نواز شریف کا خطاب: حکومت کا خوف ہی اس کے زوال کی بنیاد ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حیرت ہے کہ جو حکومت پولیس اہلکاروں کو گولیاں مارنے والوں کو گلے لگاتی ہے اور 80 ہزار پاکستانیوں کو ہلاک کرنے والوں کو عام معافی دینے کی تیاری کر رہی ہے، اس کے وزیر ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے ایک شخص کی تقریر پر اس قدر ناراض ہیں کہ اسے ’مجرم‘ قرار دے کر اس کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں جہاں انسانی حقوق، جمہوری روایات اور آئین پر عمل کرنے کی بات کی گئی ہے۔

لندن سے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے ملک کے غیر جمہوری، غیر آئینی اور انسانیت دشمن ہتھکنڈوں کے خلاف پائی جانے والی ناراضی کو باقاعدہ ایجنڈا کی صورت میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سب کو مل کر اس کانفرنس میں کی گئی باتوں کی بنیاد پر ملک میں قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور سیاسی معاملات میں غیر منتخب عناصر کی مداخلت کے خاتمہ کے لئے تحریک چلانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’آج 74 برسوں کے بعد قوم پھر سے سوال اٹھا رہی ہے اور ہمیں جواب درکار ہے۔ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو اس کا جواب درکار ہے۔ اور جب تک اس کا جواب نہیں ملے گا تو ہماری حالت نہیں سدھرے گی‘ ۔

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اس کانفرنس میں نواز شریف کو مدعو کرنے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جب کانفرنس کے منتظمین ایک مجرم کو خطاب کے لیے بلاتے ہیں تو ان کا سیاسی ایجنڈا واضح ہوجاتا ہے۔ یہ افسوس ناک ہے‘ ۔ اس سے پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں یہ کہتے ہوئے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی تھی کہ ’مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ جب مجھے بتایا گیا ہے کہ کانفرنس کا اختتام ایک مفرور ملزم کی تقریر سے ہو گا۔ ظاہر ہے یہ ملک اور آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ میں نے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے‘ ۔

اگر کانفرنس میں کی گئی باتوں اور اس میں شریک لوگوں کی فہرست پر نگاہ ڈالی جائے تو اس میں دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے جج حضرات کے متعدد نام دکھائی دیں گے۔ گزشتہ روز منعقد ہونے والے سیشن میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے اختتامی خطاب کیا تھا۔ ان سے پہلے وکیل لیڈر علی احمد کرد نے اگرچہ عدلیہ پر تند و تیز تنقید کی تھی لیکن اس کے باوجود جسٹس گلزار احمد نے کانفرنس کا ’بائیکاٹ‘ کرنے کی بجائے وہاں اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور کہا کہ عدلیہ درست راستے پر گامزن ہے اور ملک میں جمہوریت کی بالادستی اور آئین کی عملداری کے بارے میں پر عزم ہے۔ کسی بھی اجلاس میں سامنے آنے والے خیالات سے اختلاف کی گنجائش باقی رہتی ہے لیکن کوئی بھی اصول پسند شخص صرف اختلافات کی وجہ سے کسی کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے کو قانون پسندی یا اصول پرستی قرار نہیں دیتا۔

شیریں مزاری انسانی حقوق کی وزارت سنبھالے ہوئے ہیں۔ انہیں ملک کے سابق وزیر اعظم اور اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو مجرم قرار دینے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔ انسانی حقوق کی وزیر کے طور پر وہ صرف سرکاری موقف سامنے لانے والوں کی آزادی کی محافظ نہیں ہیں بلکہ اس ملک کے سب انسانوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ان کے فرائض منصبی کا حصہ ہونا چاہیے۔ دنیا کا کوئی بھی جمہوری اصول کسی بھی شخص کو اپنا موقف سامنے لانے یا رائے کا اظہار کرنے سے منع نہیں کرتا۔ لیکن شیریں مزاری انسانی حقوق کی ایسی ’محافظ‘ ہیں کہ وہ نہ صرف ایک سیاسی مخالف کو ’مجرم‘ قرار دے رہی ہیں بلکہ انہیں خطاب کی دعوت دینے پر کانفرنس کا انعقاد کرنے والوں کی نیت اور مقاصد کے بارے میں بھی شبہات کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کے اس منفی رویہ اور کم ظرفی سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ ملک میں اظہار رائے کا دائرہ کس قدر مختصر کر دیا گیا ہے اور کیوں کر اختلافی نقطہ نظر کو مسترد کرنے کے لئے نت نئے حیلے تراشے جاتے ہیں۔

نواز شریف کو دعوت دینے پر کانفرنس میں شرکت سے انکار کر کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی یہی ثابت کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ملک میں کسی بھی قسم کے اختلاف کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ وہ دلیل اور حجت سے سیاسی موقف پیش کرنے اور اس پر جوابی رائے کا موقع دینے کی بجائے دوسروں پر الزام تراشی کے ذریعے مکالمہ کا ماحول ختم کرنے کے درپے ہے۔ فواد چوہدری مختلف مواقع پر خود کو روشن خیال اور ایک ایسے متوازن معاشرہ کے حامی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جہاں سب کو اپنی بات کہنے اور اپنے طریقے سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ مذہبی انتہاپسندی کے حوالے سے انہوں نے کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار دو روز پہلے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی کیا تھا لیکن وزیر اطلاعات کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود وہ ملک میں آزادی اظہار کی ضمانت فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ حکومت ہائیبرڈ اور ففتھ جنریشن وار فئیر کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے بدترین سنسر شپ نافذ کرنے اور ہر اختلافی رائے کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جمہوری ہونے کا دعویٰ کرنے والی کسی بھی حکومت کے لئے یہ حکمت عملی شرمندگی کا باعث ہونا چاہیے۔

نواز شریف کے خلاف زہر افشانی کرنے والے ان دونوں وزیروں سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا حکومت کے سب وزیر نواز شریف کی ’قانونی حیثیت‘ کے بارے میں ویسے ہی کنفیوژن کا شکار ہیں جس کا مظاہرہ شیریں مزاری اور فواد چوہدری کے بیانات میں ہوا ہے۔ فواد چوہدری نے نواز شریف کو ’ملزم‘ قرار دیا یعنی ایسا شخص جس کے خلاف عدالتوں میں مقدمات زیر غور ہوں۔ اور انسانی حقوق کی وزیر اپنے بیان میں نواز شریف ’مجرم‘ کہہ رہی ہیں۔ یعنی ایک ایسا شخص جس کے بارے میں ملک کا قانونی نظام یہ حتمی فیصلہ کرچکا ہو کہ اس سے کسی جرم کا ارتکاب ہوا ہے اور اب اسے اس کی سزا بھگتنا ہے۔ دو وزیروں کی اس تضاد بیانی سے درحقیقت حکومت وقت کا اپنا تضاد اور غیر جمہوری چہرہ نمایاں ہوا ہے۔ نواز شریف کے خلاف تمام تر الزام تراشی کے باوجود ملکی عدالتی نظام میں ابھی تک ان کے خلاف کوئی الزام حتمی طور سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔ اور نہ ہی حکومت اور اس کے زیر نگین اداروں کو ایسی کوئی عجلت دکھائی دیتی ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات میں ترجیحی بنیاد پر فیصلے لے کر عوام کے سامنے سرخرو ہو سکے۔ اسی طرح یہ طے ہو سکے گا کہ حکومت وقت محض سیاسی پریشانی کی وجہ سے مخالفین کے خلاف ملک کے ناقص نظام قانون کو استعمال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ وہ تہ دل سے قومی دولت لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتی ہے۔ حکومت کے عمل سے اس نیک نیت کی گواہی نہیں ملتی البتہ سیاسی بیانات سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ حکومت مخالفین کو بے توقیر کر کے خود اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔

لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے نواز شریف کے خطاب کے دوران انٹرنیٹ منقطع کر دیا گیا تھا حتیٰ کہ موبائل نیٹ ورک کو بھی بلاک کر دیا گیا تھا حالانکہ یہ کانفرنس شہر کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی۔ بار بار کوشش کے بعد منتظمین نے ٹیلی فون پر نواز شریف کا آڈیو خطاب سامعین کو سنایا۔ سرکاری ادارے میڈیا کی طرف سے اس بارے میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے سے احتراز کر رہے ہیں اور سرکاری نمائندے چور چور کا شور مچا کر آزادی رائے پر اس بھیانک سرکاری حملے کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران مقررین نے کسی کی ذات پر حملہ نہیں کیا جو اس ملک کے وزیر اعظم اور ان کے حواریوں کا معمول ہے۔ لیکن آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہوئے ملک میں جمہوری عمل کا راستہ روکنے کے خلاف آواز بلند کی گئی تھی۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں دو روز کے دوران انسانی حقوق، عدلیہ کی آزادی اور جمہوری حکومتوں کو زیر کرنے کے ہتھکنڈوں پر کی جانے والی باتوں کو جامع انداز میں پیش کیا اور مل کر جمہوری بالادستی کے ایجنڈے کو تحریک کی شکل دینے کا مشورہ دیا۔ کیا ملک کی ’جمہوری‘ حکومت کانفرنس میں کی گئی ان باتوں سے پریشان ہے جن میں عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے، آزادی رائے پر قدغن، انسانی حقوق کی پامالی اور غیر آئینی طریقوں کے خلاف آواز بلند کی گئی ہے؟

اگر نواز شریف ملزم یا مجرم ہے لیکن وہ ملک میں قانونی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کرتا ہے تو عمران خان کی حکومت کو اس سے کیا مسئلہ ہے؟ حیرت ہے کہ ملک کے مین اسٹریم میڈیا کو بھی نواز شریف کا بیان نشر یا شائع کرنے سے روکا گیا۔ کیا حکمران واقعی یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ اگر اخبارات یا ٹی وی نواز شریف کا پیغام شائع یا نشر نہیں کریں گے تو عوام تک یہ باتیں نہیں پہنچ سکیں گی؟ انہیں جان لینا چاہیے کہ یہ باتیں درحقیقت عوام کے دل کی آواز ہیں۔ نواز شریف عوام کے اس دکھ کو زبان دے رہا ہے۔ اسی لئے لوگ اس کی باتیں سننا چاہتے ہیں اور حکومت انہیں دبانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سادہ باتوں سے خوف میں مبتلا ہونے والی قوتیں تمام تر اختیار اور طاقت کے باوجود ہمیشہ پسپا ہوئی ہیں۔ پاکستان میں یہ تجربہ متعدد بار ہو چکا ہے۔ عمران خان بھی تاریخ کے اس عمل کو روک نہیں سکیں گے۔

نواز شریف نے آج کی تقریر میں اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار، ملک میں سماجی و معاشی بحران اور عدالتوں کو کنٹرول کرنے کے غیر آئینی طریقوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ ان کا یہ خطاب عوام کو فیصلوں میں شامل کرنے کے بنیادی انسانی حق کے عین مطابق ہے۔ ملک و قوم کو درپیش مسائل کو اسی راستے پر چل کر حل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی عوام کی بڑی اکثریت اس بات سے متفق ہے۔ اسی لئے نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ قابل فہم ہے کہ حکومت ایک مقبول سیاسی لیڈر سے خوفزدہ ہے۔ یہی خوف موجودہ حکومت کے زوال کا پیغام دے رہا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2029 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments