گھٹن زدہ سکوت کی ظلمت کا پردہ چاک کرنے کے لیے درکار ایک آواز تھی جس کی چمک سے ان کی (ان کی سے مراد وہ ہیں، جن کا نام ہم نے نہیں لکھا مگر بخوبی آپ سمجھ جائیں گے ) آنکھیں چندھیا اور کڑک سے حاملین باطل کی آوازیں پست ہو جاتیں۔ منتظر اس بات کے لوگ تھے کہ کوئی ابر تو چھائے جو اتنا برسے کہ دبنے والی آوازیں کونپلوں کی صورت دوبارہ پھوٹ سکیں۔ وہ بات، کہ جو ناگوار نازک طبیعتوں پر بہت گزری ہے، ایسے شخص نے کی جس کے بالوں کی چاندی غالب تیرگی پر آ گئی ہے، جس کی کمر خمیدہ ہونے کو ہے مگر حوصلہ اس قدر ہے کہ ممولہ شہباز سے ٹکرا جائے۔ کرد صاحب نے وہ شمع جلا دی ہے جس کی روشنی میں مسافران جمہوریت راہ تلاش کرتے ہوئے منزل تک پہنچنے کی کوشش مسلسل کریں گے۔

اس سے پہلے بھی آوازیں ابھرتی تھیں مگر، دبا دی جاتی تھیں یا آواز اٹھانے والا مٹی کے کسی نا معلوم کونے میں دبا دیا جاتا تھا۔ اب پھول امید کا کھل چکا ہے کہ شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشید سے۔ اس شب کے خاتمے سے ان کے (سمجھ جائیے کہ ان کے سے مراد کچھ دیدہ و نادیدہ قوتیں ہیں ) کے دستر خوان سے خوشہ چینی کرنے والے کچھ مہربانوں کو کرد صاحب کی تقریر پسند قطعاً نہیں آئی۔ یہ مہربان اکثر دہائی دیتے ہیں کہ سنو تو ذرا ہم سے قصہ امام احمد بن حنبل کا، جانو تو ذرا ہم سے امام مالک کی ثابت قدمی، اور امام ابو حنیفہ کی قید کا واقعہ ہم سناتے ہیں کہ کیسے ان لوگوں نے مصائب کے ہمالے اٹھا لیے مگر اصولی موقف سے کبھو پیچھے نہ ہٹے۔

اب جب کہ کرد صاحب نے ایک موقف اپنایا ہے تو انہی لوگوں کے نزدیک مقرر مطعون ٹھہرا ہے۔ اب ذرا کرد صاحب کی تقریر کا بھی جائزہ لیں کہ ایسا کیا تھا اس تقریر میں کہ لوگوں کو ٹیسیں محسوس ہو رہی ہیں۔ پہلا نقطہ یہ تھا کہ عدالتوں میں مقدمات اس قدر التواء کا شکار ہیں کہ لوگ صبح آتے ہیں اور شام کو حسرت انصاف کی گٹھری اٹھا کر ذلت کے احساس تلے پلٹ گھروں کو جاتے ہیں۔ بات آگے بڑھانے سے ایک ذاتی واقعہ بھی سن لیجیے۔ خاشع کا تعلق ایک جاٹ گھرانے سے ہے جو نسل در نسل اور در نسل کاشتکاری کے پیشے سے وابستہ ہے۔

اب جو لوگ کاشتکاری اور جاٹوں کے متعلق تھوڑا علم رکھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ کسی جاٹ کا زمین کے تنازع پر عدالت میں کیس نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ اپنے گھرانے کا بھی ایک کیس چل رہا ہے، یہ کیس شاید 1992 ء میں شروع ہوا تھا جس کی پیروی کے لیے دادا عدالت جاتے تھے، پھر دادا کے ابدی نیند سونے سے ابا اور چچا کیس کی پیروی کرنے لگے، اب ابا اور چچاؤں کی عمر چھ عشروں سے بڑھ چکی ہے مگر کیس ہے کہ کسی ریل کی طرح نہ ختم ہونے والی پٹری پہ چلا ہی جا رہا ہے۔ کچھ معلوم نہیں کہ یہ کیس کب ختم ہو گا، شاید دو تین نسلوں بعد ، یا شاید کچھ عرصہ اس سے بھی مزید بڑھ جائے۔ بحث اس سے نہیں کہ فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے، بحث تو یہ ہے کہ فیصلہ کب ہو گا، خیر یہ معاملہ تو چلتا ہی رہے گا، اب ذرا کرد صاحب کے دوسرے نقطے کو بھی زیر گفتگو لانا چاہیے۔

کرد صاحب کا کہنا تھا کہ بائیس کروڑ عوام ایک طرف اور ایک (۔ خالی جگہ پر کریں ) دوسری طرف۔ ایسا کیوں کہ ایک شخص پورے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرے۔ جمہوریت میں ایسا کہاں ہوتا ہے، مگر جمہوریت میں۔ تو کیا یہاں جمہوریت نہیں ہے؟ صاحبان قلم سے رہ نمائی درکار ہے۔ کرد صاحب کی اس بات سے نانا پاٹیکر یاد آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مچھر آدمی کو بے بس کر دیتا ہے، اپنے ہاں معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایک شخص نے پورے ملک کو بے بس کیا ہوا ہے۔ اب تو عامر لیاقت نے بھی کھلے بندوں میں کہہ دیا ہے کہ ہم آئے نہیں بلکہ لائے گئے ہیں۔

معلوم نہیں انہوں نے اس بات کو عزت نفس کا مسئلہ کیوں بنا لیا ہے کہ اگر ہم ملکی معاملات میں مداخلت چھوڑی تو ہماری عزت کو زک پہنچے گی۔ غلبے کی جبلت آغاز کائنات سے اس انسان کے ذہن میں پنپ رہی ہے۔ پرانے وقتوں میں تو خیر مخالف قوموں پر غلبہ پایا جاتا تھا مگر یہاں تو اپنے ہی ہم وطنوں پر غلبہ پایا جا رہا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جانے والا ہو یا آنے والا، کوئی بھی مداخلت سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، شاید لیے خدائے سخن مولوی محمد حسین آزاد کے استاذ گرامی ملک الشعرا شیخ ابراہیم ذوق نے کہا تھا کہ، چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔