عمران حکومت پاکستان کو عالمی منڈی تک لے گئی


کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کا وزیر اعظم اور اس کی ٹیم کا ویژن کیا ہے۔ پاکستان 1947 میں بنا اور 2018 تک بہت سی جمہوری اور فوجی حکومتیں آئیں لیکن کسی بھی حکومت کے نصیب ایسے نہ تھے کہ وہ پاکستان کو ترقی کی اس راہ پر گامزن کر سکتا جس پر ہماری 2018 میں قائم ہونے والی حکومت نے کیا۔

ہماری ان پڑھ اور بوسیدہ عوام کو پتہ ہی نہیں تھا کہ عالمی منڈی کیا چیز ہے۔ ہمارے وزیراعظم صاحب اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت سے پاکستان کو عالمی منڈی تک پہنچایا۔

اس کے لئے جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ الحمد للہ ہمارے ہاں مقامی طور پر پیدا ہونے والی تمام اجناس اب عالمی منڈی کی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ اب اگر کسی کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تو وہ اپنے معیارات کو عالمی سطح پر لے جائے تو یہ بات سمجھ آ سکے۔ سب سے پہلے بڑی انتھک محنت کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کو عالمی منڈی کے معیار پر لایا تھا۔ اب اگر اس کی قیمت عالمی منڈی کے قریب ہے تو یہ بھی چیک کریں اب اس کی کوالٹی کیسی ہے اب اسی پیٹرول کی ایوریج کیسی ہے اگر آپ ان سب پر غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ پیٹرول کا معیار بڑا ہے اور قیمت عالمی منڈی میں سب سے کم ہے۔

پھر چینی پر محنت کی گئی اور اس کو عالمی منڈی کے معیار پر لایا گیا۔ اب ناصرف ہماری چینی کی قیمتیں عالمی منڈی میں سب سے کم ہیں بلکہ اس میں مٹھاس بھی عالمی منڈی سے کم ہے۔ اس طرح حفظان صحت کو بھی عالمی معیار پر لایا گیا ہے۔ اس سے شوگر کے مریض بھی کم پیدا ہونگے۔ ابھی بجلی کی قیمتوں پر جاہل لوگ بات کرتے ہیں لیکن جب یک دم گورنمنٹ اسی بجلی کی استطاعت پچیس ہزار میگا واٹ سے پچاس ہزار میگاواٹ پر کرے گی اور عالمی معیار کی بجلی آدھی قیمت پر دستیاب ہوگی تو آپ لوگ ششدر رہ جائیں گے۔

ابھی سارا پاکستان دو سو بیس واٹ کے کرنٹ پر چل رہا ہے جس کا خرچ بہت زیادہ ہے۔ ہماری حکومت اس سب کو عالمی معیار کے مطابق ایک سو دس واٹ پر تبدیل کرے گی تو یہی بجلی دوگنا ہو جائے گی اور قیمتیں آدھی بس عوام کو عالمی منڈی کے مطابق ایک سو دس واٹ کے کنورٹر لگانے پڑے گے۔ یہ ہوتا ہے ویژن۔ اب پچھلی حکومتوں کو کیا پتہ تھا اس بات کا۔

پھر اگلا انتہائی قدم گندم اور آٹے کو عالمی منڈی تک لے جانا تھا۔ اور آہستہ آہستہ ہماری تمام مقامی منڈیاں عالمی معیار کی منڈیاں بنتی جا رہی ہیں۔ کل میرے بھائی اسلام آباد کی مقامی سبزی اور فروٹ منڈی گئے۔ گاجر، پالک، آلو، ٹماٹر، مٹر، لہسن، پیاز، سب عالمی منڈی کے ریٹ پر لے کر آئے تو انتہائی خوش تھے کہ کسان خوشحال ہو رہا ہے۔ اور مجھے بتانے لگے کہ ہمیں اپنے انفراسٹرکچر بہتر کرنے پڑیں گے۔ امرود مقامی پھل ہے پر عالمی منڈی سے اسلام آباد آتے آتے گل جاتا ہے۔

جی بھائی وزیراعظم صاحب یقیناً اس پر کچھ عملی اقدامات اٹھا رہے ہوں گے آپ فکر نہ کریں۔ ڈرائی فروٹ کی قیمتیں بھی الحمدللہ عالمی منڈی کے مطابق پہنچ چکی ہیں۔ بادام، اخروٹ، چلغوزے، کاجو، خوبانی، پستہ جس چیز کی بھی قیمت پوچھیں الحمدللہ وہ عالمی منڈی کے مطابق ہے۔ تعمیراتی کام کا معیار بھی الحمدللہ اب عالمی معیار پر پہنچ چکا ہے کیونکہ اینٹ، سیمنٹ، سریا، ٹائل، فکسچر سب تعمیراتی سامان عالمی منڈی کے معیار پر پہنچ چکا ہے۔

یہ سب بہت خوش آئند باتیں ہیں۔ مقامی معیار کی گاڑیوں کی قیمتیں عالمی معیار پر پہنچ چکی ہیں امید واثق ہے جلد ہی ان کا معیار بھی عالمی معیار پر پہنچ جائے گا۔ ہماری عوام کو چاہیئے کہ وہ اکنامکس کو سمجھیں تاکہ ان کو عالمی اقتصادی تبدیلیوں کا اندازہ ہو سکے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کا ہم نے عوام سے وعدہ کیا تھا۔ کچھ لوگ اظہار رائے پر پابندیوں کا رونا روتے ہیں۔ لیکن اگر وہ پچھلے ہفتے میں ہونے والے دو ایونٹ دیکھ لیں کہ اسلام آباد میں سرینا ہوٹل اور لاہور میں آواری ہوٹل میں جس آزادی اظہار کا ذکر کیا گیا۔

کیا اس سے پہلے ممکن تھا۔ ہم کسی پر پابندیاں نہیں لگا رہے بلکہ سوشل میڈیا کو عالمی معیار پر لے کر جا رہے ہیں۔ جس کے لئے ضروری تھا کچھ لوگوں پر پابندی لگائی جائیں۔ تاکہ وہ سوشل میڈیا کو وقت دے سکیں۔ ہم نے انصاف اور عدالتی نظام کو بھی عالمی سطح پر پہنچایا۔ اب پارلیمنٹ اجازت دے چکی ہے کہ کلبوشن کا کیس عالمی عدالت میں چلے اور وہ اپیل بھی وہیں پر کرے کیونکہ مقامی عدالتیں فیصلہ سازی میں بہت وقت لگا دیتیں تھیں۔

اب جب کلبھوشن کو عالمی عدالت پھانسی کی سزا دے گی تو آپ کو ہمارا ویژن سمجھ آئے گا۔ الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک مشینیں دینے کے بہت دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ پاکستان کے کونے کونے میں بجلی پہنچے گی کیونکہ یہ سب مشینیں بجلی پر چلیں گی۔ اور پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ انشاءاللہ ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔

اب اگلے دو سال میں ہم تمام محنت کشوں کی تنخواہیں بھی ڈالر میں ادا کرنا شروع کر دیں گے۔ جس سے مزدور بھی ماہانہ سو ڈالر کمائے گا انشاءاللہ اور ہم عالمی منڈی میں سر اٹھا کر جی سکیں گے۔

اگر کسی کو گورنمنٹ کا ویژن سمجھ نہیں آ رہا تو وہ اپنے آپ کو بہتر کرے حکومت پر تنقید مت کرے۔

الحمدللہ میں خود تین سال سے منرل واٹر پی رہا ہوں۔ میرا رنگ تو کالا ہی ہے پر میں اپنے آپ کو گورا گورا اور بے غیرت محسوس کر رہا ہوں۔ اپنا معیار زندگی بہتر کیجئے نہ کہ تنقید کیجئے۔

Facebook Comments HS