کھلا نہیں سکتے، تو پیدا کیوں کرتے ہو
پاکستان کی آبادی ہر سال تقریباً ڈھائی فیصد کے ساتھ بڑھ رہی ہے یعنی ہم ہر سال 52 لاکھ بچے پیدا کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی کل آبادی تقریباً 50 لاکھ ہے۔ ہم ہر سال پورے نیوزی لینڈ کی آبادی کو پاکستان میں ضم کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا کی آبادی قریب قریب ڈھائی کروڑ ہے۔ اس حساب سے ہم ہر پانچ سال بعد ایک پورا براعظم اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے وسائل آپ کو پتا ہیں اور پاکستان کے بھی۔
پاکستان میں سوا دو کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے۔ بجلی، پانی، گیس، آمد و رفت کے لئے سڑکیں، اسکول، کپڑے، روزگار کے ذرائع اور دیگر مسائل اس بائیس کروڑ عوام کے لئے پورے نہیں ہو رہے تو سوچیں جب پاکستان کی آبادی آج سے چالیس سال بعد 45 کروڑ ہو جائے گی تو کیا سماں ہو گا۔ غربت، افلاس، بھوک، جرائم اور بے حسی کی چادر کہاں تک پھیلی ہوئی ہو گی جو کہ ابھی بھی وافر مقدار میں موجود ہے۔
اس ساری صورتحال میں مجھے لیجنڈری شعیب منصور کی فلم ”بول“ یاد آ گئی۔ فلم ایک انتہائی مذہبی آدمی کے گھر کی ہے جس کی سات بیٹیاں ہیں۔ بیوی کی صحت سات بچوں کے بعد کافی کمزور ہو گئی ہے۔ گھر کے مالی حالات بہت خراب ہیں مگر ان حالات میں بھی اس شخص کو بیٹے کی خواہش ہے۔ آئیے اب اس کے بعد اس فلم کے ایک منظر کے مکالمے شعیب منصور کے تخلیقی قلم سے ہی سمجھتے ہیں۔ یہ منظر باپ اور بڑی بیٹی کے درمیان ہے۔
بیٹی: ابا آج میں آپ سے کچھ ایسی باتیں کرنا چاہتی ہوں جو اس سے پہلے شاید ہی کسی بیٹی نے اپنے باپ سے کی ہوں گی۔ کرنی تو یہ امی کو چاہیے تھی لیکن ان کی آواز ہی نہیں نکلتی آپ کے خوف سے۔
باپ غصے سے : تمھاری تو آواز بہت نکلتی ہے نا، تم بکو۔
بیٹی: میں نے اس گھر کی آبادی روکنے کے لئے امی کا آپریشن کروا دیا ہے۔
باپ چیختے ہوئے : خدا غارت کرے تجھے۔ تجھے پتا ہے تو نے کتنا بڑا گناہ کیا ہے۔ خدا کے کام میں دخل دیا ہے۔ ارے زندگی دینے والا تو وہ ہے۔
بیٹی: بے شک وہ ہے ابا لیکن اس بات کا وہ مطلب نہیں جو آپ نے سمجھ لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہمیں زندگی پیدا کرنے کی صلاحیت دے رکھی ہے۔ حکیم شفاعت نے کتنے بچے پیدا کرنے ہیں اور ماسٹر اختر حسین نے کتنے، یہ اللہ میاں بیٹھ کر فرشتوں کو نہیں لکھواتے۔
باپ شدید غصے میں : استغفار پڑھ خبیث استغفار
بیٹی: او میرے خدا! آپ کو اتنی سی بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ جتنے منہ زیادہ ہوں گے، کھانا اتنا ہی زیادہ چاہیے۔
باپ: اور تجھے یہ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی ہے کہ رزق دینے کی ذمہ داری اس نے خود لے رکھی ہے۔
بیٹی: اچھا، تو یقیناً فرشتوں کے پاس ہمارا پتا غلط لکھا ہو گا کیونکہ یہاں تو نہیں پہنچ رہا رزق۔ دنیا میں جو اتنے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، وہ اس لئے مر رہے ہیں کہ خدا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔
باپ غصے سے : نعوذ باللہ کہہ خبیث نعوذ باللہ
بیٹی: آپ کہیں نعوذ باللہ ابا کیوں کہ میں تو خدا کی عزت بڑھا رہی ہوں، اس کا صحیح نقطہ نظر آپ کو سمجھا رہی ہوں۔
باپ: سبحان اللہ تو سمجھائے گی خدا کا نقطہ نظر۔ خدا کے رسول کا کیا یہ قول کافی نہیں ہے کہ اس کی امت قیامت کے روز سب سے بڑی ہونی چاہیے۔
بیٹی: میرے پیارے رسول نے یہ ضرور کہا ہو گا کہ میری امت بڑی ہو، لیکن بڑی ہو عزت میں، رتبے میں، ترقی میں۔ وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ گدھے ہوں لیکن سب سے زیادہ ہوں۔ فاقے مر رہے ہوں لیکن سب سے زیادہ ہوں۔
باپ یہ سن کر شدید غصے میں بیٹی کو منہ پر طمانچہ رسید کر دیتا ہے۔
بیٹی روتے ہوئے : مرد ہیں نا ابا، جہاں لا جواب ہوئے وہاں ہاتھ چلنے لگے۔
کاش ہم ترکی ڈرامے ارطغرل کی پانچ سو قسطیں دکھانے کی بجائے پاکستانی فلم ”بول“ صرف پانچ بار ہی اپنے ٹی وی پر دکھا دیتے تو شاید کچھ کم تعداد میں کم سن بچے سڑکوں پر بھیک مانگ رہے ہوتے۔


