گوادر، عوامی تحریک کا دھرنہ اور ملکی میڈیا
گوادر میں گزشتہ ایک ہفتے سے شہری بنیادی حقوق کے لیے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ گوادر پورٹ اور فش ہار بر کو جانے والی سڑکیں بند ہیں۔ گوادر کو حق دو تحریک کے نام سے یہ خود رو عوامی تحریک اپنے مطالبات کی منظوری تک غیر معینہ مدت کے لیے احتجاج پر بیٹھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج میں شریک لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اب ضلع گوادر کے علاوہ مکران و بلوچستان بھر سے لوگ دھرنے میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
ایک ہفتہ مکمل ہوا۔ اس دوران دھرنے کے ساتھ ساتھ کفن پوش احتجاجی ریلی اور سینکڑوں اسکول کے طلباء نے بھی احتجاجی ریلی نکالا۔ انٹرنیٹ پر پابندی اور مسلسل بندش کے خلاف مقامی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور صحافیوں نے خاموش زبان بند احتجاج بھی کیا مگر ملکی میڈیا کو کانوں کان خبر تک نہیں پہنچا؟ ملکی میڈیا مکمل بلیک آؤٹ ہے۔ نا تو دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کو کسی صوبائی حکومت نے ناجائز قرار دیا ہے اور نا ہی یہ دھرنا کسی کالعدم جماعت کا دھرنا ہے جسے ملکی میڈیا کوریج نہیں دے سکتا۔
اور ریاستی سنسرشپ کا طاقت بھی بھرپور طریقے سے آزمایا جا رہا ہے۔ اب تک دھرنے کی کوریج کو روکنے کے لیے چار مرتبہ موبائل انٹرنیٹ پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ایسے میں سرکار سے شکایت کرنا اپنا سر دیوار کے ساتھ لگانے کے مترادف ہے کیونکہ ریاستی پالیسیاں پچھلے ستر سالوں سے واضح ہیں کہ بلوچستان کو ریاست بقول قوم پرستوں کے ایک کالونی سمجھتی ہے۔ اس ممنوعہ علاقے میں اظہار آزادی رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مگر ملکی میڈیا سے شکایت ہو سکتی ہے کیونکہ یہی میڈیا اگر گوادر میں ایک سرکاری جیپ ریلی کو کوریج دے سکتی ہے تو عوامی تحریک کو کیوں نہیں؟
گوادر پورٹ کے سامنے شہید لالا حمید چوک پر ایک ہفتے سے بیٹھے یہ لوگ بنیادی و آئینی حقوق کی باتیں کر رہے ہیں۔ ان مطالبات پر عمل درآمد کی بات کرتے ہیں جنھیں مشرف، زرداری، نواز شریف اور عمران کی سرکاریں وعدہ کرچکے ہیں۔ گوادر کے ماہی گیر گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے معاشی استحصال کا رونا رو رہے ہیں۔ پاک ایران سرحدی تجارت مکران کے لوگوں کا نا صرف ذریعہ معاش ہے بلکہ مکران میں اسی فیصد اشیائے خورد و نوش بھی ایران سے ہی آتا ہے۔
یہ لوگ پانی و بجلی، روزگار، تعلیم و صحت کے مسائل کا حل چاہتے تھے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کا آئینی و قانونی طریقے سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ریاستی اداروں اور سرکار سے اپنے آئینی حقوق کی گارنٹی چاہتے تھے مگر آج وہ اس ضد کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے ہیں کہ انھیں عمل درآمد چاہیے۔ گوادر ء مکران کے لوگوں کو شکایت ہے کہ ترقی کے نام پر روزانہ چیک پوسٹوں پر ان کی تذلیل ہوتی ہے۔ اور سی پیک کے فوری ثمرات میں سے انھیں سوائے چیک پوسٹوں کے اور کچھ نہ مل سکا۔
ان حالات سے باقی پاکستان کو باخبر رکھنے کی ذمہ داری میڈیا کی ہے۔ ملکی میڈیا کا رویہ بلوچستان کے ساتھ بالکل ویسا ہے جیسا بنگال کے لوگوں کے ساتھ ہوا تھا۔ جب میڈیا گوادر کی ترقی کو صرف ایک چار کلومیٹر کی سڑک اور ایک کرکٹ اسٹیڈیم کے ساتھ دکھاتی ہے تو اس سے اکثریتی صوبہ پنجاب اور ملک کے بڑے شہروں کے شہری دھوکے کا شکار ہوں گے۔ غریب و مزدور پنجابیوں کو لگتا ہے کہ ان کی کھیتوں سے انھیں کچھ نہیں ملتا تو وہ روزگار کی تلاش میں بنجر و بیابان بلوچستان کا رخ کرے گا اور یہاں وہ مزدور پنجابی ایک مشکوک شخص بن کر کسی نامعلوم گولی کا ویسے ہی نشانہ بنے گا جیسے ہزاروں مقامی بلوچ بنتے آرہے ہیں۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں آوازوں کو دبانا بھی آسان نہیں ہے لیکن اگر ملکی میڈیا بلوچستان کی آوازوں سے منہ پھیر لے گا۔ آنکھیں بند کردے گا اور گھونگا بہرہ بن کر خاموشی اختیار کرے گا تو دنیا کا کوئی بھی دوسرا ملک و میڈیا ان آوازوں کو اپنے مقاصد کے لیے اپنے طریقوں سے نشر کرے گا۔ جس طرح گزشتہ ستر سالوں سے ایک عام پنجابی کو بلوچستان کے بارے میں کچھ پتا نہ چل سکا ویسے ہی ہو سکتا ہے وہ مزید چند سالوں تک ناواقف رہیں مگر ان کی نسلوں میں سے کوئی تو کبھی کسی حادثے کی صورت سچائی سے آشکار ہو گا۔ تب شاید فاصلے اتنے قریب نہ ہوں جتنے کہ اب ہیں۔ یہ میڈیا کا بلیک آؤٹ ہونا بلوچستان کے ساتھ بنگال جیسا رویہ روا رکھنا جیسا ہے۔ پنجاب و ملک کے دوسرے بڑے شہروں کے عام شہری کے ساتھ دھوکا ہے اور ملکی میڈیا اس جرم کا سب سے بڑا مجرم ہے۔
ریاستی اداروں کے رویے کو دیکھ کر تو واضح ہوتا ہے کہ وقت ضرور بدلہ ہے۔ یہ اکیسویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی و انٹرنیٹ کی دور میں قانون کی کتابوں میں بنیادی انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کا ذکر ضرور ہے مگر اداروں کو چلانے والوں کی ذہنیت اب بھی ایوبی و ضیائی مارشل لائی دور کے ہیں۔ جو سچ کا سامنا کرنے سے خود تو ڈرتے ہیں مگر انھوں نے انہی پالیسیوں سی ملک کے ایک عام شہری کی بھی ایسی ذہن سازی کی ہے کہ انھیں بلوچستان سے ہر آنے والی خبر ایک سازش لگتی ہے ماسوائے سرکاری پریس ریلیز کے۔ اور اس دھوکے میں رکھنے، عام پاکستانیوں کو بلوچستان کی اصل حالات سے بے خبر رکھنے کی جرم میں ملکی میڈیا کا کردار قابل افسوس ہے۔


