سہانے خوابوں کی تعبیر کیا ہو گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان ایک عقل و شعور کا حامل اور قدرتی طور پر حقیقت پسند ہوتا ہے معاشرے میں جب بے شمار مسائل جنم لینے لگیں اور استحصال ہوتا رہے

تو اس کا اثر انسانی سوچ پر بھی پڑتا چلا جاتا ہے انسان بے شمار خیالات و نظریات میں گہرا ہوا رہتا ہے اس کے جذبات اس کی سوچ کے زاویہ کا اظہار ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ انسان بہت سی چیزوں کو وقت سے پہلے بھانپنے لگ جاتا ہے جو سہی یا غلط ہو سکتی ہیں۔ جب شاہ مصر نے خواب دیکھا حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کی تعبیر بتائی جو سچی ثابت ہوئی اور شاہ مصر نے اس کے لیے وقت سے پہلے عملی اقدامات کر لیے تھے تاکہ ریاست کو قحط سالی سے بچایا جا سکے۔

ایک خوبصورت ریاست، ایک خوبصورت ریاست جو زرخیز میدانی، سرسبز و شاداب پہاڑی اور دلکش صحرائی پر مشتمل ہوتی ہے کٹھن حالات سے گزر کر آزاد ہونے کے بعد اس ریاست کے لوگوں کی معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی امنگوں کی نوید ہوتی ہے لیکن آزادی کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ بے شمار اندرونی اور بیرونی مسائل جنم لے لیتے ہیں جمہوریت پنپ نہیں پاتی۔ سیاست کا نام و نشان نہیں ہوتا تو ریاستی محافظ سرحدوں کو چھوڑ جمہوریت کی بجائے ڈکٹیٹرشپ کو ترجیح دیتے ہیں کوئی شک نہیں بادشاہت میں فیصلے فوری لاگو ہو جاتے یہ اور بحث کہ فیصلے کس نوعیت کے ہوتے ہیں پھر ریاست میں اس طرح کا کھیل چلا کہ ہر نام نہاد جمہوری پارٹی اور ہر نام نہاد جمہوری سیاستدان انھی چھتریوں کے ذریعے لایا جاتا رہا حکومت میں بیٹھے ڈمی کبھی عوام کی بھلائی کے کام نا کرتے اور یہ بھی ہوا کہ جو اپنے عہد سے پھرتا تو اسے تختہ دار پر لٹکایا جاتا یا پھر انھیں تخت حکمرانی سے اتارا جاتا یہ کھیل وادی کے سکون کو برباد کرتا رہا۔

بے شمار مسلکی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی مسائل جنم لینے لگ جاتے ہیں حب الوطنی اور مذہبی آڑ میں خدا کے ڈر اور وادی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر علاقائی وڈیرہ شاہی نے لوگوں کو مزید کند ذہن اور غلام بنا کر رکھا ہوتا جنھیں وقت کے ساتھ استعمال کیا جاتا رہا تقسیم در تقسیم نے وادی کو گروہی، قومی، سیاسی، معاشی، مذہبی، معاشرتی اور علاقائی لحاظ سے ایک دوسرے سے دور رکھا جاتا تاکہ وہ ظلم اور ظالم کی اصل تفریق سے دور رہیں

ریاست میں وقت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری اور سرمایہ داروں کی چھتری تلے آنے والے حکمرانوں کے غلط فیصلوں اور غلط اقدامات، ریاست کو تباہ کیے جا رہے تھے کیونکہ حکمران اپنی عیش پرستی، ذاتی مفاد اور دوسروں کی خوشی کے لیے اقدامات کرتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بے روزگاری، افلاس، مایوسی اور بے چینی نے ڈیرے ڈال لیے۔ حکمرانوں کے جھوٹے وعدے جو دور حکومت میں پایہ تکمیل نا پہنچ سکتے بلکہ الٹا ریاست مقروض ہوتی جاتی رہی۔

ریاست کو پہلے حکمرانوں کی عیش پرستیوں، وادی سے باہر جائیداد بنانے، ریاست سے بے وفائی اور فضولیات نے اتنا مقروض کر دیا گیا کہ وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد نا رہی اور نا اپنے پیروں پر کھڑے ہونے پا رہی تھی ریاستی حکمران فیصلہ سازی سے لے کر ملکی وسائل تک ہر چیز میں باہر کی اجارہ داری کے تابع ہوتے جا رہے تھے سیاسی قیادتیں ریاستی عوام کو چکمہ دیتی رہیں۔ حکومت وقت میں تو ریاست میں رہنے کو ترجیح دیتے اور جب اپوزیشن یا کوئی کیس آتا تو ریاست سے باہر بھاگ جاتے۔

نام نہاد جمہوری، نظریاتی عناصر اوروں کے فیصلوں پر ناچنے لگتے گئے۔ عیش پرستی، خوش فہمی، جھوٹ، آپس کی رسہ کشی، ذاتی مفادات اور کام نہ کرنے کی عادت نے ریاست کو بد تر سے بد تر کر دیا جاتا ہے ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے نت نئے تجربات اور نئے نئے چہرے نے عوام کا جینا محال کرتے گئے عوام پارلیمنٹ، اداروں، انصاف پسند اور ہر نئے قانون سے متنفر ہوتی گئی

ریاست کے اندر اس سب کے ذمہ دار اداروں اور حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ذمہ دار ہوتی گئی عوام میں بے وجہ کی شدت پسندی، بات بات پر لاعلمی میں جذبات کا اظہار، کم علمی، فہم پرستی، مسلک پرستی، وڈیرہ شاہی کی نوکر شاہی، بے وجہ کی حب الوطنی، حقیقت سے عاری جذبات میں وہاں کے لوگ ایک دوسرے کو ہم ذات، ہم وطن، ایک دین ہونے کی باوجود ایک دوسرے کو لادین، دین سے بے دخلی کے خطاب دیتے جس وجہ سے وہاں کے سیاسی سرمایہ دار، مذہبی شدت پسند طبقہ اور ادارے وقت کے ساتھ وہاں کے لوگوں کو استعمال کا بہترین تجربہ رکھتے اور انھیں استعمال میں لاتے۔

ریاست کے قاضی، انصاف سے عاری ہوتے گئے غریبوں کے کیس سال ہا سال پڑے رہتے جس وجہ سے ریاستی عوام انصاف سے متنفر ہوتی گئی لاکھوں، کروڑوں روپے لگا کر لوگ انصاف کو روتے۔ با ضمیر لوگ اس حقیقت کا تذکرہ محافل کرتے نظر آتے۔ افلاس، خود غرضی اور انفرادی ترقی نے ایسے ڈیرے ڈالے کہ لوگوں کے ایک دوسرے سے اعتماد اٹھتا گیا پہلے جو لوگوں میں محبت، یگانگت، اپنا پن اور اعتماد تھا وہ ختم ہوتا نظر آیا ہر کوئی اپنے طرے کو اونچا کرنے میں لگتا گیا جس سے خاندانوں میں آپس میں رسائی کا نظام خراب ہونے لگا، نظام تعلیم میں طالب علم استاد سے دور ہونے لگا، اساتذہ اپنا فرض ادا کرنے سے کتراتے گئے، سرکاری ملازم سے لے کر پرائیویٹ محکموں کے لوگوں تک سب حقیقت سے کتراتے گئے۔

حکومتی ادارے، محکمے کرپشن اور سفارش کا گڑھ بنتے گئے۔ قصہ مختصر کوئی اپنا کام، اپنی ڈومین میں رہ کر کرنے کو تیار نا رہا۔ سرحد سے لے کر ہواؤں تک، تھانے، کورٹ، کچہریوں سے لے کر ایوانوں تک، قاضی کی عدالت سے لے کر مسجد کے ممبروں تک، کلرک پٹواری، تحصیلدار، ڈی سی، کمشنر سے لے کر سیکرٹری تک ہر کوئی اپنے کام سے نالاں ہوتا گیا ناشکری اور انتظامی بد حالی نے ڈیرے ڈال لیے

ریاست کا سب سے بڑا مسئلہ ریاستی وسائل کا چند ہاتھوں میں ہونا، سرمایہ داروں کے حاوی ہونے کی وجہ سے من مرضی اور ذاتی مفادات کے فیصلوں کی ترجیحات کی وجہ سے ریاست مزید کمزور ہوتی گئی، معاشی اشارے گرتے گئے، ریاست بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے ہوتی گئی، ریاستی صنعت اور فوڈ پروڈکشن کم ہوتی گئی، صنعت کار ریاست چھوڑتے چلے گئے، حکومت مزید کمزور ہوتی گئی۔ حکمران عوام پر ٹیکسز کا انبار لگاتے گئے، پہلے بے روزگاری عروج پر تھی اب مہنگائی مزید بڑھتی گئی ایک بے چینی اور مایوسی کا طوفان لاتی گئی۔ جو درحقیقت سابقہ حکومتوں کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ نظر آتی اور موجودہ حکومت کی بے بسی اور نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت بنتی گئی

ریاست کے اندر بے شمار قومی، گروہی، مسلکی، اور بے شمار تفرقات نے لوگوں کو اکٹھے نا ہونا دیا بلکہ وقت کے ساتھ انھیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال میں لایا جاتا رہا تاکہ ان کی اصل مسائل سے توجہ ہٹی رہے۔ ریاست میں بے چینی، انفرادی ترقی، مذہبی مسلکی مسائل، مہنگائی، بے روزگاری، تعلم کی کمی، شدت پسندی، تفرقہ بازی اور نظریاتی شعور پسند جماعتوں کے نا ہونے کی وجہ سے حالات مزید بگڑتے گئے۔ چند شعوع پسند لوگ کھڑے ہوتے تو انھیں غائب کر دیا جاتا۔

چند شعور پسند جماعتیں آتیں تو ان پر مذہبی مسلک کا لیبل لگا دیا جاتا۔ سو اس طرح شعور پسند لوگوں کے لیے مسئلہ بنتا گیا۔ ان سب باتوں کی وجہ سے عوام میں بد اعتمادی بڑھتی گئی اجتماعیت کی کمی نے لوگوں کو انفرادیت پر لگا دیا گیا جس سے چور بازاری، کرپشن اور چال بازی ہوا ملتی گئی۔ ریاستی مسائل دن بدن گمبھیر ہوتے گئے سرمایہ دار لوگ سیاستدان اور چھوٹے چھوٹے انتظامی عہدوں والے ریاست سے باہر کاروبار کرنے، جائیدادیں بنانے اور رہنے کو ترجیح دیتے گئے۔

حتیٰ سرحدوں کے محافظوں اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ بھی باہر رہنے کو پسندیدہ سمجھنے لگے۔ بیرونی خطرات تو تھے ہی پھر اندرونی خطرات بڑھنے لگ جاتے ہیں ریاستی حکومت کمزور ہوتی جاتی ہے سیاسی رسہ کشی عروج ہر ہوتی جاتی ہے بڑھتی بے روزگاری، مہنگائی اور استحصال نے ایسا کام کیے کہ نفرت اور بغاوت جنم لیتی گئی پھر ریاست میں گروہی، علاقائی آزاد پسند تنظیمیں کھڑی ہوتی گئیں ریاستی معاملات ہاتھ سے نکلنے لگ جاتے ہیں خون خرابے کا خدشہ بڑھتا جاتا ہے ریاستی وسائل لوٹنے والوں اور خود کی داد گری کے دن ختم ہونے لگتے نظر آتے ہیں۔ لوگ اسٹیبلشمنٹ سے لے کر حکومت کے ایوانوں پر انگلیاں اٹھانے لگ جاتے ہیں اور۔ اور

بہت، بہت کچھ، بہت کچھ ہونے جا رہا ہوتا ہے کہ شکر میری آنکھ کھل گئی۔ میں ڈر گیا کہ کہیں پاکستان میں ایسا تو نہیں ہو گیا۔ اٹھا دیکھا تو ابھی ایسا کچھ نہیں ہوا دعا کی اور شکر بجا لایا اور خواب کی تعبیر سوچنے لگا اب حضرت یوسف ع سے تو تعبیر پوچھی نہیں جا سکتی لیکن اس کی تعبیر دو لوگ جانتے ہیں وہ حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں ایک ملک کے کرتے دھرتے اور دوسرا عوام۔ ان حالات کو سامنے رکھ کر انھیں کچھ تو کرنا ہو گا ورنہ ”“ لا الہ الا اللہ کہہ کر اس ملک کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ”“ کا نعرہ لگانے والے یاد رکھیں ریاست مدینہ نبی اکرم ص نے بنائی تھی لیکن بعد والوں کی غلط پالیسیوں سے ریاست مدینہ ختم ہو گئی۔ سو لوگوں کو مذہبی اور حب الوطنی میں کے آ کر ان کے جذبات سے کھیلنے کی بجائے انسانی بنیادوں پر عوام کی بھلائی اور مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

پھر بھی سوچیں تو ہم ابن خلدون کی تھیوری ”الاصبیحہ“ جو ایک ریاست سے متعلق ہے اس کے چوتھے حصے کی بات کریں تو ہمارے ملک میں کچھ ایسا ہوتا جا رہا ہے جیسے اس ریاست میں ہوا بد امنی، بے روزگاری، غربت، مذہبی اور غداری کے فتوے، ذاتی مفادات کی ترجیحات، سیاسی، معاشرتی، معاشی اور مذہبی عدم استحکام سب کچھ ہمارے ملک میں نظر آتی ہیں۔ ابن خلدون کے مطابق اس کے بعد دو چیزیں ہو سکتی ہیں ایک چیز یہ ہو سکتی ہے کہ ریاست میں تبدیلی پسند اور انقلاب پسند لوگ کھڑے ہوں اور نظام کو تبدیل کر دیں۔ دوسری چیز یہ کہ ریاست میں علیحدگی پسند تحریکیں ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہیں۔ سو ہمیں سوچنا ہو گا!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم اکبر رئیس کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments