان وکیلوں کا ایک گروہ عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کی بحالی کے نعرے لگاتا رہا تو دوسری طرف کانفرنس کے اختتام میں تقریر کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے علی احمد کرد کی تنقید کو غلط قرار دیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ پہلے عدالتی فیصلوں کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ عدالتیں کیسے فیصلے دے رہی ہیں۔
جسٹس گلزار احمد نے عدلیہ پر ہمہ قسم تنقید کو مسترد کیا اور کہا کہ ’وہ انسانی بنیادی حقوق اور جمہوریت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ اداروں کے دباؤ میں کام نہیں کر تے۔ اُنہوں نے کبھی کسی ادارے کی بات نہیں سنی۔ نہ کسی کی جرات ہوئی کہ اُنہیں کہہ سکے۔ اُنہوں نے کسی کے کہنے پر فیصلے نہیں کئے۔ عدالتیں لوگوں کو انصاف دیتی ہیں۔عدالتیں آئین کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ کسی کو جرات نہیں عدلیہ کو روک سکے‘۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی ایک کیس پر بتا دیں کہ آج تک کس کی ہدایات پر کون سا فیصلہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے بارے میں عمومی بیان نہیں دینا چاہیے۔ انتشار مت پھیلائیں۔ اداروں سے لوگوں کا اعتماد مت اٹھائیں۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہے۔ انسانوں کی حکمرانی نہیں ہے۔ عدلیہ کسی بھی غیر جمہوری نظام کو قبول نہیں کرے گی۔ ایسی صورت میں عدلیہ کے جج کام کرنا چھوڑ دیں گے۔ پہلے بھی ایسا کر چکے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی تقریر سے پہلے اسلام آباد ہائی کوٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے البتہ یہ اعتراف کیا کہ عدالتوں سے ماضی میں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور ان غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں درست راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے علی احمد کرد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی تقریر سے پتا چلا کہ لوگ اور بار ایسوسی ایشنز ججز کے بارے کیا سوچتی ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی عدالتی فیصلے ماضی کا حصہ ہیں جنہیں مٹایا نہیں جا سکتا۔ وہ طے کر چکے ہیں کہ ماضی میں عدلیہ نے جو غلطیاں کیں، انہیں نہیں دہرائیں گے۔ جو جج آزاد ہو اس کے دباؤ میں آنے کا جواز نہیں۔ ہم سب ایک حلف کے پابند ہیں اور اپنی غلطیاں تسلیم کرنی چاہیں۔ میڈیا آزاد ہونا چاہیے، میڈیا آزاد ہو تو عدلیہ آزاد ہوتی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر جسٹس منیر کی سربراہی میں وفاقی عدالت نے تمیزالدین کیس کا فیصلہ واپس نہ لیا ہوتا تو اس ملک کا مستقبل مختلف ہوتا۔ ڈوسو کیس، محترمہ نصرت بھٹو کیس اور ظفر علی شاہ کیس عدلیہ کی تاریخ کا حصہ ہیں جس کو ہم مٹا نہیں سکتے، ان فیصلوں نے غیر جمہوری طاقتوں کو مضبوط کیا۔ ایک منتخب وزیر اعظم کو دباؤ میں آکر پھانسی کی سزا سنانا ، ادارے کے لیے باعث شرمندگی ہے۔ ملک کی تاریخ موڑنے میں عدلیہ کا کردار اہم تھا جس سے ہم آنکھیں نہیں پھیر سکتے۔ ملکی تاریخ کا نصف دور آمریت میں گزرا، غاصبانہ حکومتوں نے بنیادی حقوق اور آزادی چھین لی تھی۔ غلطیوں کا اعتراف بہتری کی جانب پہلا قدم ہے، میڈیا، سول سوسائٹی اور عدلیہ کو مل کر انصاف کے نظام کو بہتر بنانے کی جدوجہد کرنا ہوگی۔
کانفرنس سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی ٰ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ عدلیہ کا ہر جج اور فوج کا ہر اہلکار اپنے عہدے کا حلف لیتا ہے جس میں وہ یہ کہتا ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کرے گا۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہو جس کی عدلیہ دنیا کو بتاتی ہے کہ جمہوریت کیا ہے۔ 2017 کی عالمی درجہ بندی کے مطابق آزاد ذرائع ابلاغ کے حساب سے پاکستان دنیا کے 130ویں نمبر پر آتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’جمہوریت کی بھیک نہ مانگیں بلکہ یہ حق ہے کہ آپ جمہوریت کا مطالبہ کریں ۔ حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ ’سب سے افضل جہاد ظالم کے سامنے حق بات کرنا ہے‘۔ انہوں نے ایک فیصلے کا حوالہ دے کر کہا کہ اگر وزیر اعظم، قومی نشریاتی ادارے پر بطور پارٹی لیڈر بات کرتا ہے تو اپوزیشن کو بھی اس کا پورا حق ہے اور اگر اپوزیشن کو یہ موقع فراہم نہیں کیا جاتا تو یہ امتیازی سلوک ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مختلف ادوار میں جمہوریت کے خلاف آمرانہ اقدامات پر بھی بات کی۔
کانفرنس کے آغاز میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی کرد نے تقریر کے آغاز ہی میں ’ایک جرنیل، ایک جرنیل ‘ کی تکرار سے ماحول کو سنسنی خیز بنادیا اور نوجوان وکیلوں نے آزادی کے حق میں نعرے بازی شروع کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک جرنیل 22 کروڑ عوام پر حاوی ہے۔ یا تو اس جرنیل کو نیچے آنا پڑے گا یا لوگوں کو اوپر جانا ہو گا۔ تب ہی برابری ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ کو رول آف لا انڈیکس میں 126ویں نمبر پر جرنیلوں نے پہنچایا ہے۔ اس سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرنے کی ضرورت ہے جو ستر سال سے آنکھیں دکھا رہا ہے۔ ’ملک کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے، بلوچستان میں لوگوں کو ایجنسیاں اٹھا کر لے جاتی ہیں‘۔علی احمد کرد نے سوال اٹھایا کہ ملک میں کون سی عدلیہ موجود ہے؟ ’کیا اُس عدلیہ کی بات ہو رہی ہے جہاں لوگ صبح آٹھ بجے سے ڈھائی بجے تک انصاف کے لیے جاتے ہیں اور ڈھائی بجے سینوں پر زخم لے کر گھر کی راہ لیتے ہیں‘۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ عدلیہ انسانی حقوق اور جمہوری اداروں کی حفاظت کرے گی؟
لاہور کانفرنس میں ہونے والی ان تقاریر سے ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال اور عدلیہ سے مایوسی کا جو اظہار سامنے آیا ہے ، وہ کسی ایک فرد کی پکار نہیں ہے بلکہ عام طور سے یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ عدالتیں ملک میں قانون کی عملداری ، میڈیا کی آزادی، صحافیوں کی حفاظت اور آزادی رائے کے تحفظ میں مناسب کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ ملک میں بے شک ایک ایسی حکومت کام کررہی ہے جو جمہوری عمل کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی لیکن ایک جمہوری دور میں بھی اظہار رائے کے حوالے سے شدید گھٹن، سراسیمگی اور خوف کا ماحول پایا جاتا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کو کو ہر قسم کا مواد سنسر کرنے اور ایک خاص نقطہ نظر کی تبلیغ پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد ہائیبرڈ اور ففتھ جنریشن وار کے نام پر آزادیوں پر قدغن کو جائز قرار دینے کے لئے دلائل کا انبار لگایا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں عوام کی نظریں عدلیہ ہی طرف اٹھتی ہیں کہ وہاں سے امید کی کوئی کرن دکھائی دے۔ بدقسمتی سے عدلیہ نے بھی بنیاد ی حقوق اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری قبول کرنے سے اجتناب کیا ہے۔
گزشتہ دنوں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے الزامات پر مبنی خبر کی اشاعت پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملہ کی تحقیقات کروانے اور یہ جاننے کی بجائے کہ ان الزامات کی حقیقت کیا ہے، اسے توہین عدالت کے معاملہ میں تبدیل کرتے ہوئے رپورٹر اور اخبار کے ایڈیٹروں کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے آج دو ٹوک الفاظ میں جمہوریت کے لئے عدلیہ کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا لیکن ان کی عدالت نے بھی سپریم کورٹ ہی کے ایک سابق چیف جسٹس کی نیت اور اعمال کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ جسٹس گلزار احمد کی نیت پر شک مطلوب نہیں ہے لیکن ان کے علم میں ہونا چاہئے کہ پاناما پیپرز کے بعد نواز شریف کو نااہل کروانے اور ان کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمات قائم کروانے کے بارے میں کیسی چہ میگوئیاں ہوتی رہی ہیں۔ یہ تاثر عام ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدالتیں منتخب وزیر اعظم کو سیاسی منظر نامہ سے ہٹانے کے مقصد میں کسی حد تک استعمال ہوئی تھیں۔ سپریم کورٹ اس حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے میں مسلسل ناکام ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے ججوں پر دباؤ کی ذاتی گواہی پیش کی تھی جس کی پاداش میں انہیں نہایت قلیل مدت میں جج کے طور پر عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے کے خلاف شوکت صدیقی کی اپیل پر سپریم کورٹ ابھی تک فیصلہ نہیں دے پائی۔ یہی طریقہ سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔ اگر اعلیٰ عدالتیں شکوک کی فضا صاف نہیں کریں گی اور ان کے فیصلے دو ٹوک انداز میں باختیار اداروں کو یہ پیغام نہیں دیں گے کہ کسی بے قاعدگی کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں سے کسی رعایت کی توقع نہ کی جائے تو ملک میں عدلیہ کی خود مختاری کے بارے میں مثبت رویہ مضبوط نہیں ہوگا۔
نواز شریف کو بدعنوانی کے مقدمات میں سزا دلوانے کے معاملہ میں بھی جج ارشد ملک کے ویڈیوز سامنے آنے کے باوجود ہائی کورٹ اس کیس کے میرٹ پر کوئی فیصلہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ اب ثاقب نثار کی جانبداری پر اٹھنے والے سوال کا جواب دینے کی بجائے صحافیوں کی غیر ذمہ داری کو موضوع بحث بنایا جارہا ہے۔ عدالتی فیصلے غلط یا درست ہوسکتے ہیں لیکن اگر کسی ملک کی عدالتوں کے بارے میں ایک خاص ایجنڈے کی پیروی کرنے کا شبہ پیدا ہوجائے تو چیف جسٹس کی ذاتی شہادت بھی شبہات دور نہیں کرسکتی۔ عام لوگ عملی اقدامات سے ہی پوری تصویر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2029 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments