جج صاحبان اب تعلیم اور قرات کافیصلہ کریں گے
دس نومبر 2021 کو سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب نے تمام ڈپٹی کمشنران اور ایڈمنسٹریٹر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کو ایک حکم نامہ بھیجا ہے جس میں لاہور ہائی کورٹ کے تین نومبر کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مطلع کیا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کے ہر چیف ایگزیکٹو افسر پر لازم ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب کو اپنے علاقے کے سکولوں میں تدریس قرآن اور ناظرہ کی تدریس کے متعلق پندرہ نومبر تک رپورٹ ارسال کریں۔ اور جج صاحب یا ان کے مقرر کردہ نمائندے کو رپورٹ کی تصدیق کی خاطر تمام سہولیات بشمول معائنے کے لیے ٹرانسپورٹ مہیا کریں۔ معائنے کے وقت چیف صاحب بھی جج صاحب کے ہمراہ جائیں۔
مزید کہا گیا کہ جج صاحب یا ان کے نمائندے نہ صرف یہ چیک کریں گے کہ قرآن مجید کو ایک الگ سبق کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے، بلکہ اس بات کی تصدیق بھی کریں گے کہ رپورٹ کے تمام مندرجات درست ہیں۔ معزز جج صاحب اس رپورٹ پر متعلقہ پرنسپل یا ہیڈ ماسٹر کے دستخط بھی ثبت کروائیں گے جو اس بات کی نشانی ہو گی کہ ہر پہلو سے رپورٹ کے مندرجات درست ہیں۔ تمام جج صاحبان کی رپورٹ مورخہ 29 نومبر تک عدالت عالیہ میں موصول ہو جانی چاہیے۔
ہماری رائے میں تو یہ بہت اچھا اقدام ہے۔ انگریز کے زمانے سے یہ دستور چلا آ رہا تھا کہ محکمہ تعلیم کے امور کی نگرانی محکمہ تعلیم کے افسران ہی کیا کرتے تھے۔ سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ محکمہ تعلیم کے انسپکٹر لیا کرتے تھے اور اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ سکولوں کا نظام محکمہ تعلیم کے قواعد اور منشا کے مطابق چل رہا ہے۔
بظاہر تعلیمی نظام پر بڑے بڑے قابل سی ایس ایس اور پی سی ایس افسران متعین ہیں۔ لیکن اس مراسلے سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ سکول چلانے کے سلسلے میں محکمہ تعلیم کے افسران پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ضرور عدالت عالیہ میں جھوٹ بولتے پکڑے گئے ہوں گے ورنہ ان پر اس طرح عدم اعتماد کر کے لاکھوں مقدمات کے بوجھ تلے دبے جج صاحبان کو یہ اضافی کام نہ دیا جاتا۔ ایک ضلعے میں جتنے زیادہ سکول ہوتے ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے یہ بات تو یقینی ہے کہ 29 نومبر تک عدالتوں میں مقدمات کی سماعت تقریباً رک جائے گی کیونکہ معزز جج صاحبان سکولوں کا معائنہ کر رہے ہوں گے۔

جیو ٹی وی کی 18 جون 2021 کی ایک خبر کے مطابق اس وقت لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد 193,030 تھی اور کل پچاس جج صاحبان ان کی سماعت کے لیے دستیاب تھے۔ یعنی فی جج 3,860 مقدمات۔ جبکہ پنجاب کی ضلعی اور سیشن عدالتوں میں مقدمات کی تعداد تقریباً ساڑھے تیرہ لاکھ تھی اور انہیں سننے کے لیے کل 1,616 جج تعینات تھے۔ یعنی فی جج 833 مقدمات۔ پنجاب کی عدلیہ میں 2,364 جج صاحبان کی تعیناتیوں کی منظوری دی گئی ہے اور یوں 748 غیر موجود ججوں کا اضافی کام بھی ان سولہ سو ججوں کے کاندھوں پر آن پڑا ہے۔
اس معاملے پر غور کریں تو یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ عدالتوں میں اتنے زیادہ مقدمات ہونے اور معاشرتی بگاڑ کی وجہ ہی دین سے دوری ہے۔ اگر بچوں کو دینی تعلیم دے دی جائے تو وہ نہ صرف یہ کہ تنازعات سے دور رہیں گے بلکہ انگریز کی قائم کردہ ان عدالتوں میں مقدمات لے کر بھی نہیں جائیں گے۔ خیر ہمارے معزز جج نہایت محنتی ہیں۔ وہ مقدمات کی اس بھاری تعداد کا فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی قرات اور تجوید کا فیصلہ بھی کر دیں گے اور نااہل اساتذہ کو نشان عبرت بنا دیں گے۔
ممکن ہے کہ بعض ناقد یہ کہیں کہ عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی کے اصول کے مطابق عدلیہ کا کام صرف اپنے عدالتی نظام کو دیکھنا اور وہاں سائلین کو انصاف فراہم کرنا ہے، مگر لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو دیکھتے ہوئے ہمارے ذہن میں تو یہی تاثر ابھرتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران اور اساتذہ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور گویا انہیں جھوٹا سمجھا جانا درست ہو گا۔ تعلیم جیسے اہم معاملے کو ان پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دوسری طرف ہمیں اس بات کا علم بھی ہوتا ہے کہ ہمارے فاضل جج صاحبان نہ صرف قانون بلکہ تجوید اور ناظرے کے ماہر بھی ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے بعد کہ سکولوں میں قرآن کو علیحدہ مضمون کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے اور ناظرے کی درست تدریس ہو رہی ہے، معزز جج صاحبان دینی مدارس کا معائنہ کر کے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہاں بھی قرات اور تجوید کی درست تعلیم دی جا رہی ہے۔ ابتدا کے لیے مرشد مرحوم خادم رضوی کے مدرسے سے معائنے کا آغاز کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی ایک خاص علامتی اہمیت ہو گی۔
ہم اس اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دیگر اہم قومی معاملات از قسم بجلی اور گیس کی سپلائی، مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسی نیشن مہم، پٹرول پمپوں پر درست مقدار میں پٹرول کی فراہمی، اور سیوریج اور سینی ٹیشن کے نظام کی نگرانی پر بھی عدلیہ کے نمائندے تعینات کیے جائیں گے کیونکہ ان بدقماش سول افسران کو راہ راست پر رکھنے کا فریضہ محض ریٹائرڈ فوجی افسران پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔


