بیچارہ جرنیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اہل دانش نے بہت سوچ کر الجھائی ہے
صاحب کا اصرار ہے کہ۔
نظام عدل کی خرابی
عدل و انصاف کی نایابی
منصفین کی ضعیفی
عوام کی محرومی
اور
میزان عدل کی بے توقیری
کا ذمہ دار جرنیل بالکل بھی نہیں۔
ہماری گزارش ہے کہ۔

کنویں میں مردہ کتا پڑا ہے تبھی تو ہر ڈول میں پانی گندا ہی نکلتا ہے۔ پانی کے رنگ اور بدبو پر بحث کرتے کراتے وقت ہی ضائع کیوں کرنا ہے۔ سوال مگر اہم یہ ہے کہ یہ کتا ڈالا کس نے اور اب کون اور کیوں نہیں نکالنے دیتا۔

یہی حقیقت اگر جانی اور تسلیم کی جاتی ہے تو پھر اس کا تعین آسان ہو گا کہ ذمہ دار ہے کون،
جرنیل
جج
بیوروکریٹ
سیاست دان
وکیل
یا
عوام؟

عین ممکن ہے کہ ہر کوئی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ تو ذمہ دار ہے لیکن یہاں بھی بات یہی کرنی ہوگی کہ سب سے زیادہ اور بنیادی ذمہ دار کون ہے؟

وہی جو سب سے زیادہ صاحب حیثیت ہے، صاحب اختیار ہے اور طاقت ور ہے۔ وہ ہے جو ہاتھ میں ڈنڈا لئے کنویں سے مردار باہر نکالنے نہیں دیتا۔ جو بھی ماہر، باصلاحیت اور پاک باز آتا ہے اسے ڈنڈا دکھاتا ہے۔ جو اناڑی ہے، بے کار ہے اور بد اخلاق ہے وہ ان کے کام کا ہے اور اسی ”نکے کا وہ ابا ہے“ ۔

اب متعین شدہ سوال یہ رہا کہ
یہ متکبر ابا کون ہے جو طاقت ور ترین ہے
اور
بھوکے نکے کون ہیں جو ضعیف ترین ہیں

ابا اور نکا دونوں اختیارات کے بھوکے ہیں اور اقتدار کی ہوس میں پاگل ہیں اور درحقیقت اخلاقیات سے عاری ہیں کہ نہ آئین کو مانتے ہیں اور نہ قانون کو

نہ روایات کو جانتے ہیں اور نہ اقدار کو
اور
دونوں ہی اپنے اپنے دائرے میں ”فرعون“ بنے بیٹھے ہیں
یہاں تک پہنچ کر یہ فیصلہ آپ کیجئے کہ
یہ دونوں کون ہیں
ہم ان کی ماں کا بتائیں گے جو ”عوام“ ہے
یہ ماں بیچاری سادہ بھی ہے، جاہل بھی ہے اور معصوم بھی ہے۔
ابا کا بھی خیال رکھتی ہے
اور نکے کو بھی پالتی ہے
روٹھ جاتی ہے مگر لمحوں میں پلٹ بھی جاتی ہے۔
اس ضمن میں تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ

یہ ماں دراصل بڑی ڈھیٹ ہے کہ ”درد زہ“ کے وقت گالیاں دے دے کر ”ابا“ پر لعنتیں بھی بھیج دیتی ہے اور قریب نہ پھٹکنے کی قسمیں بھی کھاتی رہتی ہے مگر ”لخت جگر“ کو پاکر سینے سے لگا کر مٹھائیاں تقسیم کرواتی ہے اور خوشی کے شادیانے بھی بجا لیتی ہے اور زیادہ نہیں صرف کم وبیش چالیس ہی دن بھی ”لذت“ پانے کے لئے سب تکلیفوں، سب کلفتوں اور سب دردوں اور سب سے بڑھ کر اپنی کھائی ہوئی سب قسموں کو بھلا کر تابع دار اور صابر و شاکر بیوی ہونے کا ثبوت پیش کیا کرتی ہے۔

جناب مہتاب عزیز نے یہی کمال کا نکتہ اٹھایا ہے

”مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھڑکیں، مفروضے اور سستی جذباتیت خوب بکتی ہے۔ حقائق کو جانے پرکھے بغیر اس طرح کی بلاوجہ جذباتیت تخلیق کر کے دانستہ یا نادانستہ عوام کے غم و غصے کو مٹانے کا کام لیا جاتا ہے۔ تاکہ عوام کے جذبات کسی تحریک کی شکل اختیار نہ کر سکیں اور کسی بڑی تبدیلی کا باعث نہ بن سکیں۔

قیادت کی منتشر الخیالی، بلا منصوبہ بندی اقدامات اور دوسری جانب عوام کی نری جذباتیت، سوچنے سمجھنے، تحقیق تجزیہ اور اختلاف کو گناہ جاننے کی عادت ہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے آج ہم ہر طرف سے مار کھا رہے ہیں۔ ”

کاش ہم سمجھ جائیں۔
بھائی صاحب،

معاملہ الجھتا گیا کہ ہے درحقیقت الجھا ہوا اور جتنا ہم اسے سلجھانے کی کوشش کریں گے اتنا ہی یہ الجھا کرے گا۔ حل اس کا یہ ہے کہ گتھیاں سلجھانے پر وقت ضائع کرنے کی بجائے اسے دور پھینک لیجیے اور دھاگے کا سیدھا سرا پکڑ کر عزت کی چادر بن لیجیے، اپنے لئے اور قوم کے لئے۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments