اکیس نومبر، یوم وفات ڈاکٹر عبدالسلام
اول پاکیر جین العابدین عبدالکلام (ابوالفقیر زین العابدین عبدالکلام) بھارت کے انتہائی جنوب میں تکونی سرے پر واقع رامیشورم میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے پانچ بہن بھائیوں مین سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد ایک معمولی ملاح، سمندر پہ پل بن جانے کی وجہ سے جن کا کاروبار تیزی سے ڈوب رہا تھا، اور امام مسجد تھے۔ خاندانی رئیس الکلام کی آبائی شان و شوکت کے محض آثار ہی باقی رہ گئے تھے اور ان کو گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانے کے لیے انتہائی نوعمری میں اخبارات بیچنے پڑے۔ نوجوان عبدالکلام نے ہمت نہیں ہاری اور بدقت تمام اپنی تعلیم مکمل کرتے رہے۔
جنگی پائلٹ بننے کے جنون کی حد تک شوقین عبدالکلام، معمولی فرق کی وجہ سے پائلٹ نہیں بن سکے کیونکہ میرٹ لسٹ میں ان کا نواں نمبر تھا جب کے آسامیاں صرف آٹھ تھیں۔ کچھ ہی وقت کے بعد انہوں نے بھارت کے چوٹی کے خفیہ دفاعی ادارے ڈی آر ڈی ایس میں شمولیت کے لیے انٹرویو میں بتایا کہ اس واقعے کے بعد وہ ٹوٹ پھوٹ کہ رہ گئے تھے۔
یہی عبدالکلام آگے چل کہ جمہوریہ بھارت کے صدر بننے والے تھے۔ امام مسجد کے اس اخبار فروش بیٹے نے بھارت کی دفاعی صلاحیت کو ناقابل تسخیر بنانا تھا۔ وہ بھارت کی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی، خلائی ٹیکنالوجی اور ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی جیسے حساس ترین اداروں کے سربراہ بھی رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھارت کے اعلیٰ ترین اعزاز بھارت رتن سے نوازا گیا۔
وہ ایک انتہائی مذہبی مسلمان تھے جو عبادات کی سختی سے پابندی کیا کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں یہ مذہبی روح ان کے امام مسجد والد نے پھونکی تھی جو اپنی اولاد کو مذہب پر عمل پیرا دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن آج کا ہمارا موضوع بحث عبدالکلام نہیں بلکہ ان کے نام کے ہم صوت عبدالسلام ہیں۔ عبدالکلام اور عبدالسلام میں نام کی مماثلت محض اتفاقی ہے۔ اہم بات ان کی زندگیوں کا تضاد ہے۔ اور خاص طور پر ان کا انجام۔
اکیس نومبر نوبل انعام یافتہ واحد پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کا یوم وفات بھی ہے۔ ان کی زندگیوں پہ نظر دوڑائی جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مذہب نے ان کی زندگیوں میں کتنا اہم کردار ادا کیا تھا۔ دونوں اپنے اپنے ممالک میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھتے تھے لیکن یہ قابل غور ہے کہ دونوں ممالک نے ان مشاہیر کے کیا سلوک کیا۔
ہیر رانجھا کے شہر، جھنگ کے سرکاری سکول استاد، چوہدری ’محمد حسین‘ کے گھر پیدا ہونے والے عبدالسلام ماہر طبیعات تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج (یونیورسٹی) لاہور سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہیں پہ طبیعات اور ریاضی پڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ طبیعات اور ریاضی کے طلباء میں تحقیق اور ایجاد کا مادہ پیدا کرنا چاہتے تھے چنانچہ انہیں کالج کی فٹ بال ٹیم کا کوچ بنا دیا گیا کیونکہ سربراہ ادارہ کی تحریر کردہ رپورٹ کے مطابق وہ ایک اچھے استاد نہیں تھے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے البرٹ آئن سٹائن کے ڈاکٹریٹ کی بنیاد پہ نوکری کی درخواست کو یونیورسٹی آف برن نے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ ان کی تھیوری آف ریلیٹوٹی حقیقی سائنس سے زیادہ ’فنکاری‘ لگتی ہے۔
اس سے دلبرداشتہ ہو کر عبدالسلام یورپ چلے گئے جس سے آگے کی ساری کہانی دنیا جانتی ہے۔ آج کی اس تحریر کا مقصد عبدالسلام کی کامیابیوں پہ روشنی ڈالنا بھی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد اس رویے کی نشاندہی کرنا ہے جس کا شکار عبدالسلام ہوئے۔
”میں پاکستانی تھا اور ہمیشہ پاکستانی رہوں گا۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا کبھی میرے (پاکستانی) لوگ بھی مجھے اپنائیں گے؟ پوری دنیا کے لوگ میری تکریم کرتے ہیں مگر کیا کبھی گورنمنٹ کالج کے طالب علم بھی میرے نوبل انعام کی نقل لینے آئیں گے؟“ میں دیکھ سکتا تھا کہ یہ فقرے بولتے ہوئے اپنی عمر کے کل سالوں سے بھی زیادہ بین الاقوامی اعزازات حاصل کرنے والے 60 سالہ عبدالسلام کی شرارتی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ ان کی تقریباً سفید ہو چکی داڑھی اور دبیز شیشوں والی عینک بھی اسے چھپا نہیں پائی۔
ایک طرف جہاں عبدالکلام کی ترقی میں اقلیتی مذہب کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنا وہیں دوسری طرف ہم نے بیک جنبش قلم عبدالسلام کے فرقے کو مذہب سے خارج قرار دے کر ان پر قومیت کے دروازے بند کر دیے۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ ریاست نے لوگوں کے مذہب کا خود اختیاری بیڑا اٹھا لیا۔ ایسا کرتے ہوئے ہم بھول گئے کہ اس فرقے کے لوگوں کا ریاست کے لیے کیا کردار رہا تھا۔
چونکہ ریاست نے مذہب اور قومیت کو دوقومی نظریے کے زیرسایہ گڈمڈ کر دیا اس لیے، بدقسمتی سے، ہمیں مطالعہ پاکستان کی کسی کتاب نے نہیں بتایا کہ سر ظفراللہ خان کا تعلق بھی اسی فرقے سے تھا جو عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پہلے جج تھے۔ ان کے فرقے کے خلاف نعرے بازی کرنے والی اکثریت کو شاید ہی یہ پتا بھی ہو گا کہ عالمی عدالت انصاف میں کسی ملک کی نمائندگی کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
ہم شاید میجر جنرل اختر حسین ملک، جو میجر جنرل عبدالعلیٰ ملک کے بھائی تھے کے بارے میں بھی نہیں جانتے جو کشمیر کی آزادی کے لیے کیے جانے والے خفیہ آپریشن ’جبرالٹر‘ کے سربراہ تھے۔
عبدالسلام کا انتقال 1995 میں آکسفورڈ میں ہوا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی باقیات کو ان کی سرزمین، پاکستان میں دفن کیا جائے لیکن بھلا ہو ہمارے محافظ دین ہونے کا، ہم نے ان کی باقیات کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ شاید اس سے بھی ہمارے اکثریتی دین کو خطرہ تھا۔ دوسری طرف عبدالکلام کی موت پر فوج کے تینوں شعبوں کے سربراہان، وزیراعظم، صدر اور نائب صدر نے ان کے تابوت کا استقبال کیا اور انہیں مکمل سرکاری اعزازت کے ساتھ دفن کیا گیا۔
میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ریاست کو مذہبی اجارہ داری کس نے دی؟ مذہب ایک انتہائی ذاتی معاملہ ہے اور کسی بھی دوسری طاقت کو اس بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہو سکتا۔ مصیبت کی ابتداء تب ہوئی جب ریاست، مذہب کی محافظ بھی بن گئی اور مذہب ریاست کو نظریاتی تحفظ فراہم کرنے لگا تو ریاستی قوانین نے لوگوں کے عقائد کا فیصلہ بھی کرنا شروع کر دیا۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ ریاستی اداروں کے مفادات اور ریاست کی اپنی جڑیں مذہب میں پیوست تھیں چنانچہ ریاست اور مذہبی ذہنیت نے باہم گٹھ جوڑ سے قوم کے اجتماعی شعور کو یرغمال بنا لیا۔
سنجیدگی برطرف، بازار میں سے گزرتے ہوئے میں دیکھتا ہوں کہ کئی دکانوں کے باہر ایک اشتہار چسپاں ہوتا ہے، ”قادیانی پہلے اسلام میں داخل ہوں پھر اس دکان میں داخل ہوں۔“ میں سٹپٹا کر رہ جاتا ہوں کہ گاہک کے مذہب کا بھلا خریداری سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ چند دن پہلے ایک بھلا آدمی اپنے کاغذات کی تصدیق کے لیے ایک اعلٰی افسر کے پاس آیا، تو اسے بتایا گیا کہ قادیانی ہونے کی وجہ سے اس کے کاغذات کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
میں قومی یادگاروں اور عمارتوں کو مذہب کی بنیاد پر اپنی صدیوں پرانی شناخت بدلتے دیکھ کر ڈر جاتا ہوں کہ یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا؟ سر گنگا رام ہسپتال لاہور کے پاس سے گزرتے ہوئے میں سوچتا ہوں کہ جانے کس دن ان سے موسوم ہسپتال بھی اپنی شناخت بدل لے۔ مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ اگر ان عمارتوں نے ریاست کا پسندیدہ مذہب نہ قبول کیا تو شاید اگلی آئینی ترمیم ان عمارتوں کو بھی پاکستان سے خارج کر دے اور عبدالسلام کی طرح ان کی باقیات کو بھی پاکستان کی مٹی نصیب نہ ہو۔ کون جانے کس دن؟


